আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪ টি

হাদীস নং: ৬৪৭৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کی حفاظت کرنے کا بیان، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ( اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آدمی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکالتا، جس کے لئے کوئی محافظ تیار نہ ہو)۔
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے سہل بن سعد (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 6474 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৭৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کی حفاظت کرنے کا بیان، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ( اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آدمی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکالتا، جس کے لئے کوئی محافظ تیار ہو)۔
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔
حدیث نمبر: 6475 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৭৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کی حفاظت کرنے کا بیان، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ( اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آدمی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکالتا، جس کے لئے کوئی محافظ تیار ہو)۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوشریح خزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا مہمانی تین دن کی ہوتی ہے مگر جو لازمی ہے وہ تو پوری کرو۔ پوچھا گیا لازمی کتنی ہے ؟ فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے ورنہ چپ رہے۔
حدیث نمبر: 6476 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ أُذُنَايَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَعَاهُ قَلْبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ جَائِزَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ مَا جَائِزَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৭৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کی حفاظت کرنے کا بیان، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ( اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آدمی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکالتا، جس کے لئے کوئی محافظ تیار ہو)۔
مجھ سے ابرہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے عیسیٰ بن طلحہ تیمی نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کتنی کفر اور بےادبی کی بات ہے) جس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گرپڑتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔
حدیث نمبر: 6477 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِقِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৭৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زبان کی حفاظت کرنے کا بیان، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ( اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آدمی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکالتا، جس کے لئے کوئی محافظ تیار ہو)۔
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی ابن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کردیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6478 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْني ابْنَ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৭৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے ڈر سے رو نے کا بیان۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سات طرح کے لوگ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں پناہ دے گا۔ (ان میں) ایک وہ شخص بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
حدیث نمبر: 6479 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ:‏‏‏‏ رَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے ڈرنے کا بیان۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پچھلی امتوں میں کا، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈر تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں اٹھا کے دریا میں ڈال دینا۔ اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ جو تم نے کیا اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا کہ پروردگار مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔
حدیث نمبر: 6480 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رِبْعِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُذَيْفَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِأَهْلِهِ:‏‏‏‏ إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَذَرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلُوا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَمَعَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَنِي إِلَّا مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے ڈرنے کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا ؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے۔ قتادہ نے لم يبتئر کی تفسیر لم يدخر کہ نہیں جمع کی، سے کی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا (اس نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ) دیکھو، جب میں مرجاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہوجاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔ اس نے اپنے لڑکوں سے اس پر وعدہ لیا چناچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہوجا۔ چناچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا۔ پھر فرمایا، میرے بندے ! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا۔ میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ مجھے دریا میں بہا دینا یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے ابوسعید (رض) سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔
حدیث نمبر: 6481 حَدَّثَنَا مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ سَلَفَ أَوْ قَبْلَكُمْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا يَعْنِي أَعْطَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا حُضِرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِبَنِيهِ:‏‏‏‏ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ خَيْرَ أَبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَسَّرَهَا قَتَادَةُ:‏‏‏‏ لَمْ يَدَّخِرْ وَإِنْ يَقْدَمْ عَلَى اللَّهِ يُعَذِّبْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَانْظُرُوا فَإِذَا مُتُّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْحَقُونِي أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ فَاسْهَكُونِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ كُنْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ عَبْدِي، ‏‏‏‏‏‏مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَخَافَتُكَ أَوْ فَرَقٌ مِنْكَ فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ:‏‏‏‏ فَأَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُعَاذٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہوں سے باز رہنے کا بیان۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ان سے ابوبردہ نے، اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور جو کچھ کلام اللہ نے میرے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے (تمہارے دشمن کا) لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں واضح ڈرانے والا ہوں۔ پس بھاگو، پس بھاگو (اپنی جان بچاؤ) اس پر ایک جماعت نے اس کی بات مان لی اور رات ہی رات اطمینان سے کسی محفوظ جگہ پر نکل گئے اور نجات پائی۔ لیکن دوسری جماعت نے اسے جھٹلایا اور دشمن کے لشکر نے صبح کے وقت اچانک انہیں آلیا اور تباہ کردیا۔
حدیث نمبر: 6482 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَا النَّجَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَاعَتْهُ طَائِفَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَدْلَجُوا عَلَى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَّبَتْهُ طَائِفَةٌ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَاجْتَاحَهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہوں سے باز رہنے کا بیان۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔
حدیث نمبر: 6483 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہوں سے باز رہنے کا بیان۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6484 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ (رض) بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں وہ معلوم ہوجائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔
حدیث نمبر: 6485 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔
حدیث نمبر: 6486 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ شہو توں سے ڈھانکی گئی ہے۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ خواہشات نفسانی سے ڈھک دی گئی ہے اور جنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 6487 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اسی طرح جہنم بھی تمہاری جوتوں کے تسمہ سے زیادہ قریب ہے۔
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔
حدیث نمبر: 6488 حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏ وَالْأَعْمَشِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اسی طرح جہنم بھی تمہاری جوتہوں کے تسمہ سے زیادہ قریب ہے۔
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے سچا شعر جسے شاعر نے کہا ہے یہ ہے ہاں اللہ کے سوا تمام چیزیں بےبنیاد ہیں۔
حدیث نمبر: 6489 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ:‏‏‏‏ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৯০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کی طرف نظر کرنا چاہئے جو ( مال ودولت میں) پست ہو اس کی طرف نظر نہ کرے جو (مال ودولت میں) بڑھا ہوا ہو۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں نے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہیے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔
حدیث نمبر: 6490 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৯১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی یا برائی کا ارادہ کرنے کا بیان۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جعد ابوعثمان نے بیان کیا، ان سے ابورجاء عطاردی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کردی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کردیا ہے۔ پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کرسکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں دس گنا سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی ہیں اور اس سے بڑھ کر اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں نیکی لکھی ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کرلیا تو اپنے یہاں اس کے لیے ایک برائی لکھی ہے۔
حدیث نمبر: 6491 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَعْدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو عُثْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، ‏‏‏‏‏‏كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، ‏‏‏‏‏‏كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৯২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے بچنے کا بیان۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، ان سے غیلان نے، ان سے انس (رض) نے، انہوں نے کہا کہ تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے) اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کردینے والا سمجھتے تھے۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ حدیث میں جو لفظ موبقات ہے اس کا معنی ہلاک کرنے والے۔
حدیث نمبر: 6492 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ غَيْلَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُهْلِكَاتِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৯৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعمال خاتمے پر موقوف ہیں، اور خاتمے سے ڈرنے کا بیان۔
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہوگیا۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مرجائے۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی (اس طرح وہ خودکشی کر کے مرگیا) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 6493 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَلْهَانِيُّ الْحِمْصِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ الْمُسْلِمِينَ غَنَاءً عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَبِعَهُ رَجُلٌ فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بِذُبَابَةِ سَيْفِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا.
tahqiq

তাহকীক: