আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
فضائل قرآن - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮১ টি
হাদীস নং: ৫০২২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی وصیت پر عمل کرنے کا بیان
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے، کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا، کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سوال کیا : کیا نبی کریم نے کوئی وصیت فرمائی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا : پھر لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی کہ مسلمانوں کو تو وصیت کا حکم ہے اور خود نبی کریم ﷺ نے کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہنے کی وصیت فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 5022 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أُمِرُوا بِهَا وَلَمْ يُوصِ ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا قرآن شریف سے بے پرواہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ کیا انہیں کافی نہیں ہے کہ ہم نے تجھ پر کتاب اتاری، جو ان پر پڑھی جاتی ہے
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اس نے نبی کریم ﷺ کا قرآن بہترین آواز کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا ایک دوست عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کہتا تھا کہ اس حدیث میں يتغنى بالقرآن سے یہ مراد ہے کہ اچھی آواز سے اسے پکار کر پڑھے۔
حدیث نمبر: 5023 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَأْذَنِ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ. وَقَالَ صَاحِبٌ لَهُ: يُرِيدُ يَجْهَرُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا قرآن شریف سے بے پرواہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ کیا انہیں کافی نہیں ہے کہ ہم نے تجھ پر کتاب اتاری، جو ان پر پڑھی جاتی ہے
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اپنے نبی ( ﷺ ) کو بہترین آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے سنا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا يتغنى بالقرآن سے مراد ہے کہ قرآن پر قناعت کرے۔
حدیث نمبر: 5024 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ. قَالَ سُفْيَانُ: تَفْسِيرُهُ يَسْتَغْنِي بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے پر رشک کا بیان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہوسکتا ہے ایک تو اس پر جسے اللہ نے قرآن مجید کا علم دیا اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا آدمی وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔
حدیث نمبر: 5025 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يَتَصَدَّقُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے پر رشک کا بیان
ہم سے علی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے کہا میں نے ذکوان سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہونا چاہیے ایک اس پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے کہ اس کا پڑوسی سن کر کہہ اٹھے کہ کاش مجھے بھی اس جیسا علم قرآن ہوتا اور میں بھی اس کی طرح عمل کرتا اور وہ دوسرا جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے لیے لٹا رہا ہے (اس کو دیکھ کر) دوسرا شخص کہہ اٹھتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی اس کے جتنا مال ہوتا اور میں بھی اس کی طرح خرچ کرتا۔
حدیث نمبر: 5026 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ، فَقَالَ: لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا سب سے بہتر ہونے کا بیان جو قرآن کریم سیکھے یا کسی کو سکھائے
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے اور انہوں نے عثمان بن عفان (رض) سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں کو عثمان (رض) کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ (قرآن مجید پڑھانے کے لیے) بٹھا رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 5027 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ. قَالَ: وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ، قَالَ: وَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا سب سے بہتر ہونے کا بیان جو قرآن کریم سیکھے یا کسی کو سکھائے
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن مرثد نے، ان سے ابو عبیدالرحمن سلمی نے، ان سے عثمان (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب میں بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔
حدیث نمبر: 5028 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَفْضَلَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০২৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا سب سے بہتر ہونے کا بیان جو قرآن کریم سیکھے یا کسی کو سکھائے
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) کے لیے ہبہ کردیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب مجھے عورتوں سے نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کردیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر انہیں (مہر میں) ایک کپڑا لا کے دے دو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو یہ بھی میسر نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر انہیں کچھ تو دو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ اس پر بہت پریشان ہوئے (کیونکہ ان کے پاس یہ بھی نہ تھی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا تم کو قرآن کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں نے تمہارا ان سے قرآن کی ان سورتوں پر نکاح کیا جو تمہیں یاد ہیں۔
حدیث نمبر: 5029 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: أَعْطِهَا ثَوْبًا، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَاعْتَلَّ لَهُ، فَقَالَ: مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف بغیر دیکھے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد (رض) نے کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کرلی اور سر جھکا لیا۔ جب اس خاتون نے دیکھا کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نبی کریم ﷺ نے نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ پھر نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کردیں۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ (مہر کے لیے) بھی ہے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ، اللہ کی قسم ! تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز ملے، وہ صاحب گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا نہیں، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر دیکھ لو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آگئے اور عرض کیا نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ ! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی۔ البتہ یہ ایک تہبند میرے پاس ہے۔ سہل (رض) کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی (اوڑھنے کے لیے) نہیں تھی۔ اس صحابی نے کہا کہ خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دے دیجئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اس تہبند کا وہ کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے قابل نہیں رہتا اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے قابل نہیں۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا تو بلوایا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے بتلایا کہ فلاں، فلاں، فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں۔ انہوں نے ان کے نام گنائے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو ؟ عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ تمہیں قرآن مجید کی جو سورتیں یاد ہیں ان کے بدلے میں میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔
حدیث نمبر: 5030 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ، هَلْ تَجِدُ شَيْئًا، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي، قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ، إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَيْءٌ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ، ثُمَّ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّهَا، قَالَ: أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف پڑھنے اور اس کی ہمیشہ تلاوت کرنے کا بیان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا۔
حدیث نمبر: 5031 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩২
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف پڑھنے اور اس کی ہمیشہ تلاوت کرنے کا بیان
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، اور ان سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبدہ سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، مِثْلَهُ. تَابَعَهُ بِشْرٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْشُعْبَةَ، وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৩
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف پڑھنے اور اس کی ہمیشہ تلاوت کرنے کا بیان
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتا ہے۔
حدیث نمبر: 5033 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৪
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ سواری پر قرآن شریف پڑھنے کا بیان
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوایاس نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ سواری پر سورة الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5034 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَى رَاحِلَتِهِ سُورَةَ الْفَتْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৫
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو قرآن شریف پڑھانے کا بیان
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ جن سورتوں کو تم مفصل کہتے ہو وہ سب محکم ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) نے کہا جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میری عمر دس سال کی تھی اور میں نے محکم سورتیں سب پڑھ لی تھیں۔
حدیث نمبر: 5035 حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৬
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو قرآن شریف پڑھانے کا بیان
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں ابن عباس (رض) نے کہ میں نے محکم سورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سب یاد کرلی تھیں، میں نے پوچھا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں ؟ کہا کہ مفصل۔
حدیث نمبر: 5036 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: وَمَا الْمُحْكَمُ ؟ قَالَ: الْمُفَصَّلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৭
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف بھول جانا اور یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا (جائز نہیں) کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جلد ہی ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو ہرگز نہ بھولے گا مگر جو اللہ چاہے گا
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے (اضافہ کے ساتھ بیان کیا کہ) میں نے فلاں سورت کی فلاں فلاں آیتیں بھلا دی تھیں۔ محمد بن عبید کے ساتھ اس کو علی بن مسہر اور عبدہ نے بھی ہشام سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5037 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ هِشَامٍ، وَقَالَ: أَسْقَطْتُهُنَّ مِنْ سُورَةِ كَذَا. تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৮
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف بھول جانا اور یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا (جائز نہیں) کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جلد ہی ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو ہرگز نہ بھولے گا مگر جو اللہ چاہے گا
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔
حدیث نمبر: 5038 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي سُورَةٍ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৯
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ قرآن شریف بھول جانا اور یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا (جائز نہیں) کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جلد ہی ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو ہرگز نہ بھولے گا مگر جو اللہ چاہے گا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا بلکہ اسے (یوں کہنا چاہیے) کہ میں فلاں فلاں آیتوں کو بھلا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 5039 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪০
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ سورۃ بقرہ یا فلاں فلاں سورت کہنے میں کوئی حرج نہ ہونے کا بیان
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ اور عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے ابومسعود انصاری (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورة البقرہ کے آخر کی دو آیتوں کو جو شخص رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 5040 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪১
فضائل قرآن
পরিচ্ছেদঃ سورۃ بقرہ یا فلاں فلاں سورت کہنے میں کوئی حرج نہ ہونے کا بیان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب (رض) سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام (رض) کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورة الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خود نبی کریم ﷺ نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں۔ میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورة الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورة الفرقان پڑھا چکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہشام ! پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عمر ! اب تم پڑھو۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم ﷺ نے مجھے سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قسم کی ق راتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔
حدیث نمبر: 5041 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ ؟ قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقُودُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا، وَإِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ: يَا هِشَامُ، اقْرَأْهَا ؟فَقَرَأَهَا الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ: اقْرَأْ يَا عُمَرُ، فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ.
তাহকীক: