আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
دعاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬ টি
হাদীস নং: ৬৩৪৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اپنے خادم کیلئے طول عمر اور کثرت مال کی دعا کرنا۔
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ میری والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہ) نے کہا : یا رسول اللہ ! انس (رض) آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرما دیں۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔
حدیث نمبر: 6344 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৪৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف کے وقت دعا کرے کا بیان۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات والأرض، رب العرش العظيم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت عظمت والا ہے اور برد بار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور بڑے بھاری عرش کا رب ہے۔
حدیث نمبر: 6345 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৪৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلیف کے وقت دعا کرے کا بیان۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السموات، ورب الأرض، ورب العرش الکريم اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔ اور وہب نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اس طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 6346 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، وَقَالَ وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৪৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت مصیبت سے پناہ مانگنے سے کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگتے تھے اور سفیان نے کہا کہ حدیث میں تین صفات کا بیان تھا۔ ایک میں نے بھلا دی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ وہ ایک کون سی صفت ہے۔
حدیث نمبر: 6347 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَدِيثُ ثَلَاثٌ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৪৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا اللھم الرفیق الاعلی کہہ کر دعا مانگنا۔
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے علم والوں کے سامنے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار نہیں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی تو پہلے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے (کہ چاہیں دنیا میں رہیں یا جنت میں چلیں) چناچہ جب نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے اور سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی طاری ہوئی۔ پھر جب آپ کو اس سے کچھ ہوش ہوا تو چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے، پھر فرمایا اللهم الرفيق الأعلى اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔ میں نے سمجھ لیا کہ نبی کریم ﷺ اب ہمیں اختیار نہیں کرسکتے، میں سمجھ گئی کہ جو بات نبی کریم ﷺ صحت کے زمانے میں بیان فرمایا کرتے تھے، یہ وہی بات ہے۔ بیان کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے زبان سے ادا فرمایا کہا اللهم الرفيق الأعلى اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔
حدیث نمبر: 6348 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ في رجال من أهل العلم، أن عائشة رضي الله عنها، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي، غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى، قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৪৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت اور حیات کی دعا مانگنے کا بیان
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ میں خباب بن ارت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے سات داغ (کسی بیماری کے علاج کے لیے) لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
حدیث نمبر: 6349 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا، قَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت اور حیات کی دعا مانگنے کا بیان
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ میں خباب بن ارت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوا رکھے تھے، میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر نبی کریم ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی ضرور دعا کرلیتا۔
حدیث نمبر: 6350 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت اور حیات کی دعا مانگنے کا بیان
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے بتایا اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے ہونے لگی ہو، موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر موت کی تمنا ضروری ہی ہوجائے تو یہ کہے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھیو اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو مجھے اٹھا لیجیو۔
حدیث نمبر: 6351 حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا لِلْمَوْتِ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کیلئے برکت کی دعا کرنے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا بیان، اور ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا، کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، تو آنحضرت ﷺ نے اس کیلئے برکت کی دعا فرمائی۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے جعد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے سائب بن یزید (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میری خالہ مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا۔ اس کے بعد میں آپ کی پشت کی طرف کھڑا ہوگیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو دونوں شانوں کے درمیان میں تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی ہوتی ہے یا حجلہ کا انڈہ۔
حدیث نمبر: 6352 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کیلئے برکت کی دعا کرنے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا بیان، اور ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا، کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، تو آنحضرت ﷺ نے اس کیلئے برکت کی دعا فرمائی۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوعقیل (زہرہ بن معبد) نے کہ انہیں ان کے دادا عبداللہ بن ہشام (رض) ساتھ لے کر بازار سے نکلتے یا بازار جاتے اور کھانے کی کوئی چیز خریدتے، پھر اگر عبداللہ بن زبیر یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ان سے ملاقات ہوجاتی تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس میں شریک کیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی تھی۔ بعض دفعہ تو ایک اونٹ کے بوجھ کا پورا غلہ نفع میں آجاتا اور وہ اسے گھر بھیج دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 6353 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُقَيْلٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ مِنَ السُّوقِ، أَوْ إِلَى السُّوقِ، فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ، فَيَلْقَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عُمَرَ ، فَيَقُولَانِ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ، فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৪
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کیلئے برکت کی دعا کرنے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا بیان، اور ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا، کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، تو آنحضرت ﷺ نے اس کیلئے برکت کی دعا فرمائی۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں محمود بن ربیع (رض) نے خبر دی یہ محمود وہ بزرگ ہیں جن کے منہ میں رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وہ بچے تھے، انہیں کے کنوئیں سے پانی لے کر کلی کرلی تھی۔
حدیث نمبر: 6354 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِيمَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَهُوَ الَّذِي مج رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ غُلَامٌ مِنْ بِئْرِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৫
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کیلئے برکت کی دعا کرنے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا بیان، اور ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا، کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، تو آنحضرت ﷺ نے اس کیلئے برکت کی دعا فرمائی۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ ان کے لیے دعا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے پانی منگایا اور پیشاب کی جگہ پر اسے ڈالا کپڑے کو دھویا نہیں۔
حدیث نمبر: 6355 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيَدْعُو لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৬
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کیلئے برکت کی دعا کرنے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا بیان، اور ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا، کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، تو آنحضرت ﷺ نے اس کیلئے برکت کی دعا فرمائی۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر (رض) نے خبر دی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھ یا منہ پر ہاتھ پھیرا تھا۔ انہوں نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو ایک رکعت وتر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 6356 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৭
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا کہ کعب بن عجرہ (رض) مجھ سے ملے اور کہا کہ میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ (یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں) نبی کریم ﷺ ہم لوگوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنک حميد مجيد، اللهم بارک على محمد، وعلى آل محمد، كما بارکت على آل إبراهيم، إنک حميد مجيد اے اللہ ! محمد ( ﷺ ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد ﷺ پر، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔
حدیث نمبر: 6357 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৮
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان
ہم سے ابراہیم بن حمزہ زبیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو سلام اس طرح کیا جاتا ہے، لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجا جاتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو اللهم صل على محمد عبدک ورسولک، كما صليت على إبراهيم، و بارک على محمد وعلى آل محمد، كما بارکت على إبراهيم وآل إبراهيم اے اللہ ! اپنی رحمت نازل کر محمد ( ﷺ ) پر جو تیرے بندے ہیں اور تیرے رسول ہیں جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراہیم پر اور برکت بھیج محمد ( ﷺ ) پر اور ان کی آل پر جس طرح برکت بھیجی تو نے ابراہم پر اور آل ابراہیم پر۔
حدیث نمبر: 6358 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৯
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا نبی ﷺ کے علاوہ دوسروں پر بھی درود بھیجا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول وصل علیہم ان صلاتک سکن لھم۔ کا بیان
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے یبان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے اور ان سے ابن ابی اوفی (رض) نے بیان کیا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی شخص اپنی زکوٰۃ لے کر آتا تو آپ فرماتے اللهم صل عليه اے اللہ ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ میرے والد بھی اپنی زکوٰۃ لے کر آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللهم صل على آل أبي أوفى اے اللہ ! آل ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما۔
حدیث نمبر: 6359 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ إِذَا أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَتِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬০
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا نبی ﷺ کے علاوہ دوسروں پر بھی درود بھیجا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول وصل علیہم ان صلاتک سکن لھم۔ کا بیان
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمرو بن سلیم زرقی نے بیان کیا کہ ہم کو ابو حمید ساعدی (رض) نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته، كما صليت على آل إبراهيم، و بارک على محمد وأزواجه وذريته، كما بارکت على آل إبراهيم، إنک حميد مجيد اے اللہ ! محمد اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی۔ بلاشبہ تو تعریف کیا گیا شان و عظمت والا ہے۔
حدیث نمبر: 6360 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬১
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمانا یا اللہ جس کو میں نے تکلیف دی ہے تو اسے اس کے واسطے کفارہ اور رحمت بنا دے
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، کہا کہ مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ ! میں نے جس مومن کو بھی برا بھلا کہا ہو تو اس کے لیے اسے قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنا دے۔
حدیث نمبر: 6361 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬২
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں سے پناہ مانگنے کا بیان
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوالات کئے اور جب بہت زیادہ کئے تو نبی کریم ﷺ کو ناگواری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو بات پوچھو گے میں بتاؤں گا۔ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ سر اپنے کپڑوں میں لپیٹے ہوئے رو رہے تھے، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف (طعنہ کے طور پر) منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! میرے باپ کون ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حذافہ۔ اس کے بعد عمر (رض) اٹھے اور عرض کیا ہم اللہ سے راضی ہیں کہ ہمارا رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد ﷺ سے کہ وہ سچے رسول ہیں، ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، آج کی طرح خیر و شر کے معاملہ میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا۔ قتادہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت (سورۃ المائدہ کی) اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے متعلق نہ سوال کرو کہ اگر تمہارے سامنے ان کا جواب ظاہر ہوجائے تو تم کو برا لگے۔
حدیث نمبر: 6362 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ الْمَسْأَلَةَ، فَغَضِبَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى الرِّجَالَ يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ: حُذَافَةُ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ، وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ عِنْدَ هَذَا الْحَدِيثِ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৩
دعاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے غلبہ سے پناہ مانگنے کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو، مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوطلحہ (رض) سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے لڑکوں میں سے کوئی بچہ تلاش کرو جو میرا کام کردیا کرے۔ چناچہ ابوطلحہ (رض) مجھے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھا کرلے گئے نبی کریم ﷺ جب بھی گھر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ میں نے سنا کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا اکثر پڑھا کرتے تھے اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن، والعجز والکسل، والبخل والجبن، وضلع الدين، وغلبة الرجال اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی و کمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا رہا۔ پھر ہم خیبر سے واپس آئے اور نبی کریم ﷺ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی (رض) کے ساتھ واپس ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے عبا یا چادر سے پردہ کیا اور انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ جب ہم مقام صہبا پہنچے تو آپ نے ایک چرمی دستر خوان پر کچھ مالیدہ تیار کرا کے رکھوایا پھر مجھے بھیجا اور میں کچھ صحابہ کو بلا لایا اور سب نے اسے کھایا، یہ آپ کی دعوت ولیمہ تھی۔ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جب مدینہ منورہ پہنچے تو فرمایا اے اللہ ! میں اس شہر کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقہ کو اس طرح حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا۔ اے اللہ ! یہاں والوں کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔
حدیث نمبر: 6363 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: الْتَمِسْ لَنَا غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ، فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ كِسَاءٍ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالًا، فَأَكَلُوا وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ: هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا، مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ.
তাহকীক: