আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
تفاسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯৫ টি
হাদীস নং: ৪৮৪০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر لشکر میں ہم (مسلمان) ایک ہزار چار سو تھے۔
حدیث نمبر: 4840 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے عقبہ بن صہبان سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے، انہوں نے کہا کہ میں درخت کے نیچے بیعت میں موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری لے کر پھینکنے سے منع فرمایا۔ اور عقبہ بن صہبان نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے غسل خانہ میں پیشاب کرنے کے متعلق سنا۔ یعنی یہ کہ آپ نے اس سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 4841 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، إِنِّي مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ. حدیث نمبر: 4842 وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ يَأْخُذُ مِنْهُ الْوَسْوَاسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
مجھ سے محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے ثابت بن ضحاک نے اور وہ (صلح حدیبیہ کے دن) درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔
حدیث نمبر: 4843 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
ہم سے احمد بن اسحاق سلمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعلیٰ نے، کہا ہم سے عبدالعزیز بن سیاہ نے، ان سے حبیب بن ثابت نے، کہ میں ابو وائل (رض) کی خدمت میں ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے (خوارج کے متعلق) گیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مقام صفین میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے (جہاں علی اور معاویہ (رض) کی جنگ ہوئی تھی) ایک شخص نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص کتاب اللہ کی طرف صلح کے لیے بلائے ؟ علی (رض) نے فرمایا ٹھیک ہے۔ لیکن خوارج نے معاویہ (رض) کے خلاف علی (رض) کے ساتھ تھے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس پر سہل بن حنیف نے فرمایا تم پہلے اپنا جائزہ لو۔ ہم لوگ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے آپ کی مراد اس صلح سے تھی جو مقام حدیبیہ میں نبی کریم ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی اور جنگ کا موقع آتا تو ہم اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ (لیکن صلح کی بات چلی تو ہم نے اس میں بھی صبر و ثبات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا) اتنے میں عمر (رض) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا کفار باطل پر نہیں ہیں ؟ کیا ہمارے مقتولین جنت میں نہیں جائیں گے اور کیا ان کے مقتولین دوزخ میں نہیں جائیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیوں نہیں ! عمر (رض) نے کہا پھر ہم اپنے دین کے بارے میں ذلت کا مظاہرہ کیوں کریں (یعنی دب کر صلح کیوں کریں) اور کیوں واپس جائیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ عمر (رض) نبی کریم ﷺ کے پاس سے واپس آگئے ان کو غصہ آ رہا تھا، صبر نہیں آیا اور ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور کہا، اے ابوبکر ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ ابوبکر نے بھی وہی جواب دیا کہ اے ابن خطاب ! نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ پھر سورة الفتح نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 4844 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: أَتَيْتُأَبَا وَائِلٍ أَسْأَلُهُ، فَقَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ، فَقَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا، فَرَجَعَ مُتَغَيِّظًا، فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى جَاءَ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا، فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آوازوں کو اونچا نہ کیا کرو“۔
ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ قریب تھا کہ وہ سب سے بہتر افراد تباہ ہوجائیں یعنی ابوبکر اور عمر (رض) ان دونوں حضرات نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی آواز بلند کردی تھی۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی تمیم کے سوار آئے تھے (اور نبی کریم ﷺ سے انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا کوئی امیر بنادیں) ان میں سے ایک (عمر رضی اللہ عنہ) نے مجاشع کے اقرع بن حابس کے انتخاب کے لیے کہا تھا اور دوسرے (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے ایک دوسرے کا نام پیش کیا تھا۔ نافع نے کہا کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں۔ اس پر ابوبکر (رض) نے عمر (رض) سے کہا کہ آپ کا ارادہ مجھ سے اختلاف کرنا ہی ہے۔ عمر (رض) نے کہا کہ میرا ارادہ آپ سے اختلاف کرنا نہیں ہے۔ اس پر ان دونوں کی آواز بلند ہوگئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتکم اے ایمان والو ! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو الخ۔ عبداللہ بن زبیر (رض) نے بیان کیا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عمر (رض) نبی کریم ﷺ کے سامنے اتنی آہستہ آہستہ بات کرتے کہ آپ صاف سن بھی نہ سکتے تھے اور دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔ انہوں نے اپنے نانا یعنی ابوبکر (رض) کے متعلق اس سلسلے میں کوئی چیز بیان نہیں کی۔
حدیث نمبر: 4845 حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الْآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ، قَالَ نَافِعٌ: لَا أَحْفَظُ اسْمَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي، قَالَ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ سورة الحجرات آية 2 الْآيَةَ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آوازوں کو اونچا نہ کیا کرو“۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ثابت بن قیس (رض) کو نہیں پایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ پھر وہ ثابت بن قیس (رض) کے یہاں آئے دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں پوچھا کیا حال ہے ؟ کہا کہ برا حال ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آواز کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولا کرتا تھا اب سارے نیک عمل اکارت ہوئے اور اہل دوزخ میں قرار دے دیا گیا ہوں۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کی اطلاع آپ کو دی۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا کہ وہ شخص اب دوبارہ ان کے لیے ایک عظیم بشارت لے کر ان کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ تم اہل دوزخ میں سے نہیں ہو بلکہ تم اہل جنت میں سے ہو۔
حدیث نمبر: 4846 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ، فَأَتَاهُ، فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ: شَرٌّ كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ مُوسَى: فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الْآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَلَكِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارا کرتے ہیں ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے“۔
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ قبیلہ بنی تمیم کے سواروں کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا۔ ابوبکر (رض) نے کہا کہ ان کا امیر آپ قعقاع بن معبد کو بنادیں اور عمر (رض) نے کہا بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنائیں۔ ابوبکر (رض) نے اس پر کہا کہ مقصد تو صرف میری مخالفت ہی کرنا ہے۔ عمر نے کہا کہ میں نے آپ کے خلاف کرنے کی غرض سے یہ نہیں کہا ہے۔ اس پر دونوں میں بحث چلی گئی اور آواز بھی بلند ہوگئی۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله ورسوله کہ اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول سے پہلے کسی کام میں جلدی مت کیا کرو۔ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 4847 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِأَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ، وَقَالَ عُمَرُ: بَلْ أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَرَدْتَ إِلَى أَوْ إِلَّا خِلَافِي، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ سورة الحجرات آية 1، حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور وہ جہنم کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟“۔
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جہنم میں دوزخیوں کو ڈالا جائے گا اور وہ کہے گی هل من مزيد. کہ کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس پر رکھے گا اور وہ کہے گی کہ بس بس۔
حدیث نمبر: 4848 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُلْقَى فِي النَّارِ، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور وہ جہنم کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟“۔
ہم سے محمد بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوسفیان حمیری سعید بن یحییٰ بن مہدی نے بیان کیا، ان سے عوف نے، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے ابوسفیان حمیری اکثر اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے موقوفاً ذکر کرتے تھے کہ جہنم سے پوچھا جائے گا تو بھر بھی گئی ؟ وہ کہے گی هل من مزيد. کہ کچھ اور بھی ہے ؟ پھر اللہ تبارک تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا اور کہے گی کہ بس بس۔
حدیث نمبر: 4849 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يُوقِفُهُ أَبُو سُفْيَانَ: يُقَالُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ ؟، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟، فَيَضَعُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدَمَهُ عَلَيْهَا، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور وہ جہنم کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟“۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں حمام نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ نے بحث کی، دوزخ نے کہا میں متکبروں اور ظالموں کے لیے خاص کی گئی ہوں۔ جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور اور کم رتبہ والے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں جس پر چاہوں رحم کروں اور دوزخ سے کہا کہ تو عذاب ہے تیرے ذریعہ میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں۔ جنت اور دوزخ دونوں بھریں گی۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس نہیں رکھ دے گا۔ اس وقت وہ بولے گی کہ بس بس بس ! اور اس وقت بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض دوسرے حصے پر چڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جنت کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مخلوق پیدا کرے گا وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے چھپنے سے پہلے۔
حدیث نمبر: 4850 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي، أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي، أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے چھپنے سے پہلے“۔
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم ایک رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے چودہویں رات تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا کہ یقیناً تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کی رؤیت میں تم دھکم پیل نہیں کرو گے (بلکہ بڑے اطمینان سے ایک دوسرے کو دھکا دیئے بغیر دیکھو گے) اس لیے اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز نہ چھوڑو۔ پھر آپ نے آیت وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے آفتاب نکلنے سے پہلے اور چھپنے سے پہلے۔ کی تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 4851 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَرَأَ: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
علی (علیہ السلام) نے کہا کہ الذاريات سے مراد ہوائیں ہیں۔ ان سے غیر نے کہا کہ تذروه کا معنی یہ ہے کہ اس کو بکھیر دے (یہ لفظ سورة الکہف میں ہے) الرياح کی مناسبت سے یہاں لایا گیا۔ وفي أنفسکم افلا تبصرون یعنی خود تمہاری ذات میں نشانیاں ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ کھانا پینا ایک راستے منہ سے ہوتا ہے لیکن وہ فضلہ بن کر دوسرے راستوں سے نکلتا ہے۔ فراغ لوٹ آیا (یا چپکے سے) چلا آیا۔ فصكت یعنی مٹھی باندھ کر اپنے ماتھے پر ہاتھ کو مارا۔ الرميم زمین کی گھاس جب خشک ہوجائے اور روند دی جائے۔ لموسعون کے معنی ہم نے اس کو کشادہ اور وسیع کیا ہے۔ (اور سورة البقرہ میں جو ہے) على الموسع قدره یہاں موسع کے معنی زور طاقت والا ہے۔ زوجين یعنی نر و مادہ یا الگ الگ رنگ یا الگ الگ مزے کی جیسے میٹھی کھٹی یہ دو قسمیں ہیں۔ ففروا إلى الله یعنی اللہ کی معصیت سے اس کی اطاعت کی طرف بھاگ کر آؤ۔ إلا ليعبدون یعنی جِن و انس میں جتنی بھی نیک روحیں ہیں انہیں میں نے صرف اپنی توحید کے لیے پیدا کیا۔ بعضوں نے کہا جِنوں اور آدمیوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا تو اسی مقصد سے کیا تھا کہ وہ اللہ کی توحید کو مانیں لیکن کچھ نے مانا اور کچھ نے نہیں مانا۔ معتزلہ کے لیے اس آیت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ الذنوب کے معنی بڑے ڈول کے ہیں۔ مجاہد نے فرمایا کہ ذنوبا بمعنی راستہ ہے۔ مجاہد نے کہا کہ صرة کے معنی چیخنا۔ ذنوبا کے معنی راستہ اور طریق کے ہیں۔ العقيم کے معنی جس کو بچہ نہ پیدا ہو بانجھ۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ الحبک سے آسمان کا خوبصورت برابر ہونا مراد ہے۔ في غمرة یعنی اپنی گمراہی میں پڑے اوقات گزارتے ہیں۔ اوروں نے کہا تواصوا کا معنی یہ ہے کہ یہ بھی ان کے موافق کہنے لگے۔ مسومة نشان کئے گئے۔ یہ سيما. سے نکلا ہے جس کے معنی نشانی کے ہیں۔ قتل الخراصون یعنی جھوٹے لعنت کئے گئے۔
قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام: الذَّارِيَاتُ: الرِّيَاحُ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تَذْرُوهُ تُفَرِّقُهُ، وَفِي أَنْفُسِكُمْ: أَفَلَا تُبْصِرُونَ تَأْكُلُ وَتَشْرَبُ فِي مَدْخَلٍ وَاحِدٍ وَيَخْرُجُ مِنْ مَوْضِعَيْنِ، فَرَاغَ: فَرَجَعَ، فَصَكَّتْ: فَجَمَعَتْ أَصَابِعَهَا، فَضَرَبَتْ بِهِ جَبْهَتَهَا وَالرَّمِيمُ نَبَاتُ الْأَرْضِ إِذَا يَبِسَ وَدِيسَ، لَمُوسِعُونَ: أَيْ لَذُو سَعَةٍ وَكَذَلِكَ عَلَى، الْمُوسِعِ قَدَرَهُ: يَعْنِي الْقَوِيَّ خَلَقْنَا، زَوْجَيْنِ: الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى وَاخْتِلَافُ الْأَلْوَانِ حُلْوٌ وَحَامِضٌ، فَهُمَا زَوْجَانِ، فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ: مَعْنَاهُ مِنَ اللَّهِ إِلَيْهِ، وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ: مَا خَلَقْتُ أَهْلَ السَّعَادَةِ مِنْ أَهْلِ الْفَرِيقَيْنِ إِلَّا لِيُوَحِّدُونِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: خَلَقَهُمْ لِيَفْعَلُوا، فَفَعَلَ بَعْضٌ وَتَرَكَ بَعْضٌ، وَلَيْسَ فِيهِ حُجَّةٌ لِأَهْلِ الْقَدَرِ وَالذَّنُوبُ الدَّلْوُ الْعَظِيمُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صَرَّةٍ: صَيْحَةٍ، ذَنُوبًا: سَبِيلًا الْعَقِيمُ الَّتِي لَا تَلِدُ وَلَا تُلْقِحُ شَيْئًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالْحُبُكُ اسْتِوَاؤُهَا وَحُسْنُهَا، فِي غَمْرَةٍ: فِي ضَلَالَتِهِمْ يَتَمَادَوْنَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تَوَاصَوْا تَوَاطَئُوا، وَقَالَ: مُسَوَّمَةً: مُعَلَّمَةً مِنَ السِّيمَا قُتِلَ الْإِنْسَانُ لُعِنَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت الطور اور قتادہ نے کہا کہ مسطور بمعنی لکھا ہوا اور مجاہد نے کہا کہ طور ایرانی زبان میں پہاڑی کو کہتے ہیں رق منشور کتاب سقف المرفوع آسمان المسجور بھڑکایا ہوا اور حسن نے کہا کہ وہ بھڑکے گا یہاں تک کہ اس کا پانی خشک ہوجائے گا اور اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا اور مجاہد نے کہا کہ التناھم ہم نے کم کیا اور دوسروں نے کہا کہ تمور گھومے گا احلامھم ان کی عقلین ابن عباس نے کہا کہ البر بمعنی مہربان کسفا بمعنی ٹکڑے المنون بمعنی موت اور بعض نے کہا کہ یتنازعون سے مراد ہے ایک دوسرے کو دیں گے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ (حج کے موقع پر) میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چناچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم ﷺ اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورة والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 4853 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ، وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت الطور اور قتادہ نے کہا کہ مسطور بمعنی لکھا ہوا اور مجاہد نے کہا کہ طور ایرانی زبان میں پہاڑی کو کہتے ہیں رق منشور کتاب سقف المرفوع آسمان المسجور بھڑکایا ہوا اور حسن نے کہا کہ وہ بھڑکے گا یہاں تک کہ اس کا پانی خشک ہوجائے گا اور اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا اور مجاہد نے کہا کہ التناھم ہم نے کم کیا اور دوسروں نے کہا کہ تمور گھومے گا احلامھم ان کی عقلین ابن عباس نے کہا کہ البر بمعنی مہربان کسفا بمعنی ٹکڑے المنون بمعنی موت اور بعض نے کہا کہ یتنازعون سے مراد ہے ایک دوسرے کو دیں گے۔
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورة والطور اس آیت پر پہنچے أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہوگئے یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کرلیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔ تو میرا دل اڑنے لگا۔ سفیان نے بیان کیا لیکن میں نے زہری سے سنا ہے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کرتے تھے، ان سے ان کے والد (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب میں سورة والطور پڑھتے سنا (سفیان نے کہا کہ) میرے ساتھیوں نے اس کے بعد جو اضافہ کیا ہے وہ میں نے زہری سے نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 4854 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثُونِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ 35 أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لا يُوقِنُونَ 36 أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ 37 سورة الطور آية 35-37، قَالَ: كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ، قَالَ سُفْيَانُ: فَأَمَّا أَنَا، فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ زَادَ الَّذِي قَالُوا لِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت والنجم! اور مجاہد نے کہا ذومرۃ کے معنی ہیں قوت والا قاب قوسین دو کمانوں کے درمیان کا فاصلہ ضیزی ٹیڑھی واکدی اپنی بخشش روک لی رب الشعری شعری ایک ستارہ ہے جو زاء کے پیچھے طلوع ہونے والا الذی وفی جو کچھ اس پر فرض تھا اس کو پورا کیا ازفت الازفۃ قیامت قریب ہوئی سامدون برطمہ جو ایک کھیل ہے اور عکرمہ نے کہا کہ حمیری زبان میں اس کے معنی گانے کے ہیں اور ابراہیم نے کہا افتجادولونہ کیا تم اس سے جھگڑا کرتے ہو اور حسن نے افتمر رونہ پڑھا اس سے مراد یہ ہے کہ کیا تم انکار کرتے ہو مازاغ محمد کی نگاہ وما طغی اور نہ اس سے آگے بڑھی جو اس نے دیکھی فتماروا جھٹلایا اور حسن نے کہا کہ اذا ھوی جب غائب ہونے لگے غروب ہونے لگے اور ابن عباس (رض) نے کہا کہ اغنی واقنی دیا اور خوش کیا۔
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : اے ایمان والوں کی ماں ! کیا محمد ﷺ نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ عائشہ (رض) نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو ؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد ﷺ نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت لا تدرکه الأبصار وهو يدرک الأبصار وهو اللطيف الخبير سے لے کر من وراء حجاب تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم ﷺ آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت وما تدري نفس ماذا تکسب غدا یعنی اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم ﷺ نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك یعنی اے رسول ! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 4855 حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا أُمَّتَاهْ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ، فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51، وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا سورة لقمان آية 34، وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67 الْآيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اتنا فاصلہ رہ گیا تھا جتنا کمان سے چلہ (یعنی تانت) میں ہوتا ہے“۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے عبدالوحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زر بن حبیش سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے آیت فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى یعنی صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ بھی نازل کیا کے متعلق بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔
حدیث نمبر: 4856 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرًّا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى 9 فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى 10 سورة النجم آية 9-10، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو بھی وحی کی“۔
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، ان سے زائدہ بن قدامہ کوفی نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا کہ میں نے زر بن حبیش سے اس آیت کے بارے میں پوچھا فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى الخ یعنی سو دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندے پر وحی کی جو کچھ بھی نازل کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود (رض) نے خبر دی کہ محمد ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔
حدیث نمبر: 4857 حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرًّا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى 9 فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى 10 سورة النجم آية 9-10، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ: أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا“۔
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے آیت لقد رأى من آيات ربه الکبرى یعنی آپ نے اپنے رب کی عظیم نشانیاں دیکھیں کے متعلق بتلایا کہ نبی کریم ﷺ نے رفرف (سبز فرش) کو دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔
حدیث نمبر: 4858 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18، قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”بھلا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے“۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم فراہیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاشھب جعفر بن حیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالجوزاء نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس (رض) نے لات اور عزیٰ کے حال میں کہا کہ لات ایک شخص کو کہتے تھے وہ حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا۔
حدیث نمبر: 4859 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: اللَّاتَ وَالْعُزَّى سورة النجم آية 19 كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الْحَاجِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”بھلا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے“۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کے لیے کہنا چاہیے لا إله إلا الله اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 4860 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ.
তাহকীক: