আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
فرائض کی تعلیم کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭ টি
হাদীস নং: ৬৭৬৪
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : عیسائی غلام یا مکاتب عیسائی کی وراثت کا بیان اور جو اپنے بیٹے کی نفی کر دے اس کے گناہ کا بیان
27- بَابُ مِيرَاثِ الْعَبْدِ النَّصْرَانِيِّ وَمُكَاتَبِ النَّصْرَانِيِّ، وَإِثْمِ مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ:
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৫
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کسی کے بھائی اور بھتیجا ہونے کا دعوی کرے
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ (رض) کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد (رض) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا، عبد ! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ ! (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چناچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 6765 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَام، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ، قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৬
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو غیر کو اپنا باپ بنائے
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا یہ ابن عبداللہ ہیں، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے سعد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔ پھر میں نے اس کا تذکرہ ابوبکر (رض) سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے میرے دونوں کانوں نے بھی سنا ہے اور میرے دل نے اس کو محفوظ رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6766 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ. حدیث نمبر: 6767 فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৮
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو غیر کو اپنا باپ بتائے
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں جعفر بن ربیعہ نے، انہیں عراک نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے (اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو) یہ کفر ہے۔
حدیث نمبر: 6768 حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৯
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب عورت کسی بیٹے کا دعوی کرے
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کرلے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کردیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے، یہ بڑی ہی کا لڑکا ہے لیکن آپ (علیہ السلام) نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ واللہ ! میں نے سكين چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ (نبی کریم ﷺ کی زبان سے) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے (اپنے قبیلہ میں) مدية. کا لفظ بولتے تھے۔
حدیث نمبر: 6769 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَىقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭০
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیافہ شناسی کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے یہاں ایک مرتبہ بہت خوش خوش تشریف لائے۔ آپ ﷺ کا چہرہ چمک رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے نہیں دیکھا، مجزز (ایک قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید (رض) کے (صرف پاؤں دیکھے) اور کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6770 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭১
فرائض کی تعلیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیافہ شناسی کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے یہاں تشریف لائے، آپ ﷺ بہت خوش تھے اور فرمایا عائشہ ! تم نے دیکھا نہیں، مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید (رضی اللہ عنہما) کو دیکھا، دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو ڈھک لیا تھا اور ان کے صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6771 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ.
তাহকীক: