আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৪৪১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر (رض) نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے بعض اصحاب نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوایا تھا اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صرف ترشوا لیا تھا۔
حدیث نمبر: 4411 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُابْنُ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شہاب نے بیان کیا (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے خبر دی کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے تو رسول اللہ ﷺ منیٰ میں کھڑے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا۔ ان کا گدھا صف کے کچھ حصے سے گزرا، پھر وہ اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 4412 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ اسامہ (رض) سے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی (سفر میں) رفتار کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیچ کی چال چلتے تھے اور جب کشادہ جگہ ملتی تو اس سے تیز چلتے تھے۔
حدیث نمبر: 4413 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ سَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ الْعَنَقَ: فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے عبداللہ بن یزید خطمی نے اور انہیں ابوایوب (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھی تھیں۔
حدیث نمبر: 4414 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ تبوک کا بیان، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی (تنگی کا غزوہ) بھی ہے۔
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ مجھے میرے ساتھیوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ میں آپ ﷺ سے ان کے لیے سواری کے جانوروں کی درخواست کروں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ جیش عسرت (یعنی غزوہ تبوک) میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کے جانوروں کا انتظام کرا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم کو سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ غصہ میں تھے اور میں اسے معلوم نہ کرسکا تھا۔ آپ ﷺ کے انکار سے میں بہت غمگین واپس ہوا۔ یہ خوف بھی تھا کہ کہیں آپ سواری مانگنے کی وجہ سے خفا نہ ہوگئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی خبر دی، لیکن ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میں نے بلال (رض) کی آواز سنی، وہ پکار رہے تھے، اے عبداللہ بن قیس ! میں نے جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دو جوڑے اور یہ دو جوڑے اونٹ کے لے جاؤ۔ آپ نے چھ اونٹ عنایت فرمائے۔ ان اونٹوں کو آپ نے اسی وقت سعد (رض) سے خریدا تھا اور فرمایا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کو دے دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے یا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری سواری کے لیے انہیں دیا ہے، ان پر سوار ہوجاؤ۔ میں ان اونٹوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے تمہاری سواری کے لیے یہ عنایت فرمائے ہیں لیکن اللہ کی قسم ! کہ اب تمہیں ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلنا پڑے گا، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا انکار فرمانا سنا تھا، کہیں تم یہ خیال نہ کر بیٹھو کہ میں نے تم سے نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے متعلق غلط بات کہہ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری سچائی میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اگر آپ کا اصرار ہے تو ہم ایسا بھی کرلیں گے۔ ابوموسیٰ (رض) ان میں سے چند لوگوں کو لے کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا وہ ارشاد سنا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے پہلے تو دینے سے انکار کیا تھا لیکن پھر عنایت فرمایا۔ ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابوموسیٰ (رض) نے ان سے بیان کی تھی۔
حدیث نمبر: 4415 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ لَهُمْ، إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ، وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي: أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ: خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ، ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ: إِنَّ اللَّهَ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، فَارْكَبُوهُنَّ، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِمْ بِهِنَّ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ، فَحَدَّثُوهُمْ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ تبوک کا بیان، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی (تنگی کا غزوہ) بھی ہے۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سمیر قفان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے مصعب بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علی (رض) کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ علی (رض) نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کو یوں بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے اور انہوں نے کہا میں نے مصعب سے سنا۔
حدیث نمبر: 4416 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا، فَقَالَ: أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ، قَالَ: أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي،وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، سَمِعْتُ مُصْعَبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ تبوک کا بیان، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی (تنگی کا غزوہ) بھی ہے۔
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ مجھے صفوان بن یعلٰی بن امیہ نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ عسرت میں شریک تھا۔ بیان کیا کہ یعلٰی (رض) کہا کرتے تھے کہ مجھے اپنے تمام عملوں میں اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے۔ عطاء نے بیان کیا، ان سے صفوان نے بیان کیا کہ یعلٰی (رض) نے کہا، میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا اور ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ عطاء نے بیان کیا کہ مجھے صفوان (رض) نے خبر دی کہ ان دونوں میں سے کس نے اپنے مقابل کا ہاتھ کاٹا تھا، یہ مجھے یاد نہیں ہے۔ بہرحال جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے جو کھینچا تو کاٹنے والے کے آگے کا ایک دانت بھی ساتھ چلا آیا۔ وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دانت کے ٹوٹنے پر کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ عطاء نے بیان کیا میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر کیا وہ تیرے منہ میں اپنا ہاتھ رہنے دیتا تاکہ تو اسے اونٹ کی طرح چبا جاتا۔
حدیث نمبر: 4417 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِيصَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُسْرَةَ، قَالَ: كَانَ يَعْلَى يَقُولُ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ أَعْمَالِي عِنْدِي، قَالَ عَطَاءٌ: فَقَالَ صَفْوَانُ: قَالَ يَعْلَى: فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ، قَالَ عَطَاءٌ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ فَنَسِيتُهُ، قَالَ: فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، قَالَ عَطَاءٌ: وَحَسِبْتُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَأَنَّهَا فِي فِي فَحْلٍ يَقْضَمُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے، (جب کعب (رض) نابینا ہوگئے تو ان کے لڑکوں میں وہ ہی کعب (رض) کو راستے میں پکڑ کر چلا کرتے تھے) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب (رض) سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوسکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ تبوک کے سوا اور کسی غزوہ میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک نہ ہوا ہوں۔ البتہ غزوہ بدر میں بھی شریک نہیں ہوا تھا لیکن جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، ان کے متعلق نبی کریم ﷺ نے کسی قسم کی خفگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا کیونکہ آپ ﷺ اس موقع پر صرف قریش کے قافلے کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی پہلی تیاری کے بغیر، آپ کی دشمنوں سے ٹکر ہوگئی اور میں لیلہ عقبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ یہ وہی رات ہے جس میں ہم نے (مکہ میں) اسلام کے لیے عہد کیا تھا اور مجھے تو یہ غزوہ بدر سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگرچہ بدر کا لوگوں کی زبانوں پر چرچہ زیادہ ہے۔ میرا واقعہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں کبھی اتنا قوی اور اتنا صاحب مال نہیں ہوا تھا جتنا اس موقع پر تھا۔ جبکہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تبوک کے غزوے میں شریک نہیں ہوسکا تھا۔ اللہ کی قسم ! اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو اونٹ جمع نہیں ہوئے تھے لیکن اس موقع پر میرے پاس دو اونٹ موجود تھے۔ نبی کریم ﷺ جب کبھی کسی غزوے کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ اس کے لیے ذومعنی الفاظ استعمال کیا کرتے تھے لیکن اس غزوہ کا جب موقع آیا تو گرمی بڑی سخت تھی، سفر بھی بہت لمبا تھا، بیابانی راستہ اور دشمن کی فوج کی کثرت تعداد ! تمام مشکلات سامنے تھیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں سے اس غزوہ کے متعلق بہت تفصیل کے ساتھ بتادیا تھا تاکہ اس کے مطابق پوری طرح سے تیاری کرلیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس سمت کی بھی نشاندہی کردی جدھر سے آپ کا جانے کا ارادہ تھا۔ مسلمان بھی آپ ﷺ کے ساتھ بہت تھے۔ اتنے کہ کسی رجسٹر میں سب کے ناموں کا لکھنا بھی مشکل تھا۔ کعب (رض) نے بیان کیا کہ کوئی بھی شخص اگر اس غزوے میں شریک نہ ہونا چاہتا تو وہ یہ خیال کرسکتا تھا کہ اس کی غیر حاضری کا کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ سوا اس کے کہ اس کے متعلق وحی نازل ہو۔ نبی کریم ﷺ جب اس غزوہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو پھل پکنے کا زمانہ تھا اور سایہ میں بیٹھ کر لوگ آرام کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ بھی تیاریوں میں مصروف تھے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی۔ لیکن میں روزانہ سوچا کرتا تھا کہ کل سے میں بھی تیاری کروں گا اور اس طرح ہر روز اسے ٹالتا رہا۔ مجھے اس کا یقین تھا کہ میں تیاری کرلوں گا۔ مجھے آسانیاں میسر ہیں، یوں ہی وقت گزرتا رہا اور آخر لوگوں نے اپنی تیاریاں مکمل بھی کرلیں اور نبی کریم ﷺ مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ بھی ہوگئے۔ اس وقت تک میں نے تیاری نہیں کی تھی۔ اس موقع پر بھی میں نے اپنے دل کو یہی کہہ کر سمجھا لیا کہ کل یا پرسوں تک تیاری کرلوں گا اور پھر لشکر سے جا ملوں گا۔ کوچ کے بعد دوسرے دن میں نے تیاری کے لیے سوچا لیکن اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ پھر تیسرے دن کے لیے سوچا اور اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ یوں ہی وقت گزر گیا اور اسلامی لشکر بہت آگے بڑھ گیا۔ غزوہ میں شرکت میرے لیے بہت دور کی بات ہوگئی اور میں یہی ارادہ کرتا رہا کہ یہاں سے چل کر انہیں پا لوں گا۔ کاش ! میں نے ایسا کرلیا ہوتا لیکن یہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔ نبی کریم ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر نکلتا تو مجھے بڑا رنج ہوتا کیونکہ یا تو وہ لوگ نظر آتے جن کے چہروں سے نفاق ٹپکتا تھا یا پھر وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور اور ضعیف قرار دے دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے میرے بارے میں کسی سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن جب آپ تبوک پہنچ گئے تو وہیں ایک مجلس میں آپ نے دریافت فرمایا کہ کعب نے کیا کیا ؟ بنو سلمہ کے ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اس کے غرور نے اسے آنے نہیں دیا۔ (وہ حسن و جمال یا لباس پر اترا کر رہ گیا) اس پر معاذ بن جبل (رض) بولے تم نے بری بات کہی۔ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہمیں ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا۔ کعب بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ واپس تشریف لا رہے ہیں تو اب مجھ پر فکر سوار ہوا اور میرا ذہن کوئی ایسا جھوٹا بہانہ تلاش کرنے لگا جس سے میں کل نبی کریم ﷺ کی خفگی سے بچ سکوں۔ اپنے گھر کے ہر عقلمند آدمی سے اس کے متعلق میں نے مشورہ لیا لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ سے بالکل قریب آ چکے ہیں تو غلط خیالات میرے ذہن سے نکل گئے اور مجھے یقین ہوگیا کہ اس معاملہ میں جھوٹ بول کر میں اپنے کو کسی طرح محفوظ نہیں کرسکتا۔ چناچہ میں نے سچی بات کہنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ صبح کے وقت نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ جب آپ کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہ آپ کی عادت تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے۔ جب آپ اس عمل سے فارغ ہوچکے تو آپ کی خدمت میں لوگ آنے لگے جو غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور قسم کھا کھا کر اپنے عذر بیان کرنے لگے۔ ایسے لوگوں کی تعداد اسی کے قریب تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے ظاہر کو قبول فرما لیا، ان سے عہد لیا۔ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کیا۔ اس کے بعد میں حاضر ہوا۔ میں نے سلام کیا تو آپ مسکرائے۔ آپ کی مسکراہٹ میں خفگی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : آؤ، میں چند قدم چل کر آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم غزوہ میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔ کیا تم نے کوئی سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے عرض کیا، میرے پاس سواری موجود تھی۔ اللہ کی قسم ! اگر میں آپ ﷺ کے سوا کسی دنیادار شخص کے سامنے آج بیٹھا ہوتا تو کوئی نہ کوئی عذر گھڑ کر اس کی خفگی سے بچ سکتا تھا، مجھے خوبصورتی کے ساتھ گفتگو کا سلیقہ معلوم ہے۔ لیکن اللہ کی قسم ! مجھے یقین ہے کہ اگر آج میں آپ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بیان کر کے آپ کو راضی کرلوں تو بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا۔ اس کے بجائے اگر میں آپ ﷺ سے سچی بات بیان کر دوں تو یقیناً آپ کو میری طرف سے خفگی ہوگی لیکن اللہ سے مجھے معافی کی پوری امید ہے۔ نہیں، اللہ کی قسم ! مجھے کوئی عذر نہیں تھا، اللہ کی قسم اس وقت سے پہلے کبھی میں اتنا فارغ البال نہیں تھا اور پھر بھی میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوسکا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے سچی بات بتادی۔ اچھا اب جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں خود کوئی فیصلہ کر دے۔ میں اٹھ گیا اور میرے پیچھے بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی دوڑے ہوئے آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! ہمیں تمہارے متعلق یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ کیا ہے اور تم نے بڑی کوتاہی کی۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے ویسا ہی کوئی عذر نہیں بیان کیا جیسا دوسرے نہ شریک ہونے والوں نے بیان کردیا تھا۔ تمہارے گناہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ہی کافی ہوجاتا۔ اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے مجھے اس پر اتنی ملامت کی کہ مجھے خیال آیا کہ واپس جا کر نبی کریم ﷺ سے کوئی جھوٹا عذر کر آؤں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کیا میرے علاوہ کسی اور نے بھی مجھ جیسا عذر بیان کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں دو حضرات نے اسی طرح معذرت کی جس طرح تم نے کی ہے اور انہیں جواب بھی وہی ملا ہے جو تمہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ ان کے نام کیا ہیں ؟ انہوں نے بتا کیا کہ مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دو ایسے صحابہ کا نام انہوں نے لے دیا تھا جو صالح تھے اور بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا طرز عمل میرے لیے نمونہ بن گیا۔ چناچہ انہوں نے جب ان بزرگوں کا نام لیا تو میں اپنے گھر چلا آیا اور نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کردی، بہت سے لوگ جو غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے، ان میں سے صرف ہم تین تھے ! لوگ ہم سے الگ رہنے لگے اور سب لوگ بدل گئے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ ہم سے ساری دنیا بدل گئی ہے۔ ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ پچاس دن تک ہم اسی طرح رہے، میرے دو ساتھیوں نے تو اپنے گھروں سے نکلنا ہی چھوڑ دیا، بس روتے رہتے تھے لیکن میرے اندر ہمت تھی کہ میں باہر نکلتا تھا، مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھوما کرتا تھا لیکن مجھ سے بولتا کوئی نہ تھا۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھی حاضر ہوتا تھا، آپ کو سلام کرتا، جب آپ نماز کے بعد مجلس میں بیٹھتے، میں اس کی جستجو میں لگا رہتا تھا کہ دیکھوں سلام کے جواب میں نبی کریم ﷺ کے مبارک ہونٹ ہلے یا نہیں، پھر آپ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگ جاتا اور آپ کو کنکھیوں سے دیکھتا رہتا جب میں اپنی نماز میں مشغول ہوجاتا تو نبی کریم ﷺ میری طرف دیکھتے لیکن جونہی میں آپ کی طرف دیکھتا آپ رخ مبارک پھیر لیتے۔ آخر جب اس طرح لوگوں کی بےرخی بڑھتی ہی گئی تو میں (ایک دن) ابوقتادہ (رض) کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے اور مجھے ان سے بہت گہرا تعلق تھا، میں نے انہیں سلام کیا، لیکن اللہ کی قسم ! انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا، ابوقتادہ ! تمہیں اللہ کی قسم ! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ اور اس کے رسول سے مجھے کتنی محبت ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اللہ کی قسم دے کر لیکن اب بھی وہ خاموش تھے، پھر میں نے اللہ کا واسطہ دے کر ان سے یہی سوال کیا۔ اس مرتبہ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اس پر میرے آنسو پھوٹ پڑے۔ میں واپس چلا آیا اور دیوار پر چڑھ کر (نیچے، باہر اتر آیا) انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن میں مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ شام کا ایک کاشتکار جو غلہ بیچنے مدینہ آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ کعب بن مالک کہاں رہتے ہیں ؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تو وہ میرے پاس آیا اور ملک غسان کا ایک خط مجھے دیا، اس خط میں یہ تحریر تھا۔ امابعد ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے صاحب (یعنی نبی کریم ﷺ ) تمہارے ساتھ زیادتی کرنے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی ذلیل نہیں پیدا کیا ہے کہ تمہارا حق ضائع کیا جائے، تم ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہارے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کریں گے۔ جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک اور امتحان آگیا۔ میں نے اس خط کو تنور میں جلا دیا۔ ان پچاس دنوں میں سے جب چالیس دن گزر چکے تو رسول اللہ ﷺ کے ایلچی میرے پاس آئے اور کہا کہ نبی کریم ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی کے بھی قریب نہ جاؤ۔ میں نے پوچھا میں اسے طلاق دے دوں یا پھر مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ انہوں نے بتایا کہ نہیں صرف ان سے جدا ہو، ان کے قریب نہ جاؤ میرے دونوں ساتھیوں کو (جنہوں نے میری طرح معذرت کی تھی) بھی یہی حکم آپ نے بھیجا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب اپنے میکے چلی جاؤ اور اس وقت تک وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا کوئی فیصلہ نہ کر دے۔ کعب (رض) نے بیان کیا کہ ہلال بن امیہ (جن کا مقاطعہ ہوا تھا) کی بیوی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہلال بن امیہ بہت ہی بوڑھے اور کمزور ہیں، ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ہے، کیا اگر میں ان کی خدمت کردیا کروں تو آپ ناپسند فرمائیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صرف وہ تم سے صحبت نہ کریں۔ انہوں نے عرض کی۔ اللہ کی قسم ! وہ تو کسی چیز کے لیے حرکت بھی نہیں کرسکتے۔ جب سے یہ خفگی ان پر ہوئی ہے وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ان کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے۔ میرے گھر کے بعض لوگوں نے کہا کہ جس طرح ہلال بن امیہ (رض) کی بیوی کو ان کی خدمت کرتے رہنے کی اجازت نبی کریم ﷺ نے دے دی ہے، آپ بھی اسی طرح کی اجازت نبی کریم ﷺ سے لے لیجئے۔ میں نے کہا نہیں، اللہ کی قسم ! میں اس کے لیے نبی کریم ﷺ سے اجازت نہیں لوں گا، میں جوان ہوں، معلوم نہیں جب سے اجازت لینے جاؤں تو نبی کریم ﷺ کیا فرمائیں۔ اس طرح دس دن اور گزر گئے اور جب سے نبی کریم ﷺ نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت فرمائی تھی اس کے پچاس دن پورے ہوگئے۔ پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ چکا اور اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا، اس طرح جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، میرا دم گھٹا جا رہا تھا اور زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود میرے لیے تنگ ہوتی جا رہی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا، اے کعب بن مالک ! تمہیں بشارت ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی میں سجدے میں گرپڑا اور مجھے یقین ہوگیا کہ اب فراخی ہوجائے گی۔ فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کردیا تھا۔ لوگ میرے یہاں بشارت دینے کے لیے آنے لگے اور میرے دو ساتھیوں کو بھی جا کر بشارت دی۔ ایک صاحب (زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) اپنا گھوڑا دوڑائے آ رہے تھے، ادھر قبیلہ اسلم کے ایک صحابی نے پہاڑی پر چڑھ کر (آواز دی) اور آواز گھوڑے سے زیادہ تیز تھی۔ جن صحابی نے (سلع پہاڑی پر سے) آواز دی تھی، جب وہ میرے پاس بشارت دینے آئے تو اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس بشارت کی خوشی میں، میں نے انہیں دے دئیے۔ اللہ کی قسم کہ اس وقت ان دو کپڑوں کے سوا (دینے کے لائق) اور میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔ پھر میں نے (ابوقتادہ (رض) سے) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جوق در جوق لوگ مجھ سے ملاقات کرتے جاتے تھے اور مجھے توبہ کی قبولیت پر بشارت دیتے جاتے تھے، کہتے تھے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ کعب (رض) نے بیان کیا، آخر میں مسجد میں داخل ہوا نبی کریم ﷺ تشریف رکھتے تھے۔ چاروں طرف صحابہ کا مجمع تھا۔ طلحہ بن عبیداللہ (رض) دوڑ کر میری طرف بڑھے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم ! (وہاں موجود) مہاجرین میں سے کوئی بھی ان کے سوا، میرے آنے پر کھڑا نہیں ہوا۔ طلحہ (رض) کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ کعب (رض) نے بیان کیا کہ جب میں نبی کریم ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا : (چہرہ مبارک خوشی اور مسرت دمک اٹھا تھا) اس مبارک دن کے لیے تمہیں بشارت ہو جو تمہاری عمر کا سب سے مبارک دن ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نبی کریم ﷺ جب کسی بات پر خوش ہوتے تو چہرہ مبارک روشن ہوجاتا تھا، ایسا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ کی مسرت ہم تو چہرہ مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔ پھر جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں، میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لیکن کچھ مال اپنے پاس بھی رکھ لو، یہ زیادہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لوں گا۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی۔ اب میں اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا سچ کے سوا اور کوئی بات زبان پر نہ لاؤں گا۔ پس اللہ کی قسم ! جب سے میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے یہ عہد کیا، میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے اتنا نوازا ہو، جتنی نوازشات اس کی مجھ پر سچ بولنے کی وجہ سے ہیں۔ جب سے میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے یہ عہد کیا، پھر آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت (ہمارے بارے میں) نازل کی تھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی، مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول کی اس کے ارشاد وکونوا مع الصادقين تک اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے لیے ہدایت کے بعد، میری نظر میں نبی کریم ﷺ کے سامنے اس سچ بولنے سے بڑھ کر اللہ کا مجھ پر اور کوئی انعام نہیں ہوا کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا اور اس طرح اپنے کو ہلاک نہیں کیا۔ جیسا کہ جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوگئے تھے۔ نزول وحی کے زمانہ میں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے اتنی شدید وعید فرمائی جتنی شدید کسی دوسرے کے لیے نہیں فرمائی ہوگی۔ فرمایا ہے سيحلفون بالله لکم إذا انقلبتم ارشاد فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين تک۔ کعب (رض) نے بیان کیا۔ چناچہ ہم تین، ان لوگوں کے معاملے سے جدا رہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے قسم کھالی تھی اور آپ نے ان کی بات مان بھی لی تھی، ان سے بیعت بھی لی تھی اور ان کے لیے طلب مغفرت بھی فرمائی تھی۔ ہمارا معاملہ نبی کریم ﷺ نے چھوڑ دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد وعلى الثلاثة الذين خلفوا سے یہی مراد ہے کہ ہمارا مقدمہ ملتوی رکھا گیا اور ہم ڈھیل میں ڈال دئیے گئے۔ یہ نہیں مراد ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے رہے جنہوں نے قسمیں کھا کر اپنے عذر بیان کئے اور نبی کریم ﷺ نے ان کے عذر قبول کرلیے۔
حدیث نمبر: 4418 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ تَبُوكَ، قَالَ كَعْبٌ: لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا كَانَ مِنْ خَبَرِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، وَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا، وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرٌ، وَلَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ يُرِيدُ الدِّيوَانَ، قَالَ كَعْبٌ: فَمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلَّا ظَنَّ أَنْ سَيَخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيُ اللَّهِ، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلَالُ، وَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ، فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: أَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا، فَقُلْتُ: أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ، فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ، فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيهِمْ أَحْزَنَنِي أَنِّي لَا أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ النِّفَاقُ، أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ: مَا فَعَلَ كَعْبٌ ؟فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَوَجَّهَ قَافِلًا حَضَرَنِي هَمِّي وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا ؟ وَاسْتَعَنْتُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي، فَلَمَّا قِيلَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا، زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ أَبَدًا بِشَيْءٍ فِيهِ كَذِبٌ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ، وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَيَرْكَعُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ، فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ، وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَجِئْتُهُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالَ، فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي: مَا خَلَّفَكَ ؟ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ ؟، فَقُلْتُ: بَلَى، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ، وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَيَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي مِنْ عُذْرٍ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ، فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لَا تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ الْمُتَخَلِّفُونَ، قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ، فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ: هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ ؟ قَالُوا: نَعَمْ رَجُلَانِ، قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ، فَقِيلَ لَهُمَا: مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمَا، قَالُوا: مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيُّ، وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ، فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ، فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ، فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي الْأَرْضُ، فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ، وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ عَلَيَّ أَمْ لَا ؟ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ، فَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلَاتِي أَقْبَلَ إِلَيَّ، وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا قَتَادَةَ، أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ، فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّأْمِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ، يَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ؟ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ إِلَيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ فَإِذَا فِيهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ، فَقُلْتُ: لَمَّا قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلَاءِ، فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلَا تَقْرَبْهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَتَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ كَعْبٌ: فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا يَقْرَبْكِ، قَالَتْ: إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَيْءٍ، وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي: لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يُدْرِينِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتَّى كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، أَبْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا بِبُشْرَاهُ، وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنُّونِي بِالتَّوْبَةِ، يَقُولُونَ: لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ كَعْبٌ: حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ وَلَا أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ، قَالَ كَعْبٌ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ: أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ، قَالَ: قُلْتُ: أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلَاهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيتُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ إِلَى قَوْلِهِ: وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ سورة التوبة آية 117 - 119، فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْيَ شَرَّ مَا قَالَ لِأَحَدٍ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ: فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ سورة التوبة آية 95 - 96، قَالَ كَعْبٌ: وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا لَهُ فَبَايَعَهُمْ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ: وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا سورة التوبة آية 118 وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا عَنِ الْغَزْوِ إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بستی حجر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا۔
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مقام حجر سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کی بستیوں سے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جب گزرنا ہو تو روتے ہوئے ہی گزرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائے جو ان پر آیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سر مبارک پر چادر ڈال لی اور بڑی تیزی کے ساتھ چلنے لگے، یہاں تک کہ اس وادی سے نکل آئے۔
حدیث نمبر: 4419 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ، قَالَ: لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَجَازَ الْوَادِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بستی حجر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا کہ اس معذب قوم کی بستی سے جب تمہیں گزرنا ہی ہے تو تم روتے ہوئے گزرو، کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا۔
حدیث نمبر: 4420 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ: لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کے مقام حجر میں قیام فرمانے کا بیان
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تھے، پھر (جب آپ ﷺ فارغ ہو کر واپس آئے تو) آپ ﷺ کے وضو کے لیے میں پانی لے کر حاضر ہوا، جہاں تک مجھے یقین ہے انہوں نے یہی بیان کیا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے چہرہ مبارک دھویا اور جب کہنیوں تک دھونے کا ارادہ کیا تو جبہ کی آستین تنگ نکلی۔ چناچہ آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے اور انہیں دھویا، پھر موزوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 4421 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کے مقام حجر میں قیام فرمانے کا بیان
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابوحمید (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو (مدینہ کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا کہ یہ طابة ہے اور یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4422 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ کے مقام حجر میں قیام فرمانے کا بیان
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے قطع کیا وہ (اپنے دل سے) تمہارے ساتھ ساتھ تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگرچہ ان کا قیام اس وقت بھی مدینہ میں ہی رہا ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، وہ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی (اپنے دل سے تمہارے ساتھ تھے) وہ کسی عذر کی وجہ سے رک گئے تھے۔
حدیث نمبر: 4423 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَدَنَا مِنْ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کسریٰ (شاہ ایران) اور قیصر (شاہ روم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا۔
ہم سے اسحاق بن رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ( شاہ فارس) کسریٰ کے پاس اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی (رض) کو دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دے دیں (جو کسریٰ کا عالم تھا) کسریٰ نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 4424 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ، فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کسریٰ (شاہ ایران) اور قیصر (شاہ روم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا۔
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ (رض) نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے موقع پر وہ جملہ میرے کام آگیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔ میں ارادہ کرچکا تھا کہ اصحاب جمل، عائشہ (رض) اور آپ کے لشکر کے ساتھ شریک ہو کر (علی (رض) کی) فوج سے لڑوں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔
حدیث نمبر: 4425 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْجَمَلِ بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى، قَالَ: لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کسریٰ (شاہ ایران) اور قیصر (شاہ روم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سائب بن یزید (رض) سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے یاد ہے جب میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ ﷺ کا استقبال کرنے گیا تھا۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( مع الغلمان کے بجائے) مع الصبيان. بیان کیا۔
حدیث نمبر: 4426 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، يَقُولُ: أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً مَعَ الصِّبْيَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کسریٰ (شاہ ایران) اور قیصر (شاہ روم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید (رض) نے کہ مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 4427 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
وَقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: ""كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ""يَا عَائِشَةُ، مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے اور ان سے ام فضل بنت حارث (رض) نے بیان کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز میں والمرسلات عرفا کی قرآت کر رہے تھے، اس کے بعد پھر آپ نے ہمیں کبھی نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کرلی۔
حدیث نمبر: 4429 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عنهما، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1، ثُمَّ مَا صَلَّى لَنَا بَعْدَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ عمر (رض) آپ کو (مجالس میں) اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف (رض) نے اعتراض کیا کہ اس جیسے تو ہمارے بچے ہیں۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے یہ طرز عمل جس وجہ سے اختیار کیا، وہ آپ کو معلوم بھی ہے ؟ پھر عمر (رض) نے ابن عباس (رض) سے اس آیت (یعنی) إذا جاء نصر الله والفتح کے متعلق پوچھا۔ ابن عباس (رض) نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی وفات تھی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے (آیت میں) اسی کی اطلاع دی ہے۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ جو تم نے بتایا وہی میں بھی اس آیت کے متعلق جانتا ہوں۔
حدیث نمبر: 4430 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ، فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، فَقَالَ: أَجَلُ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ.
তাহকীক: