আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
وصیتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩ টি
হাদীস নং: ২৭৫৮
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر صدقہ کے لیے کسی کو وکیل کرے اور وکیل اس کا صدقہ پھیر دے۔
باب : اگر صدقہ کے لیے کسی کو وکیل کرے اور وکیل اس کا صدقہ پھیر دے اور اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے خبر دی ‘ انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے (امام بخاری (رح) نے کہا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت انہوں نے انس (رض) سے کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا (جب سورة آل عمران کی) یہ آیت نازل ہوئی لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم نیکی ہرگز نہیں پاسکتے جب تک اس مال میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو زیادہ پسند ہے۔ تو ابوطلحہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم نیکی ہرگز نہیں پاسکتے جب تک اس مال میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو زیادہ پسند ہے۔ اور میرے اموال میں سب سے پسند مجھے بیرحاء ہے۔ بیان کیا کہ بیرحاء ایک باغ تھا۔ رسول اللہ ﷺ بھی اس میں تشریف لے جایا کرتے ‘ اس کے سائے میں بیٹھتے اور اس کا پانی پیتے (ابوطلحہ نے کہا کہ) اس لیے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں صدقہ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ میں اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کی امید رکھتا ہوں۔ پس یا رسول اللہ ! جس طرح اللہ آپ کو بتائے اسے خرچ کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واہ واہ شاباش ابوطلحہ یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے ‘ ہم تم سے اسے قبول کر کے پھر تمہارے ہی حوالے کردیتے ہیں اور اب تم اسے اپنے عزیزوں کو دیدو۔ چناچہ ابوطلحہ (رض) نے وہ باغ اپنے عزیزوں کو دے دیا۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ جن لوگوں کو باغ آپ نے دیا تھا ان میں ابی اور حسان (رض) تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ حسان (رض) نے اپنا حصہ معاویہ (رض) کو بیچ دیا تو کسی نے ان سے کہا کہ کیا آپ ابوطلحہ (رض) کا دیا ہوا مال بیچ رہے ہو ؟ حسان (رض) نے جواب دیا کہ میں کھجور کا ایک صاع روپوں کے ایک صاع کے بدل کیوں نہ بیچوں۔ انس (رض) نے کہا یہ باغ بنی حدیلہ کے محلہ کے قریب تھا جسے معاویہ (رض) نے (بطور قلعہ کے) تعمیر کیا تھا۔
17- بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكِيلُ إِلَيْهِ: حدیث نمبر: 2758 وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، قَالَ: وَكَانَتْ حَدِيقَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَدْخُلُهَا وَيَسْتَظِلُّ بِهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْجُو بِرَّهُ وَذُخْرَهُ فَضَعْهَا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخْ يَا أَبَا طَلْحَةَ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ وَرَدَدْنَاهُ عَلَيْكَ، فَاجْعَلْهُ فِي الْأَقْرَبِينَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ، قَالَ: وَكَانَ مِنْهُمْ أُبَيٌّ، وَحَسَّانُ، قَالَ: وَبَاعَ حَسَّانُ حِصَّتَهُ مِنْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَقِيلَ لَهُ: تَبِيعُ صَدَقَةَ أَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: أَلَا أَبِيعُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ دَرَاهِمَ، قَالَ: وَكَانَتْ تِلْكَ الْحَدِيقَةُ فِي مَوْضِعِ قَصْرِ بَنِي حُدَيْلَةَ الَّذِي بَنَاهُ مُعَاوِيَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جب (میراث کی تقسیم) کے وقت رشتہ دار (جو وارث نہ ہوں) اور یتیم اور مسکین آ جائیں تو ان کو بھی ترکے میں سے کچھ کچھ کھلا دو (اور اگر کھلانا نہ ہو سکے تو) اچھی بات کہہ کر نرمی سے ٹال دو“۔
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ابوبشر جعفر سے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ کچھ لوگ گمان کرنے لگے ہیں کہ یہ آیت (جس ذکر عنوان میں ہوا) میراث کی آیت منسوخ ہوگئی ہے ‘ نہیں قسم اللہ کی آیت منسوخ نہیں ہوئی البتہ لوگ اس پر عمل کرنے میں سست ہوگئے ہیں۔ ترکے کے لینے والے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو وارث ہوں ان کو حصہ دیا جائے گا دوسرے وہ جو وارث نہ ہوں ان کو نرمی سے جواب دینے کا حکم ہے۔ وہ یوں کہے میاں میں تم کو دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 2759 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نُسِخَتْ، وَلَا، وَاللَّهِ مَا نُسِخَتْ وَلَكِنَّهَا مِمَّا تَهَاوَنَ النَّاسُ، هُمَا وَالِيَانِ: وَالٍ يَرِثُ، وَذَاكَ الَّذِي يَرْزُقُ، وَوَالٍ لَا يَرِثُ فَذَاكَ الَّذِي يَقُولُ بِالْمَعْرُوفِ، يَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬০
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ ایک صحابی (سعد بن عبادہ) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میری والدہ کی موت اچانک واقع ہوگئی ‘ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں گفتگو کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتیں تو کیا میں ان کی طرف سے خیرات کرسکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ان کی طرف سے خیرات کر۔
حدیث نمبر: 2760 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأُرَاهَا، لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ تَصَدَّقْ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬১
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابن عباس (رض) نے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا ‘ انہوں نے عرض کیا کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمہ ایک نذر تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی طرف سے نذر پوری کر دے۔
حدیث نمبر: 2761 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، فَقَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬২
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وقف اور صدقہ پر گواہ بنانا۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ انہیں ابن جریج نے خبر دی کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم نے خبر دی ‘ انہوں نے ابن عباس (رض) کے غلام عکرمہ سے سنا اور انہیں ابن عباس (رض) نے خبر دی کہ قبیلہ بنی ساعدہ کے بھائی سعد بن عبادہ (رض) کی ماں کا انتقال ہوا تو وہ ان کی خدمت میں حاضر نہیں تھے (بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ دومۃ الجندل میں شریک تھے) اس لیے وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور میں اس وقت موجود نہیں تھا تو اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! سعد (رض) نے اس پر کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا باغ مخراف نامی ان کی طرف سے خیرات ہے۔
حدیث نمبر: 2762 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا شَيْءٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِيَ الْمِخْرَافَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৩
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ( سورة نساء میں) کہ اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائیں تو اگر تم ان میں صلاحیت دیکھ لو تو ان کے حوالے ان کا مال کر دو اور ان کے مال کو جلد جلد اسراف سے اور اس خیال سے کہ یہ بڑے ہوجائیں گے مت کھا ڈالو ‘ بلکہ جو شخص مالدار ہو تو یتیم کے مال سے بچا رہے اور جو شخص نادار ہو وہ دستور کے موافق اس میں سے کھا سکتا ہے اور جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کرلیا کرو اور اللہ حساب کرنے والا کافی ہے۔ مردوں کے لیے بھی اس ترکہ میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس ترکہ میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں۔ اس ( متروکہ) میں سے تھوڑا یا زیادہ ضرور ایک حصہ مقرر ہے آیت میں حسيبا کے معنی کافی کے ہیں۔
22- بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا}: حَسِيبًا يَعْنِي كَافِيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৪
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وصی کے لیے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھا لینا درست ہے۔
ہم سے ہارون بن اشعث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے بنو ہاشم کے غلام ابوسعید نے بیان کیا ‘ ان سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا نافع سے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ عمر (رض) نے اپنی ایک جائیداد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں وقف کردی ‘ اس جائیداد کا نام ثمغ تھا اور یہ ایک کھجور کا ایک باغ تھا۔ عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے ایک جائیداد ملی ہے اور میرے خیال میں نہایت عمدہ ہے ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے صدقہ کر دوں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اصل مال کو صدقہ کر کہ نہ بیچا جاسکے نہ ہبہ کیا جاسکے اور نہ اس کا کوئی وارث بن سکے ‘ صرف اس کا پھل (اللہ کی راہ میں) صرف ہو۔ چناچہ عمر (رض) نے اسے صدقہ کردیا ‘ ان کا یہ صدقہ غازیوں کے لیے ‘ غلام آزاد کرانے کے لیے، محتاجوں اور کمزوروں کے لیے ‘ مسافروں کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے تھا اور یہ کہ اس کے نگراں کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ وہ دستور کے موافق اس میں سے کھائے یا اپنے کسی دوست کو کھلائے بشرطیکہ اس میں سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 2764 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْأَشْعَثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: ثَمْغٌ، وَكَانَ نَخْلًا، فَقَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالًا وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ، وَلَا يُوهَبُ، وَلَا يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ، فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ، فَصَدَقَتُهُ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي الرِّقَابِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلِذِي الْقُرْبَى، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُوكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৫
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وصی کے لیے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھا لینا درست ہے۔
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام سے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے (قرآن مجید کی اس آیت) ومن کان غنيا فليستعفف ومن کان فقيرا فليأكل بالمعرو اور جو شخص مالدار ہو وہ اپنے کو یتیم کے مال سے بالکل روکے رکھے ‘ البتہ جو شخص نادار ہو تو وہ دستور کے مطابق کھا سکتا ہے کے بارے میں فرمایا کہ یتیموں کے ولیوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ یتیم کے مال میں سے اگر ولی نادار ہو تو دستور کے مطابق اس کے مال میں سے لے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2765 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ أن يصيب من ماله، إذا كان محتاجا بقدر ماله بالمعروف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৬
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ نساء میں) کہ ”بیشک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں، وہ ضرور دہکتی ہوئی آگ ہی میں جھونک دیئے جائیں گے“۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے ثور بن زید مدنی نے بیان کیا ‘ ان سے ابوغیث نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سات گناہوں سے جو تباہ کردینے والے ہیں بچتے رہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔
حدیث نمبر: 2766 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৭
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) یہ فرمانا کہ ”آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ جہاں تک ہو سکے ان کے مالوں میں بہتری کا خیال رکھنا ہی بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ (ان کے اموال میں) ساتھ مل جل کر رہو تو (بہرحال) وہ بھی تمہارے ہی بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ سنوارنے والے اور فساد پیدا کرنے والے کو خوب جانتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں تنگی میں مبتلا کر دیتا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے“۔
باب : اللہ تعالیٰ کا ( سورة البقرہ میں) یہ فرمانا کہ آپ ( ﷺ ) سے لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے کہ جہاں تک ہو سکے ان کے مالوں میں بہتری کا خیال رکھنا ہی بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ ( ان کے اموال میں) ساتھ مل جل کر رہو تو ( بہرحال) وہ بھی تمہارے ہی بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ سنوارنے والے اور فساد پیدا کرنے والے کو خوب جانتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں تنگی میں مبتلا کردیتا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے (قرآن کی اس آیت میں) لأعنتکم کے معنی ہیں کہ تمہیں حرج اور تنگی میں مبتلا کردیتا اور (سورۃ طہٰ میں لفظ) تحنت کے معنی منہ جھک گئے ‘ اس اللہ کے لیے جو زندہ ہے اور سب کا سنبھالنے والا ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ ان سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر (رض) کو کوئی وصی بناتا تو وہ کبھی انکار نہ کرتے۔ ابن سیرین تابعی (رح) کا محبوب مشغلہ یہ تھا کہ یتیم کے مال و جائیداد کے سلسلے میں ان کے خیر خواہوں اور ولیوں کو جمع کرتے تاکہ ان کے لیے کوئی اچھی صورت پیدا کرنے کے لیے غور کریں۔ طاؤس تابعی (رح) سے جب یتیموں کے بارے میں کوئی سوال کیا جاتا تو آپ یہ آیت پڑھتے کہ والله يعلم المفسد من المصلح اور اللہ فساد پیدا کرنے والے اور سنوارنے والے کو خوب جانتا ہے۔ عطاء (رح) نے یتیموں کے بارے میں کہا خواہ وہ معمولی قسم کے لوگوں میں ہوں یا بڑے درجے کے ‘ اس کا ولی اس کے حصہ میں سے جیسے اس کے لائق ہو، ویسا اس پر خرچ کرے۔
24- بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاَحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لأَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ}: لأَعْنَتَكُمْ سورة البقرة آية 220 لَأَحْرَجَكُمْ، وَضَيَّقَ، وَعَنَتِ خَضَعَتْ. وَقَالَ لَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَا رَدَّ ابْنُ عُمَرَ عَلَى أَحَدٍ وَصِيَّةً، وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ أَحَبَّ الْأَشْيَاءِ إِلَيْهِ فِي مَالِ الْيَتِيمِ، أَنْ يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ نُصَحَاؤُهُ وَأَوْلِيَاؤُهُ، فَيَنْظُرُوا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ لَهُ، وَكَانَ طَاوُسٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْيَتَامَى قَرَأَ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ سورة البقرة آية 220. وَقَالَ عَطَاءٌ فِي يَتَامَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، يُنْفِقُ الْوَلِيُّ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ بِقَدْرِهِ مِنْ حِصَّتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৮
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر اور حضر میں یتیم سے کام لینا جس میں اس کی بھلائی ہو اور ماں اور سوتیلے باپ کا یتیم پر نظر ڈالنا۔
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ‘ ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے ساتھ کوئی خادم نہیں تھا۔ اس لیے ابوطلحہ (جو میرے سوتیلے باپ تھے) میرا ہاتھ پکڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! انس سمجھ دار بچہ ہے۔ یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کی سفر اور حضر میں خدمت کی ‘ آپ ﷺ نے مجھ سے کبھی کسی کام کے بارے میں جسے میں نے کردیا ہو ‘ یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا ‘ اسی طرح کسی ایسے کام کے متعلق جسے میں نہ کرسکا ہوں آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2768 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ، لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬৯
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی نے ایک زمین وقف کی (جو مشہور و معلوم ہے) اس کی حدیں بیان نہیں کیں تو یہ جائز ہو گا، اسی طرح ایسی زمین کا صدقہ دینا۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ‘ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ‘ انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا آپ بیان کرتے تھے کہ ابوطلحہ (رض) کھجور کے باغات کے اعتبار سے مدینہ کے انصار میں سب سے بڑے مالدار تھے اور انہیں اپنے تمام مالوں میں مسجد نبوی کے سامنے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پسند تھا۔ خود نبی کریم ﷺ بھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون نیکی تم ہرگز نہیں حاصل کرو گے جب تک اپنے اس مال سے نہ خرچ کرو جو تمہیں پسند ہوں۔ تو ابوطلحہ (رض) اٹھے اور آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم نیکی ہرگز نہیں حاصل کرسکو گے جب تک اپنے ان مالوں میں سے نہ خرچ کرو جو تمہیں زیادہ پسند ہوں۔ اور میرے اموال میں مجھے سب سے زیادہ پسند بیرحاء ہے اور یہ اللہ کے راستہ میں صدقہ ہے ‘ میں اللہ کی بارگاہ سے اس کی نیکی اور ذخیرہ آخرت ہونے کی امید رکھتا ہوں۔ آپ کو جہاں اللہ تعالیٰ بتائے اسے خرچ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا شاباش یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے یا آپ نے بجائے رابح رابع کے رايح کہا یہ شک عبداللہ بن مسلمہ راوی کو ہوا تھا۔۔۔ اور جو کچھ تم نے کہا میں نے سب سن لیا ہے اور میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے ناطے والوں کو دے دو ۔ ابوطلحہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چناچہ انہوں نے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے لڑکوں میں تقسیم کردیا۔ اسماعیل ‘ عبداللہ بن یوسف اور یحییٰ بن یحییٰ نے مالک کے واسطہ سے۔ رابح کے بجائے رايح بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2769 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 قَامَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا، وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ: بَخْ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَايِحٌ، شَكَّ ابْنُ مَسْلَمَةَ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ، وَفِي بَنِي عَمِّهِ. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ رَايِحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭০
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی نے ایک زمین وقف کی (جو مشہور و معلوم ہے) اس کی حدیں بیان نہیں کیں تو یہ جائز ہو گا، اسی طرح ایسی زمین کا صدقہ دینا۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ‘ کہا ہم کو زکریا بن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے بیان کیا عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس (رض) سے کہ ایک صحابی سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ان کی ماں کا انتقال ہوگیا ہے۔ کیا اگر وہ ان کی طرف سے خیرات کریں تو انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ میرا ایک پُر میوہ باغ ہے اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کردیا۔
حدیث نمبر: 2770 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ، أَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مِخْرَافًا وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭১
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کئی آدمیوں نے اپنی مشترک زمین جو «مشاع» تھی (تقسیم نہیں ہوتی تھی) وقف کر دی تو جائز ہے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالتیاح یزید بن حمید نے اور ان سے انس (رض) نے ‘ انہوں نے کہا نبی کریم ﷺ نے (مدینہ میں) مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنی نجار سے فرمایا تم اپنے اس باغ کا مجھ سے مول کرلو۔ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ہم تو اللہ ہی سے اس کا مول لیں گے۔
حدیث نمبر: 2771 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: لَا، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭২
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وقف کی سند کیوں کر لکھی جائے۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن عون (رض) نے بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ عمر (رض) کو خیبر میں ایک زمین ملی (جس کا نام ثمغ تھا) تو آپ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے ایک زمین ملی ہے اور اس سے عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا تھا ‘ آپ اس کے بارے میں مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہے تو اصل جائیداد اپنے قبضے میں روک رکھ اور اس کے منافع کو خیرات کر دے۔ چناچہ عمر (رض) نے اسے اس شرط کے ساتھ صدقہ (وقف) کیا کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ وراثت میں کسی کو ملے اور فقراء، رشتہ دار، غلام آزاد کرانے ‘ اللہ کے راستے (کے مجاہدوں) مہمانوں اور مسافروں کے لیے (وقف ہے) جو شخص بھی اس کا متولی ہو اگر دستور کے مطابق اس میں سے کھائے یا اپنے کسی دوست کو کھلائے تو کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ مال جمع کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 2772 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ بِخَيْبَرَ أَرْضًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ مِنْهُ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا يُوهَبُ، وَلَا يُورَثُ فِي الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭৩
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مالدار محتاج اور مہمان سب پر وقف کر سکتا ہے۔
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ عمر (رض) کو خیبر میں ایک جائیداد ملی تو آپ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو اسے صدقہ کر دو ۔ چناچہ آپ نے فقراء ‘ مساکین ‘ رشتہ داروں اور مہمانوں کے لیے اسے صدقہ کردیا۔
حدیث نمبر: 2773 حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَجَدَ مَالًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ، وَذِي الْقُرْبَى، وَالضَّيْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭৪
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسجد کے لیے زمین کا وقف کرنا۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد (عبدالوارث) سے سنا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کے لیے حکم دیا اور فرمایا اے بنو نجار ! اپنے باغ کی مجھ سے قیمت لے لو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ! ہم تو اس کی قیمت صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2774 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: لَا، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭৫
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جانور اور گھوڑے اور سامان اور سونا چاندی وقف کرنا۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں (جہاد کرنے کے لیے) ایک آدمی کو دے دیا۔ یہ گھوڑا آپ ﷺ کو عمر (رض) نے دیا تھا ‘ تاکہ آپ ﷺ جہاد میں کسی کو اس پر سوار کریں۔ پھر عمر (رض) کو معلوم ہوا کہ جس شخص کو یہ گھوڑا ملا تھا ‘ وہ اس گھوڑے کو بازار میں بیچ رہا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا وہ اسے خرید سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز اسے نہ خرید۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لے۔
حدیث نمبر: 2775 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَعْطَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلًا، فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَبْتَاعَهَا، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْهَا، وَلَا تَرْجِعَنَّ فِي صَدَقَتِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭৬
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وقف کی جائیداد کا اہتمام کرنے والا اپنا خرچ اس میں سے لے سکتا ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں ابوالزناد نے ‘ انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی میرے وارث ہیں ‘ وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں ‘ وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 2776 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭৭
وصیتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وقف کی جائیداد کا اہتمام کرنے والا اپنا خرچ اس میں سے لے سکتا ہے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ عمر (رض) نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ اس کا متولی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے لیکن وہ دولت نہ جوڑے۔
حدیث نمبر: 2777 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَاشْتَرَطَ فِي وَقْفِهِ أَنْ يَأْكُلَ مَنْ وَلِيَهُ، وَيُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا.
তাহকীক: