আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
مشروبات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৪ টি
হাদীস নং: ৫৬৩৬
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیالوں میں پینے کا بیان
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سالم ابی النضر نے، ان سے ام فضل کے غلام عمیر نے اور ان سے ام الفضل (رض) نے کہ لوگوں نے عرفہ کے دن نبی کریم ﷺ کے روزے کے متعلق شبہ کیا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک کٹورہ پیش کیا گیا اور آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا۔
حدیث نمبر: 5636 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৭
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے پیالے سے پینے اور آپ ﷺ کے برتن کا بیان اور ابوبردہ (رض) کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن سلام نے کہا، کیا میں تمہیں اس برتن میں نہ پلاؤں جس میں نبی ﷺ نے پیا ہے
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا پھر آپ نے اسید ساعدی (رض) کو ان کے پاس انہیں لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا حکم دیا چناچہ انہوں نے بھیجا اور وہ آئیں اور بنی ساعدہ کے قلعہ میں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان کے پاس گئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب ان سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگیں کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میں نے تجھ کو پناہ دی ! لوگوں نے بعد میں ان سے پوچھا۔ تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون تھے۔ اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ تھے تم سے نکاح کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس پر وہ بولیں کہ پھر تو میں بڑی بدبخت ہوں (کہ نبی کریم ﷺ کو ناراض کر کے واپس کردیا) اسی دن نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابی کے ساتھ بیٹھے پھر فرمایا کہ سہل ! پانی پلاؤ۔ میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا۔ سہل (رض) ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ان سے یہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ ان کو ہبہ کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 5637 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَدِمَتْ، فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ: قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي، فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا ؟، قَالَتْ: لَا، قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ، فَخَرَجْتُ لَهُمْ بِهَذَا الْقَدَحِ، فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ، فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَوَهَبَهُ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৮
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے پیالے سے پینے اور آپ ﷺ کے برتن کا بیان اور ابوبردہ (رض) کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن سلام نے کہا، کیا میں تمہیں اس برتن میں نہ پلاؤں جس میں نبی ﷺ نے پیاہے
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، ان سے عاصم احول نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کا پیالہ انس بن مالک (رض) کے پاس دیکھا ہے وہ پھٹ گیا تھا تو انس (رض) نے اسے چاندی سے جوڑ دیا۔ پھر عاصم نے بیان کیا کہ وہ عمدہ چوڑا پیالہ ہے۔ چمکدار لکڑی کا بنا ہوا۔ بیان کیا کہ انس (رض) نے بتایا کہ میں نے اس پیالہ سے نبی کریم ﷺ کو بارہا پلایا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابن سیرین نے کہا کہ اس پیالہ میں لوہے کا ایک حلقہ تھا۔ انس (رض) نے چاہا کہ اس کی جگہ چاندی یا سونے کا حلقہ جڑوا دیں لیکن ابوطلحہ (رض) نے ان سے کہا کہ جسے رسول اللہ ﷺ نے بنایا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ کرو چناچہ انہوں نے یہ ارادہ چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 5638 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ: رَأَيْتُ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَدِ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَهُ بِفِضَّةٍ، قَالَ: وَهُوَ قَدَحٌ جَيِّدٌ عَرِيضٌ مِنْ نُضَارٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْقَدَحِ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: إِنَّهُ كَانَ فِيهِ حَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَأَرَادَ أَنَسٌ أَنْ يَجْعَلَ مَكَانَهَا حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ: لَا تُغَيِّرَنَّ شَيْئًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৯
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متبرک پانی پینے کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا اور عصر کی نماز کا وقت ہوگیا تھوڑے سے بچے ہوئے پانی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی پانی نہیں تھا اسے ایک برتن میں رکھ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا نبی کریم ﷺ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنی انگلیاں پھیلا دیں پھر فرمایا آؤ وضو کرلو یہ اللہ کی طرف سے برکت ہے۔ میں نے دیکھا کہ پانی نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا چناچہ سب لوگوں نے اس سے وضو کیا اور پیا بھی۔ میں نے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ پیٹ میں کتنا پانی جا رہا ہے خوب پانی پیا کیونکہ مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ برکت کا پانی ہے۔ میں نے جابر (رض) سے پوچھا آپ لوگ اس وقت کتنی تعداد میں تھے ؟ بتلایا کہ ایک ہزار چار سو۔ اس روایت کی متابعت عمرو نے جابر (رض) سے کی ہے اور حسین اور عمرو بن مرہ نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر (رض) نے کہ صحابہ کی اس وقت تعداد پندرہ سو تھی۔ اس کی متابعت سعید بن مسیب نے جابر (رض) سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 5639 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَضَرَتِ الْعَصْرُ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرَ فَضْلَةٍ، فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ فَأُتِيَ، النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ وَفَرَّجَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى أَهْلِ الْوُضُوءِ الْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ وَشَرِبُوا، فَجَعَلْتُ لَا آلُوا مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ، قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْجَابِرٍ ، وَقَالَ حُصَيْنٌ ، وعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَتَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْجَابِرٍ .
তাহকীক: