আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

تفاسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৯৫ টি

হাদীস নং: ৪৬৭৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة یونس کی تفسیر اور ابن عباس (رض) نے کہا کہ فاختلط کا معنی یہ ہے کہ پانی برسنے کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کا سبزہ اگا۔ یعنی عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا رکھا ہے۔ سبحان اللہ، وہ بےنیاز ہے اور زید بن اسلم نے کہا کہ أن لهم قدم صدق‏ سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ اور مجاہد نے بیان کیا کہ اس سے بھلائی مراد ہے۔ تلک آيات‏ میں تلك جو حاضر کے لیے ہے مراد اس سے غائب ہے۔ یعنی یہ قرآن کی نشانیاں ہیں، اسی طرح اس آیت۔ حتى إذا کنتم في الفلک وجرين بهم‏ میں بهم‏ سے بكم‏.‏ مراد ہے یعنی غائب سے حاضر مراد ہے۔ دعواهم‏ ای دعاؤهم‏ ان کی دعا أحيط بهم‏ یعنی ہلاکت و بربادی کے قریب آگئے، جیسے أحاطت به خطيئته‏ یعنی گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا۔ فاتبعهم اور وأتبعهم کے ایک معنی ہیں۔ عدوا‏ ،عدوان‏.‏ سے نکلا ہے۔ آیت يعجل الله للناس الشر استعجالهم بالخير‏ کے متعلق مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد غصہ کے وقت آدمی کا اپنی اولاد اور اپنے مال کے متعلق یہ کہنا کہ اے اللہ ! اس میں برکت نہ فرما اور اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے تو (بعض اوقات ان کی یہ دعا نہیں لگتی) کیونکہ ان کی تقدیر کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوتا ہے اور (بعض اوقات) جس پر بددعا کی جاتی ہے، وہ ہلاک و برباد ہوجاتے ہیں۔ للذين أحسنوا الحسنى‏ میں مجاہد نے کہا زيادة‏ سے مغفرت اور اللہ کی رضا مندی مراد ہے دوسرے لوگوں نے کہا وزيادة‏ سے اللہ کا دیدار مراد ہے۔ الکبرياء‏ سے سلطنت اور بادشاہی مراد ہے۔
10- سورة يُونُسَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ‏‏‏‏فَاخْتَلَطَ‏‏‏‏ فَنَبَتَ بِالْمَاءِ مِنْ كُلِّ لَوْنٍ. وَ‏‏‏‏قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ‏‏‏‏. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: ‏‏‏‏أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ‏‏‏‏ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ خَيْرٌ. يُقَالُ: ‏‏‏‏تِلْكَ آيَاتُ‏‏‏‏ يَعْنِي هَذِهِ أَعْلاَمُ الْقُرْآنِ وَمِثْلُهُ. ‏‏‏‏حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ‏‏‏‏ الْمَعْنَى بِكُمْ. ‏‏‏‏دَعْوَاهُمْ‏‏‏‏ دُعَاؤُهُمْ ‏‏‏‏أُحِيطَ بِهِمْ‏‏‏‏ دَنَوْا مِنَ الْهَلَكَةِ ‏‏‏‏أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ‏‏‏‏ فَاتَّبَعَهُمْ وَأَتْبَعَهُمْ وَاحِدٌ. ‏‏‏‏عَدْوًا‏‏‏‏ مِنَ الْعُدْوَانِ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ‏‏‏‏يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ‏‏‏‏ قَوْلُ الإِنْسَانِ لِوَلَدِهِ وَمَالِهِ إِذَا غَضِبَ اللَّهُمَّ لاَ تُبَارِكْ فِيهِ وَالْعَنْهُ ‏‏‏‏لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ‏‏‏‏ لأُهْلِكُ مَنْ دُعِيَ عَلَيْهِ وَلأَمَاتَهُ. ‏‏‏‏لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى‏‏‏‏ مِثْلُهَا حُسْنَى ‏‏‏‏وَزِيَادَةٌ‏‏‏‏ مَغْفِرَةٌ. ‏‏‏‏الْكِبْرِيَاءُ‏‏‏‏ الْمُلْكُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار کر دیا، پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم کرنے کے (ارادہ) سے ان کا پیچھا کیا۔ (وہ سب سمندر میں ڈوب گئے اور فرعون بھی ڈوبنے لگا تو وہ بولا) میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی مسلمان ہوتا ہوں“۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دن موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون پر فتح ملی تھی۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم ان سے بھی زیادہ مستحق ہیں اس لیے تم بھی روزہ رکھو۔
حدیث نمبر: 4680 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْيَهُودُ تَصُومُ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا يَوْمٌ ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَصُومُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی اور انہوں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ آپ آیت کی قرآت اس طرح کرتے تھے ألا إنهم تثنوني صدورهم‏ میں نے ان سے آیت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔
حدیث نمبر: 4681 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ:‏‏‏‏ ۔ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُنَاسٌ كَانُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَتَخَلَّوْا، ‏‏‏‏‏‏فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ وَأَنْ يُجَامِعُوا نِسَاءَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ فَنَزَلَ ذَلِكَ فِيهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی کہ ابن عباس (رض) اس طرح قرآت کرتے تھے ألا إنهم تثنوني صدورهم‏ محمد بن عباد نے پوچھا : اے ابو العباس ! تثنوني صدورهم‏ کا کیا مطلب ہے ؟ بتلایا کہ کچھ لوگ اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے میں حیاء کرتے اور خلاء کے لیے بیٹھتے ہوئے بھی حیاء کرتے تھے۔ انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ألا إنهم تثنوني صدورهم‏ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 4682 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَرَأَ:‏‏‏‏ ۔ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏مَا تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ الرَّجُلُ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ فَيَسْتَحِي، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَتَخَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَحِي، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ ۔ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس (رض) نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم‏ اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس (رض) سے کہ يستغشون‏ یعنی اپنے سر چھپالیتے ہیں۔ سيء بهم‏ یعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ وضاق بهم‏ یعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ بقطع من الليل‏ یعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا أنيب‏ کے معنی میں رجوع کرتا ہوں (متوجہ ہوتا ہوں) ۔
حدیث نمبر: 4683 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ سورة هود آية 5. وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ‏‏‏‏يَسْتَغْشُونَ‏‏‏‏ يُغَطُّونَ رُءُوسَهُمْ ‏‏‏‏سِيءَ بِهِمْ‏‏‏‏ سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ. ‏‏‏‏وَضَاقَ بِهِمْ‏‏‏‏ بِأَضْيَافِهِ ‏‏‏‏بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ‏‏‏‏ بِسَوَادٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ‏‏‏‏أُنِيبُ‏‏‏‏ أَرْجِعُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کا عرش پانی پر تھا“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندو ! (میری راہ میں) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن مسلسل کے خرچ سے بھی اس میں کم نہیں ہوتا اور فرمایا تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، مسلسل خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزان عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ اعتراک‏ باب افتعال سے ہے عروته سے یعنی میں نے اس کو پکڑ پایا اسی سے ہے۔ يعروه مضارع کا صیغہ اور اعتراني آخذ بناصيتها‏ یعنی اس کی حکومت اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ عنيد ، عنود اور عاند سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی سرکش مخالف اور یہ جبار کی تاکید ہے۔ استعمرکم‏ تم کو بسایا، آباد کیا۔ عرب لوگ کہتے ہیں أعمرته الدار فهى عمرى یعنی یہ گھر میں نے اس کو عمر بھر کے لیے دے ڈالا۔ نكرهم‏ ،أنكرهم اور استنکرهم سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ان کو پردیسی سمجھا۔ حميد ، فعيل کے وزن پر ہے بہ معنی محمود میں سراہا گیا اور مجيد‏ ، ماجد‏.‏ کے معنی میں ہے (یعنی کرم کرنے والا) ۔ سجيل اور سجين دونوں کے معنی سخت اور بڑا کے ہیں۔ لام اور نون بہنیں ہیں (ایک دوسرے سے بدلی جاتی ہیں) ۔ تمیم بن مقبل شاعر کہتا ہے۔ بعضے پیدل دن دھاڑے خود پر ضرب لگاتے ہیں ایسی ضرب جس کی سختی کے لیے بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں کو وصیت کیا کرتے ہیں۔ آیت کی تفسیر اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو ( بھیجا ) وإلى مدين یعنی مدین والوں کی طرف کیونکہ مدین ایک شہر کا نام ہے جسے دوسری جگہ فرمایا واسأل القرية یعنی گاؤں والوں سے پوچھ۔ واسأل العير یعنی قافلہ والوں سے پوچھ۔ وراء کم ظهريا یعنی پس پشت ڈال دیا اس کی طرف التفات نہ کیا۔ جب کوئی کسی کا مقصد پورا نہ کرے تو عرب لوگ کہتے ہیں ظهرت بحاجتي اور جعلتني ظهريا اس جگہ ظهري کا معنی وہ جانور یا برتن ہے جس کو تو اپنے کام کے لیے ساتھ رکھے۔ أراذلنا ہمارے میں سے کمینے لوگ۔ إجرام ، أجرمت کا مصدر ہے یا جرمت ثلاثى مجرد۔ فلك اور فلك جمع اور مفرد دونوں کے لیے آتا ہے۔ ایک کشتی اور کئی کشتیوں کو بھی کہتے ہیں۔ مجراها کشتی کا چلنا یہ أجريت کا مصدر ہے۔ اسی طرح مرساها ، أرسيت کا مصدر ہے یعنی میں نے کشتی تھما لی (لنگر کردیا) بعضوں نے مرساها بفتح میم پڑھا ہے رست سے۔ اسی طرح مجراها بھی جرت سے ہے۔ بعضوں نے مجريها ، مرسيها یعنی اللہ اس کو چلانے والا ہے اور وہی اس کا تھمانے والا ہے یہ معنوں میں مفعول کے ہیں۔ راسيات کے معنی جمی ہوئی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 4684 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَنْفِقْ، ‏‏‏‏‏‏أُنْفِقْ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ، ‏‏‏‏‏‏يَخْفِضُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَرْفَعُ. ‏‏‏‏اعْتَرَاكَ‏‏‏‏ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ أَيْ أَصَبْتُهُ، وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي ‏‏‏‏آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا‏‏‏‏ أَيْ فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ. عَنِيدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ، هُوَ تَأْكِيدُ التَّجَبُّرِ، ‏‏‏‏اسْتَعْمَرَكُمْ‏‏‏‏ جَعَلَكُمْ عُمَّارًا، أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهْيَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ. ‏‏‏‏نَكِرَهُمْ‏‏‏‏ وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ ‏‏‏‏حَمِيدٌ مَجِيدٌ‏‏‏‏ كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ. مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ. سِجِّيلٌ الشَّدِيدُ الْكَبِيرُ. سِجِّيلٌ وَسِجِّينٌ وَاللاَّمُ وَالنُّونُ أُخْتَانِ، وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلٍ: وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ** ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا. {وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا}: إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ لأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ، وَمِثْلُهُ: ‏‏‏‏وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ‏‏‏‏ وَاسْأَلِ ‏‏‏‏الْعِيرَ‏‏‏‏ يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ ‏‏‏‏وَأَصْحَابَ‏‏‏‏ الْعِيرِ ‏‏‏‏وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا‏‏‏‏ يَقُولُ لَمْ تَلْتَفِتُوا إِلَيْهِ، وَيُقَالُ إِذَا لَمْ يَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ بِحَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ظِهْرِيًّا، وَالظِّهْرِيُّ هَاهُنَا أَنْ تَأْخُذَ مَعَكَ دَابَّةً أَوْ وِعَاءً تَسْتَظْهِرُ بِهِ. ‏‏‏‏أَرَاذِلُنَا‏‏‏‏ سُقَاطُنَا. ‏‏‏‏إِجْرَامِي‏‏‏‏ هُوَ مَصْدَرٌ مِنْ أَجْرَمْتُ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ جَرَمْتُ. الْفُلْكُ وَالْفَلَكُ وَاحِدٌ وَهْيَ السَّفِينَةُ وَالسُّفُنُ. ‏‏‏‏مُجْرَاهَا‏‏‏‏ مَدْفَعُهَا وَهْوَ مَصْدَرُ أَجْرَيْتُ، وَأَرْسَيْتُ حَبَسْتُ وَيُقْرَأُ: ‏‏‏‏مَرْسَاهَا‏‏‏‏ مِنْ رَسَتْ هِيَ، وَ‏‏‏‏مَجْرَاهَا‏‏‏‏ مِنْ جَرَتْ هِيَ وَ‏‏‏‏مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا‏‏‏‏ مِنْ فُعِلَ بِهَا، الرَّاسِيَاتُ ثَابِتَاتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خبردار رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر“۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے صفوان بن محرز نے کہ ابن عمر (رض) طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص نام نامعلوم آپ کے سامنے آیا اور پوچھا : اے ابوعبدالرحمٰن ! یا یہ کہا کہ اے ابن عمر ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے (جو اللہ تعالیٰ مؤمنین سے قیامت کے دن کرے گا) ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ مومن اپنے رب کے قریب لایا جائے گا۔ اور ہشام نے يدنو المؤمن (بجائے يدنى المؤمن کہا) مطلب ایک ہی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایک جانب اس پر رکھے گا اور اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ فلاں گناہ تجھے یاد ہے ؟ بندہ عرض کرے گا، یاد ہے، میرے رب ! مجھے یاد ہے، دو مرتبہ اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپائے رکھا اور آج بھی تمہاری مغفرت کروں گا۔ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے لوگ یا (یہ کہا کہ) کفار تو ان کے متعلق محشر میں اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ اور شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا۔
حدیث نمبر: 4685 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ هِشَامٌ:‏‏‏‏ يَدْنُو الْمُؤْمِنُ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، ‏‏‏‏‏‏تَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَعْرِفُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ رَبِّ أَعْرِفُ، ‏‏‏‏‏‏مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُطْوَى صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْآخَرُونَ أَوِ الْكُفَّارُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ شَيْبَانُ:‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَفْوَانُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دکھ دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے“۔
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی وكذلك أخذ ربک إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد‏ اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔
حدیث نمبر: 4686 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ سورة هود آية 102.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة یوسف کی تفسیر اور فضیل بن عیاض (زاہد مشہور) نے حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا متكأ‏ کا معنی لأترج اور خود فضیل نے بھی کہا کہ متكأ‏ حبشی زبان میں لأترج کو کہتے ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے ایک شخص (نام نامعلوم) سے روایت کی اس نے مجاہد سے انہوں نے کہا۔ متكأ‏ وہ چیز جو چھری سے کاٹی جائے (میوہ ہو یا ترکاری) ۔ اور قتادہ نے کہا ذو علم‏ کا معنی اپنے علم پر عمل کرنے والا۔ اور سعید بن جبیر نے کہا صواع ایک ماپ ہے جس کو مكوک الفارسي بھی کہتے ہیں یہ ایک گلاس کی طرح کا ہوتا ہے جس کے دونوں کنارے مل جاتے ہیں۔ عجم کے لوگ اس میں پانی پیا کرتے ہیں۔ اور ابن عباس نے کہا لو لا ان تفندون‏ اگر تم مجھ کو جاہل نہ کہو۔ دوسرے لوگوں نے کہا غيابة وہ چیز جو دوسری چیز کو چھپاوے غائب کر دے اور جب کچا کنواں جس کی بندش نہ ہوئی ہو۔ وما انت بمؤمن لنا‏ یعنی تو ہماری بات سچ ماننے والا نہیں۔ أشده وہ عمر جو زمانہ انحطاط سے پہلے ہو (تیس سے چالیس برس تک) عرب بولا کرتے ہیں۔ بلغ أشده وبلغوا أشدهم یعنی اپنی جوانی کی عمر کو پہنچا یا پہنچے۔ بعضوں نے کہا اشد ، شد کی جمع ہے۔ متكأ مسند، تکیہ جس پر تو پینے کھانے یا باتیں کرنے کے لیے ٹیکا دے۔ اور جس نے یہ کہا کہ متكأ، لأترج کو کہتے ہیں اس نے غلط کہا۔ عربی زبان میں متكأ کے معنی لأترج کے بالکل نہیں آئے ہیں جب اس شخص سے جو متكأ کے معنی لأترج کہتا ہے اصل بیان کی گئی کہ متكأ مسند یا تکیہ کو کہتے ہیں تو وہ اس سے بھی بدتر ایک بات کہنے لگا کہ یہ لفظ المتک ساکنة التاء ہے۔ حالانکہ متك عربی زبان میں عورت کی شرمگاہ کو کہتے ہیں۔ جہاں عورت کو ختنہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عورت کو عربی زبان میں متكأ ( متك والی) کہتے ہیں اور آدمی کو متكأ کا پیٹ کہتے ہیں۔ اگر بالفرض زلیخا نے لأترج بھی منگوا کر عورتوں کو دیا ہوگا تو مسند تکیہ کے بعد دیا ہوگا۔ شعفها یعنی اس کے دل کے شغاف (غلاف) میں اس کی محبت سما گئی ہے۔ بعضوں نے شعفها عین مہملہ سے پڑھا ہے وہ مشعوف سے نکلا ہے۔ أصب‏ کا معنی مائل ہوجاؤں گا جھک پڑوں گا۔ أضغاث أحلام‏ پریشان خواب جس کی کچھ تعبیر نہ دی جاسکے۔ اصل میں أضغاث ، ضغث کی جمع ہے یعنی ایک مٹھی بھر گھاس تنکے وغیرہ اس سے ہے (سورۃ ص میں) خذ بيدک ضغثا‏ یعنی اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے۔ اور أضغاث أحلام‏ میں ضغث کے یہ معنی مراد نہیں ہیں۔ بلکہ پریشان خواب مراد ہے۔ نمير‏ ، ميرة سے نکلا ہے اس کے معنی کھانے کے ہیں۔ ونزداد كيل بعير‏ یعنی ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے۔ أوى إليه‏ اپنے سے ملا لیا۔ اپنے پاس بیٹھا لیا۔ سقاية ایک ماپ تھا (جس سے غلہ ماپتے تھے) ۔ تفتأ‏ ہمیشہ رہو گے۔ فلما استياسوا جب ناامید ہوگئے۔ ولا تياسوا من روح الله اللہ سے امید رکھو اس کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ خلصوا نجيا الگ جا کر مشورہ کرنے لگے۔ نجي کا معنی مشورہ کرنے والا۔ اس کی جمع انجية بھی آئی ہے اس سے بنا ہے يتنا جون یعنی مشورہ کر رہے ہیں۔ نجي مفرد کا صیغہ ہے اور تثنیہ اور جمع میں نجي اور انجية دونوں مستعمل ہیں۔ حرضا‏ یعنی رنج و غم تجھ کو گلا ڈالے گا۔ تحسسوا‏ یعنی خبر لو، لو لگاؤ، تلاش کرو۔ مزجاة‏ تھوڑی پونجی۔ غاشية من عذاب الله‏ اللہ کا عام عذاب جو سب کو گھیر لے۔
12- سورة يُوسُفَ: وَقَالَ فُضَيْلٌ:‏‏‏‏ عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏مُتَّكَأً:‏‏‏‏ الْأُتْرُجُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فُضَيْلٌ:‏‏‏‏ الْأُتْرُجُّ بِالْحَبَشِيَّةِ مُتْكًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ عَنْ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏مُتْكًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ شَيْءٍ قُطِعَ بِالسِّكِّينِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ لَذُو عِلْمٍ:‏‏‏‏ لِمَا عَلَّمْنَاهُ عَامِلٌ بِمَا عَلِمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏صُوَاعَ الْمَلِكِ مَكُّوكُ الْفَارِسِيِّ:‏‏‏‏ الَّذِي يَلْتَقِي طَرَفَاهُ كَانَتْ تَشْرَبُ بِهِ الْأَعَاجِمُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ تُفَنِّدُونِ:‏‏‏‏ تُجَهِّلُونِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ غَيْرُهُ:‏‏‏‏ غَيَابَةٌ كُلُّ شَيْءٍ غَيَّبَ عَنْكَ شَيْئًا فَهُوَ غَيَابَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجُبُّ الرَّكِيَّةُ الَّتِي لَمْ تُطْوَ، ‏‏‏‏‏‏بِمُؤْمِنٍ لَنَا:‏‏‏‏ بِمُصَدِّقٍ، ‏‏‏‏‏‏أَشُدَّهُ:‏‏‏‏ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ فِي النُّقْصَانِ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ:‏‏‏‏ بَلَغَ أَشُدَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَلَغُوا أَشُدَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ وَاحِدُهَا شَدٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُتَّكَأُ مَا اتَّكَأْتَ عَلَيْهِ لِشَرَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِحَدِيثٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِطَعَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبْطَلَ الَّذِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْأُتْرُجُّ وَلَيْسَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْأُتْرُجُّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا احْتُجَّ عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُ الْمُتَّكَأُ مِنْ نَمَارِقَ فَرُّوا إِلَى شَرٍّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّمَا هُوَ الْمُتْكُ سَاكِنَةَ التَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا الْمُتْكُ طَرَفُ الْبَظْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا:‏‏‏‏ مَتْكَاءُ وَابْنُ الْمَتْكَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ ثَمَّ أُتْرُجٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ بَعْدَ الْمُتَّكَإِ، ‏‏‏‏‏‏شَغَفَهَا، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ:‏‏‏‏ بَلَغَ شِغَافَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غِلَافُ قَلْبِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا شَعَفَهَا فَمِنَ الْمَشْعُوفِ، ‏‏‏‏‏‏أَصْبُ:‏‏‏‏ أَمِيلُ صَبَا مَالَ، ‏‏‏‏‏‏أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ:‏‏‏‏ مَا لَا تَأْوِيلَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالضِّغْثُ مِلْءُ الْيَدِ مِنْ حَشِيشٍ وَمَا أَشْبَهَهُ وَمِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا لَا مِنْ قَوْلِهِ أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ وَاحِدُهَا ضِغْثٌ، ‏‏‏‏‏‏نَمِيرُ:‏‏‏‏ مِنَ الْمِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ:‏‏‏‏ مَا يَحْمِلُ بَعِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوَى إِلَيْهِ:‏‏‏‏ ضَمَّ إِلَيْهِ السِّقَايَةُ مِكْيَالٌ، ‏‏‏‏‏‏تَفْتَأُ:‏‏‏‏ لَا تَزَالُ، ‏‏‏‏‏‏حَرَضًا:‏‏‏‏ مُحْرَضًا يُذِيبُكَ الْهَمُّ، ‏‏‏‏‏‏تَحَسَّسُوا:‏‏‏‏ تَخَبَّرُوا، ‏‏‏‏‏‏مُزْجَاةٍ:‏‏‏‏ قَلِيلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ:‏‏‏‏ عَامَّةٌ مُجَلِّلَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنا انعام تمہارے اوپر اور اولاد یعقوب پر پورا کرے گا جیسا کہ وہ اسے اس سے پہلے پورا کر چکا ہے، تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر“۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔ (علیہم الصلٰوۃ والسلام) ۔
حدیث نمبر: 4688 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৮৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «لقد كان في يوسف وإخوته آيات للسائلين» کی تفسیر۔
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف (علیہ السلام) ہیں نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو لوگ شریف سمجھے جاتے تھے، اسلام لانے کے بعد بھی وہ شریف ہیں، جبکہ دین کی سمجھ بھی انہیں حاصل ہوجائے۔ اس روایت کی متابعت ابواسامہ نے عبیداللہ سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 4689 حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟قَالُوا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا. تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”یعقوب نے کہا، تم نے اپنے دل سے خود ایک جھوٹی بات گھڑ لی ہے“۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا کہا کہ میں زہری سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) کے اس واقعہ کے متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل کی۔ ان تمام لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کچھ کچھ ٹکڑا بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ نے (عائشہ (رض) سے) فرمایا کہ اگر تم بَری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکی نازل کر دے گا لیکن اگر تو آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کے حضور میں توبہ کر (عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر کہا : اللہ کی قسم ! میری اور آپ کی مثال یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسی ہے (اور انہیں کی کہی ہوئی بات میں بھی دہراتی ہوں کہ) فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون‏ سو صبر کرنا (ہی) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ (رض) کی پاکی میں سورة النور کی إن الذين جاء وا بالإفك‏ سے آخر تک دس آیات اتاریں۔
حدیث نمبر: 4690 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ . ح، ‏‏‏‏‏‏وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً، ‏‏‏‏‏‏فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11، ‏‏‏‏‏‏الْعَشْرَ الْآيَاتِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”یعقوب نے کہا، تم نے اپنے دل سے خود ایک جھوٹی بات گھڑ لی ہے“۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابو وائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان (رض) نے بیان کیا، وہ عائشہ (رض) کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ (رض) کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہوگا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان (رض) نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ (رض) بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حدیث نمبر: 4691 حَدَّثَنَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهْيَ أُمُّ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، ‏‏‏‏‏‏بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے وہ اپنا مطلب نکالنے کو انہیں پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور بولی کہ بس آ جا“۔
مجھ سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابو وائل نے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے هيت لك پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں۔ مثواه‏ یعنی اس کا ٹھکانا، درجہ۔ ألفيا‏ یعنی پایا اسی سے ہے۔ ألفوا آباء هم‏ اور ألفينا‏ (دوسری آیتوں میں) اور ابن مسعود سے (سورۃ الصافات) میں بل عجبت ويسخرون‏ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4692 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا مَثْوَاهُ سورة يوسف آية 21، ‏‏‏‏‏‏مُقَامُهُ وَأَلْفَيَا سورة يوسف آية 25:‏‏‏‏ وَجَدَا، ‏‏‏‏‏‏أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ سورة الصافات آية 69:‏‏‏‏ أَلْفَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ سورة الصافات آية 12.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے وہ اپنا مطلب نکالنے کو انہیں پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور بولی کہ بس آ جا“۔
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چناچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏ تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔ اور فرمایا إنا کاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون‏ بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی (اپنی پہلی حالت پر) لوٹ آؤ گے۔ ابن مسعود (رض) نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4693 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، ‏‏‏‏‏‏أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ ؟.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي‏» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ، وَنَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لَهُ ‏{‏أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي‏}‏‏"‏
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے کہ افسوس ہم لوگوں کی نگاہوں میں جھوٹے ہوئے“ آخر تک۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا عروہ نے ان سے آیت حتى إذا استيأس الرسل‏ کے متعلق پوچھا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا تھا (آیت میں) کذبوا (تخفیف کے ساتھ) یا کذبوا (تشدید کے ساتھ) اس پر عائشہ (رض) نے کہا کہ کذبوا (تشدید کے ساتھ) اس پر میں نے ان سے کہا کہ انبیاء تو یقین کے ساتھ جانتے تھے کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر ظنوا سے کیا مراد ہے، انہوں نے کہا اپنی زندگی کی قسم بیشک پیغمبروں کو اس کا یقین تھا۔ میں نے کہا کذبوا تخفیف ذال کے ساتھ پڑھیں تو کیا قباحت ہے۔ انہوں نے کہا معاذاللہ ! کہیں پیغمبر اپنے پروردگار کی نسبت ایسا گمان کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا ان کی تصدیق کی جب ان پر ایک مدت دراز تک آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر ان کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے جنہوں نے ان کو جھٹلایا تھا اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اب وہ بھی ہم کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے، اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔
حدیث نمبر: 4695 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ سورة يوسف آية 110، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَكُذِبُوا أَمْ كُذِّبُوا ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ كُذِّبُوا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَجَلْ، ‏‏‏‏‏‏لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَعَاذَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ تَكُنْ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا هَذِهِ الْآيَةُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہاں تک کہ جب رسول اللہ نا امید ہوگئے۔
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ میں نے عائشہ (رض) سے کہا ہوسکتا ہے یہ کذبوا تخفیف ذال کے ساتھ ہو تو انہوں نے فرمایا، معاذاللہ ! پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔
حدیث نمبر: 4696 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَعَلَّهَا، ‏‏‏‏‏‏كُذِبُوا، ‏‏‏‏‏‏مُخَفَّفَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَعَاذَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
ابن عباس (رض) نے کہا هاد‏ کا معنی بلانے والا، ہدایت کرنے والا (نبی و رسول مراد ہیں) ۔ اور مجاہد نے کہا صديد ‏‏‏‏ کا معنی پیپ اور لہو۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہ اذکروا نعمة الله عليكم‏ کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں ان کو یاد کرو اور جو جو اگلے واقعات اس کی قدرت کے ہوئے ہیں اور مجاہد نے کہا من کل ما سألتموه‏ کا معنی یہ ہے کہ جن جن چیزوں کی تم نے رغبت کی يبغونها عوجا‏ اس میں کجی پیدا کرنے کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وإذ تأذن ربکم‏ جب تمہارے مالک نے تم کو خبردار کردیا جتلا دیا۔ ردوا أيديهم في أفواههم‏ یہ عرب کی زبان میں ایک مثل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا جو حکم ہوا تھا اس سے باز رہے، بجا نہ لائے۔ مقامي‏ وہ جگہ جہاں اللہ پاک اس کو اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ من ورائه‏ سامنے سے۔ لكم تبعا‏ ، تبع ، تابع کی جمع ہے جیسے غيب ، غائب کی۔ بمصرخکم‏ عرب لوگ کہتے ہیں استصرخني یعنی اس نے میری فریاد سن لی۔ يستصرخه اس کی فریاد سنتا ہے دونوں صراخ سے نکلے ہیں ( صراخ کا معنی فریاد) ۔ ولا خلال‏ ،خاللته کا مصدر ہے اور خلة کی جمع بھی ہوسکتا ہے (یعنی اس دن دوستی نہ ہوگی یا دوستیاں نہ ہوں گی) اجتثت‏ جڑ سے اکھاڑ لیا گیا۔
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ هَادٍ:‏‏‏‏ دَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُجَاهِدٌ:‏‏‏‏ صَدِيدٌ قَيْحٌ وَدَمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ:‏‏‏‏ أَيَادِيَ اللَّهِ عِنْدَكُمْ وَأَيَّامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُجَاهِدٌ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ:‏‏‏‏ رَغِبْتُمْ إِلَيْهِ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏يَبْغُونَهَا عِوَجًا:‏‏‏‏ يَلْتَمِسُونَ لَهَا عِوَجًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَعْلَمَكُمْ آذَنَكُمْ:‏‏‏‏ رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا مَثَلٌ كَفُّوا عَمَّا أُمِرُوا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏مَقَامِي:‏‏‏‏ حَيْثُ يُقِيمُهُ اللَّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ وَرَائِهِ:‏‏‏‏ قُدَّامَهُ جَهَنَّمُ، ‏‏‏‏‏‏لَكُمْ تَبَعًا:‏‏‏‏ وَاحِدُهَا تَابِعٌ مِثْلُ غَيَبٍ وَغَائِبٍ، ‏‏‏‏‏‏بِمُصْرِخِكُمْ:‏‏‏‏ اسْتَصْرَخَنِي اسْتَغَاثَنِي يَسْتَصْرِخُهُ مِنَ الصُّرَاخِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا خِلَالَ:‏‏‏‏ مَصْدَرُ خَالَلْتُهُ خِلَالًا وَيَجُوزُ أَيْضًا جَمْعُ خُلَّةٍ وَخِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏اجْتُثَّتْ:‏‏‏‏ اسْتُؤْصِلَتْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৯৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين» کی تفسیر۔
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا : اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ہر وقت میوہ دے جاتا ہے ؟ ابن عمر (رض) کہتے ہیں میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر (رض) بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کے سامنے کلام کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے کچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم ﷺ نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے والد عمر (رض) سے عرض کیا : بابا جان ! اللہ کی قسم ! میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے آگے بڑھ کر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے (لال لال اونٹ کا) مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔
حدیث نمبر: 4698 حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هِيَ النَّخْلَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ:‏‏‏‏ يَا أَبَتَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَقُولَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَا.
tahqiq

তাহকীক: