আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৪৩৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا بن اسحاق نے، انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، انہیں ابن عباس (رض) کے غلام ابومعبد نافذ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل (رض) کو یمن کا (حاکم بنا کر بھیجتے وقت انہیں) ہدایت فرمائی تھی کہ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی وغیرہ میں سے ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اس میں وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے روزانہ ان پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، جب یہ بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ کو بھی فرض کیا ہے، جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائے گی اور انہیں کے غریبوں میں تقسیم کردی جائے گی۔ جب یہ بھی مان جائیں تو (پھر زکوٰۃ وصول کرتے وقت) ان کا سب سے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی آہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ سورة المائدہ میں جو طوعت‏ کا لفظ آیا ہے اس کا وہی معنی ہے جو طاعت اور أطاعت کا ہے جیسے کہتے ہیں طعت وطعت وأطعت‏.‏ سب کا معنی ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 4347 حَدَّثَنِي حِبَّانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ:‏‏‏‏ إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا جِئْتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ طَوَّعَتْ طَاعَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطَاعَتْ لُغَةٌ طِعْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَطُعْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطَعْتُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ (رض) نے بیان کیا کہ جب وہ یمن پہنچے تو یمن والوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور نماز میں آیت واتخذ الله إبراهيم خليلا‏ کی قرآت کی تو ان میں سے ایک صاحب (نماز ہی میں) بولے کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی ہوگی۔ معاذ بن معاذ بغوی نے شعبہ سے، انہوں نے حبیب سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے اس حدیث میں صرف اتنا بڑھایا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا وہاں انہوں نے صبح کی نماز میں سورة نساء پڑھی جب اس آیت پر پہنچے واتخذ الله إبراهيم خليلا‏ تو ایک صاحب جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی ہوگی۔
حدیث نمبر: 4348 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ:‏‏‏‏ أَنَّمُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَ:‏‏‏‏ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ مُعَاذٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ سُورَةَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ:‏‏‏‏ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خالد بن ولید (رض) کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی (رض) کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء (رض) کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔
حدیث نمبر: 4349 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِيأَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،‏‏‏‏سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ، ‏‏‏‏‏‏فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے خالد بن ولید (رض) کی جگہ علی (رض) کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی (رض) سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد (رض) سے کہا تم دیکھتے ہو علی (رض) نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا (بریدہ) کیا تمہیں علی (رض) کی طرف سے بغض ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
حدیث نمبر: 4350 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِخَالِدٍ:‏‏‏‏ أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا بُرَيْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُبْغِضْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری (رض) سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کردیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل (رض) تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر، کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں ؟ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد (رض) نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر نبی کریم ﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔
حدیث نمبر: 4351 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ الْخَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ؟قَالَ:‏‏‏‏ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، ‏‏‏‏‏‏كَثُّ اللِّحْيَةِ، ‏‏‏‏‏‏مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، ‏‏‏‏‏‏مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اتَّقِ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيْلَكَ، ‏‏‏‏‏‏أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَظُنُّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے علی (رض) سے (جب وہ یمن سے مکہ آئے) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر (رض) نے کہا علی (رض) اپنی ولایت (یمن) سے آئے تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ علی ! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے ؟ عرض کیا کہ جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو۔ فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے، اسی کے مطابق عمل کرو۔ بیان کیا کہ علی (رض) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔
حدیث نمبر: 4352 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ أَمَر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِسِعَايَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ؟قَالَ:‏‏‏‏ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے ذکر کیا کہ انس (رض) نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر ہم جب مکہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کرلے (اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے) اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ پھر علی بن ابی طالب (رض) یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح احرام باندھا ہے ؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسی طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ ﷺ نے باندھا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اپنے احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔
حدیث نمبر: 4353 - 4354 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَكْرٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ:‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ الْيَمَنِ حَاجًّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِمَ أَهْلَلْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ؟قَالَ:‏‏‏‏ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَمْسِكْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ ذوالخلصہ کا بیان۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی (رض) نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے ! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چناچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 4355 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَيَانٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ ذُو الْخَلَصَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكَعْبَةُ الْيَمانِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَفَرْتُ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ رَاكِبًا فَكَسَرْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ ذوالخلصہ کا بیان۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعد قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے ذوالخلصہ سے کیوں نہیں بےفکر کرتے ؟ یہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا۔ اسے کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے۔ چناچہ میں ڈیڑھ سو قبیلہ احمس کے سواروں کو لے کر روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے شہسوار تھے۔ مگر میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کرسکتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپ کی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا۔ پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! اسے گھوڑے کا اچھا سوار بنا دے اور اسے راستہ بتلانے والا اور خود راستہ پایا ہوا بنا دے۔ پھر وہ اس بت خانے کی طرف روانہ ہوئے اور اسے ڈھا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اطلاع بھیجی۔ جریر کے ایلچی نے آ کر عرض کیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نہیں چلا جب تک وہ خارش زدہ اونٹ کی طرح جل کر (سیاہ) نہیں ہوگیا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 4356 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَيْسٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي جَرِيرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ الْيَمانِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَحَرَّقَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ ذوالخلصہ کا بیان۔
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی ابواسامہ نے، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی (رض) نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے ! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چناچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ ! اسے اچھا سوار بنا دے اور اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا دے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس کے بعد میں کبھی کسی گھوڑے سے نہیں گرا۔ راوی نے بیان کیا کہ ذوالخلصہ ایک (بت خانہ) تھا، یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا، اس میں بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اور اسے کعبہ بھی کہتے تھے۔ بیان کیا کہ پھر جریر وہاں پہنچے اور اسے آگ لگا دی اور منہدم کردیا۔ بیان کیا کہ جب جریر (رض) یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال نکالا کرتا تھا۔ اس سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے ایلچی یہاں آگئے ہیں۔ اگر انہوں نے تمہیں پا لیا تو تمہاری گردن مار دیں گے۔ بیان کیا کہ ابھی وہ فال نکال ہی رہے تھے کہ جریر (رض) وہاں پہنچ گئے۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ یہ فال کے تیر توڑ کر کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا۔ راوی نے بیان کیا اس شخص نے تیر وغیرہ توڑ ڈالے اور کلمہ ایمان کی گواہی دی۔ اس کے بعد جریر (رض) نے قبیلہ احمس کے ایک صحابی ابوارطاط (رض) نامی کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا جب وہ خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اس وقت تک نہیں چلا جب تک اس بت کدہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح جلا کر سیاہ نہیں کردیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 4357 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟فَقُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ وَبَجِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الْكَعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَا هُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَتَكْسِرَنَّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ ذات السلاسل کا بیان۔
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں ابوعثمان نہدی (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن العاص (رض) کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص (رض) نے بیان کیا کہ (غزوہ سے واپس آ کر) میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے ؟ فرمایا کہ عائشہ، میں نے پوچھا اور مردوں میں ؟ فرمایا کہ اس کے والد، میں نے پوچھا، اس کے بعد کون ؟ فرمایا کہ عمر۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہوگیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کردیں۔
حدیث نمبر: 4358 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ:‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُوهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا یمن کی طرف جانا۔
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ عبسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی (رض) نے بیان کیا کہ (یمن سے واپسی پر مدینہ آنے کے لیے) میں دریا کے راستے سے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت یمن کے دو آدمیوں ذوکلاع اور ذوعمرو سے میری ملاقات ہوئی میں ان سے نبی کریم ﷺ کی باتیں کرنے لگا اس پر ذوعمرو نے کہا : اگر تمہارے صاحب (یعنی نبی کریم ﷺ ) وہی ہیں جن کا ذکر تم کر رہے ہو تو ان کی وفات کو بھی تین دن گزر چکے۔ یہ دونوں میرے ساتھ ہی (مدینہ) کی طرف چل رہے تھے۔ راستے میں ہمیں مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے کچھ سوار دکھائی دئیے، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ نبی کریم ﷺ وفات پا گئے ہیں۔ آپ کے خلیفہ ابوبکر (رض) منتخب ہوئے ہیں اور لوگ اب بھی سب خیریت سے ہیں۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ اپنے صاحب (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے کہنا کہ ہم آئے تھے اور انشاء اللہ پھر مدینہ آئیں گے یہ کہہ کر دونوں یمن کی طرف واپس چلے گئے۔ پھر میں نے ابوبکر (رض) کو ان کی باتوں کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ پھر انہیں اپنے ساتھ لائے کیوں نہیں ؟ بہت دنوں بعد خلافت عمری میں ذوعمرو نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ جریر ! تمہارا مجھ پر احسان ہے اور تمہیں میں ایک بات بتاؤں گا کہ تم اہل عرب اس وقت تک خیر و بھلائی کے ساتھ رہو گے جب تک تمہارا طرز عمل یہ ہوگا کہ جب تمہارا کوئی امیر وفات پا جائے گا تو تم اپنا کوئی دوسرا امیر منتخب کرلیا کرو گے۔ لیکن جب (امارت کے لیے) تلوار تک بات پہنچ جائے تو تمہارے امیر بادشاہ بن جائیں گے۔ بادشاہوں کی طرح غصہ ہوا کریں گے اور انہیں کی طرح خوش ہوا کریں گے۔
حدیث نمبر: 4359 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ بِالْيَمَنِ فَلَقِيتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ:‏‏‏‏ ذَا كَلَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَذَا عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ ذُو عَمْرٍو:‏‏‏‏ لَئِنْ كَانَ الَّذِي تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ صَاحِبِكَ لَقَدْ مَرَّ عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْبَلَا مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْنَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَا:‏‏‏‏ أَخْبِرْ صَاحِبَكَ أَنَّا قَدْ جِئْنَا وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجَعَا إِلَى الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرٍ بِحَدِيثِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَلَا جِئْتَ بِهِمْ ؟فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِي ذُو عَمْرٍو:‏‏‏‏ يَا جَرِيرُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ بِكَ عَلَيَّ كَرَامَةً، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي مُخْبِرُكَ خَبَرًا:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا كُنْتُمْ إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ كَانُوا مُلُوكًا يَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ سیف البحر کا بیان۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے وہیب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ساحل سمندر کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو بنایا۔ اس میں تین سو آدمی شریک تھے۔ خیر ہم مدینہ سے روانہ ہوئے اور ابھی راستے ہی میں تھے کہ راشن ختم ہوگیا، جو کچھ بچ رہا تھا وہ ابوعبیدہ (رض) ہمیں روزانہ تھوڑا تھوڑا اسی میں سے کھانے کو دیتے رہے۔ آخر جب یہ بھی ختم کے قریب پہنچ گیا تو ہمارے حصے میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی۔ وہب نے کہا میں نے جابر (رض) سے پوچھا کہ ایک کھجور سے کیا ہوتا رہا ہوگا ؟ جابر (رض) نے کہا وہ ایک کھجور ہی غنیمت تھی۔ جب وہ بھی نہ رہی تو ہم کو اس کی قدر معلوم ہوئی تھی، آخر ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی نکل کر پڑی ہے۔ اس مچھلی کو سارا لشکر اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا۔ بعد میں ابوعبیدہ (رض) کے حکم سے اس کی پسلی کی دو ہڈیاں کھڑی کی گئیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا وہ ان کے تلے سے نکل گیا اور ہڈیوں کو بالکل نہیں لگا۔
حدیث نمبر: 4360 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَجُمِعَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلٌ قَلِيلٌ حَتَّى فَنِيَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ مِنْهَا الْقَوْمُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ سیف البحر کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو بن دینار سے جو یاد کیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو بنایا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلہ تجارت کی تلاش میں رہیں۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں (اس سفر میں) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گذارا۔ اسی لیے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہوگیا۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا، اس کا نام عنبر تھا، ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر (اپنے جسموں پر) ملا۔ اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی۔ بعد میں ابوعبیدہ (رض) نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے، انہیں اس کے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا کہ ایک پسلی نکال کر کھڑی کردی اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرایا وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔ جابر (رض) نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین اونٹ ذبح کئے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کئے تو ابوعبیدہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کردیتے تو سفر کیسے ہوتا اور عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ہم کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ قیس بن سعد (رض) نے (واپس آ کر) اپنے والد (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میں بھی لشکر میں تھا جب لوگوں کو بھوک لگی تو ابوعبیدہ (رض) نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، قیس بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے ذبح کردیا کہا کہ پھر بھوکے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، بیان کیا کہ جب پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، پھر قیس (رض) نے بیان کیا کہ اس مرتبہ مجھے امیر لشکر کی طرف سے منع کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 4361 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، ‏‏‏‏‏‏فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ الْعَنْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:‏‏‏‏ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِأَبِيهِ:‏‏‏‏ كُنْتُ فِي الْجَيْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاعُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْحَرْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَحَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ جَاعُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْحَرْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَحَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ جَاعُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْحَرْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَحَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاعُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْحَرْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نُهِيتُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ سیف البحر کا بیان۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریر نے بیان کیا، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم پتوں کی فوج میں شریک تھے۔ ابوعبیدہ (رض) ہمارے امیر تھے۔ پھر ہمیں شدت سے بھوک لگی، آخر سمندر نے ایک ایسی مردہ مچھلی باہر پھینکی کہ ہم نے ویسی مچھلی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے عنبر کہتے تھے۔ وہ مچھلی ہم نے پندرہ دن تک کھائی۔ پھر ابوعبیدہ (رض) نے اس کی ہڈی کھڑی کروا دی تو اونٹ کا سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ (ابن جریر نے بیان کیا کہ) پھر مجھے ابو الزبیر نے خبر دی اور انہوں نے جابر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوعبیدہ (رض) نے کہا اس مچھلی کو کھاؤ پھر جب ہم مدینہ لوٹ کر آئے تو ہم نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ روزی کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجی ہے۔ اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچی ہو تو مجھے بھی کھلاؤ۔ چناچہ ایک آدمی نے اس کا گوشت لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے بھی اسے تناول فرمایا۔
حدیث نمبر: 4362 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الْعَنْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ:‏‏‏‏ كُلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ ھ میں حج کرنا۔
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہ ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ابوبکر (رض) کو حجۃ الوداع سے پہلے جس حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس میں ابوبکر (رض) نے مجھے کئی آدمیوں کے ساتھ قربانی کے دن (منیٰ ) میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک (بیت اللہ) کا حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرے۔
حدیث نمبر: 4363 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ:‏‏‏‏ لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ ھ میں حج کرنا۔
مجھ سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب (رض) نے بیان کیا کہ سب سے آخری سورة جو پوری اتری وہ سورة برات (توبہ) تھی اور آخری آیت جو اتری وہ سورة نساء کی یہ آیت ہے يستفتونک قل الله يفتيكم في الکلالة‏۔
حدیث نمبر: 4364 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ كَامِلَةً بَرَاءَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ:‏‏‏‏ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بنی تمیم کے وفد کا بیان۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ان سے ابوصخرہ نے، ان سے صفوان بن محرز مازنی نے اور ان سے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ بنو تمیم کے چند لوگوں کا (ایک وفد) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم ! بشارت قبول کرو۔ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے، کچھ مال بھی دیجئیے۔ ان کے اس جواب پر نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کا اثر دیکھا گیا، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک (وفد) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی، تم قبول کرلو۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم کو بشارت قبول ہے۔
حدیث نمبر: 4365 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْبَلُوا الْبُشْرَى، ‏‏‏‏‏‏إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن اسحاق کہتے ہیں عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر کو آنحضرت ﷺ نے بنو تمیم کی شاخ بنو عنبر سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے شبخون مار کر مردوں کو تہ و تیغ کر کے ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا۔
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ میں اس وقت سے ہمیشہ بنو تمیم سے محبت رکھتا ہوں جب سے نبی کریم ﷺ کی زبانی ان کی تین خوبیاں میں نے سنی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ بنو تمیم دجال کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے اور بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون عائشہ (رض) کے پاس تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اور ان کے یہاں سے زکوٰۃ وصول ہو کر آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک قوم کی یا (یہ فرمایا کہ) یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے۔
حدیث نمبر: 4366 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ:‏‏‏‏ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَعْتِقِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ أَوْ قَوْمِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن اسحاق کہتے ہیں عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر کو آنحضرت ﷺ نے بنو تمیم کی شاخ بنو عنبر سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے شبخون مار کر مردوں کو تہ و تیغ کر کے ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا۔
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں عبداللہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ بنو تمیم کے چند سوار نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارا کوئی امیر منتخب کر دیجئیے۔ ابوبکر (رض) نے کہا کہ قعقاع بن معبد بن زرارہ (رض) کو امیر منتخب کر دیجئیے۔ عمر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! بلکہ آپ اقرع بن حابس (رض) کو ان کا امیر منتخب فرما دیجئیے۔ اس پر ابوبکر (رض) نے عمر (رض) سے کہا کہ تمہارا مقصد صرف مجھ سے اختلاف کرنا ہے۔ عمر (رض) نے کہا کہ نہیں میری غرض مخالفت کی نہیں ہے۔ دونوں اتنا جھگڑے کی آواز بلند ہوگئی۔ اسی پر سورة الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا‏ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 4367 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُم:‏‏‏‏ أَنَّهُ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ بَلْ أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا سورة الحجرات آية 1 حَتَّى انْقَضَتْ.
tahqiq

তাহকীক: