আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮৬ টি
হাদীস নং: ২৮৮৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے؟
ہم سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اشرفی کا بندہ، روپے کا بندہ، چادر کا بندہ، کمبل کا بندہ ہلاک ہوا کہ اگر اسے کچھ دے دیا جائے تب تو خوش ہوجاتا ہے اور اگر نہیں دیا جائے تو ناراض ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کو اسرائیل اور محمد بن جہادہ نے ابوحصین سے مرفوع نہیں کیا۔ اور عمرو ابن مرزوق نے ہم سے بڑھا کر بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے خبر دی، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا، اگر اس کو کچھ دیا جائے تب تو خوش جب نہ دیا جائے تو غصہ ہوجائے، ایسا شخص تباہ سرنگوں ہوا۔ اس کو کانٹا لگے تو اللہ کرے پھر نہ نکلے۔ مبارک کا مستحق ہے وہ بندہ جو اللہ کے راستے میں (غزوہ کے موقع پر) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں، اگر اسے چوکی پہرے پر لگا دیا جائے تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے (دیکھ بھال کے لیے) لگا دیا جائے تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے۔ (اگرچہ زندگی میں غربت کی وجہ سے اس کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو کہ) اگر وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اسے اجازت بھی نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے ابوحصین سے یہ روایت مرفوعاً نہیں بیان کی ہے اور کہا کہ قرآن مجید میں جو لفظ تعسا آیا ہے گویا یوں کہنا چاہیے کہ فأتعسهم الله. (اللہ انہیں گرائے ہلاک کرے) طوبى فعلى کے وزن پر ہے ہر اچھی اور طیب چیز کے لیے۔ واو اصل میں یا تھا (طیبیٰ ) پھر یا کو واو سے بدل دیا گیا اور یہ طیب سے نکلا ہے۔
حدیث نمبر: 2886 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، وَالْقَطِيفَةِ، وَالْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ، لَمْ يَرْضَ، لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ . حدیث نمبر: 2887 وَزَادَنَا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ، وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْقَالَ: أَبُو عَبْدِ اللهِ لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، وَقَالَ: تَعْسًا كَأَنَّهُ يَقُولُ فَأَتْعَسَهُمُ اللَّهُ طُوبَى فُعْلَى مِنْ كُلِّ شَيْءٍ طَيِّبٍ وَهِيَ يَاءٌ حُوِّلَتْ إِلَى الْوَاوِ وَهِيَ مِنْ يَطِيبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن عبید نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ میں جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کے ساتھ تھا تو وہ میری خدمت کرتے تھے حالانکہ عمر میں وہ مجھ سے بڑے تھے، جریر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے ہر وقت انصار کو ایک ایسا کام کرتے دیکھا (رسول اللہ ﷺ کی خدمت) کہ جب ان میں سے کوئی مجھے ملتا ہے تو میں اس کی تعظیم و اکرام کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 2888 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَحِبْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يَخْدُمُنِي وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْ أَنَسٍ، قَالَ جَرِيرٌ : إِنِّي رَأَيْتُ الْأَنْصَارَ يَصْنَعُونَ شَيْئًا لَا، أَجِدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا أَكْرَمْتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৯
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کا، ان سے مطلب بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے اور انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر (غزوہ کے موقع پر) گیا، میں آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، پھر جب آپ ﷺ واپس ہوئے اور احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ اے اللہ ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا، اے اللہ ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔
حدیث نمبر: 2889 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَقُولُ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ أَخْدُمُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَبَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے سلیمان بن داود ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے، ان سے عاصم بن سلیمان نے، ان سے مورق عجلی نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے۔ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ موسم گرمی کا تھا، ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا، اپنا کمبل تان لیتا۔ خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کرسکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا (پانی پلایا) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی۔ اور (دوسرے تمام) کام کئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کرلے گئے۔
حدیث نمبر: 2890 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُنَا ظِلًّا الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَائِهِ، وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّكَابَ وَامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯১
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا۔
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھا اور پاک لفظ بھی (زبان سے نکالنا) صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور (کسی مسافر کو) راستہ بتادینا بھی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 2891 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ سُلَامَى عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ يُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ يُحَامِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَدَلُّ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯২
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ کے راستے میں سرحد پر ایک دن پہرہ دینا کتنا بڑا ثواب ہے۔
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنيا وما عليها سے بڑھ کر ہے جنت میں کسی کے لیے ایک کوڑے جتنی جگہ دنيا وما عليها سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو تو وہ دنيا وما عليها سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2892 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَالرَّوْحَةُ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْغَدْوَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৩
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے کہا، ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عمرو نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ابوطلحہ (رض) سے فرمایا کہ اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ میرے ساتھ کر دو جو خیبر کے غزوے میں میرے کام کردیا کرے، جب کہ میں خیبر کا سفر کروں۔ ابوطلحہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر مجھے (انس (رض) کو) لے گئے، میں اس وقت ابھی لڑکا تھا۔ بالغ ہونے کے قریب۔ جب بھی آپ ﷺ کہیں قیام فرماتے تو میں آپ ﷺ کی خدمت کرتا۔ اکثر میں سنتا کہ آپ ﷺ یہ دعا کرتے۔ اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے، آخر ہم خیبر پہنچے اور جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعہ پر آپ ﷺ کو فتح دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حی بن اخطب (رض) کے جمال (ظاہری و باطنی) کا ذکر کیا گیا ان کا شوہر (یہودی) لڑائی میں کام آگیا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں (اور چونکہ قبیلہ کے سردار کی لڑکی تھیں) اس لیے رسول اللہ ﷺ نے (ان کا اکرام کرنے کے لیے کہا) انہیں اپنے لیے پسند فرما لیا۔ پھر آپ ﷺ انہیں ساتھ لے کر وہاں سے چلے۔ جب ہم سدا الصبہاء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں، تو آپ ﷺ نے ان سے خلوت کی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے حیس (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا ایک کھانا) تیار کرا کر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھ سے فرمایا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی آپ ﷺ کا سیدہ صفیہ (رض) کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا۔ آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، انس (رض) نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ صفیہ (رض) کی وجہ سے اپنے پیچھے (اونٹ کے کوہان کے اردگرد) اپنی عباء سے پردہ کئے ہوئے تھے (سواری پر جب صفیہ (رض) سوار ہوتیں) تو آپ ﷺ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور صفیہ (رض) اپنا پاؤں نبی کریم ﷺ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوجاتیں۔ اس طرح ہم چلتے رہے اور جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا : اے اللہ ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اے اللہ ! مدینہ کے لوگوں کو ان کی مد اور صاع میں برکت دیجئیے !
حدیث نمبر: 2893 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৪
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا اور ان سے ام حرام (رض) نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ ﷺ سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہوگی وہ عبادہ بن صامت (رض) کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد) گرپڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔
حدیث نمبر: 2894 - 2895 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَوْمًا فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُضْحِكُكَ، قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَيَقُولُ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: لڑائی میں کمزور ناتواں (جیسے عورتیں، بچے، اندھے، معذور اور مساکین) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے مصعب ابن سعد نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص (رض) کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر (اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دئیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2896 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: رَأَى سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৭
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: لڑائی میں کمزور ناتواں (جیسے عورتیں، بچے، اندھے، معذور اور مساکین) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر (رض) سے سنا، آپ ابو سعید خدری (رض) سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج کی فوج جہاں پر ہوں گی جن میں پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت اٹھائی ہو، کہا جائے گا کہ ہاں تو ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہوگی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، (یعنی تابعی) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو کہا جائے گا کہ ہاں اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2897 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَأْتِي زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ ﷺ (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو آپ ﷺ کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں ان کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر آجاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کردیتا۔ سہل (رض) نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سے کوئی بھی شخص اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کا پیچھا کروں گا (دیکھوں) نبی کریم ﷺ نے اسے کیوں دوزخی فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب کبھی وہ کھڑا ہوجاتا تو یہ بھی کھڑا ہوجاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لیے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلہ میں کرلیا اور تلوار پر گر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چناچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آجائے۔ اس لیے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کرلیا اور اس پر گر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2898 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً، وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقَالَ: مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَقَالَ رَجُلٌ: مِنَ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ: فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ الرَّجُلُ: الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنَا لَكُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، انہوں نے سلمہ بن اکوع (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کا قبیلہ بنو اسلم کے چند لوگوں پر گزر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسماعیل (علیہ السلام) کے بیٹو ! تیر اندازی کرو کہ تمہارے بزرگ دادا اسماعیل (علیہ السلام) بھی تیرانداز تھے۔ ہاں ! تیر اندازی کرو، میں بنی فلاں (ابن ال اورع رضی اللہ عنہ) کی طرف ہوں۔ بیان کیا، جب آپ ﷺ ایک فریق کے ساتھ ہوگئے تو (مقابلے میں حصہ لینے والے) دوسرے ایک فریق نے ہاتھ روک لیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا بات پیش آئی، تم لوگوں نے تیر اندازی بند کیوں کردی ؟ دوسرے فریق نے عرض کیا جب آپ ﷺ ایک فریق کے ساتھ ہوگئے تو بھلا ہم کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھا تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 2899 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا، وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْمُوا فَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ہم قریش کے مقابلہ میں صف باندھے ہوئے کھڑے ہوگئے تھے اور وہ ہمارے مقابلہ میں تیار تھے، فرمایا کہ اگر (حملہ کرتے ہوئے) قریش تمہارے قریب آجائیں تو تم لوگ تیر اندازی شروع کردینا تاکہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں۔
حدیث نمبر: 2900 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: برچھے سے (مشق کرنے کے لیے) کھیلنا۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے سامنے حراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ عمر (رض) آگئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا عمر انہیں کھیل دکھانے دو ۔ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں (یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے) ۔
حدیث نمبر: 2901 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا، فَقَالَ: دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، وَزَادَ عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِي الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০২
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ ابوطلحہ (رض) اپنی اور نبی کریم ﷺ کی آڑ ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور ابوطلحہ (رض) بڑے اچھے تیرانداز تھے۔ جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم ﷺ سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔
حدیث نمبر: 2902 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ، فَكَانَ إِذَا رَمَى تَشَرَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْظُرُ إِلَى مَوْضِعِ نَبْلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৩
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں نبی کریم ﷺ کا خود آپ ﷺ کے سر مبارک پر توڑا گیا اور چہرہ مبارک خون آلود ہوگیا اور آپ ﷺ کے آگے کے دانت شہید ہوگئے تو علی (رض) ڈھال میں بھربھر کر پانی باربار لا رہے تھے اور فاطمہ (رض) زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ خون پانی سے اور زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ ﷺ کے زخموں پر لگا دیا، جس سے خون آنا بند ہوگیا۔
حدیث نمبر: 2903 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ: لَمَّا كُسِرَتْ بَيْضَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِهِ فَرَقَأَ الدَّمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৪
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے عمر (رض) نے بیان کیا کہ بنونضیر کے باغات وغیرہ ان اموال میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بغیر لڑے دے دیا تھا۔ مسلمانوں نے ان کے حاصل کرنے کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو یہ اموال خاص طور سے رسول اللہ ﷺ ہی کے تھے جن میں سے آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو سالانہ نفقہ کے طور پر بھی دے دیتے تھے اور باقی ہتھیار اور گھوڑوں پر خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) ہر وقت تیاری رہے۔
حدیث نمبر: 2904 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ، وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ، وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৫
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی (رض) نے (دوسری سند) ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن شداد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے علی (رض) سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ سعد بن ابی وقاص (رض) کے بعد میں نے کسی کے متعلق نبی کریم ﷺ سے نہیں سنا کہ آپ نے خود کو ان پر صدقے کیا ہو۔ میں نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے : تیر برساؤ (سعد) تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔
حدیث نمبر: 2905 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي رَجُلًا بَعْدَ سَعْدٍ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ڈھال کے بیان میں۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو دو لڑکیاں میرے پاس جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ آپ ﷺ بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ مبارک دوسری طرف کرلیا اس کے بعد ابوبکر (رض) آگئے اور آپ نے مجھے ڈانٹا کہ یہ شیطانی گانا اور رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ! لیکن آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انہیں گانے دو ، پھر جب ابوبکر (رض) دوسری طرف متوجہ ہوگئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ عید کے دن سوڈان کے کچھ صحابہ ڈھال اور حراب کا کھیل دکھا رہے تھے، اب یا میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے کہا یا آپ ﷺ نے ہی فرمایا کہ تم بھی دیکھنا چاہتی ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کرلیا، میرا چہرہ آپ ﷺ کے چہرہ پر تھا (اس طرح میں پیچھے پردے سے کھیل کو بخوبی دیکھ سکتی تھی) اور آپ ﷺ فرما رہے تھے : خوب بنوارفدہ ! جب میں تھک گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : بس ؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر جاؤ۔ احمد نے بیان کیا اور ان سے ابن وہب نے (ابوبکر (رض) کے آنے کے بعد دوسری طرف متوجہ ہوجانے کے لیے لفظ عمل کے بجائے) فلما غفل. نقل کیا ہے۔ یعنی جب وہ ذرا غافل ہوگئے۔
حدیث نمبر: 2906 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: عَمْرٌو حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَادَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا. حدیث نمبر: 2907 قَالَتْ: وَكَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَيَقُولُ: دُونَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: حَسْبُكِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاذْهَبِي قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ، قَالَ: أَحْمَدُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ فَلَمَّا غَفَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: تلواروں کی حمائل اور تلوار کا گلے میں لٹکانا۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ پر (ایک آواز سن کر) بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم ﷺ سب سے آگے تھے اور آپ ﷺ نے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ آپ ﷺ ابوطلحہ (رض) کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ آپ ﷺ کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ ڈرو مت۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے یا یہ فرمایا کہ گھوڑا جیسے سمندر ہے۔
حدیث نمبر: 2908 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ: لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا، ثُمَّ قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ قَالَ إِنَّهُ لَبَحْرٌ.
তাহকীক: