আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮১ টি
হাদীস নং: ৫১৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی بکری ولیمہ کرنے کا بیان
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے زینب (رض) جیسا ولیمہ اپنی بیویوں میں سے کسی کا نہیں کیا، ان کا ولیمہ آپ نے ایک بکری کا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 5168 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا أَوْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ أَوْلَمَ بِشَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی بکری ولیمہ کرنے کا بیان
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے شعیب نے اور ان سے انس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ (رض) کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔
حدیث نمبر: 5169 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی بکری ولیمہ کرنے کا بیان
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس (رض) سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ایک خاتون (زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا۔
حدیث نمبر: 5170 حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: بَنَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ فَأَرْسَلَنِي، فَدَعَوْتُ رِجَالًا إِلَى الطَّعَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی بیوی کا کسی بیوی سے زیادہ ولیمہ کرنے کا بیان
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ثابت بنانی نے، کہ انس (رض) کے سامنے زینب بنت جحش (رض) کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے جیسا اپنی بیویوں میں سے کسی کے لیے ولیمہ کرتے نہیں دیکھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کا ولیمہ ایک بکری سے کیا تھا۔
حدیث نمبر: 5171 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسٍ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک بکری سے کم ولیمہ کرنے کا بیان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد ( تقریباً پونے دو سیر ) جَو سے کیا تھا۔
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ صفیہ بنت شیبہ (رض) نے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد (تقریباً پونے دو سیر) جَو سے کیا تھا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت ولیمہ قبول کرنے کا بیان اور سات دن تک اگر کوئی ولیمہ وغیرہ کھلائے (توجائز ہے) کیوں کہ آپ ﷺ نے ایک دن یا دو دن میں منحصر نہیں فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہئے۔ معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ کا قبول کرنا ضروری ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہئے۔ معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ کا قبول کرنا ضروری ہے۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت ولیمہ قبول کرنے کا بیان اور سات دن تک اگر کوئی ولیمہ وغیرہ کھلائے (توجائز ہے) کیوں کہ آپ ﷺ نے ایک دن یا دو دن میں منحصر نہیں فرمایا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے یبان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیدی کو چھڑاؤ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو اور بیمار کی عیادت کرو۔
حدیث نمبر: 5174 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت ولیمہ قبول کرنے کا بیان اور سات دن تک اگر کوئی ولیمہ وغیرہ کھلائے (توجائز ہے) کیوں کہ آپ ﷺ نے ایک دن یا دو دن میں منحصر نہیں فرمایا
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید نے کہ براء بن عازب (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے منع فرمایا۔ ہمیں نبی کریم ﷺ نے بیمار کی عیادت، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے (یرحمک اللہ یعنی اللہ تم پر رحم کرے کہنا) قسم کو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا تھا اور ہمیں نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن استعمال کرنے، ریشمی گدے، قسیہ (ریشمی کپڑا) استبرق (موٹے ریشم کا کپڑا) اور دیباج (ایک ریشمی کپڑا) کے استعمال سے منع فرمایا تھا۔ ابوعوانہ اور شیبانی نے اشعث کی روایت سے لفظ إفشاء السلام. میں ابوالاحوص کی متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 5175 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ: خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيَّةِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ. تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ،وَالشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ فِي إِفْشَاءِ السَّلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت ولیمہ قبول کرنے کا بیان اور سات دن تک اگر کوئی ولیمہ وغیرہ کھلائے (توجائز ہے) کیوں کہ آپ ﷺ نے ایک دن یا دو دن میں منحصر نہیں فرمایا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد (رض) نے کہ ابواسید ساعدی (رض) نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب ضروری جو کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ سہل (رض) نے کہا تمہیں معلوم ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس موقع پر کیا پلایا تھا ؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں (صبح کو) جب نبی کریم ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی پلایا۔
حدیث نمبر: 5176 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ، قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت کو قبول کرلینے کے بعد اگر کوئی شخص دعوت میں نہ جائے، تو اس نے اللہ اور رسول کی نا فرمانی کی
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 5177 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پائے کھلانے کی دعوت کرنے کا بیان
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کے کھر کی دعوت دی جائے تو میں اسے بھی قبول کروں گا اور اگر مجھے وہ کھر بھی ہدیہ میں دیئے جائیں تو میں اسے قبول کروں گا۔
حدیث نمبر: 5178 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شادی وغیرہ میں دعوت قبول کرنے کا بیان
ہم سے علی بن عبداللہ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ولیمہ کی جب تمہیں دعوت دی جائے تو قبول کرو۔ بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) اگر روزے سے ہوتے جب بھی ولیمہ کی دعوت یا کسی دوسری دعوت میں شرکت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5179 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْنَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَهُوَ صَائِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت ولیمہ میں عورتوں اور بچوں کو لے جانے کا بیان
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو کسی شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے مارے جلدی سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا : یا اللہ ! (تو گواہ رہ) تم لوگ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہو۔
حدیث نمبر: 5180 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءً وَصِبْيَانًا مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ مُمْتَنًّا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت میں کوئی بری بات دیکھے تو لوٹ آنے کا بیان، ابن مسعود (رض) ایک مکان میں تصویر دیکھ کر لوٹ آئے، ابن عمر (رض) نے ایوب (رض) کو بلایا تھا، انہوں نے دیوار پر پردہ دیکھا، ابن عمر بولے اس میں ہم پر عورتیں غالب آگئی ہیں، ابوایوب نے کہا جن لوگوں پر مجھے اس کا خوف تھا وہ بہت ہیں، مگر تم پر مجھے یہ اندیشہ نہ تھا، بخدا ! میں کھانا نہ کھاؤں گا، پھر واپس چلے گئے
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر نہیں آئے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ لیے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ گدا یہاں کیسے آیا ؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان تصویروں کے (بنانے والوں کو) قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویر سازی کی ہے اسے زندہ بھی کرو ؟ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ان میں (رحمت کے) فرشتے نہیں آتے۔
حدیث نمبر: 5181 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ، وَقَالَ: إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی دلہن کا ولیمہ میں مردوں کی خدمت کرنے کا بیان
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ جب ابواسید ساعدی (رض) نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی، اس موقعہ پر کھانا ان کی دلہن ام اسید ہی نے تیار کیا تھا اور انہوں نے ہی مردوں کے سامنے کھانا رکھا۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھی اور جب نبی کریم ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے (تحفہ کے طور پر) پینے کے لیے پیش کیا۔
حدیث نمبر: 5182 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلَا قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلَّا امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ، فَسَقَتْهُ تُتْحِفُهُ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شادی میں کھجوروں کا شیرہ اور وہ شربت جو نشہ نہ کرے، اس کے پلانے کا بیان
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا، ان سے ابوالحازم نے، کہا کہ میں نے سہل بن سعد (رض) سے سنا کہ ابواسید ساعدی نے اپنی شادی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی۔ اس دن ان کی بیوی ہی سب کی خدمت کر رہی تھیں، حالانکہ وہ دلہن تھیں بیوی نے کہا یا سہل نے (راوی کو شک تھا) کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے کیا تیار کیا تھا ؟ میں نے آپ کے لیے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت سے کھجور کا شربت تیار کیا تھا۔
حدیث نمبر: 5183 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ، فَقَالَتْ: أَوْ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا أَنْقَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے ساتھ نرمی کرنے کا بیان، آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عورت پسلی کی طرح ہے
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورت مثل پسلی کے ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہو گے تو اس کی ٹیڑھ کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے۔
حدیث نمبر: 5184 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کا بیان
ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ نے ان سے ابوالحازم نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور میں تمہیں۔ (بقیہ اگلی حدیث دیکھیں) ۔ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 5185 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ. حدیث نمبر: 5186 وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کا بیان
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے وقت میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ گفتگو اور بہت زیادہ بےتکلفی سے اس ڈر کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ کہیں کوئی بےاعتدالی ہوجائے اور ہماری برائی میں کوئی حکم نازل نہ ہوجائے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی تو ہم نے ان سے خوب کھل کے گفتگو کی اور خوب بےتکلفی کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 5187 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْبَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا وَانْبَسَطْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے نفس اور بال بچوں کو آگ سے بچانے کا بیان
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے (اس کی رعیت کے بارے میں) سوال ہوگا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہوگا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہوگا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہوگا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہوگا۔
حدیث نمبر: 5188 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ.
তাহকীক: