আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৯ টি
হাদীস নং: ৬০৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز بھیجی یا خیرات کی تو عبداللہ بن زبیر جو ان کے بھانجے تھے کہنے لگے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیئے نہیں تو اللہ کی قسم میں ان کے لیے حجر کا حکم جاری کر دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں۔ فرمایا پھر میں اللہ سے نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔ اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی ( کہ انہیں معاف فرما دیں ) ام المؤمنین نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں مانوں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطعی تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں بات کی وہ دونوں بنی زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل کرا دو کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم سب؟ کہا ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے ( کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے ) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق توڑنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ والی حدیث یاد دلانے لگے اور یہ کہ اس میں نقصان ہے تو ام المؤمنین بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو قسم کھا لی ہے؟ اور قسم کا معاملہ سخت ہے لیکن یہ بزرگ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم ( توڑنے ) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: ""وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَهُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتِ الْهِجْرَةُ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَبَدًا وَلَا أَتَحَنَّثُ إِلَى نَذْرِي، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ لَمَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهَا لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مُشْتَمِلَيْنِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا قَالُوا: كُلُّنَا قَالَتْ: نَعَم ادْخُلُوا كُلُّكُمْ، وَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِهَا إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا نَذْرَهَا وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک ملاقات کا بیان اور رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا انہیں امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند کرے۔
حدیث نمبر: 6076 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک ملاقات کا بیان اور رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔
ہم سے عبدالرحمٰن بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عطاء بن یزید لیثی نے اور انہیں ابوایوب انصاری (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہوجائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
حدیث نمبر: 6077 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৭৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نافرمانی کرنے والے سے ترک ملاقات کا جائز ہونا اور کعب نے بیان کیا کہ جب وہ نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے اور نبی ﷺ نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے منع فرمایا اور پچاس راتوں کا تذکرہ کیا
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کس طرح سے پہچانتے ہیں ؟ فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو کہتی ہو، ہاں محمد کے رب کی قسم ! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم ! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔
حدیث نمبر: 6078 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِقَالَتْ: قُلْتُ: وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: بَلَى وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ لَسْتُ أُهَاجِرُ إِلَّا اسْمَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৭৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنے دوست کی ملاقات کے لئے روزانہ یا صبح و شام کے وقت جایا جائے
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، ان سے زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ ﷺ ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر (رض) (والد ماجد) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم ﷺ کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر (رض) بولے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہوسکتا ہے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔
حدیث نمبر: 6079 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْهِمَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ، قَالَ: إِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملاقات اور اس شخص کا بیان، جو کسی جماعت کی ملاقات کو جائے اور وہاں کھانا کھائے اور سلمان نبی ﷺ کے زمانہ میں ابودرادء کی ملاقات کو گئے تو ان کے ہاں کھانا کھایا
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم ﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔
حدیث نمبر: 6080 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفد سے ملنے کے لئے زینت کرنے کا بیان
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ إستبرق کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ (بیچ کر) مال حاصل کرو۔ چناچہ ابن عمر (رض) اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں (ریشم کے) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔
حدیث نمبر: 6081 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ لِيسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : مَا الْإِسْتَبْرَقُ ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُفَمَضَى مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًافَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھائی چارہ کرنے اور قسم کھانے کا بیان اور ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے سلمان اور ابودرداء کے درمیان بھائی چارہ کرادیا تھا اور عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ ہم لوگ جب مدینہ آئے تو نبی ﷺ نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر (جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔
حدیث نمبر: 6082 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھائی چارہ کرنے اور قسم کھانے کا بیان اور ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے سلمان اور ابودرداء کے درمیان بھائی چارہ کرادیا تھا اور عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ ہم لوگ جب مدینہ آئے تو نبی ﷺ نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام میں معاہدہ (حلف) کی کوئی اصل نہیں ؟ انس (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرائی تھی۔
حدیث نمبر: 6083 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ: قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ (رض) نے کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق رجعی نہیں دی۔ اس کے بعد ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر (رض) نے نکاح کرلیا، لیکن وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں رفاعہ (رض) کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر مجھ سے عبدالرحمٰن بن زبیر (رض) نے نکاح کرلیا، لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مراد یہ کہ وہ نامرد ہیں) اور انہوں نے اپنے چادر کا پلو پکڑ کر بتایا (راوی نے بیان کیا کہ) ابوبکر (رض) نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سعید بن العاص کے لڑکے خالد حجرہ کے دروازے پر تھے اور اندر داخل ہونے کی اجازت کے منتظر تھے۔ خالد بن سعید اس پر ابوبکر (رض) کو آواز دے کر کہنے لگے کہ آپ اس عورت کو ڈانتے نہیں کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کس طرح کی بات کہتی ہے اور نبی کریم ﷺ نے تبسم کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ پھر فرمایا، غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تم ان کا (عبدالرحمٰن (رض) کا) مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لیں۔
حدیث نمبر: 6084 حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، لِهُدْبَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ جِلبابهَا، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بباب الْحُجْرَةِ لِيُؤْذَنَ لَهُ، فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ، يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، ان سے محمد بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب (رض) نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے خرچ دینے کے لیے تقاضا کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر (رض) نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ہنس رہے تھے، عمر (رض) نے عرض کیا : اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر (رض) نے اس پر عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن ! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا : آپ نبی کریم ﷺ سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہاں اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6085 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَفَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف میں تھے (فتح مکہ کے بعد) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کرلیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انشاء اللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند خبر. کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔
حدیث نمبر: 6086 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِقَالَ: فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ فِيهِمُ الْجِرَاحَاتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُقَالَ: فَسَكَتُوا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میں تو تباہ ہوگیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں (روزہ کی حالت میں) ہمبستری کرلی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا : اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ عرق ایک طرح کا (نو کلوگرام کا) ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ لو اسے صدقہ کردینا۔ انہوں نے عرض کیا مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں ؟ اللہ کی قسم ! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے، اس کے بعد فرمایا کہ اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 6087 حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكْتُ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةًقَالَ: لَيْسَ لِي، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: الْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ ؟ تَصَدَّقْ بِهَاقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ: فَأَنْتُمْ إِذًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ کے جسم پر ایک نجرانی چادر تھی، جس کا حاشیہ موٹا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے، اس پر نشان پڑگئے۔ پھر اس نے کہا : اے محمد ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دیئے جانے کا حکم فرمایئے۔ اس وقت میں نے نبی کریم ﷺ کو مڑ کر دیکھا تو آپ مسکرا دیئے پھر آپ ﷺ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 6088 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً، قَالَ أَنَسٌ: فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر (رض) نے بیان کیا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم ﷺ نے (اپنے پاس آنے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتا تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا اے اللہ ! اسے ثبات فرما، اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔
حدیث نمبر: 6089 حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي. حدیث نمبر: 6090 وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہیں زینب بنت ام سلمہ (رض) نے، انہیں ام سلمہ (رض) نے کہ ام سلیم (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے (تو اس پر غسل واجب ہے) اس پر ام سلمہ (رض) ہنسیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے۔
حدیث نمبر: 6091 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَفَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عمرو نے خبر دی، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو اس طرح کھل کر کبھی ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگتا ہو، آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔
حدیث نمبر: 6092 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان اور فاطمہ (رض) نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے چپکے سے فرمایا تو میں ہنس پڑی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے نبی کریم ﷺ اس وقت مدینہ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے عرض کیا بارش کا قحط پڑگیا ہے، آپ اپنے رب سے بارش کی دعا کیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا کہیں ہمیں بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر آپ نے بارش کی دعا کی، اتنے میں بادل اٹھا اور بعض ٹکڑے بعض کی طرف بڑھے اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مدینہ کے نالے بہنے لگے۔ اگلے جمعہ تک اسی طرح بارش ہوتی رہی سلسلہ ٹوٹتا ہی نہ تھا چناچہ وہی صاحب یا کوئی دوسرے (اگلے جمعہ کو) کھڑے ہوئے، نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے عرض کیا : ہم ڈوب گئے، اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش بند کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اے اللہ ! ہمارے چاروں طرف بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ دو یا تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا، چناچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹنے لگے، بائیں اور دائیں، ہمارے چاروں طرف دوسرے مقامات پر بارش ہونے لگی اور ہمارے یہاں بارش یکدم بند ہوگئی۔ یہ اللہ نے لوگوں کو نبی کریم ﷺ کا معجزہ اور اپنے پیغمبر ﷺ کی کرامت اور دعا کی قبولیت بتلائی۔
حدیث نمبر: 6093 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: قَحَطَ الْمَطَرُ فَاسْتَسْقِ رَبَّكَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى مِنْ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى، فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا، حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا، فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَامَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ مِنْهَا شَيْءٌ، يُرِيهِمُ اللَّهُ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ اور جھوٹ کی ممانعت کا بیان
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کرلیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6094 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ اور جھوٹ کی ممانعت کا بیان
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابی سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 6095 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.
তাহকীক: