আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৪০৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا“ (یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے)۔
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ (آیت) الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم‏ وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا۔ انہوں نے عروہ سے اس آیت کے متعلق کہا، میرے بھانجے ! تمہارے والد زبیر (رض) اور (نانا) ابوبکر (رض) بھی انہیں میں سے تھے۔ احد کی لڑائی میں رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ تکلیف پہنچنی تھی جب وہ پہنچی اور مشرکین واپس جانے لگے تو نبی کریم ﷺ کو اس کا خطرہ ہوا کہ کہیں وہ پھر لوٹ کر حملہ نہ کریں۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کا پیچھا کرنے کون کون جائیں گے۔ اسی وقت ستر صحابہ رضی اللہ عنہم تیار ہوگئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوبکر (رض) اور زبیر (رض) بھی انہیں میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 4077 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: ‏‏‏‏الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ‏‏‏‏ قَالَتْ لِعُرْوَةَ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ أَبُوكَ مِنْهُمُ الزُّبَيْرُ وَأَبُو بَكْرٍ، لَمَّا أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَانْصَرَفَ عَنْهُ الْمُشْرِكُونَ خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا قَالَ: مَنْ يَذْهَبُ فِي إِثْرِهِمْ. فَانْتَدَبَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلاً، قَالَ: كَانَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ عرب کے تمام قبائل میں کوئی قبیلہ انصار کے مقابلے میں اس عزت کو حاصل نہیں کرسکا کہ اس کے سب سے زیادہ آدمی شہید ہوئے اور وہ قبیلہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عزت کے ساتھ اٹھے گا۔ انس بن مالک (رض) نے ہم سے بیان کیا کہ غزوہ احد میں قبیلہ انصار کے ستر آدمی شہید ہوئے اور بئرمعونہ کے حادثہ میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے اور یمامہ کی لڑائی میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے۔ راوی نے بیان کیا کہ بئرمعونہ کا واقعہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں پیش آیا تھا اور یمامہ کی جنگ ابوبکر (رض) کے عہد خلافت میں ہوئی تھی جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4078 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ سَبْعُونَ، قَالَ وَكَانَ بِئْرُ مَعُونَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَوْمُ الْيَمَامَةِ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں جابر بن عبداللہ (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ ﷺ دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے ؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ ﷺ انہی کو آگے فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔ اور ابوالولید نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، انہوں نے جابر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میرے والد عبداللہ (رض) شہید کردیئے گئے تو میں رونے لگا اور باربار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔ (فاطمہ بنت عمر (رض) عبداللہ کی بہن بھی رونے لگیں) آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ روؤ مت۔ (آپ ﷺ نے لا تبكيه فرمایا، یا ما تبكيه۔ راوی کو شک ہوگیا) فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو اٹھا لیا گیا۔
حدیث نمبر: 4079 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ. فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدٍ، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا. حدیث نمبر: 4080 وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَبْكِيهِ أَوْ مَا تَبْكِيهِ، مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا اور اس سے اس کی دھار ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کے اس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی جو غزوہ احد میں انہیں اٹھانا پڑا تھا۔ پھر میں نے دوبارہ اس تلوار کو ہلایا، تو پھر وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ ہوگئی جیسی پہلے تھی۔ اس کی تعبیر اللہ تعالیٰ نے فتح اور مسلمانوں کے پھر از سر نو اجتماع کی صورت میں ظاہر کی۔ میں نے اسی خواب میں ایک گائے دیکھی تھی (جو ذبح ہو رہی تھی) اور اللہ تعالیٰ کے تمام کام خیر و برکت لیے ہوتے ہیں۔ اس کی تعبیر وہ مسلمان تھے (جو) احد کی لڑائی میں (شہید ہوئے) ۔
حدیث نمبر: 4081 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ بِهِ اللَّهُ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ، فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے خباب (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور (دنیا میں) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر (رض) بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا غطوا بها رأسه،‏‏‏‏ واجعلوا على رجليه الإذخر چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو ۔ یا آپ ﷺ نے یوں فرمایا ألقوا على رجليه من الإذخر یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو ۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل (اسی دنیا میں) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 4082 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ. أَوْ قَالَ: أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ. وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے۔
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں قرہ بن خالد نے، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4083 حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کو (خیبر سے واپس ہوتے ہوئے) احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان والے علاقے (مدینہ منورہ) کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 4084 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ،‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے۔
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا (آپ حوض کوثر نے یوں فرمایا) مفاتيح الأرض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) ۔ اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔
حدیث نمبر: 4085 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ،‏‏‏‏ عَنْ عُقْبَةَ،‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ،‏‏‏‏ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ،‏‏‏‏ وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ،‏‏‏‏ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ،‏‏‏‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جاسوسی کے لیے ایک جماعت (مکہ، قریش کی خبر لانے کے لیے) بھیجی اور اس کا امیر عاصم بن ثابت (رض) کو بنایا، جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا ہیں۔ یہ جماعت روانہ ہوئی اور جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچی تو قبیلہ ہذیل کے ایک قبیلے کو جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا، ان کا علم ہوگیا اور قبیلہ کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے چلے۔ آخر ایک ایسی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں صحابہ کی اس جماعت نے پڑاؤ کیا تھا۔ وہاں ان کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو صحابہ مدینہ سے لائے تھے۔ قبیلہ والوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجور (کی گھٹلی) ہے اب انہوں نے پھر تلاش شروع کی اور صحابہ کو پا لیا۔ عاصم (رض) اور ان کے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو صحابہ کی اس جماعت نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے وہاں پہنچ کر ٹیلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صحابہ سے کہا کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ اس پر عاصم (رض) بولے کہ میں تو کسی کافر کی حفاظت و امن میں خود کو کسی صورت میں بھی نہیں دے سکتا۔ اے اللہ ! ہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات کی خبر اپنے نبی کو پہنچا دے۔ چناچہ ان صحابہ نے ان سے قتال کیا اور عاصم اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ ان کے تیروں سے شہید ہوگئے۔ خبیب، زید اور ایک اور صحابی ان کے حملوں سے ابھی محفوظ تھے۔ قبیلہ والوں نے پھر حفاظت و امان کا یقین دلایا۔ یہ حضرات ان کی یقین دہانی پر اتر آئے۔ پھر جب قبیلہ والوں نے انہیں پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا تو ان کی کمان کی تانت اتار کر ان صحابہ کو انہیں سے باندھ دیا۔ تیسرے صحابہ جو خبیب اور زید کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ پہلے تو قبیلہ والوں نے انہیں گھسیٹا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن جب وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے تو انہیں وہیں قتل کردیا اور خبیب اور زید کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر انہیں مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ خبیب (رض) کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب (رض) نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا۔ وہ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی کی حیثیت سے رہے۔ جس وقت ان سب کا خبیب (رض) کے قتل پر اتفاق ہوچکا تو اتفاق سے انہیں دنوں حارث کی ایک لڑکی (زینب) سے انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا اور انہوں نے ان کو استرہ بھی دے دیا تھا۔ ان کا بیان تھا کہ میرا لڑکا میری غفلت میں خبیب (رض) کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جو اسے اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی۔ انہوں نے میری گھبراہٹ کو جان لیا، استرہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، کیا تمہیں اس کا خطرہ ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا ؟ انشاء اللہ میں ہرگز ایسا نہیں کرسکتا۔ ان کا بیان تھا کہ خبیب (رض) سے بہتر قیدی میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اس وقت مکہ میں کسی طرح کا پھل موجود نہیں تھا جبکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی تھے، تو وہ اللہ کی بھیجی ہوئی روزی تھی۔ پھر حارث کے بیٹے قتل کرنے کے لیے انہیں لے کر حرم کے حدود سے باہر گئے۔ خبیب (رض) نے ان سے فرمایا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو (انہوں نے اجازت دے دی اور) ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے فرمایا کہ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو اور زیادہ نماز پڑھتا۔ خبیب (رض) ہی پہلے وہ شخص ہیں جن سے قتل سے پہلے دو رکعت نماز کا طریقہ چلا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے لیے بددعا کی، اے اللہ ! انہیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور یہ اشعار پڑھے جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر اللہ کی راہ میں مجھے قتل کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ چاہے گا تو جسم کے ایک ایک کٹے ہوئے ٹکڑے میں برکت دے گا۔ پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر انہیں شہید کردیا اور قریش نے عاصم (رض) کی لاش کے لیے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی بھی حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جاسکے۔ عاصم (رض) نے قریش کے ایک بہت بڑے، سردار کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج کو بادل کی طرح ان کے اوپر بھیجا اور ان بھڑوں نے ان کی لاش کو قریش کے آدمیوں سے محفوظ رکھا اور قریش کے بھیجے ہوئے یہ لوگ (ان کے پاس نہ پھٹک سکے) کچھ نہ کرسکے۔
حدیث نمبر: 4086 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ عَنْ مَعْمَرٍ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لَحْيَانَ،‏‏‏‏ فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَامٍ،‏‏‏‏ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى أَتَوْا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ الْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَتَبِعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ،‏‏‏‏ فَلَمَّا انْتَهَى عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ،‏‏‏‏ وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا،‏‏‏‏ فَقَالَ عَاصِمٌ:‏‏‏‏ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ،‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ بِالنَّبْلِ وَبَقِيَ خُبَيْبٌ وَزَيْدٌ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ،‏‏‏‏ فَلَمَّا أَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ،‏‏‏‏ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا،‏‏‏‏ فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا:‏‏‏‏ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ،‏‏‏‏ فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَلَمْ يَفْعَلْ فَقَتَلُوهُ،‏‏‏‏ وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدٍ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ،‏‏‏‏ فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا،‏‏‏‏ فَأَعَارَتْهُ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَ ذَاكَ مِنِّي وَفِي يَدِهِ الْمُوسَى،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَاكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ تَقُولُ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ،‏‏‏‏ وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ،‏‏‏‏ فَخَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ،‏‏‏‏ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ،‏‏‏‏ وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ،‏‏‏‏ وَكَانَ عَاصِمٌ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ،‏‏‏‏ فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر سے سنا کہ خبیب (رض) کو ابوسروعہ (عقبہ بن عامر) نے قتل کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4087 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرٍو،‏‏‏‏ سَمِعَ جَابِرًا،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ الَّذِي قَتَلَ خُبَيْبًا هُوَ أَبُو سِرْوَعَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ستر صحابہ کی ایک جماعت تبلیغ اسلام کے لیے بھیجی تھی۔ انہیں قاری کہا جاتا تھا۔ راستے میں بنو سلیم کے دو قبیلے رعل اور ذکوان نے ایک کنویں کے قریب ان کے ساتھ مزاحمت کی۔ یہ کنواں بئرمعونہ کے نام سے مشہور تھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہم تمہارے خلاف، یہاں لڑنے نہیں آئے بلکہ ہمیں تو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک ضرورت پر مامور کیا گیا ہے۔ لیکن کفار کے ان قبیلوں نے تمام صحابہ کو شہید کردیا۔ اس واقعہ کے بعد نبی کریم ﷺ صبح کی نماز میں ان کے لیے ایک مہینہ تک بددعا کرتے رہے۔ اسی دن سے دعا قنوت کی ابتداء ہوئی، ورنہ اس سے پہلے ہم دعا قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے اور عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ ایک صاحب (عاصم احول) نے انس (رض) سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا کہ یہ دعا رکوع کے بعد پڑھی جائے گی یا قرآت قرآن سے فارغ ہونے کے بعد ؟ (رکوع سے پہلے) انس (رض) نے فرمایا کہ نہیں بلکہ قرآت قرآن سے فارغ ہونے کے بعد (رکوع سے پہلے) ۔
حدیث نمبر: 4088 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ رَجُلًا لِحَاجَةٍ،‏‏‏‏ يُقَالُ لَهُمْ:‏‏‏‏ الْقُرَّاءُ،‏‏‏‏ فَعَرَضَ لَهُمْ حَيَّانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ،‏‏‏‏ رِعْلٌ،‏‏‏‏ وَذَكْوَانُ عِنْدَ بِئْرٍ يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ بِئْرُ مَعُونَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ الْقَوْمُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكُمْ أَرَدْنَا إِنَّمَا نَحْنُ مُجْتَازُونَ فِي حَاجَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُمْ،‏‏‏‏ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ،‏‏‏‏ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ،‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ:‏‏‏‏ وَسَأَلَ رَجُلٌ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبَعْدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا بَلْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک قنوت پڑھی جس میں آپ ﷺ عرب کے چند قبائل (رعل و ذکوان وغیرہ) کے لیے بددعا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4089 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
مجھ سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دشمنوں کے مقابل مدد چاہی۔ نبی کریم ﷺ نے ستر انصاری صحابہ کو ان کی کمک کے لیے روانہ کیا۔ ہم ان حضرات کو قاری کہا کرتے تھے۔ اپنی زندگی میں معاش کے لیے دن میں لکڑیاں جمع کرتے تھے اور رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب یہ حضرات بئرمعونہ پر پہنچے تو ان قبیلے والوں نے انہیں دھوکا دیا اور انہیں شہید کردیا۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز میں ایک مہینے تک بددعا کی۔ عرب کے انہیں چند قبائل رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ ان صحابہ کے بارے میں قرآن میں (آیت نازل ہوئی اور) ہم اس کی تلاوت کرتے تھے۔ پھر وہ آیت منسوخ ہوگئی (آیت کا ترجمہ) ہماری طرف سے ہماری قوم (مسلمانوں) کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس آگئے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہمیں بھی (اپنی نعمتوں سے) اس نے خوش رکھا ہے۔ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں، عرب کے چند قبائل یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے بددعا کی تھی۔ خلیفہ بن خیاط (امام بخاری (رح) کے شیخ) نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے انس (رض) نے بیان کیا کہ یہ ستر صحابہ قبیلہ انصار سے تھے اور انہیں بئرمعونہ کے پاس شہید کردیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 4090 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنَّ رِعْلًا،‏‏‏‏ وَذَكْوَانَ،‏‏‏‏ وَعُصَيَّةَ،‏‏‏‏ وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَدُوٍّ،‏‏‏‏ فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ،‏‏‏‏ كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ،‏‏‏‏ حَتَّى كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ وَغَدَرُوا بِهِمْ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو فِي الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى رِعْلٍ،‏‏‏‏ وَذَكْوَانَ،‏‏‏‏ وَعُصَيَّةَ،‏‏‏‏ وَبَنِي لَحْيَانَ. قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَقَرَأْنَا فِيهِمْ قُرْآنًا،‏‏‏‏ ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا،‏‏‏‏ وَعَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ،‏‏‏‏ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى رِعْلٍ،‏‏‏‏ وَذَكْوَانَ،‏‏‏‏ وَعُصَيَّةَ،‏‏‏‏ وَبَنِي لِحْيَانَ،‏‏‏‏ زَادَ خَلِيفَةُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَنَسٌ:‏‏‏‏ أَنَّ أُولَئِكَ السَّبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا كِتَابًا،‏‏‏‏ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ٰ ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے ماموں، ام سلیم (انس کی والدہ) کے بھائی کو بھی ان ستر سواروں کے ساتھ بھیجا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے نبی کریم ﷺ کے سامنے (شرارت اور تکبر سے) تین صورتیں رکھی تھیں۔ اس نے کہا کہ یا تو یہ کیجئے کہ دیہاتی آبادی پر آپ کی حکومت ہو اور شہری آبادی پر میری ہو یا پھر مجھے آپ کا جانشیں مقرر کیا جائے ورنہ پھر میں ہزاروں غطفانیوں کو لے کر آپ پر چڑھائی کر دوں گا۔ (اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی) اور ام فلاں کے گھر میں وہ مرض طاعون میں گرفتار ہوا۔ کہنے لگا کہ اس فلاں کی عورت کے گھر کے جوان اونٹ کی طرح مجھے بھی غدود نکل آیا ہے۔ میرا گھوڑا لاؤ۔ چناچہ وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر ہی مرگیا۔ بہرحال ام سلیم کے بھائی حرام بن ملحان ایک اور صحابی جو لنگڑے تھے اور تیسرے صحابی جن کا تعلق بنی فلاں سے تھا، آگے بڑھے۔ حرام نے (اپنے دونوں ساتھیوں سے بنو عامر تک پہنچ کر پہلے ہی) کہہ دیا کہ تم دونوں میرے قریب ہی کہیں رہنا۔ میں ان کے پاس پہلے جاتا ہوں اگر انہوں نے مجھے امن دے دیا تو تم لوگ قریب ہی ہو اور اگر انہوں نے قتل کردیا تو آپ حضرات اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ چناچہ قبیلہ میں پہنچ کر انہوں نے ان سے کہا، کیا تم مجھے امان دیتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ کا پیغام تمہیں پہنچا دوں ؟ پھر وہ آپ ﷺ کا پیغام انہیں پہنچانے لگے تو قبیلہ والوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے آ کر ان پر نیزہ سے وار کیا۔ ہمام نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ نیزہ آر پار ہوگیا تھا۔ حرام کی زبان سے اس وقت نکلا اللہ اکبر، کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے تو اپنی مراد حاصل کرلی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک صحابی کو بھی مشرکین نے پکڑ لیا (جو حرام (رض) کے ساتھ تھے اور انہیں بھی شہید کردیا) پھر اس مہم کے تمام صحابہ کو شہید کردیا۔ صرف لنگڑے صحابی بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے۔ ان شہداء کی شان میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی، بعد میں وہ آیت منسوخ ہوگئی (آیت یہ تھی) إنا قد لقينا ربنا فرضي عنا وأرضانا‏.‏۔ نبی کریم ﷺ نے ان قبائل رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ کے لیے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی۔
حدیث نمبر: 4091 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،‏‏‏‏ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَنَسٌ،‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ أَخٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَاكِبًا،‏‏‏‏ وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ خَيَّرَ بَيْنَ ثَلَاثِ خِصَالٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَلِي أَهْلُ الْمَدَرِ أَوْ أَكُونُ خَلِيفَتَكَ أَوْ أَغْزُوكَ بِأَهْلِ غَطَفَانَ بِأَلْفٍ وَأَلْفٍ،‏‏‏‏ فَطُعِنَ عَامِرٌ فِي بَيْتِ أُمِّ فُلَانٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَكْرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ آلِ فُلَانٍ،‏‏‏‏ ائْتُونِي بِفَرَسِي فَمَاتَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ أَعْرَجُ،‏‏‏‏ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُونَا قَرِيبًا حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي كُنْتُمْ وَإِنْ قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ،‏‏‏‏ قَالَ هَمَّامٌ:‏‏‏‏ أَحْسِبُهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ،‏‏‏‏ فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلُوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْنَا،‏‏‏‏ ثُمَّ كَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا،‏‏‏‏ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ،‏‏‏‏ وَذَكْوَانَ،‏‏‏‏ وَبَنِي لَحْيَانَ،‏‏‏‏ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
مجھ سے حبان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، ان کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب حرام بن ملحان کو جو ان کے ماموں تھے بئرمعونہ کے موقع پر زخمی کیا گیا تو زخم پر سے خون کو ہاتھ میں لے کر انہوں نے اپنے چہرہ اور سر پر لگا لیا اور کہا کعبہ کے رب کی قسم ! میری مراد حاصل ہوگئی۔
حدیث نمبر: 4092 حَدَّثَنِي حِبَّانُ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ،‏‏‏‏ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَكَانَ خَالَهُ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ،‏‏‏‏ قَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا فَنَضَحَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جب مکہ میں مشرک لوگ ابوبکر صدیق (رض) کو سخت تکلیف دینے لگے تو رسول اللہ ﷺ سے ابوبکر (رض) نے بھی اجازت چاہی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابھی یہیں ٹھہرے رہو۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی (اللہ تعالیٰ سے) اپنے لیے ہجرت کی اجازت کے امیدوار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں مجھے اس کی امید ہے۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ پھر ابوبکر (رض) انتظار کرنے لگے۔ آخر نبی کریم ﷺ ایک دن ظہر کے وقت (ہمارے گھر) تشریف لائے اور ابوبکر (رض) کو پکارا اور فرمایا کہ تخلیہ کرلو۔ ابوبکر (رض) نے کہا کہ صرف میری دونوں لڑکیاں یہاں موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے مجھے بھی ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا مجھے بھی ساتھ چلنے کی سعادت حاصل ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔ ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں اور میں نے انہیں ہجرت ہی کی نیت سے تیار کر رکھا ہے۔ چناچہ انہوں نے ایک اونٹنی جس کا نام الجدعا تھا آپ ﷺ کو دے دی۔ دونوں بزرگ سوار ہو کر روانہ ہوئے اور یہ غار ثور پہاڑی کا تھا اس میں جا کر دونوں پوشیدہ ہوگئے۔ عامر بن فہیرہ جو عبداللہ بن طفیل بن سنجرہ، عائشہ (رض) کے والدہ کی طرف سے بھائی تھے، ابوبکر (رض) کی ایک دودھ دینے والی اونٹنی تھی تو عامر بن فہیرہ صبح و شام (عام مویشیوں کے ساتھ) اسے چرانے لے جاتے اور رات کے آخری حصہ میں نبی کریم ﷺ اور ابوبکر (رض) کے پاس آتے تھے۔ (غار ثور میں ان حضرات کی خوراک اسی کا دودھ تھی) اور پھر اسے چرانے کے لیے لے کر روانہ ہوجاتے۔ اس طرح کوئی چرواہا اس پر آگاہ نہ ہوسکا۔ پھر جب آپ ﷺ اور ابوبکر (رض) غار سے نکل کر روانہ ہوئے تو پیچھے پیچھے عامر بن فہیرہ بھی پہنچے تھے۔ آخر دونوں حضرات مدینہ پہنچ گئے۔ بئرمعونہ کے حادثہ میں عامر بن فہیرہ (رض) بھی شہید ہوگئے تھے۔ ابواسامہ سے روایت ہے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ جب بئرمعونہ کے حادثہ میں قاری صحابہ شہید کئے گئے اور عمرو بن امیہ ضمری (رض) قید کئے گئے تو عامر بن طفیل نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہوں نے ایک لاش کی طرف اشارہ کیا۔ عمرو بن امیہ (رض) نے انہیں بتایا کہ یہ عامر بن فہیرہ (رض) ہیں۔ اس پر عامر بن طفیل (رض) نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ شہید ہوجانے کے بعد ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ میں نے اوپر نظر اٹھائی تو لاش آسمان و زمین کے درمیان لٹک رہی تھی۔ پھر وہ زمین پر رکھ دی گئی۔ ان شہداء کے متعلق نبی کریم ﷺ کو جبرائیل (علیہ السلام) نے باذن خدا بتادیا تھا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے ان کی شہادت کی خبر صحابہ کو دی اور فرمایا کہ تمہارے ساتھی شہید کردیئے گئے ہیں اور شہادت کے بعد انہوں نے اپنے رب کے حضور میں عرض کیا کہ اے ہمارے رب ! ہمارے (مسلمان) بھائیوں کو اس کی اطلاع دیدے کہ ہم تیرے پاس پہنچ کر کس طرح خوش ہیں اور تو بھی ہم سے راضی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید کے ذریعہ) مسلمانوں کو اس کی اطلاع دے دی۔ اسی حادثہ میں عروہ بن اسماء بن صلت (رض) بھی شہید ہوئے تھے (پھر زبیر (رض) کے بیٹے جب پیدا ہوئے) تو ان کا نام عروہ، انہیں عروہ ابن اسماء (رض) کے نام پر رکھا گیا۔ منذر بن عمرو (رض) اس حادثہ میں شہید ہوئے تھے۔ (اور زبیر (رض) کے دوسرے صاحب زادے کا نام) منذر انہیں کے نام پر رکھا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 4093 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخُرُوجِ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَذَى،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَقِمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ،‏‏‏‏ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو ذَلِكَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا فَنَادَاهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصُّحْبَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الصُّحْبَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ،‏‏‏‏ فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ،‏‏‏‏ فَرَكِبَا فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ فَتَوَارَيَا فِيهِ،‏‏‏‏ فَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلَامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لِأُمِّهَا،‏‏‏‏ وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ وَيُصْبِحُ فَيَدَّلِجُ إِلَيْهِمَا،‏‏‏‏ ثُمَّ يَسْرَحُ فَلَا يَفْطُنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا خَرَجَ خَرَجَ مَعَهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ. وَعَنْ أَبِي أُسَامَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي أَبِي،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قُتِلَ الَّذِينَ بِبِئْرِ مَعُونَةَ وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ قَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ فَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ،‏‏‏‏ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ،‏‏‏‏ ثُمَّ وُضِعَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ أُصِيبُوا وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ،‏‏‏‏ فَقَالُوا رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا،‏‏‏‏ فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ وَأُصِيبَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ عُرْوَةُ بْنُ أَسْماءَ بْنِ الصَّلْتِ فَسُمِّيَ عُرْوَةُ بِهِ وَمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو سُمِّيَ بِهِ مُنْذِرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سلیمان تیمی نے خبر دی، انہیں ابومجلز (لاحق بن حمید) نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ اس دعائے قنوت میں آپ ﷺ نے رعل اور ذکوان نامی قبائل کے لیے بددعا کی۔ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 4094 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ،‏‏‏‏ وَذَكْوَانَ،‏‏‏‏ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے آپ کے معزز اصحاب (قاریوں) کو بئرمعونہ میں شہید کردیا تھا۔ تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی تھی آپ ﷺ قبائل رعل، بنو لحیان اور عصیہ کے لیے ان نمازوں میں بددعا کرتے تھے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تھی۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر انہی اصحاب کے بارے میں جو بئرمعونہ میں شہید کردیئے گئے تھے، قرآن مجید کی آیت نازل کی۔ ہم اس آیت کی تلاوت کیا کرتے تھے لیکن بعد میں وہ آیت منسوخ ہوگئی (اس آیت کا ترجمہ یہ ہے) ہماری قوم کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہم بھی اس سے راضی ہیں۔
حدیث نمبر: 4095 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا يَعْنِي أَصْحَابَهُ بِبِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا حِينَ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ،‏‏‏‏ وَلَحْيَانَ،‏‏‏‏ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ بَلِّغُوا قَوْمَنَا فَقَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن احول بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے نماز میں قنوت کے بارے میں پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد ؟ انہوں نے کہا کہ رکوع سے پہلے۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے آپ ہی کا نام لے کر مجھے بتایا کہ قنوت رکوع کے بعد۔ انس (رض) نے کہا کہ انہوں نے غلط کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینے تک قنوت پڑھی۔ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو جو قاریوں کے نام سے مشہور تھی جو ستر کی تعداد میں تھے، مشرکین کے بعض قبائل کے یہاں بھیجا تھا۔ مشرکین کے ان قبائل نے نبی کریم ﷺ کو ان صحابہ کے بارے میں پہلے حفظ و امان کا یقین دلایا تھا لیکن بعد میں یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اس جماعت پر غالب آگئے (اور غداری کی اور انہیں شہید کردیا) رسول اللہ ﷺ نے اسی موقع پر رکوع کے بعد ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی اور اس میں ان مشرکین کے لیے بددعا کی تھی۔
حدیث نمبر: 4096 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عنه عَنْ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قَبْلَهُ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ:‏‏‏‏ بَعْدَهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَذَبَ،‏‏‏‏ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا،‏‏‏‏ أَنَّهُ كَانَ بَعَثَ نَاسًا يُقَالُ لَهُمْ:‏‏‏‏ الْقُرَّاءُ وَهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ قِبَلَهُمْ،‏‏‏‏ فَظَهَرَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ،‏‏‏‏ فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنے آپ کو انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا (تاکہ لڑنے والوں میں انہیں بھی بھرتی کرلیا جائے) اس وقت وہ چودہ سال کے تھے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اجازت نہیں دی۔ لیکن غزوہ خندق کے موقع پر جب انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے اپنے کو پیش کیا تو آپ ﷺ نے ان کو منظور فرما لیا۔ اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر کے تھے۔
حدیث نمبر: 4097 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ،‏‏‏‏ وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ.
tahqiq

তাহকীক: