আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৯ টি
হাদীস নং: ৬১১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غصے سے پرہیز کرنے کا بیان، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب وہ غصہ ہوتے ہیں تو بخش دیتے ہیں، جو لوگ خوشحالی اور مصیبت میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی جو ابن عیاش ہیں، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔
حدیث نمبر: 6116 حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: لَا تَغْضَبْفَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: لَا تَغْضَبْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیا کا بیان
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے ابوالسوار عدوی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔ اس پر بشیر بن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے، حیاء سے سکینت حاصل ہوتی ہے۔ عمران نے ان سے کہا میں تجھ سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اپنی (دو ورقی) کتاب کی باتیں مجھ کو سناتا ہے۔
حدیث نمبر: 6117 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍفَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا وَإِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ سَكِينَةً، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১১৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیا کا بیان
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ایک شخص پر سے ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت شرماتے ہو، گویا وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کرلیتے ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حیاء ایمان میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 6118 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَرّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُعَاتِبُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، يَقُولُ: إِنَّكَ لَتَسْتَحْيِي حَتَّى كَأَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ أَضَرَّ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১১৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حیا کا بیان
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس (رض) کے غلام قتادہ نے، ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ ہے، میں نے ابوسعید سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے۔
حدیث نمبر: 6119 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مَوْلَى أَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تو حیا نہ کرے تو جو چاہے کر
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے ربعی بن خراش نے بیان کیا، ان سے ابومسعود انصاری (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے۔
حدیث نمبر: 6120 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین کی بات سمجھنے کے لئے حق بات سے حیا نہ کی جائے
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ (رض) نے اور ان سے ام سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ ام سلیم (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ حق بات سے حیاء نہیں کرتا کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اگر عورت منی کی تری دیکھے تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔
حدیث نمبر: 6121 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین کی بات سمجھنے کے لئے حق بات سے حیا نہ کی جائے
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے، کہا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا، اس لیے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر (رض) سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔
حدیث نمبر: 6122 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا يَتَحَاتُّ، فَقَالَ الْقَوْمُ: هِيَ شَجَرَةُ كَذَا هِيَ شَجَرَةُ كَذَا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ: هِيَ النَّخْلَةُوَعَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین کی بات سمجھنے کے لئے حق بات سے حیا نہ کی جائے
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا اور انہوں نے انس (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کے نکاح کے لیے پیش کیا اور عرض کیا : کیا نبی کریم ﷺ کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے ؟ اس پر انس (رض) کی صاحبزادی بولیں، وہ کتنی بےحیا تھی۔ انس (رض) نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کے نکاح کے لیے پیش کیا۔
حدیث نمبر: 6123 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ ، سَمِعْتُ ثَابِتًا ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ: هَلْ لَكَ حَاجَةٌ فِيَّ ؟ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا، فَقَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ، عَرَضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر.» کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا: ""يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا""قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ: الْبِتْعُ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ آسانی کرو سختی نہ کرو اور آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ تخفیف اور آسانی برتنے کو پسند فرماتے تھے۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آسانی پیدا کرو، تنگی نہ پیدا کرو، لوگوں کو تسلی اور تشفی دو نفرت نہ دلاؤ۔
حدیث نمبر: 6125 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ آسانی کرو سختی نہ کرو اور آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ تخفیف اور آسانی برتنے کو پسند فرماتے تھے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرمت و حد کو توڑتا تو نبی کریم ﷺ ان سے تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے بدلہ لیتے۔
حدیث نمبر: 6126 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ بِهَا لِلَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ آسانی کرو سختی نہ کرو اور آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ تخفیف اور آسانی برتنے کو پسند فرماتے تھے۔
ہم سے ابوالنعمان بن محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ازرق بن قیس نے کہ اہواز نامی ایرانی شہر میں ہم ایک نہر کے کنارے تھے جو خشک پڑی تھی، پھر ابوبرزہ اسلمی صحابی گھوڑے پر تشریف لائے اور نماز پڑھی اور گھوڑا چھوڑ دیا۔ گھوڑا بھاگنے لگا تو آپ نے نماز توڑ دی اور اس کا پیچھا کیا، آخر اس کے قریب پہنچے اور اسے پکڑ لیا۔ پھر واپس آ کر نماز قضاء کی، وہاں ایک شخص خارجی تھا، وہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے کو دیکھو اس نے گھوڑے کے لیے نماز توڑ ڈالی۔ ابوبرزہ اسلمی (رض) نماز سے فارغ ہو کر آئے اور کہا جب سے میں رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوا ہوں، کسی نے مجھ کو ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ میرا گھر یہاں سے دور ہے، اگر میں نماز پڑھتا رہتا اور گھوڑے کو بھاگنے دیتا تو اپنے گھر رات تک بھی نہ پہنچ پاتا اور انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہے ہیں اور میں نے نبی کریم ﷺ کو آسان صورتوں کو اختیار کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6127 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنَّا عَلَى شَاطِئِ نَهَرٍ بِالْأَهْوَازِ قَدْ نَضَبَ عَنْهُ الْمَاءُ، فَجَاءَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ عَلَى فَرَسٍ فَصَلَّى وَخَلَّى فَرَسَهُ، فَانْطَلَقَتِ الْفَرَسُ فَتَرَكَ صَلَاتَهُ وَتَبِعَهَا حَتَّى أَدْرَكَهَا فَأَخَذَهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَضَى صَلَاتَهُ، وَفِينَا رَجُلٌ لَهُ رَأْيٌ، فَأَقْبَلَ يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ تَرَكَ صَلَاتَهُ مِنْ أَجْلِ فَرَسٍ، فَأَقْبَلَ فَقَالَ: مَا عَنَّفَنِي أَحَدٌ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّ مَنْزِلِي مُتَرَاخٍ فَلَوْ صَلَّيْتُ وَتَرَكْتُهُ لَمْ آتِ أَهْلِي إِلَى اللَّيْلِ، وَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى مِنْ تَيْسِيرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ آسانی کرو سختی نہ کرو اور آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ تخفیف اور آسانی برتنے کو پسند فرماتے تھے۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے خبر دی کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا، لوگ اس کی طرف مارنے کو بڑھے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بھرا ہوا بہا دو ، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔
حدیث نمبر: 6128 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَثَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ ليَقَعُوا بِهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے اور گھر والوں کے ساتھ مذاق کرنے کا بیان اور ابن مسعود (رض) کا قول ہے کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح میل جول رکھو کہ تمہارا دین مجروح نہ ہونے پائے۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالتیاح نے، کہا میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے (مزاحاً ) فرماتے يا أبا عمير ما فعل النغير. اے ابو عمیر ! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے ؟
حدیث نمبر: 6129 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے اور گھر والوں کے ساتھ مذاق کرنے کا بیان اور ابن مسعود (رض) کا قول ہے کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح میل جول رکھو کہ تمہارا دین مجروح نہ ہونے پائے۔
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب نبی کریم ﷺ اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں پھر نبی کریم ﷺ انہیں میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔
حدیث نمبر: 6130 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان اور ابوالدرداء سے منقول ہے کہ ہم لوگ بعض لوگوں سے اچھی طرح پیش آتے تھے لیکن ہمارے دل ان پر لعنت کرتے تھے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ (رض) نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے اندر بلا لو، یہ اپنی قوم کا بہت ہی برا آدمی ہے۔ جب وہ شخص اندر آگیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ابھی اس کے متعلق کیا فرمایا تھا اور پھر اتنی نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، عائشہ اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے وہ شخص سب سے برا ہے جسے لوگ اس کی بدخلقی کی وجہ سے چھوڑ دیں۔
حدیث نمبر: 6131 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْكَلَامَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ مَا قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَقَالَ: أَيْ عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان اور ابوالدرداء سے منقول ہے کہ ہم لوگ بعض لوگوں سے اچھی طرح پیش آتے تھے لیکن ہمارے دل ان پر لعنت کرتے تھے۔
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ہدیہ میں دیبا کی چند ق بائیں آئیں، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے وہ ق بائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کردیں اور مخرمہ کے لیے باقی رکھی، جب مخرمہ آیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ ایوب نے کہا یعنی اپنے کپڑے میں چھپا رکھی تھی آپ مخرمہ کو خوش کرنے کے لیے اس کے تکمے یا گھنڈی کو دکھلا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے۔ اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطہ سے روایت کیا مرسلات میں اور حاتم بن وردان نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس چند ق بائیں تحفہ میں آئیں پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 6132 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: قَدْ خَبَأْتُ هَذَا لَكَقَالَ أَيُّوبُ: بِثَوْبِهِ وَأَنَّهُ يُرِيهِ إِيَّاهُ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَيْءٌ، رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن ایک سوراخ سے دو بار ڈنگ نہیں کھاتا اور معاویہ (رض) نے کہا کہ حکیم تجربہ والا ہی ہوتا ہے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈنگ نہیں لگ سکتا۔
حدیث نمبر: 6133 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہمان کے حق کا بیان
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے، کہا ہم سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی بکر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا، کیا یہ میری خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے رہتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یہ صحیح ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو اور سو بھی، روزے بھی رکھو اور بلا روزے بھی رہو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تم سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، امید ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہوگی، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ ملتا ہے، اس طرح زندگی بھر کا روزہ ہوگا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سختی چاہی تو آپ نے میرے اوپر سختی کردی۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہر ہفتے تین روزہ رکھا کر، بیان کیا کہ میں نے اور سختی چاہی اور آپ نے میرے اوپر سختی کردی۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) جیسا روزہ رکھ۔ میں نے پوچھا، اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کا روزہ کیسا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار گویا آدھی عمر کے روزے۔
حدیث نمبر: 6134 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّكَ عَسَى أَنْ يَطُولَ بِكَ عُمُرٌ، وَإِنَّ مِنْ حَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُقَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍقَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قُلْتُ: أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَقُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ ؟ قَالَ: نِصْفُ الدَّهْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہمان کی عزت کرنے اور خود اس کی خدمت کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ابراہیم کے معزز مہمان
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے اسی طرح بیان کیا اور یہ لفظ زیادہ کئے کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اچھی بات کہنی چاہیئے ورنہ اسے چپ رہنا چاہیئے۔
حدیث نمبر: 6135 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، مِثْلَهُ. وَزَادَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
তাহকীক: