আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
ذبیحوں اور شکار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৮ টি
হাদীস নং: ৫৪৯৬
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجوس کے برتن اور مردار کا بیان
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوثعلبہ خشنی (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : یا رسول اللہ ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں اپنے تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے اور بےسدھائے کتے سے بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھایا کرو۔ البتہ اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑجائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو اور جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو اسے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 5496 حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৯৭
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجوس کے برتن اور مردار کا بیان
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی عبیدہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن الاکوع (رض) نے بیان کیا کہ فتح خیبر کی شام کو لوگوں نے آگ روشن کی تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ تم لوگوں نے کس لیے روشن کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ گدھے کا گوشت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہانڈیوں میں کچھ (گدھے کا گوشت) ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا ہانڈی میں جو کچھ (گوشت وغیرہ) ہے اسے ہم پھینک دیں اور برتن دھو لیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بھی کرسکتے ہو۔
حدیث نمبر: 5497 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا أَمْسَوْا يَوْمَ فَتَحُوا خَيْبَرَ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَامَ أَوْقَدْتُمْ هَذِهِ النِّيرَانَ ؟قَالُوا: لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، قَالَ: أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاكْسِرُوا قُدُورَهَا، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ ذَاكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৯৮
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے کا بیان، اور اس شخص کا بیان جو قصدا چھوڑ دے، ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ نہ کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یہ فسق ہے اور بھول کر چھوڑنے والے کو فاسق نہیں کہا جائے گا، اللہ تعالیٰ کا قول وان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم لیجادلوکم وان اطعتموھم انکم لمشرکون
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع نے اپنے دادا رافع بن خدیج سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ مقام ذی الحلیفہ میں تھے کہ (ہم) لوگ بھوک اور فاقہ میں مبتلا ہوگئے پھر ہمیں (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں ملیں۔ نبی کریم ﷺ سب سے پیچھے تھے۔ لوگوں نے جلدی کی بھوک کی شدت کی وجہ سے (اور نبی کریم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے ہی غنیمت کے جانوروں کو ذبح کرلیا) اور ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں پھر جب نبی کریم ﷺ وہاں پہنچے تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ہانڈیاں الٹ دی گئیں پھر نبی کریم ﷺ نے غنیمت کی تقسیم کی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی لوگ اس اونٹ کے پیچھے دوڑے لیکن اس نے سب کو تھکا دیا۔ آخر ایک شخص نے اس پر تیر کا نشانہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان جانوروں میں جنگلیوں کی طرح وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے جب کوئی جانور بھڑک کر بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوگا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم (دھاردار) لکڑی سے ذبح کرلیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز بھی خون بہا دے اور (ذبح کرتے وقت) جانور پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ البتہ (ذبح کرنے والا آلہ) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے۔ دانت اس لیے نہیں کہ یہ ہڈی ہے (اور ہڈی سے ذبح کرنا جائز نہیں ہے) اور ناخن کا اس لیے نہیں کہ حبشی لوگ ان کو چھری کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5498 حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَعَجِلُوا فَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَدُفِعَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ، هَكَذَا قَالَ: وَقَالَ جَدِّي إِنَّا لَنَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ ؟ فَقَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْهُ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৯৯
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کا بیان جواصنام اور بتوں پر ذبح کی جائے
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز یعنی ابن المختار نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا اور ان سے رسول اللہ ﷺ نے کہ آپ ﷺ کی زید بن عمرو بن نوفل سے مقام بلد کے نشیبی حصہ میں ملاقات ہوئی۔ یہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہونے سے پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ نے وہ دستر خوان جس میں گوشت تھا جسے ان لوگوں نے آپ کی ضیافت کے لیے پیش کیا تھا مگر ان پر ذبح کے وقت بتوں کا نام لیا گیا تھا، آپ نے اسے زید بن عمرو کے سامنے واپس فرما دیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم جو جانور اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو میں انہیں نہیں کھاتا، میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جس پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 5499 حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّهُ سَمِعَعَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০০
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ ﷺ کا فرمان کی اللہ کے نام پر ذبح کرنا چاہئے
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب بن سفیان بجلی نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مرتبہ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کرلی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کرلی ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کرلی ہو، اسے چاہیئے کہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے نہ ذبح کی ہو اسے چاہیئے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 5500 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَةً ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০১
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز (سے ذبح کرنے) کا بیان جو خون بہادے مثلابانس، پتھر اور لوہاوغیرہ
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک سے سنا، انہوں نے ابن عمر (رض) سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی (چراتے وقت ایک مرتبہ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چناچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کردی تو کعب بن مالک (رض) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ ﷺ سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا (انہوں نے یہ کہا کہ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم ﷺ سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم ﷺ نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔
حدیث نمبر: 5501 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعَثَ إِلَيْهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০২
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز (سے ذبح کرنے) کا بیان جو خون بہادے مثلابانس، پتھر اور لوہاوغیرہ
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے کہ انہوں نے ابن عمر (رض) کو یہ خبر دی کہ کعب بن مالک (رض) کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو سوق مدنی میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہوگئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کرلیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔
حدیث نمبر: 5502 حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ: أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوقِ وَهُوَ بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৩
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس چیز (سے ذبح کرنے) کا بیان جو خون بہادے مثلابانس، پتھر اور لوہاوغیرہ
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سعید بن مسروق نے، انہیں عبایہ بن رافع نے اور انہیں ان کے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے کہ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس چھری نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو (دھار دار) چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو تو (اس سے ذبح کیا ہوا جانور) کھا سکتے ہو لیکن ناخن اور دانت سے ذبح نہ کیا گیا ہو کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور دانت ہڈی ہے . اور ایک اونٹ بھاگ گیا تو (تیر مار کر) اسے روک لیا گیا۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا یہ اونٹ بھی جنگلی جانوروں کی طرح بھڑک اٹھتے ہیں اس لیے جو تمہارے قابو سے باہر ہوجائے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔
حدیث نمبر: 5503 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لَنَا مُدًى ؟ فَقَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ الظُّفُرَ وَالسِّنَّ أَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَأَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَنَدَّ بَعِيرٌ، فَحَبَسَهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৪
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور لونڈی کے ذبیحہ کا بیان
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں نافع نے، انہیں کعب بن مالک کے ایک بیٹے نے اور انہیں ان کے باپ کعب بن مالک (رض) نے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کرلی تھی تو نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کو سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو خبر دی نبی کریم ﷺ سے کہ کعب (رض) کی ایک لونڈی تھی پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 5504 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৫
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اور لونڈی کے ذبیحہ کا بیان
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے کہ معاذ بن سعد یا سعد بن معاذ نے انہیں خبر دی کہ کعب بن مالک (رض) کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کردیا پھر نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 5505 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلُوهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৬
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح نہ کیا جائے
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے رافع بن خدیج (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ یعنی (ایسے جانور کو جسے ایسی دھاردار چیز سے ذبح کیا گیا ہو) جو خون بہا دے۔ سوا دانت اور ناخن کے (یعنی ان سے ذبح کرنا درست نہیں ہے) ۔
حدیث نمبر: 5506 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلْ يَعْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৭
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعراب ( گنواروں) وغیرہ کے ذبح کا بیان
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ بن حفص مدنی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ (گاؤں کے) کچھ لوگ ہمارے یہاں گوشت (بیچنے) لاتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام بھی (ذبح کرتے وقت) لیا تھا یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تم ان پر کھاتے وقت اللہ کا نام لیا کرو اور کھالیا کرو۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ یہ لوگ ابھی اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے۔ اس کی متابعت علی نے دراوردی سے کی اور اس کی متابعت ابوخالد اور طفاوی نے کی۔
حدیث نمبر: 5507 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا، فَقَالَ: سَمُّوا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَكُلُوهُ، قَالَتْ: وَكَانُوا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالْكُفْرِ، تَابَعَهُ عَلِيٌّ، عَنْ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَتَابَعَهُ أَبُو خَالِدٍ، وَالطُّفَاوِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৮
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب وغیرہ کے اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں، اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کے حلال ہے اور زہری کا بیان ہے کہ عرب کے نصاری کے ذبیحوں کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر تم سن لو کہ اس نے غیر اللہ کا نام لیا تو نہ کھاؤ اور اگر نہ سنو تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیا ہے حالانکہ ان کا کفر معلوم ہے اور حضرت علی (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے اور حسن وابراہیم نے کہا کہ اقلف (بغیر ختنہ کئے ہوئے) کے ذبیحہ کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ایک تھیلا پھینکا جس میں (یہودیوں کے ذبیحہ کی) چربی تھی۔ میں اس پر جھپٹا کہ اٹھا لوں لیکن مڑ کے جو دیکھا تو پیچھے رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ میں آپ ﷺ کو دیکھ کر شرما گیا۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ (آیت میں) طَعامهم سے مراد اہل کتاب کا ذبح کردہ جانور ہے۔
حدیث نمبر: 5508 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০৯
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جانور بھاگ جائے وہ بمنزلہ جنگلی جانور کے ہے، ابن مسعود (رض) نے اس کو جائز کہا ہے، ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جو چوپائے تمہارے ہاتھوں سے بھاگ جائیں وہ شکار کی طرح ہیں، اور اس اونٹ کے متعلق جو کنویں میں گر جائے، فرمایا کہ جہاں تک ممکن ہو اسے ذبح کر ڈالو، حضرت علی، ابن عمر اور حضرت عائشہ (رض) کا بھی یہی خیال ہے
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے اور ان سے رافع بن خدیج (رض) نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہوگا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر جلدی کرلو یا (اس کے بجائے) أرن کہا یعنی جلدی کرلو جو آلہ خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیئے اور اس کی وجہ بھی بتادوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر سے مار کر گرا لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے بھی کوئی تمہارے قابو سے باہر ہوجائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
حدیث نمبر: 5509 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১০
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ان سے اسماء بنت ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔
حدیث نمبر: 5510 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ امْرَأَتِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১১
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبدہ سے سنا، انہوں نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے اور ان سے اسماء (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے۔
حدیث نمبر: 5511 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১২
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نحر اور ذبح کا بیان اور ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ ذبح (حلق پر چھری پھیرنا) اور نحر (سینے پر برچھا مارنا) حلق کی جگہ اور نحر کی جگہ پر ہی ہوتا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر ذبح ہونے والے جانور کو نحر کرودں تو کیا یہ جائز ہے، انہوں نے کہا ہاں، اللہ تعالیٰ نے گائے کا ذبح کرنا بیان کیا، اگر نحر کیے جانے والے جانور کو ذبح کردیا تو جائز ہے، اور نحر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اور ذبح رگوں کا کاٹنا ہے، میں نے پوچھا کیا رگیں پیچھے چھوڑ دی جائیں، یہاں حرام مغز کاٹ دیا جائے، انہوں نے فرمایا میں اسے ٹھیک نہیں سمجھتا، اور نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عمر نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہڈی تک پہنچا کر چھوڑ دیں، یہاں تک مرجائے، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کرو اور بیان کیا کہ ان لوگوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے، اور سعید نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ ذبح حلق اور لبہ (دونوں) میں ہوجاتا ہے، حضرت ابن عمر، ابن عباس اور انس نے فرمایا کہ اگر سرکٹ جائے تو کوئی حرج نہیں
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے کہ اسماء بنت ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑے کو نحر کیا (اس کے سینے کے اوپر کے حصہ میں چھری مار کر) پھر اسے کھایا۔ اس کی متابعت وکیع اور ابن عیینہ نے ہشام سے نحر. کے ذکر کے ساتھ کی۔
حدیث نمبر: 5512 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ. تَابَعَهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ فِي النَّحْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১৩
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے، کہا کہ میں انس (رض) کے ساتھ حکم بن ایوب کے یہاں گیا، انہوں نے وہاں چند لڑکوں کو یا نوجوانوں کو دیکھا کہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5513 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১৪
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن سعید بن عمرو نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ عبداللہ بن عمر (رض) سے بیان کرتے تھے کہ وہ یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے۔ یحییٰ کی اولاد میں ایک بچہ ایک مرغی باندھ کر اس پر تیر کا نشانہ لگا رہا تھا۔ عبداللہ بن عمر (رض) مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول لیا پھر مرغی کو اور بچے کو اپنے ساتھ لائے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچہ کو منع کر دو کہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے آپ نے کسی جنگلی جانور یا کسی بھی جانور کو باندھ کر جان سے مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5514 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي يَحْيَى رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ حَتَّى حَلَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا، وَبِالْغُلَامِ مَعَهُ، فَقَالَ: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ عَنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ لِلْقَتْلِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِلْقَتْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১৫
ذبیحوں اور شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ (ہاتھ پاؤں کاٹنے)، مصبورہ (باندھ کر مارنا) اور مجسمہ کی کراہت کا بیان
ہم سے منہال نے بیان کیا، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت بھیجی ہے جو کسی زندہ جانور کے پاؤں یا دوسرے ٹکڑے کاٹ ڈالے۔ اور عدی نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ابن عباس (رض) نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَلَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ. وَقَالَ عَدِيٌّ: عَنْسَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: