আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৮ টি

হাদীস নং: ৫২৭৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو کچھ تم نے ان عورتوں کو دیا ہے، اس کالینا تمہارے حلال نہیں ہے، آخر آیت ظالمون تک، اور حضرت عمر (رض) نے خلع کو جائز کہا ہے، اگرچہ سلطان کے سامنے نہ ہو اور حضرت عثمان رضی اللہ نے سرکے چٹلے سے کم قیمت کے عوض بھی خلع کو جائز کہا اور آیت الا ان یخافا الایقیما حدود اللہ کے متعلق طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ ان حدود کے متعلق ہے جو اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک دوسرے پر مقرر کی ہیں، یعنی صحبت اور ایک ساتھ رہنا اور طاؤس نے نادانوں کی سی بات نہیں کی کہ خلع جائز نہیں، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں تجھ سے جنابت کا غسل نہیں کروں گا
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ (رض) (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان (ثابت رضی اللہ عنہ) کا باغ واپس کر دو گی ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چناچہ انہوں نے باغ واپس کردیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم ﷺ سے اور (اس روایت میں بیان کیا کہ) ان کے شوہر (ثابت رضی اللہ عنہ) نے انہیں طلاق دے دی۔ اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس (رض) نے، انہوں نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس (رض) کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتی۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کرسکتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔
حدیث نمبر: 5274 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَدَّتْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَطَلِّقْهَا. حدیث نمبر: 5275 وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي لَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو کچھ تم نے ان عورتوں کو دیا ہے، اس کالینا تمہارے حلال نہیں ہے، آخر آیت ظالمون تک، اور حضرت عمر (رض) نے خلع کو جائز کہا ہے، اگرچہ سلطان کے سامنے نہ ہو اور حضرت عثمان رضی اللہ نے سرکے چٹلے سے کم قیمت کے عوض بھی خلع کو جائز کہا اور آیت الا ان یخافا الایقیما حدود اللہ کے متعلق طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ ان حدود کے متعلق ہے جو اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک دوسرے پر مقرر کی ہیں، یعنی صحبت اور ایک ساتھ رہنا اور طاؤس نے نادانوں کی سی بات نہیں کی کہ خلع جائز نہیں، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں تجھ سے جنابت کا غسل نہیں کروں گا
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا، کہا ہم سے قراد ابونوح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس (رض) کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے (کہ میں ثابت (رض) کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں) ۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کرسکتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چناچہ انہوں نے وہ باغ واپس کردیا اور نبی کریم ﷺ کے حکم سے ثابت (رض) نے انہیں اپنے سے جدا کردیا۔
حدیث نمبر: 5276 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو کچھ تم نے ان عورتوں کو دیا ہے، اس کا لینا تمہارے حلال نہیں ہے، آخر آیت ظالمون تک، اور حضرت عمر (رض) نے خلع کو جائز کہا ہے، اگرچہ سلطان کے سامنے نہ ہو اور حضرت عثمان رضی اللہ نے سرکے چٹلے سے کم قیمت کے عوض بھی خلع کو جائز کہا اور آیت الا ان یخافا الایقیما حدود اللہ کے متعلق طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ ان حدود کے متعلق ہے جو اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک دوسرے پر مقرر کی ہیں، یعنی صحبت اور ایک ساتھ رہنا اور طاؤس نے نادانوں کی سی بات نہیں کی کہ خلع جائز نہیں، جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں تجھ سے جنابت کا غسل نہیں کروں گا
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ (مرسلاً ) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔
حدیث نمبر: 5277 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ جَمِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف کا بیان اور کیا ضرورت کی بناء پر خلع کا اشارہ کیا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تمہیں ان کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو اس کے گھر والوں میں سے ایک حکم (ثالث) مقرر کرلو، آخر آیت خبیرا تک
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی (رض) سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کرلیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔
حدیث نمبر: 5278 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا آذَنُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کی بیع سے طلاق نہیں ہوتی
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ بریرہ (رض) سے دین کے تین مسئلے معلوم ہوگئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہوجائیں) اور رسول اللہ ﷺ نے (انہیں کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم ﷺ کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے ؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
حدیث نمبر: 5279 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، ‏‏‏‏‏‏إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی غلام کے نکاح میں ہو تو آزادی کے وقت اختیار کا بیان
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ (رض) کے شوہر (مغیث) سے تھی۔
حدیث نمبر: 5280 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی غلام کے نکاح میں ہو تو آزادی کے وقت اختیار کا بیان
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ (رض) کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ (رض) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 5281 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلَانٍ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي عَلَيْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی غلام کے نکاح میں ہو تو آزادی کے وقت اختیار کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ بریرہ (رض) کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ (رض) کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 5282 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ مُغِيثٌ عَبْدًا لِبَنِي فُلَانٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بریرہ کے شوہر کے متعلق آپ ﷺ کا سفارش کرنا
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ بریرہ (رض) کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ (رض) کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے عباس (رض) سے فرمایا : عباس ! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی ؟ آخر نبی کریم ﷺ نے بریرہ (رض) سے فرمایا کہ کاش ! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5283 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ:‏‏‏‏ يَا عَبَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ رَاجَعْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر (آزادی کے بعد) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں) ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ:‏‏‏‏ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور مومن لونڈی مشرک عورت سے بہتر ہے اگرچہ وہ تم کو اچھی معلوم ہو۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر (رض) سے اگر یہودی یا نصرانی عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہوگا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں۔
حدیث نمبر: 5285 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْيَهُودِيَّةِ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا أَعْلَمُ مِنَ الْإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ الْمَرْأَةُ:‏‏‏‏ رَبُّهَا عِيسَى وَهُوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک عورت مسلمان ہوجائے تو اس کے نکاح اور عدت کا بیان
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم ﷺ ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم ﷺ سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم ﷺ ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم ﷺ سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت (اسلام قبول کرنے کے بعد) ہجرت کر کے (مدینہ منورہ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہوجاتیں تو ان سے نکاح جائز ہوجاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلینے سے پہلے ہجرت کر کے آجاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آجاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کردی جاتی تھی۔ اور عطاء نے ابن عباس (رض) سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب (رض) کے نکاح میں تھیں، پھر عمر (رض) نے (مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے ان سے نکاح کرلیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی (اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آگئیں) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔
حدیث نمبر: 5286 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ:‏‏‏‏ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ. حدیث نمبر: 5287 وَقَالَ عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمانَ الثَّقَفِيُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک یا نصرانی عورت، ذمی یاحربی کے نکاح میں ہو اور وہ مسلمان ہوجائے، عبد الوارث نے بواسطہ خالد، عکرمہ، ابن عباس (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر سے ایک گھنٹہ پہلے مسلمان ہوجائے تو وہ اس پر حرام ہے، اور داؤد نے ابراہیم صائغ سے نقل کیا ہے کہ عطاء سے معاہد کی بیوی کے متعلق دریافت کیا گیا جو مسلمان ہوجائے تو کیا وہ اس کی بیوی رہی یا نہیں، انہوں نے کہا کہ نہیں، مگر یہ کہ وہ عورت چاہے تو جدید نکاح اور مہر کے عوض (اس کے پاس رہ سکتی ہے) اور مجاہد نے کہا کہ اگر وہ بیوی کی عدت میں مسلمان ہوجائے تو اس سے نکاح کرلے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ وہ عورتیں ان مردوں کے حلال ہیں اور نہ وہ مرد ان عورتوں کے لئے حلال ہیں، اور حسن وقتادہ نے مجوسیوں کے متعلق کہا کہ اگر وہ دونوں مسلمان ہوجائیں تو وہ دونوں اپنے نکاح پر قائم رہیں گے، اور اگر ان دونوں میں سے کوئی پہلے مسلمان ہوجائے اور دوسرے نے انکار کیا تو وہ عورت بائنہ ہوجائے گی، شوہر کو اس پر کوئی حق نہیں، اور ابن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ اگر مشرکین میں سے کوئی عورت مسلمانوں کے پاس آجائے تو کیا اس کے شوہر کو معاوضہ دلایاجائے گا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو دے دو جو کچھ ان لوگوں نے خرچ کیا ہے، عطاء نے کہا نہیں یہ تو صرف نبی ﷺ اور معاہدین کے درمیان تھا، مجاہد کہتے ہیں کہ یہ ساری باتیں اس صلح میں تھیں جو آپ ﷺ اور قریش کے درمیان ہوئی تھی
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم ﷺ کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم ﷺ انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے يا أيها الذين آمنوا إذا جاء کم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏ کہ اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ ۔ آخر آیت تک۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ پھر ان (ہجرت کرنے والی) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کرلیتی (جس کا ذکر اسی سورة الممتحنہ میں ہے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی ) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چناچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں ! واللہ ! نبی کریم ﷺ کے ہاتھ نے (بیعت لیتے وقت) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم ﷺ ان سے صرف زبان سے (بیعت لیتے تھے) ۔ واللہ ! نبی کریم ﷺ نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔
حدیث نمبر: 5288 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ سورة الممتحنة آية 10 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ، ‏‏‏‏‏‏لَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالْكَلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ:‏‏‏‏ يَقُولُ لَهُنَّ:‏‏‏‏ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏آلَيْتَ شَهْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ"".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں کے لئے جوا پنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں، چار ماہ تک انتظار کرنا ہے، سمیع علم تک، فان فاء وا کا معنی ہے کہ اگر وہ رجوع کرلیں
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر (رض) اس ایلاء کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، فرماتے تھے کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں، سوا اس کے کہ قاعدہ کے مطابق (اپنی بیوی کو) اپنے پاس ہی روک لے یا پھر طلاق دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا کہ ان سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ چار مہینے گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے اور عثمان، علی، ابودرداء اور عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 5290 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ فِي الْإِيلَاءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدَ الْأَجَلِ إِلَّا أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلَاقِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. وقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ حَتَّى يُطَلِّقَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وأَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏واثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں کے لئے جوا پنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں، چار ماہ تک انتظار کرنا ہے، سمیع علم تک، فان فاء وا کا معنی ہے کہ اگر وہ رجوع کرلیں
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی۔ اس لیے آپ ﷺ نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5289 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏آلَيْتَ شَهْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : ظہار کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا سورة المجادلہ میں فرمانا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے، اپنے شوہر کے بارے میں بحث کرتی تھی۔ آیت فمن لم يستطع فإطعام ستين مسكينا تک، اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے ابن شہاب سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ اس کا ظہار بھی آزاد کے ظہار کی طرح ہوگا۔ امام مالک نے بیان کیا کہ غلام روزے دو مہینے کے رکھے گا۔ حسن بن حر نے کہا کہ آزاد مرد یا غلام کا ظہار آزاد عورت یا لونڈی سے یکساں ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ظہار اپنی بیویوں سے ہوتا ہے اور عربی زبان میں لام فى کے معنوں میں آتا ہے تو يعودون لما قالوا کا یہ معنی ہوگا کہ پھر اس عورت کو رکھنا چاہیں اور ظہار کے کلمہ کو باطل کرنا اور یہ ترجمہ اس سے بہتر ہے کیونکہ ظہار کو اللہ نے بری بات اور جھوٹ فرمایا ہے اس کو دہرانے کے لیے کیسے کہے گا۔
23- بَابُ الظِّهَارِ: وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا سورة المجادلة آية 1 - 4. وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ظِهَارِ الْعَبْدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَحْوَ ظِهَارِ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ وَصِيَامُ الْعَبْدِ شَهْرَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ:‏‏‏‏ ظِهَارُ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ مِنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ عِكْرِمَةُ:‏‏‏‏ إِنْ ظَاهَرَ مِنْ أَمَتِهِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا الظِّهَارُ مِنَ النِّسَاءِ وَفِي الْعَرَبِيَّةِ لِمَا قَالُوا أَيْ فِيمَا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏وَفِي بَعْضِ مَا قَالُوا:‏‏‏‏ وَهَذَا أَوْلَى لِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَدُلَّ عَلَى الْمُنْكَرِ وَقَوْلِ الزُّورِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان اور ابن عمر (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں کرے گا، لیکن اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی وجہ سے عذاب کرے گا، اور کعب بن مالک نے کہا کہ نبی ﷺ نے میری طرف اشارہ سے فرمایا کہ نصف لے لو اور اسماء نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے کسوف میں نماز پڑھی، میں نے عائشہ سے نماز کی حالت میں پوچھا کہ کیا بات ہے (لوگ نماز پڑھ رہے ہیں) عائشہ نے سر سے آسمان کی طرف اشار کیا، میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہاں ! اور انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اشارے سے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور ابن عباس (رض) نے بیان کیا نبی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے پوچھا کہ محرم کے شکار پر ابھارا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا، لوگوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کیا اور نبی کریم ﷺ جب بھی رکن کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے تکبیر کہتے اور زینب بنت جحش (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کے دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنایا۔
حدیث نمبر: 5293 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان اور ابن عمر (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں کرے گا، لیکن اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی وجہ سے عذاب کرے گا، اور کعب بن مالک نے کہا کہ نبی ﷺ نے میری طرف اشارہ سے فرمایا کہ نصف لے لو اور اسماء نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے کسوف میں نماز پڑھی، میں نے عائشہ سے نماز کی حالت میں پوچھا کہ کیا بات ہے (لوگ نماز پڑھ رہے ہیں) عائشہ نے سر سے آسمان کی طرف اشار کیا، میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہاں ! اور انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اشارے سے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور ابن عباس (رض) نے بیان کیا نبی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے پوچھا کہ محرم کے شکار پر ابھارا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا، لوگوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھا ؤ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے (اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔ اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے ؟ فلاں نے ؟ نبی کریم ﷺ نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے ؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔
حدیث نمبر: 5294 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بِيَدِهِ وَوَضَعَ أُنْمُلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصِرِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ يُزَهِّدُهَا. حدیث نمبر: 5295 وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَارِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَضَخَ رَأْسَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَكِ ؟ فُلَانٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَشَارَتْ أَنْ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَفُلَانٌ لِقَاتِلِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان اور ابن عمر (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں کرے گا، لیکن اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی وجہ سے عذاب کرے گا، اور کعب بن مالک نے کہا کہ نبی ﷺ نے میری طرف اشارہ سے فرمایا کہ نصف لے لو اور اسماء نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے کسوف میں نماز پڑھی، میں نے عائشہ سے نماز کی حالت میں پوچھا کہ کیا بات ہے (لوگ نماز پڑھ رہے ہیں) عائشہ نے سر سے آسمان کی طرف اشار کیا، میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہاں ! اور انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اشارے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور ابن عباس (رض) نے بیان کیا نبی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے پوچھا کہ محرم کے شکار پر ابھارا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا، لوگوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھاؤ
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ ﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 5296 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ.
tahqiq

তাহকীক: