আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮৬ টি

হাদীস নং: ২৯৭৩
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا، میرے خیال میں میرا یہ عمل، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا۔ ( کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا ) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ پھر وہ مزدور ایک شخص ( خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ""أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ"".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عقیل نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے خبر دی کہ قیس بن سعد انصاری (رض) نے، جو جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے علمبردار تھے، جب حج کا ارادہ کیا تو (احرام باندھنے سے پہلے) کنگھی کی۔
حدیث نمبر: 2974 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ صَاحِبَ لِوَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَرَادَ الْحَجَّ فَرَجَّلَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৫
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع (رض) نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر علی (رض) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا ؟ چناچہ وہ نکلے اور آپ ﷺ سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔ یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔ پھر علی (رض) بھی آگئے۔ حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی۔ (کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ علی (رض) بھی آگئے اور آپ ﷺ نے جھنڈا انہیں کو دیا۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔
حدیث نمبر: 2975 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ مزدور کا بیان حسن و ابن سیرین کہتے ہیں کہ مزدور کو مال غنیمت سے حصہ دیا گیا ہے عطیہ بن قیس نے ایک گھوڑا اڑہیائی کے کرایہ سے لیا اس گھوڑے کا حصہ چار سو دینار آئے چنانچہ دو سو دینار خود رکھ کر مابقی دو سو دینار گھوڑے کے مالک کو دیدیئے۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا، میرے خیال میں میرا یہ عمل، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا۔ (کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوگا) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ پھر وہ مزدور ایک شخص (خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آپ ﷺ نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔
حدیث نمبر: 2973 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৭
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب (کافروں کے دلوں میں) ڈال کر میری مدد کی ہے۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے جامع کلام (جس کی عبارت مختصر اور فصیح و بلیغ ہو اور معنی بہت وسیع ہوں) دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تو (اپنے رب کے پاس) جا چکے۔ اور (جن خزانوں کی وہ کنجیاں تھیں) انہیں اب تم نکال رہے ہو۔
حدیث نمبر: 2977 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْث ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب (کافروں کے دلوں میں) ڈال کر میری مدد کی ہے۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہیں ابن عباس (رض) نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان (رض) نے خبر دی کہ (آپ ﷺ کا نامہ مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آخر ( طویل گفتگو کے بعد) اس نے نبی کریم ﷺ کا نامہ مبارک منگوایا۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہوگیا (چاروں طرف سے) آواز بلند ہونے لگی۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ (مراد رسول اللہ ﷺ سے ہے) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ ملک بنی اصفر (قیصر روم) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے۔
حدیث نمبر: 2978 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ:‏‏‏‏ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ، ‏‏‏‏‏‏فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৯
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، نیز مجھ سے فاطمہ نے بھی بیان کیا، اور ان سے اسماء بنت ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی ہجرت کا ارادہ کیا تو میں نے (والد ماجد سیدنا) ابوبکر (رض) کے گھر آپ کے لیے سفر کا ناشتہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب آپ کے ناشتے اور پانی کو باندھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی، تو میں نے ابوبکر (رض) سے کہا کہ بجز میرے کمر بند کے اور کوئی چیز اسے باندھنے کے لیے نہیں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر اسی کے دو ٹکڑے کرلو۔ ایک سے ناشتہ باندھ دینا اور دوسرے سے پانی، چناچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور اسی وجہ سے میرا نام ذات النطاقین (دو کمر بندوں والی) پڑگیا۔
حدیث نمبر: 2979 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَتْنِي أَيْضًا فَاطِمَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَشُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ فَارْبِطِيهِ بِوَاحِدٍ السِّقَاءَ وَبِالْآخَرِ السُّفْرَةَ فَفَعَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَلِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی، ان سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا آپ نے بیان کیا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں قربانی کا گوشت بطور توشہ مدینہ لے جایا کرتے تھے (یہ لے جانا بطور توشہ ہوا کرتا تھا، اس سے آپ کا مطلب ثابت ہوا) ۔
حدیث نمبر: 2980 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ..
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮১
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی اور انہیں سوید بن نعمان نے خبر دی کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ گئے تھے۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم ﷺ نے کھانا منگوایا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے کلی کی۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 2981 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ فَصَلَّوْا الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَطْعِمَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُؤْتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِسَوِيقٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلُكْنَا فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا وَصَلَّيْنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮২
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔
ہم سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ جب لوگوں کے پاس زاد راہ ختم ہونے لگا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لوگ اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت لینے حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ اتنے میں عمر (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس اجازت کی اطلاع انہیں بھی ان لوگوں نے دی۔ عمر (رض) نے سن کر کہا، ان اونٹوں کے بعد پھر تمہارے پاس باقی کیا رہ جائے گا (کیونکہ انہیں پر سوار ہو کر اتنی دور دراز کی مسافت بھی تو طے کرنی تھی) اس کے بعد عمر (رض) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ ! لوگ اگر اپنے اونٹ بھی ذبح کردیں گے۔ تو پھر اس کے بعد ان کے پاس باقی کیا رہ جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر لوگوں میں اعلان کر دو کہ (اونٹوں کو ذبح کرنے کے بجائے) اپنا بچا کچھا توشہ لے کر یہاں آجائیں۔ (سب لوگوں نے جو کچھ بھی ان کے پاس کھانے کی چیز باقی بچ گئی تھی، آپ ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دی) آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور اس میں برکت ہوئی۔ پھر سب کو ان کے برتنوں کے ساتھ آپ نے بلایا۔ سب نے بھربھر کر اس میں سے لیا۔ اور جب سب لوگ فارغ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
حدیث نمبر: 2982 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَفَّتْ أَزْوَادُ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا بَقَاؤُكُمْ بَعْدَ إِبِلِكُمْ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَادِ فِي النَّاسِ يَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا وَبَرَّكَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَاحْتَثَى النَّاسُ حَتَّى فَرَغُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৩
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: توشہ اپنے کندھوں پر لاد کر خود لے جانا۔
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ ہم (ایک غزوہ پر) نکلے۔ ہماری تعداد تین سو تھی، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آخر ہمارا توشہ جب (تقریباً ) ختم ہوگیا، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی۔ ایک شاگرد نے پوچھا، اے ابوعبداللہ ! (جابر رضی اللہ عنہ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے۔
حدیث نمبر: 2983 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَأْكُلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيْنَ كَانَتِ التَّمْرَةُ تَقَعُ مِنَ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَحْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حُوتٌ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا أَحْبَبْنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا۔
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر جاؤ (عمرہ کر آؤ) عبدالرحمٰن (رض) (عائشہ (رض) کے بھائی) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے۔ چناچہ آپ نے عبدالرحمٰن (رض) کو حکم دیا کہ تنعیم سے (احرام باندھ کر) عائشہ (رض) کو عمرہ کرا لائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ وہ آگئیں۔
حدیث نمبر: 2984 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِأَجْرِ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا:‏‏‏‏ اذْهَبِي وَلْيُرْدِفْكِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَظَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ حَتَّى جَاءَتْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا۔
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عمرو بن اوس نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق (رض) نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے عائشہ (رض) کو بٹھا کرلے جاؤں اور تنعیم سے (احرام باندھ کر) انہیں عمرہ کرا لاؤں۔
حدیث نمبر: 2985 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ أُرْدِفَ عَائِشَةَ وَأُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ (رض) کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 2986 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৭
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے اسامہ بن زید (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور اسامہ (رض) کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 2987 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৮
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے۔ اسامہ (رض) کو آپ ﷺ نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ کے ساتھ بلال (رض) بھی تھے۔ اور عثمان بن طلحہ (رض) بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے۔ آپ ﷺ نے مسجد الحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور عثمان (رض) سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ ﷺ اندر داخل ہوگئے۔ آپ ﷺ کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان (رض) عنہم بھی تھے۔ آپ ﷺ کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے (اندر جانے کے لیے) ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے عبداللہ بن عمر (رض) تھے۔ انہوں نے بلال (رض) کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کہاں پڑھی ہے ؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
حدیث نمبر: 2988 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يُونُسُ :‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفًا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَهُ بِلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ فَفَتَحَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ فَمَكَثَ فِيهَا نَهَارًا طَوِيلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَبَقَ النَّاسُ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَوَجَدَ بِلَالًا وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ ؟.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৯
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھا دے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے اس کا ثواب۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 2989 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯০
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے۔
سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک (رح) نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 2990 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَىأَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯১
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنا۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ خیبر میں داخل تھے۔ اتنے میں وہاں کے رہنے والے (یہودی) پھاوڑے اپنی گردنوں پر لیے ہوئے نکلے۔ جب نبی کریم ﷺ کو (مع آپ کے لشکر کے) دیکھا تو چلا اٹھے کہ یہ محمد لشکر کے ساتھ (آگئے) محمد لشکر کے ساتھ، محمد لشکر کے ساتھ ! ( ﷺ ) چناچہ وہ سب بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہوگئے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور نعرہ تکبیر بلند فرمایا، ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ خیبر تو تباہ ہوچکا۔ کہ جب کسی قوم کے آنگن میں ہم اتر آتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔ اور انس (رض) نے بیان کیا کہ ہم کو گدھے مل گئے، اور ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کردیا کہ نبی کریم ﷺ کے منادی نے یہ پکارا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔ چناچہ ہانڈیوں میں جو کچھ تھا سب الٹ دیا گیا۔ اس روایت کی متابعت علی نے سفیان سے کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے۔
حدیث نمبر: 2991 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، ‏‏‏‏‏‏مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَلَجَئُوا إِلَى الْحِصْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَاتَابَعَهُ عَلِيٌّ عَنْ سُفْيَانَ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯২
جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
পরিচ্ছেদঃ باب: بہت چلا کر تکبیر کہنا منع ہے۔
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابوعثمان نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو لا إله إلا الله اور الله اکبر کہتے اور ہماری آواز بلند ہوجاتی اس لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے۔ بیشک وہ سننے والا اور تم سے بہت قریب ہے۔ برکتوں والا ہے۔ اس کا نام اور اس کی عظمت بہت ہی بڑی ہے۔
حدیث نمبر: 2992 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غَائِبًا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ مَعَكُمْ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ تَبَارَكَ اسْمُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ.
tahqiq

তাহকীক: