আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

حدود اور حدود سے بچنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০ টি

হাদীস নং: ৬৭৯২
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ (رض) نے اسی طرح (بیان کیا) ۔
‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ :‏‏‏‏ مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৩
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ چور کا ہاتھ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ یہ دونوں ڈھال قیمت سے ملتی تھیں۔ اس کی روایت وکیع اور ابن ادریس نے ہشام کے واسطے سے کی، ان سے ان کے والد نے مرسلاً روایت کیا۔
حدیث نمبر: 6793 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمْ تَكُنْ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي أَدْنَى مِنْ حَجَفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ تُرْسٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ وَكِيعٌ ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنُ إِدْرِيسَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِمُرْسَلًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৪
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے، ہم کو ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے خبر دی، انہوں نے عائشہ (رض) سے، انہوں نے بیان کیا نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں۔
حدیث نمبر: 6794 حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ تُرْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ حَجَفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৫
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 6795 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ اللَّيْثُحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏قِيمَتُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৬
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 6796 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৭
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 6797 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৮
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( ثمنه کے بجائے) لفظ قيمته کہا۔
حدیث نمبر: 6798 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَاللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏قِيمَتُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৯৯
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6799 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ، ‏‏‏‏‏‏يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০০
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کی توبہ کا بیان
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھتی تھی ، اس عورت نے توبہ کرلی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔
حدیث نمبر: 6800 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَابَتْ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০১
حدود اور حدود سے بچنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کی توبہ کا بیان
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن صامت (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہوگی اور اسے پاک کرنے والی ہوگی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپالے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کرلی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کرلے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 6801 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَسْرِقُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَزْنُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ، ‏‏‏‏‏‏قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ مَحْدُودٍ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ.
tahqiq

তাহকীক: