আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮৬ টি

হাদীস নং: ৩১২০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسریٰ مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہوگا۔ اور جب قیصر مرجائے گا تو اس کی بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہوگا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔
حدیث نمبر: 3120 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২১
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے۔
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے جریر سے سنا ‘ انہوں نے عبدالملک سے اور ان سے جابر بن سمرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسریٰ مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہوگا اور جب قیصر مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہوگا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔
حدیث نمبر: 3121 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ جَرِيرًا ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২২
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے۔
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سیار بن ابی سیار نے خبر دی ‘ کہا ہم سے یزید فقیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا میرے لیے (مراد امت ہے) غنیمت کے مال حلال کئے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 3122 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৩
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک (رح) نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے ‘ جہاد ہی کی نیت سے نکلے ‘ اللہ کے کلام (اس کے وعدے) کو سچ جان کر ‘ تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا۔
حدیث نمبر: 3123 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৪
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے ‘ ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک نبی (یوشع علیہ السلام) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو تو (ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے۔ پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ اور جب اس آبادی (اریحا) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہوگیا یا اس کے قریب وقت ہوا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے۔ چناچہ سورج رک گیا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی لیکن جلا نہ سکی ‘ اس نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلہ کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے (جب بیعت کرنے لگے تو) ایک قبیلہ کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ انہوں نے فرمایا ‘ کہ چوری تمہارے قبیلہ ہی والوں نے کی ہے۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چناچہ اس قبیلے کے دو تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے۔ (آخر چوری مان لی گئی) اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے (جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا ‘ تب آگ آئی اور اسے جلا گئی ‘ پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جائز قرار دے دی ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا۔ اس لیے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی۔
حدیث نمبر: 3124 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لِقَوْمِهِ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لِلشَّمْسِ إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْ يَعْنِي النَّارَ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْيُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَجَاءُوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعُوهَا فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৫
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: مال غنیمت ان لوگوں کو ملے گا جو جنگ میں حاضر ہوں۔
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی ‘ انہیں امام مالک نے ‘ انہیں زید بن اسلم نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ عمر (رض) نے فرمایا اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے فاتحوں میں اسی طرح تقسیم کردیا کرتا جس طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔
حدیث نمبر: 3125 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُلَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کوئی غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑے مگر نیت ترقی دین کی بھی ہو تو کیا ثواب کم ہو گا؟
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابو وائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ ایک اعرابی (لاحق بن ضمیرہ باہلی) نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لیے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آجائیں ‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لیے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ (دین) ہی بلند رہے۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے۔
حدیث نمبر: 3126 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَعْرَابِيٌّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ مَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৭
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: خلیفہ المسلمین کے پاس غیر لوگ جو تحائف بھیجیں ان کا بانٹ دینا اور ان میں سے جو لوگ موجود نہ ہوں ان کا حصہ چھپا کر محفوظ رکھنا۔
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دیبا کی کچھ ق بائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل (رض) کے لیے رکھ لی۔ پھر مخرمہ (رض) آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ (رض) بھی تھے۔ آپ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم ﷺ کو بلا لا۔ آپ ﷺ نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کردیں۔ پھر فرمایا : ابومسور ! یہ قباء میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لی تھی۔ مخرمہ (رض) ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث (مرسلاً ہی) روایت کی ہے۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے یہاں کچھ ق بائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 3127 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عَلَى الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ادْعُهُ لِي فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی جائیداد کس طرح تقسیم کی تھی؟ اور اپنی ضرورتوں میں ان کو کیسے خرچ کیا؟
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ سلیمان نے ‘ انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ صحابہ (انصار) کچھ کھجور کے درخت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل پر فتح دی تو نبی کریم ﷺ اس کے بعد اس طرح کے ہدایا واپس فرما دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3128 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَالنَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৯
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کرام کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی، اس کا بیان۔
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر (رض) نے کہا کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر (رض) کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے ! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا ؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے ! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کردینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر (رض) کے بچوں کے لیے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کرلینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہوگا۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ (رض) کے بعض لڑکے زبیر (رض) کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر (رض) کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر (رض) مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا ! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہوجاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی ! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک ! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی ! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا ! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہوجاتی تھی۔ چناچہ جب زبیر (رض) (اسی موقع پر) شہید ہوگئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہوگیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہوجانے کا بھی خوف ہے۔ زبیر (رض) کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سات
حدیث نمبر: 3129 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ يا بني إنه لا يقتل اليوم إلا ظالم أو مظلوم، ‏‏‏‏‏‏وإني لا أراني إلا سأقتل اليوم مظلوما وإن من أكبر همي لديني أفترى يبقي ديننا من مالنا شيئا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ يا بني بع مالنا فاقض ديني وأوصى بالثلث وثلثه لبنيه يعني بني عبد الله بن الزبير، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ثُلُثُ الثُّلُثِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هِشَامٌ:‏‏‏‏ وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا بُنَيِّ إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَيْءٍ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلَايَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَتِ مَنْ مَوْلَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلَّا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ فَيَقْضِيهِ فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ مِنْهَا الْغَابَةُ وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ وَدَارًا بِالْكُوفَةِ وَدَارًا بِمِصْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ:‏‏‏‏ لَا وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا جِبَايَةَ خَرَاجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ:‏‏‏‏ فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مِائَةُ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَكِيمٌ وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّ مِائَةِ أَلْفٍ ثُمَّ قَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُ مِائَةِ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ لَكَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ كَمْ قُوِّمَتْ الْغَابَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَمْ بَقِيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ:‏‏‏‏ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ:‏‏‏‏ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ:‏‏‏‏ قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ كَمْ بَقِيَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَهْمٌ وَنِصْفٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّ مِائَةِ أَلْفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَنُو الزُّبَيْرِ اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ وَرَفَعَ الثُّلُثَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر امام کسی شخص کو سفارت پر بھیجے یا کسی خاص جگہ ٹھہرنے کا حکم دے تو کیا اس کا بھی حصہ (غنیمت میں) ہو گا؟
ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب (رض) نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ عثمان (رض) بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔
حدیث نمبر: 3130 حَدَّثَنَا مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩১
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ عروہ کہتے تھے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ (رض) نے انہیں خبر دی کہ جب ہوازن کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالوں اور قیدیوں کی واپسی کا سوال کیا ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ ان دونوں چیزوں میں سے تم ایک ہی واپس لے سکتے ہو۔ اپنے قیدی واپس لے لو یا پھر مال لے لو ‘ اور میں نے تمہارا انتظار بھی کیا۔ آپ ﷺ نے تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا اور جب یہ بات ان پر واضح ہوگئی کہ آپ ﷺ ان کی صرف ایک ہی چیز (قیدی یا مال) واپس کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدی ہی واپس لینا چاہتے ہیں۔ اب آپ ﷺ نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا : آپ ﷺ نے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا امابعد ! تمہارے یہ بھائی اب ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردیئے جائیں۔ اسی لیے جو شخص اپنی خوشی سے غنیمت کے اپنے حصے کے (قیدی) واپس کرنا چاہے وہ کر دے اور جو شخص چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہمیں جب اس کے بعد سب سے پہلی غنیمت ملے تو اس میں سے اس کے حصے کی ادائیگی کردی جائے تو وہ بھی اپنے قیدی واپس کر دے ‘ (اور جب ہمیں دوسرے غنیمت ملے گی تو اس کا حصہ ادا کردیا جائے گا) ۔ اس پر صحابہ کرام (رض) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنی خوشی سے انہیں اپنے حصے واپس کردیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کن لوگوں نے اپنی خوشی سے اجازت دی اور کن لوگوں نے نہیں دی ہے۔ اس لیے سب لوگ (اپنے خیموں میں) واپس چلے جائیں اور تمہارے سردار لوگ تمہاری بات ہمارے سامنے آ کر بیان کریں۔ سب لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سرداروں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی اور پھر آپ ﷺ کو آ کر خبر دی کہ سب لوگ خوشی سے اجازت دیتے ہیں۔ یہی وہ خبر ہے جو ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ہمیں معلوم ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 3131 - 3132 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمْ:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏إِمَّا السَّبْيَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَ آخِرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمْ:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا، ‏‏‏‏‏‏وَأَذِنُوا فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৩
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور (ایوب نے ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے کہ) مجھ سے قاسم بن عاصم کلیبی نے بیان کیا اور کہا کہ قاسم کی حدیث (ابوقلابہ کی حدیث کی بہ نسبت) مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے ‘ زہدم سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مجلس میں حاضر تھے (کھانا لایا گیا اور) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔ بنی تمیم اللہ کے ایک آدمی سرخ رنگ والے وہاں موجود تھے۔ غالباً موالی میں سے تھے۔ انہیں بھی ابوموسیٰ (رض) نے کھانے پر بلایا ‘ وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھالی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ (رض) نے کہا کہ قریب آجاؤ (تمہاری قسم پر) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں ‘ قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (غزوہ تبوک کے لیے) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کرسکتا ‘ کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آسکے۔ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے ‘ تو آپ ﷺ نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا ‘ اور فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں ؟ چناچہ آپ ﷺ نے پانچ اونٹ ہمیں دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا ‘ خوب موٹے تازے اور فربہ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آپ ﷺ کے اس عطیہ میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہوسکتی۔ چناچہ ہم پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کرسکوں گا۔ شاید آپ کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو ‘ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ اللہ کی قسم ! تم اس پر یقین رکھو کہ انشاء اللہ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں ‘ پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہوجائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہوگی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حدیث نمبر: 3133 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنِي وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ، ‏‏‏‏‏‏ الْقَاسِمُ بْنُ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيُّ عَنْ زَهْدَمٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَأُتِيَ ذَكَرَ دَجَاجَةً وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي فَدَعَاهُ لِلطَّعَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ لَا آكُلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلُمَّ فَلْأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا لَا يُبَارَكُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا أَفَنَسِيتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৪
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ عبداللہ بن عمر (رض) بھی لشکر کے ساتھ تھے۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی۔ اس لیے اس کے ہر سپاہی کو حصہ میں بھی بارہ بارہ گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا۔
حدیث نمبر: 3134 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرًا فَكَانَتْ سِهَامُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৫
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں عقیل نے ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ (خمس وغیرہ میں سے) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3135 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی ‘ تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ میں تھا ‘ میرے بھائی تھے۔ (میری عمران دونوں سے کم تھی ‘ دونوں بھائیوں میں) ایک ابوبردہ (رض) تھے اور دوسرے ابورہم۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ (یہ لوگ روانہ ہوئے تھے) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب (رض) اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملے۔ جعفر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں۔ چناچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے۔ اور پھر سب ایک ساتھ (مدینہ) حاضر ہوئے ‘ جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے ‘ تو آپ ﷺ خیبر فتح کرچکے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے (دوسرے مجاہدوں کے ساتھ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا ‘ حالانکہ آپ ﷺ نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا (حالانکہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے) ۔
حدیث نمبر: 3136 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ إِمَّا قَالَ:‏‏‏‏ فِي بِضْعٍ وَإِمَّا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ جَعْفَرٌ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৭
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ کہا ہم سے محمد بن منکدر نے ‘ اور انہوں نے جابر (رض) سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب بحرین سے وصول ہو کر میرے پاس مال آئے گا تو میں تمہیں اس طرح اس طرح ‘ اس طرح (تین لپ) دوں گا اس کے بعد آپ ﷺ کی وفات ہوگئی اور بحرین کا مال اس وقت تک نہ آیا۔ پھر جب وہاں سے مال آیا تو ابوبکر (رض) کے حکم سے منادی نے اعلان کیا کہ جس کا بھی نبی کریم ﷺ پر کوئی قرض ہو یا آپ کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ میں ابوبکر (رض) کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ چناچہ انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دیا۔ سفیان بن عیینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے (لپ بھرنے کی) کیفیت بتائی پھر ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ابن منکدر نے بھی ہم سے اسی طرح بیان کیا تھا۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے (سابقہ سند کے ساتھ) بیان کیا کہ جابر (رض) نے کہا کہ میں ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں حاضر ہوا ‘ اور اس مرتبہ بھی مجھے انہوں نے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک مرتبہ آپ سے مانگا اور آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ دوبارہ مانگا ‘ پھر بھی آپ نے عنایت نہیں فرمایا اور پھر مانگا لیکن آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ اب یا آپ مجھے دیجئیے یا پھر میرے بارے میں بخل سے کام لیجئے، ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ میرے معاملے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ حالانکہ تمہیں دینے سے جب بھی میں نے منہ پھیرا تو میرے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ تمہیں کبھی نہ کبھی دینا ضرور ہے۔ ، سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر نے ‘ پھر ابوبکر (رض) نے مجھے ایک لپ بھر کردیا اور فرمایا کہ اسے شمار کر میں نے شمار کیا تو پانچ سو کی تعداد تھی ‘ اس کے بعد ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ اتنا ہی دو مرتبہ اور لے لے۔ اور ابن المنکدر نے بیان کیا (کہ ابوبکر (رض) نے فرمایا تھا) بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہوسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 3137 حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ قَدْ جَاءَنِي مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجِئْ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَر أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا فَأَتَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِي:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا فَحَثَا لِي ثَلَاثًا وَجَعَلَ سُفْيَانُ يَحْثُو بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَنَا هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَرَّةً فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَسَأَلْتُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتَ:‏‏‏‏ تَبْخَلُ عَنِّي مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ فَحَثَا لِي حَثْيَةً، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ عُدَّهَا فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے آپ سے کہا، انصاف سے کام لیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو بدبخت ہوا۔
حدیث نمبر: 3138 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ رَجُلٌ اعْدِلْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৯
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں محمد بن جبیر نے اور انہیں ان کے والد (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی (جو کفر کی حالت میں مرگئے تھے) زندہ ہوتے اور ان نجس، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں (فدیہ لیے بغیر) چھوڑ دیتا۔
حدیث نمبر: 3139 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ:‏‏‏‏ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৪০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض (مستحق) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے اور جس کو چاہے نہ دے، دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا (اور دوسرے قریش کو نہ دیا)۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے جبیر بن مطعم (رض) نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور (اس روایت میں) یہ زیادتی کی کہ جبیر (رض) نے کہا نبی کریم ﷺ نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا، اور ابن اسحاق (صاحب مغازی) نے کہا ہے کہ عبدشمس، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھیں) ۔
حدیث نمبر: 3140 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّيْثُ :‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يُونُسُ وَزَادَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جُبَيْرٌ :‏‏‏‏ وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ:‏‏‏‏ عَبْدُ شَمْسٍ وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ وَكَانَ نَوْفَلٌ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ.
tahqiq

তাহকীক: