আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

تفاسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৯৫ টি

হাদীস নং: ৪৫৫৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جب تم میں سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھی تھیں کہ وہ بزدل ہو کر ہمت ہار بیٹھیں“۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا عمرو بن دینار نے کہا، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی، جب ہم سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھی تھیں کہ ہمت ہار دیں، درآں حالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ ہم دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھے۔ حالانکہ اس آیت میں ہمارے بودے پن کا ذکر ہے، مگر ہم کو یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نہ اترتی کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ اللہ ان دونوں گروہوں کا مددگار (سرپرست) ہے۔
حدیث نمبر: 4558 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ فِينَا نَزَلَتْ إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَحْنُ الطَّائِفَتَانِ:‏‏‏‏ بَنُو حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَنُو سَلِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا نُحِبُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:‏‏‏‏ وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهَا لَمْ تُنْزَلْ لِقَوْلِ اللَّهِ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৫৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں کہ یہ ہدایت کیوں نہیں قبول کرتے اللہ جسے چاہے اسے ہدایت ملتی ہے“۔
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا کر یہ بددعا کی۔ اے اللہ ! فلاں، فلاں اور فلاں کافر پر لعنت کر۔ یہ بددعا آپ نے سمع الله لمن حمده اور ربنا ولک الحمد کے بعد کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ليس لک من الأمر شىء‏ آپ کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ آخر آیت فإنهم ظالمون‏ تک۔ اس روایت کو اسحاق بن راشد نے زہری سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4559 حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ:‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا، ‏‏‏‏‏‏بَعْدَ مَا يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128. رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں کہ یہ ہدایت کیوں نہیں قبول کرتے اللہ جسے چاہے اسے ہدایت ملتی ہے“۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے یا کسی کے لیے دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد کرتے سمع الله لمن حمده،‏‏‏‏ اللهم ربنا لک الحمد کے بعد۔ بعض اوقات آپ ﷺ نے یہ دعا بھی کی اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ ! مضر والوں کو سختی کے ساتھ پکڑ لے اور ان میں ایسی قحط سالی لا، جیسی یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوئی تھی۔ آپ ﷺ بلند آواز سے یہ دعا کرتے اور آپ نماز فجر کی بعض رکعت میں یہ دعا کرتے۔ اے اللہ، فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ عرب کے چند خاص قبائل کے حق میں آپ (یہ بددعا کرتے تھے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ليس لک من الأمر شىء‏ کہ آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔
حدیث نمبر: 4560 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَيَجْهَرُ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِأَحْيَاءٍ مِنْ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 الْآيَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور رسول تم کو پکارتے تھے تمہارے پیچھے سے“۔
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا۔ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں رسول اللہ ﷺ نے (تیر اندازوں کے) پیدل دستے پر عبداللہ بن جبیر (رض) کو افسر مقرر کیا تھا، پھر بہت سے مسلمانوں نے پیٹھ پھیرلی، آیت فذاک إذ يدعوهم الرسول في أخراهم اور رسول تم کو پکار رہے تھے تمہارے پیچھے سے۔ میں اسی کی طرف اشارہ ہے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ صحابیوں کے سوا اور کوئی موجود نہ تھا۔
حدیث نمبر: 4561 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : آیت کی تفسیر جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرلیا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ، ان میں سے جو نیک اور متقی ہیں ان کے لیے بہت بڑا ثواب ہے القرح یعنی الجراح زخم۔ استجابوا یعنی اجابوا انہوں نے قبول کیا۔ يستجيب اى يجيب وہ قبول کرتے ہیں۔
12- بَابُ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ}: الْقَرْحُ:‏‏‏‏ الْجِرَاحُ، ‏‏‏‏‏‏اسْتَجَابُوا:‏‏‏‏ أَجَابُوا، ‏‏‏‏‏‏يَسْتَجِيبُ:‏‏‏‏ يُجِيبُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”مسلمانوں سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف بہت سامان جنگ جمع کیا ہے، پس ان سے ڈرو تو مسلمانوں نے جواب میں حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہا“۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم سے ابوبکر شعبہ بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین عثمان بن عاصم نے اور ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ کلمہ حسبنا الله ونعم الوکيل‏ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا، اس وقت جب ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور یہی کلمہ محمد ﷺ نے اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے کہا تھا کہ لوگوں (یعنی قریش) نے تمہارے خلاف بڑا سامان جنگ اکٹھا کر رکھا ہے، ان سے ڈرو لیکن اس بات نے ان مسلمانوں کا (جوش) ایمان اور بڑھا دیا اور یہ مسلمان بولے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔
حدیث نمبر: 4563 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَصِينٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الضُّحَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ سورة آل عمران آية 173.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”مسلمانوں سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف بہت سامان جنگ جمع کیا ہے، پس ان سے ڈرو تو مسلمانوں نے جواب میں حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہا“۔
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو آخری کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا حسبي الله ونعم الوکيل‏.‏ تھا یعنی میری مدد کے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔
حدیث نمبر: 4564 حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَصِينٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الضُّحَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ آخِرَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے، وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ مال ان کے حق میں اچھا ہے، نہیں، بلکہ ان کے حق میں بہت برا ہے، یقیناً قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر پہنایا جائے گا، جس میں انہوں نے بخل کیا تھا اور آسمانوں اور زمین کا اللہ ہی مالک ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے“۔
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو (آخرت میں) اس کا مال نہایت زہریلے سانپ بن کر جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے۔ اس کی گردن میں طوق کی طرح پہنا دیا جائے گا۔ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر کہے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں، میں ہی تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله‏ کی اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ مال ان کے حق میں بہتر ہے۔ آخر تک۔
حدیث نمبر: 4565 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، ‏‏‏‏‏‏مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ زَبِيبَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِيَعْنِي بِشِدْقَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا مَالُكَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا كَنْزُكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور یقیناً تم لوگ بہت سی دل دکھانے والی باتیں ان سے سنو گے جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی سنو گے جو مشرک ہیں“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں اسامہ بن زید (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک گدھے کی پشت پر فدک کی بنی ہوئی ایک موٹی چادر رکھنے کے بعد سوار ہوئے اور اسامہ بن زید (رض) کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپ ﷺ بنو حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ راستہ میں ایک مجلس سے آپ گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافق) بھی موجود تھا، یہ عبداللہ بن ابی کے ظاہری اسلام لانے سے بھی پہلے کا قصہ ہے۔ مجلس میں مسلمان اور مشرکین یعنی بت پرست اور یہودی سب ہی طرح کے لوگ تھے، انہیں میں عبداللہ بن رواحہ (رض) بھی تھے۔ سواری کی (ٹاپوں سے گرد اڑی اور) مجلس والوں پر پڑی تو عبداللہ بن ابی نے چادر سے اپنی ناک بند کرلی اور بطور تحقیر کہنے لگا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی قریب پہنچ گئے اور انہیں سلام کیا، پھر آپ سواری سے اتر گئے اور مجلس والوں کو اللہ کی طرف بلایا اور قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول کہنے لگا، جو کلام آپ نے پڑھ کر سنایا ہے، اس سے عمدہ کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ یہ کلام بہت اچھا، پھر بھی ہماری مجلسوں میں آ آ کر آپ ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، اپنے گھر بیٹھیں، اگر کوئی آپ کے پاس جائے تو اسے اپنی باتیں سنایا کریں۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن رواحہ (رض) نے کہا، ضرور یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں، ہم اسی کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمان، مشرکین اور یہودی آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور قریب تھا کہ فساد اور لڑائی تک کی نوبت پہنچ جاتی لیکن آپ نے انہیں خاموش اور ٹھنڈا کردیا اور آخر سب لوگ خاموش ہوگئے، پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہو کر وہاں سے چلے آئے اور سعد بن عبادہ (رض) کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے سعد بن عبادہ (رض) سے بھی اس کا ذکر کیا کہ سعد ! تم نے نہیں سنا، ابوحباب، آپ کی مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول سے تھی، کیا کہہ رہا تھا ؟ اس نے اس طرح کی باتیں کی ہیں۔ سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگزر کردیں۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کے ذریعہ وہ حق بھیجا ہے جو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔ اس شہر (مدینہ) کے لوگ (پہلے) اس پر متفق ہوچکے تھے کہ اس (عبداللہ بن ابی) کو تاج پہنا دیں اور (شاہی) عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا کیا ہے، اس باطل کو روک دیا تو اب وہ چڑ گیا ہے اور اس وجہ سے وہ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ آپ نے اسے معاف کردیا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی اذیتوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور یقیناً تم بہت سی دل آزاری کی باتیں ان سے بھی سنو گے، جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے عزم و حوصلہ کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان (لے آنے) کے بعد پھر سے کافر بنالیں، حسد کی راہ سے جو ان کے دلوں میں ہے۔ آخر آیت تک۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا نبی کریم ﷺ ہمیشہ کفار کو معاف کردیا کرتے تھے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے ساتھ جنگ کی اجازت دے دی اور جب آپ نے غزوہ بدر کیا تو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق قریش کے کافر سردار اس میں مارے گئے تو عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے دوسرے مشرک اور بت پرست ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کر کے ان سب نے بھی نبی کریم ﷺ سے اسلام پر بیعت کرلی اور ظاہراً اسلام میں داخل ہوگئے۔
حدیث نمبر: 4566 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْيَهُودِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، ‏‏‏‏‏‏خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَقَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا الْمَرْءُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤذْيِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، ‏‏‏‏‏‏ارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَنُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا سَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اعْفُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْفَحْ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَبَى اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ شَرِقَ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا سورة آل عمران آية 186 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ سورة البقرة آية 109 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ الْعَفْوَ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَذِنَ اللَّهُ فِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّهُ بِهِ صَنَادِيدَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ:‏‏‏‏ هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَايَعُوا الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْلَمُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو نیک کام انہوں نے نہیں کئے خواہ مخواہ ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، سو ایسے لوگوں کے لیے ہرگز خیال نہ کرو کہ وہ عذاب سے بچ سکیں گے“۔
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چند منافقین ایسے تھے کہ جب نبی کریم ﷺ جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ مدینہ میں پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر بہت خوش ہوا کرتے تھے لیکن جب نبی کریم ﷺ واپس آتے تو عذر بیان کرتے اور قسمیں کھالیتے بلکہ ان کو ایسے کام پر تعریف ہونا پسند آتا جس کو انہوں نے نہ کیا ہوتا اور بعد میں چکنی چیڑی باتوں سے اپنی بات بنانا چاہتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر یہ آیت لا يحسبن الذين يفرحون‏ آخر آیت تک اتاری۔
حدیث نمبر: 4567 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ، ‏‏‏‏‏‏تَخَلَّفُوا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَلَفُوا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188 الْآيَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو نیک کام انہوں نے نہیں کئے خواہ مخواہ ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، سو ایسے لوگوں کے لیے ہرگز خیال نہ کرو کہ وہ عذاب سے بچ سکیں گے“۔
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں علقمہ بن وقاص نے خبر دی کہ مروان بن حکم نے (جب وہ مدینہ کے امیر تھے) اپنے دربان سے کہا کہ رافع ! ابن عباس (رض) کے یہاں جاؤ اور ان سے پوچھو کہ آیت لا يحسبن الذين يفرحون‏ کی رو سے تو ہم سب کو عذاب ہونا چاہیئے کیونکہ ہر ایک آدمی ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں، خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا نہیں اس پر بھی اس کی تعریف ہو۔ ابورافع نے ابن عباس (رض) سے جا کر پوچھا، تو ابن عباس (رض) نے کہا، تم مسلمانوں سے اس آیت کا کیا تعلق ! یہ تو رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو بلایا تھا اور ان سے ایک دین کی بات پوچھی تھی۔ (جو ان کی آسمانی کتاب میں موجود تھی) انہوں نے اصل بات کو تو چھپایا اور دوسری غلط بات بیان کردی، پھر بھی اس بات کے خواہشمند رہے کہ نبی کریم ﷺ کے سوال کے جواب میں جو کچھ انہوں نے بتایا ہے اس پر ان کی تعریف کی جائے اور ادھر اصل حقیقت کو چھپا کر بھی بڑے خوش تھے۔ پھر ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تلاوت وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الکتاب‏ کی اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کتاب کو پوری ظاہر کردینا لوگوں پر، آیت يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا‏ جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام نہیں کئے ہیں، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے۔ تک۔ ہشام بن یوسف کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی ابن جریج سے روایت کیا۔ ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی، انہوں نے ابن جریج سے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، ان کو حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف (رض) نے کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا، پھر یہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 4568 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِبَوَّابِهِ:‏‏‏‏ اذْهَبْ يَا رَافِعُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ:‏‏‏‏ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا، ‏‏‏‏‏‏لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ وَمَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَوْهُ أَنْ قَدِ اسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِمَا أَخْبَرُوهُ عَنْهُ فِيمَا سَأَلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كَذَلِكَ حَتَّى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ :‏‏‏‏ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 187 - 188. تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَاابْنُ مُقَاتِلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بِهَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف ہونے میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں“، ”اختلاف سے رات و دن کا گھٹنا بڑھنا مراد ہے، جو موسمی اثرات سے ہوتا رہتا ہے، یہ سب قدرت الٰہی کے نمونے ہیں“۔
گھر رہ گیا۔ پہلے رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی (میمونہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ تھوڑی دیر تک بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہا تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف نظر کی اور یہ آیت تلاوت کی إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب‏ بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن و رات کے مختلف ہونے میں عقلمندوں کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں تہجد اور وتر پڑھیں۔ جب بلال (رض) نے (فجر کی) اذان دی تو آپ نے دو رکعت (فجر کی سنت) پڑھی اور باہر مسجد میں تشریف لائے اور فجر کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 4569 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَقَدَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَنَّ فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ. ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ (ام المؤمنین) میمونہ (رض) کے
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر ہر حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے اس کائنات کو بیکار پیدا نہیں کیا“ آخر آیت تک۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ (رض) کے یہاں سو گیا، ارادہ یہ تھا کہ آج رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھوں گا۔ میری خالہ نے آپ کے لیے گدا بچھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے طول میں لیٹ گئے پھر (جب آخری رات میں بیدار ہوئے تو) چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار دور کئے۔ پھر سورة آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، اس کے بعد آپ ایک مشکیزے کے پاس آئے اور اس سے پانی لے کر وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں بھی کھڑا ہوگیا اور جو کچھ آپ نے کیا تھا وہی سب کچھ میں نے بھی کیا اور آپ کے پاس آ کر آپ کے بازو میں میں بھی کھڑا ہوگیا۔ آپ ﷺ نے میرے سر پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا اور میرے کان کو (شفقت سے) پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعت تہجد کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر وتر کی نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4570 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طُولِهَا فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا فَأَخَذَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَوْتَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے ہمارے رب! تو نے جسے دوزخ میں داخل کر دیا، اسے تو نے واقعی ذلیل و رسوا کر دیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہے“۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے عبداللہ بن عباس (رض) کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے خبر دی کہ ایک رات وہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ میمونہ (رض) کے گھر میں رہ گئے جو ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹا اور نبی کریم ﷺ اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں آپ بیدار ہوئے اور چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کیا۔ پھر سورة آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت کی۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر مشکیزے کے قریب گئے جو لٹکا ہوا تھا۔ اس کے پانی سے آپ نے وضو بہت ہی اچھی طرح سے پورے آداب کے ساتھ کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں نے بھی آپ ہی کی طرح (وضو وغیرہ) کیا اور نماز کے لیے آپ کے بازو میں جا کر کھڑا ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور اسی ہاتھ سے (بطور شفقت) میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی اور پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں وتر کی نماز پڑھی۔ اس سے فارغ ہو کر آپ لیٹ گئے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی (فجر کی سنت) رکعتیں پڑھیں اور نماز فرض کے لیے باہر تشریف (مسجد میں) لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 4571 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ:‏‏‏‏ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْيَ خَالَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَ بِأُذُنِي بِيَدِهِ الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَوْتَرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة نساء کی تفسیر ابن عباس (رض) نے کہا کہ (قرآن مجید کی آیت) يستنکف ، يستکبر کے معنی میں ہے۔ قواما ( قياما ) یعنی جس پر تمہارے گزران کی بنیاد قائم ہے۔ لهن سبيلا یعنی شادی شدہ کے لیے رجم اور کنوارے کے لیے کوڑے کی سزا ہے (جب وہ زنا کریں) اور دوسرے لوگوں نے کہا (آیت میں) مثنى وثلاث ورباع سے مراد دو دو تین تین اور چار چار ہیں۔ اہل عرب رباع سے آگے اس وزن سے تجاوز نہیں کرتے۔
4- سورة النِّسَاءِ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ يَسْتَنْكِفُ:‏‏‏‏ يَسْتَكْبِرُ قِوَامًا قِوَامُكُمْ مِنْ مَعَايِشِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏لَهُنَّ سَبِيلًا:‏‏‏‏ يَعْنِي الرَّجْمَ لِلثَّيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَلْدَ لِلْبِكْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ غَيْرُهُ:‏‏‏‏ مَثْنَى وَثُلَاثَ:‏‏‏‏ يَعْنِي اثْنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُجَاوِزُ الْعَرَبُ رُبَاعَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کی تفسیر۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے کہا، کہا مجھ کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک آدمی کی پرورش میں ایک یتیم لڑکی تھی، پھر اس نے اس سے نکاح کرلیا، اس یتیم لڑکی کی ملکیت میں کھجور کا ایک باغ تھا۔ اسی باغ کی وجہ سے یہ شخص اس کی پرورش کرتا رہا حالانکہ دل میں اس سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ آیت اتری وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏ کہ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے حق میں انصاف نہ کرسکو گے۔ ہشام بن یوسف نے کہا میں سمجھتا ہوں، ابن جریج نے یوں کہا یہ لڑکی اس درخت اور دوسرے مال اسباب میں اس مرد کی حصہ دار تھی۔
حدیث نمبر: 4573 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ يَتِيمَةٌ فَنَكَحَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لَهَا عَذْقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُمْسِكُهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مِنْ نَفْسِهِ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ فِيهِ:‏‏‏‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏أَحْسِبُهُ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ شَرِيكَتَهُ فِي ذَلِكَ الْعَذْقِ وَفِي مَالِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کی تفسیر۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی انہوں نے عائشہ (رض) سے آیت وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏ کا مطلب پوچھا۔ انہوں نے کہا میرے بھانجے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم لڑکی اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کی جائیداد کی حصہ دار ہو (ترکے کی رو سے اس کا حصہ ہو) اب اس ولی کو اس کی مالداری خوبصورتی پسند آئے۔ اس سے نکاح کرنا چاہے پر انصاف کے ساتھ پورا مہر جتنا مہر اس کو دوسرے لوگ دیں، نہ دینا چاہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ جب تک ان کا پورا مہر انصاف کے ساتھ نہ دیں، نکاح کرنے سے منع فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ تم دوسری عورتوں سے جو تم کو بھلی لگیں نکاح کرلو۔ (یتیم لڑکی کا نقصان نہ کرو) عروہ نے کہا عائشہ (رض) کہتی تھیں، اس آیت کے اترنے کے بعد لوگوں نے پھر نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، اس وقت اللہ نے یہ آیت ويستفتونک في النساء‏ اتاری۔ عائشہ (رض) نے کہا دوسری آیت میں یہ جو فرمایا وترغبون أن تنکحوهن‏ یعنی وہ یتیم لڑکیاں جن کا مال و جمال کم ہو اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم ان یتیم لڑکیوں سے جن کا مال و جمال کم ہو نکاح کرنا نہیں چاہتے تو مال اور جمال والی یتیم لڑکیوں سے بھی جن سے تم کو نکاح کرنے کی رغبت ہے نکاح نہ کرو، مگر جب انصاف کے ساتھ ان کا مہر پورا ادا کرو۔
حدیث نمبر: 4574 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِيعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أُخْتِي، ‏‏‏‏‏‏هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، ‏‏‏‏‏‏تَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ فِي الصَّدَاقِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَإِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سورة النساء آية 127، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فِي آيَةٍ أُخْرَى:‏‏‏‏ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا عَنْ مَنْ رَغِبُوا فِي مَالِهِ وَجَمَالِهِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور جو شخص نادار ہو وہ مناسب مقدار میں کھا لے اور جب امانت ان یتیم بچوں کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کر لیا کرو“ آخر آیت تک۔
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ومن کان غنيا فليستعفف ومن کان فقيرا فليأكل بالمعروف‏ بلکہ جو شخص خوشحال ہو وہ اپنے کو بالکل روکے رکھے۔ البتہ جو شخص نادار ہو وہ واجبی طور پر کھا سکتا ہے۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت یتیم کے بارے میں اتری ہے کہ اگر ولی نادار ہو تو یتیم کی پرورش اور دیکھ بھال کی اجرت میں وہ واجبی طور پر (یتیم کے مال میں سے کچھ) کھا سکتا ہے (بشرطیکہ نیت میں فساد نہ ہو) ۔
حدیث نمبر: 4575 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ إِذَا كَانَ فَقِيرًا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ مَكَانَ قِيَامِهِ عَلَيْهِ بِمَعْرُوفٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور جب تقسیم ورثہ کے وقت کچھ عزیز قرابت دار اور بچے اور یتیم اور مسکین لوگ موجود ہوں تو ان کو بھی کچھ دے دیا کرو“ آخر آیت تک۔
ہم سے احمد بن حمید نے بیان کیا، ہم کو عبیداللہ اشجعی نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں ابواسحاق شیبانی نے، انہیں عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے آیت وإذا حضر القسمة أولو القربى واليتامى والمساکين‏ اور جب تقسیم کے وقت عزیز و اقارب اور یتیم اور مسکین موجود ہوں۔ کے متعلق فرمایا کہ یہ محکم ہے، منسوخ نہیں ہے۔ عکرمہ کے ساتھ اس حدیث کو سعید بن جبیر نے بھی عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4576 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ سورة النساء آية 8، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِيَ مُحْكَمَةٌ وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ. تَابَعَهُ سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں وصیت کرتا ہے“۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی، بیان کیا کہ مجھے ابن منکدر نے خبر دی اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق (رض) قبیلہ بنو سلمہ تک پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مجھ پر بےہوشی طاری ہے، اس لیے آپ نے پانی منگوایا اور وضو کر کے اس کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش میں آگیا، پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا حکم ہے، میں اپنے مال کا کیا کروں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی يوصيكم الله في أولادکم‏ کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 4577 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ مَاشِيَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَعْقِلُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11.
tahqiq

তাহকীক: