আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

تفاسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৯৫ টি

হাদীস নং: ৪৭৭৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”کسی مومن کو علم نہیں جو جو سامان (جنت میں) ان کے لیے پوشیدہ کر کے رکھے گئے ہیں جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے“۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے صالح اور نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے گمان و خیال میں وہ آئی ہیں۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين‏ کہ سو کسی کو نہیں معلوم جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لیے جنت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، پہلی حدیث کی طرح۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ آپ نبی کریم ﷺ کی حدیث روایت کر رہے ہیں یا اپنے اجتہاد سے فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ (اگر یہ نبی کریم ﷺ کی حدیث نہیں ہے) تو پھر اور کیا ہے ؟ ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے صالح نے کہ ابوہریرہ (رض) نے (آیت مذکورہ میں) قرآت (صیغہ جمع کے ساتھ) پڑھا ہے۔
حدیث نمبر: 4779 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:‏‏‏‏ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ لِسُفْيَانَ رِوَايَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَيُّ شَيْءٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”کسی مومن کو علم نہیں جو جو سامان (جنت میں) ان کے لیے پوشیدہ کر کے رکھے گئے ہیں جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے“۔
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور کسی کان نے نہ سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی گمان و خیال پیدا ہوا۔ اللہ کی ان نعمتوں سے واقفیت اور آگاہی تو الگ رہی (ان کا کسی کو گمان و خیال بھی پیدا نہیں ہوا) ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما کانوا يعملون‏ کہ سو کسی نفس مومن کو معلوم نہیں جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا (جنت میں) ان کے لیے چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ بدلہ ہے ان کے نیک عملوں کا جو دنیا میں کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 4780 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ:‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں“۔
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے، کہا مجھ سے میرے والد نے، ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ میں خود اس کے نفس سے بھی زیادہ اس سے اور آخرت میں تعلق نہ رکھتا ہوں، اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم‏ کہ نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہے۔ پس جو مومن بھی (مرنے کے بعد) ترکہ مال و اسباب چھوڑے اور کوئی ان کا ولی وارث نہیں ہے اس کے عزیز و اقارب جو بھی ہوں، اس کے مال کے وارث ہوں گے، لیکن اگر کسی مومن نے کوئی قرض چھوڑا ہے یا اولاد چھوڑی ہے تو وہ میرے پاس آجائیں ان کا ذمہ دار میں ہوں۔
حدیث نمبر: 4781 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:‏‏‏‏ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان (آزاد شدہ غلاموں کو) ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کیا کرو“۔
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کئے ہوئے غلام زید بن حارثہ کو ہم ہمیشہ زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله‏ کہ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک سچی اور ٹھیک بات ہے۔
حدیث نمبر: 4782 حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ:‏‏‏‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”سو ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے اور کچھ ان میں سے وقت آنے کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرا فرق نہیں آنے دیا“۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ ہمارے خیال میں یہ آیت انس بن نضر کے بارے میں نازل ہوئی تھی من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه‏ کہ اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔
حدیث نمبر: 4783 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نُرَى هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ:‏‏‏‏ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”سو ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے اور کچھ ان میں سے وقت آنے کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرا فرق نہیں آنے دیا“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو خارجہ بن زید بن ثابت (رض) نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ جب ہم قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کر رہے تھے تو مجھے سورة الاحزاب کی ایک آیت (کہیں لکھی ہوئی) نہیں مل رہی تھی۔ میں وہ آیت رسول اللہ ﷺ سے سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے خزیمہ انصاری (رض) کے پاس ملی جن کی شہادت کو رسول اللہ ﷺ نے دو مومن مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه‏ اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔
حدیث نمبر: 4784 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَسَخْنَا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی اسباب دے دلا کر خوبی کے ساتھ رخصت کر دوں“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ نبی کریم ( ﷺ ) اپنی ازواج کو (آپ کے سامنے رہنے یا آپ سے علیحدگی کا) اختیار دیں تو آپ عائشہ (رض) کے پاس بھی تشریف لے گئے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں ضروری نہیں کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو، اپنے والدین سے بھی مشورہ کرسکتی ہو۔ نبی کریم ﷺ تو جانتے ہی تھے کہ میرے والد کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے يا أيها النبي قل لأزواجک‏ کہ اے نبی ! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے آخر آیت تک۔ میں نے عرض کیا، لیکن کس چیز کے لیے مجھے اپنے والدین سے مشورہ کی ضرورت ہے، کھلی ہوئی بات ہے کہ میں اللہ، اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔
حدیث نمبر: 4785 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ قَالَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ سورة الأحزاب آية 28 إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ فَفِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی کی بیویو! اگر تم اللہ کو، اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا ثواب تیار رکھا ہے“۔
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے (وہ آیت جس میں یہ حکم تھا) پڑھی کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها‏ اے نبی ! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو سے أجرا عظيما‏ تک۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا لیکن اپنے والدین سے مشورہ کی کس بات کے لیے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواج مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔ اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا کہ انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور عبدالرزاق اور ابوسفیان معمری نے معمر سے بیان کیا، ان سے زہری نے، اور ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے۔
حدیث نمبر: 4786 وَقَالَ اللَّيْثُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا إِلَى أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ فَفِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ. تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی کی بیویو! اگر تم اللہ کو، اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا ثواب تیار رکھا ہے“۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، اسے حماد بن زید نے کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ آیت وتخفي في نفسک ما الله مبديه‏ اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ زینب بنت جحش (رض) اور زید بن حارثہ (رض) کے معاملہ میں نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4787 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ سورة الأحزاب آية 37 نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! ان (ازواج مطہرات) میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا ہو ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں“۔
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے اپنے والد سے سن کر بیان کیا اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جو عورتیں اپنے نفس کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کرنے آتی تھیں مجھے ان پر بڑی غیرت آتی تھی۔ میں کہتی کہ کیا عورت خود ہی اپنے کو کسی مرد کے لیے پیش کرسکتی ہے ؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك‏ کہ ان میں سے جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا اس میں سے کسی کو پھر طلب کرلیں جب بھی، آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ تو میں نے کہا کہ میں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی مراد بلا تاخیر پوری کردینا چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 4788 حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِشَامٌ حَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا أُرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! ان (ازواج مطہرات) میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا ہو ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں“۔
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم احول نے خبر دی، انہیں معاذہ نے اور انہیں عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك‏ کہ ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو طلب کرلیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔ اگر (ازواج مطہرات) میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جن کی باری ہوتی ان سے اجازت لیتے تھے (معاذہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر عائشہ (رض) سے پوچھا کہ ایسی صورت میں آپ نبی کریم ﷺ سے کیا کہتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہ عرض کردیتی تھی کہ یا رسول اللہ ! اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں تو اپنی باری کا کسی دوسرے پر ایثار نہیں کرسکتی۔ اس روایت کی متابعت عباد بن عباد نے کی، انہوں نے عاصم سے سنا۔
حدیث نمبر: 4789 حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ يَسْتَأْذِنُ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ مَا كُنْتِ تَقُولِينَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ، ‏‏‏‏‏‏أَقُولُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا. تَابَعَهُ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَعَاصِمًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! ان (ازواج مطہرات) میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا ہو ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں“۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ ازواج مطہرات کو پردہ کا حکم دے دیں۔ اس کے بعد اللہ نے پردہ کا حکم اتارا۔
حدیث نمبر: 4790 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
ہم سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا جب رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش (رض) سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوت ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ (گھر کے اندر ہی) بیٹھے (دیر تک) باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں (تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے۔ جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہوگئے، لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے۔ نبی کریم ﷺ جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں، لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازہ کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت (مذکورہ بالا) نازل ہوئی يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي‏ کہ اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 4791 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَطَعِمُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَقُومُوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ انس بن مالک (رض) نے کہا کہ اس آیت یعنی آیت پردہ (کے شان نزول) کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، جب زینب (رض) سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کیا اور وہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر ہی میں تھیں تو آپ ﷺ نے کھانا تیار کروایا اور قوم کو بلایا (کھانے سے فارغ ہونے کے بعد) لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم ﷺ باہر جاتے اور پھر اندر آتے (تاکہ لوگ اٹھ جائیں) لیکن لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لکم إلى طعام غير ناظرين إناه‏ کہ اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں (کھانے کے لیے) آنے کی اجازت دی جائے۔ ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد من وراء حجاب‏ تک اس کے بعد پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 4792 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذِهِ الْآيَةِ آيَةِ الْحِجَابِ لَمَّا أُهْدِيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَعَهُ فِي الْبَيْتِ صَنَعَ طَعَامًا، ‏‏‏‏‏‏وَدَعَا الْقَوْمَ فَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ قُعُودٌ يَتَحَدَّثُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53، ‏‏‏‏‏‏فَضُرِبَ الْحِجَابُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ الْقَوْمُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش (رض) سے نکاح کے بعد (بطور ولیمہ) گوشت اور روٹی تیار کروائی اور مجھے کھانے پر لوگوں کو بلانے کے لیے بھیجا، پھر کچھ لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے گئے۔ پھر دوسرے لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے، میں بلاتا رہا۔ آخر جب کوئی باقی نہیں رہا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! اب تو کوئی باقی نہیں رہا جس کو میں دعوت دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب دستر خوان اٹھا لو لیکن تین اشخاص گھر میں باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم ﷺ باہر نکل آئے اور عائشہ (رض) کے حجرہ کے سامنے جا کر فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، اپنی اہل کو آپ نے کیسا پایا ؟ اللہ برکت عطا فرمائے۔ نبی کریم ﷺ اسی طرح تمام ازواج مطہرات کے حجروں کے سامنے گئے اور جس طرح عائشہ (رض) سے فرمایا تھا اس طرح سب سے فرمایا اور انہوں نے بھی عائشہ (رض) کی طرح جواب دیا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ واپس تشریف لائے تو وہ تین آدمی اب بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ بہت زیادہ حیاء دار تھے، آپ (یہ دیکھ کر کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں) عائشہ (رض) کے حجرہ کی طرف پھر چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد میں نے یا کسی اور نے آپ کو جا کر خبر کی کہ اب وہ تینوں آدمی روانہ ہوچکے ہیں۔ پھر نبی کریم ﷺ اب واپس تشریف لائے اور پاؤں چوکھٹ پر رکھا۔ ابھی آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور ایک پاؤں باہر کہ آپ نے پردہ گرا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 4793 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بُنِيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأُرْسِلْتُ عَلَى الطَّعَامِ دَاعِيًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَجِيءُ قَوْمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَوْتُ حَتَّى مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُو، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ارْفَعُوا طَعَامَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبَقِيَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَقَرَّى حُجَرَ نِسَائِهِ كُلِّهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا يَقُولُ لِعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُلْنَ لَهُ كَمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا ثَلَاثَةٌ مِنْ رَهْطٍ فِي الْبَيْتِ يَتَحَدَّثُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْحَيَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ مُنْطَلِقًا نَحْوَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَ حَتَّى إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ دَاخِلَةً وَأُخْرَى خَارِجَةً أَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن بکر سہمی نے خبر دی، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا کہ انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش (رض) سے نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور گوشت اور روٹی لوگوں کو کھلائی۔ پھر امہات المؤمنین کے حجروں کی طرف گئے، جیسا کہ آپ کا معمول تھا کہ نکاح کی صبح کو آپ جایا کرتے تھے، آپ انہیں سلام کرتے اور ان کے حق میں دعا کرتے اور امہات المؤمنین بھی آپ کو سلام کرتیں اور آپ کے لیے دعا کرتیں۔ امہات المؤمنین کے حجروں سے جب آپ اپنے حجرہ میں واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ جب آپ نے انہیں بیٹھے ہوئے دیکھا تو پھر آپ حجرہ سے نکل گئے۔ ان دونوں نے جب دیکھا کہ اللہ کے نبی اپنے حجرہ سے واپس چلے گئے ہیں تو بڑی جلدی جلدی وہ اٹھ کر باہر نکل گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ان کے چلے جانے کی اطلاع دی یا کسی اور نے پھر نبی کریم ﷺ واپس آئے اور گھر میں آتے ہی دروازہ کا پردہ گرا لیا اور آیت حجاب نازل ہوئی۔ اور سعید ابن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم کو یحی ٰبن کثیر نے خبر دی، کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس (رض) سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا۔
حدیث نمبر: 4794 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدْعُو لَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدْعُونَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ جَرَى بِهِمَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا أَمْ أُخْبِرَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَنَسًا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سودہ (رض) پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قضائے حاجت کے لیے نکلیں وہ بہت بھاری بھر کم تھیں جو انہیں جانتا تھا اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں۔ راستے میں عمر بن خطاب (رض) نے انہیں دیکھ لیا اور کہا کہ اے سودہ ! ہاں اللہ کی قسم ! آپ ہم سے اپنے آپ کو نہیں چھپا سکتیں دیکھئیے تو آپ کس طرح باہر نکلی ہیں۔ بیان کیا کہ سودہ (رض) الٹے پاؤں وہاں سے واپس آگئیں، رسول اللہ ﷺ اس وقت میرے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں اس وقت گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ سودہ (رض) نے داخل ہوتے ہی کہا : یا رسول اللہ ! میں قضائے حاجت کے لیے نکلی تھی تو عمر (رضی اللہ عنہ) نے مجھ سے باتیں کیں، بیان کیا کہ آپ ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوئی، ہڈی اب بھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے اسے رکھا نہیں تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں (اللہ کی طرف سے) قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 4795 حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ لِحَاجَتِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا سَوْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى، ‏‏‏‏‏‏وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي عُمَرُ:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا اسے (دل میں) پوشیدہ رکھو گے تو اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے، ان (رسول کی بیویوں) پر کوئی گناہ نہیں، سامنے آنے میں اپنے باپوں کے اور اپنے بیٹوں کے اور اپنے بھائیوں کے اور اپنے بھانجوں کے اور اپنی (دینی بہنوں) عورتوں کے اور نہ اپنی باندیوں کے اور اللہ سے ڈرتی رہو، بیشک اللہ ہر چیز پر (اپنے علم کے لحاظ سے) موجود اور دیکھنے والا ہے“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی افلح (رض) نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے کہلوا دیا کہ جب تک اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت حاصل نہ لے لوں، ان سے نہیں مل سکتی۔ میں نے سوچا کہ ان کے بھائی ابوالقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ابوالقعیس کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابوالقعیس کے بھائی افلح (رض) نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے یہ کہلوا دیا کہ جب تک نبی کریم ﷺ سے اجازت نہ لے لوں ان سے ملاقات نہیں کرسکتی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے چچا سے ملنے سے تم نے کیوں انکار کردیا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابوالقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ان کی بیوی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں۔ عروہ نے بیان کیا کہ اسی وجہ سے عائشہ (رض) فرماتی تھیں کہ رضاعت سے بھی وہ چیزیں (مثلاً نکاح وغیرہ) حرام ہوجاتی ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 4796 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُوأَبِي الْقُعَيْسِ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَخَاهُ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَمَا مَنَعَكِ أَنْ تَأْذَنِي عَمُّكِ ؟قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَلِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھتیجے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی آپ پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو“۔
مجھ سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ (رض) نے کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے، لیکن آپ پر صلاة کا کیا طریقہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یوں پڑھا کرو اللهم صل على محمد وعلى آل محمد،‏‏‏‏ كما صليت على آل إبراهيم،‏‏‏‏ إنک حميد مجيد،‏‏‏‏ اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد،‏‏‏‏ كما بارکت على آل إبراهيم،‏‏‏‏ إنک حميد مجيد‏‏‏.۔
حدیث نمبر: 4797 حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی پر اے ایمان والو! تم بھی درود و رحمت اور سلام بھیجا کرو اور سلامتی کی دعا کیا کرو ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ صلوۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے پاس ان کی تعریف کرتے ہیں فرشتوں کی صلوۃ سے دعا مراد ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ "یصلون" برکت کی دعا کرتے ہیں "لنغرینک" غالب کریں گے ہم تم کو۔
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، اور ان سے یزید نے اور انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ كما صليت على إبراهيم،‏‏‏‏ و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على إبراهيم وآل إبراهيم اس روایت میں ذرا لفظوں میں کمی بیشی ہے اور ان الفاظ میں بھی یہ درود پڑھنا جائز ہے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حدیث نمبر: 4798۔ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَآلِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وَآلِ إِبْرَاهِيمَ.
tahqiq

তাহকীক: