আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
روزے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৬ টি
হাদীস নং: ১৯৩১
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میرے باپ عبدالرحمٰن مجھے ساتھ لے کر عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، عائشہ (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ صبح جنبی ہونے کی حالت میں کرتے احتلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جماع کی وجہ سے ! پھر آپ روزے سے رہتے (یعنی غسل فجر کی نماز سے پہلے سحری کا وقت نکل جانے کے بعد کرتے) ۔ اس کے بعد ہم ام سلمہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1931 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُهُ. حدیث نمبر: 1932 ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩২
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
اس کے بعد ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৩
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ ابوہریرہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔
حدیث نمبر: 1933 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৪
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: روزہ دار کے لیے تر یا خشک مسواک استعمال کرنی درست ہے۔
باب : نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ جب کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے اور نبی کریم ﷺ نے روزہ دار اور غیر روزہ دار میں کوئی فرق نہیں کیا اور امام حسن بصری نے کہا کہ ناک میں (دوا وغیرہ) چڑھانے میں اگر وہ حلق تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں ہے اور روزہ دار سرمہ بھی لگا سکتا ہے۔ عطاء نے کہا کہ اگر کلی کی اور منہ سے سب پانی نکال دیا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اگر وہ اپنا تھوک نہ نگل جائے اور جو اس کے منہ میں (پانی کی تری) رہ گئی اور مصطگی نہ چبانی چاہیے۔ اگر کوئی مصطگی کا تھوک نگل گیا تو میں نہیں کہتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا لیکن منع ہے اور اگر کسی نے ناک میں پانی ڈالا اور پانی (غیر اختیاری طور پر) حلق کے اندر چلا گیا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ یہ چیز اختیار سے باہر تھی۔
28- بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرِهِ الْمَاءَ. وَلَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ الصَّائِمِ وَغَيْرِهِ: وَقَالَ الْحَسَنُ: لَا بَأْسَ بِالسَّعُوطِ لِلصَّائِمِ إِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى حَلْقِهِ وَيَكْتَحِلُ، وَقَالَ عَطَاءٌ: إِنْ تَمَضْمَضَ، ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، لَا يَضِيرُهُ إِنْ لَمْ يَزْدَرِدْ رِيقَهُ، وَمَاذَا بَقِيَ فِي فِيهِ، وَلَا يَمْضَغُ الْعِلْكَ، فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكِ، لَا أَقُولُ: إِنَّهُ يُفْطِرُ، وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ، فَإِنِ اسْتَنْثَرَ فَدَخَلَ الْمَاءُ حَلْقَهُ لَا بَأْسَ لَمْ يَمْلِكْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৫
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جماع کیا؟
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا، ان سے یحییٰ نے (جو سعید کے صاحبزادے ہیں) کہا، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ (رض) سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی ؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے (روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی، تھوڑی دیر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (کھجور کا) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا، پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے۔
حدیث نمبر: 1935 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ احْتَرَقَ، قَالَ: مَا لَكَ ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ قَالَ: أَنَا، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৬
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی نے رمضان میں قصداً جماع کیا اور اس کے پاس کوئی چیز خیرات کے لیے بھی نہ ہو پھر اس کو کہیں سے خیرات مل جائے تو وہی کفارہ میں دیدے۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ ! میں تو تباہ ہوگیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا بات ہوئی ؟ اس نے کہا کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کرسکو ؟ اس نے کہا نہیں، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے عرض کی نہیں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت ہے ؟ اس نے اس کا جواب بھی انکار میں دیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے، ہم بھی اپنی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک بڑا تھیلا (عرق نامی) پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق تھیلے کو کہتے ہیں (جسے کھجور کی چھال سے بناتے ہیں) نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کے اسے لے لو اور صدقہ کر دو ، اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں، بخدا ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے، اس پر نبی کریم ﷺ اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے آگے کے دانت دیکھے جاسکے۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اچھا جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
حدیث نمبر: 1936 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: مَا لَكَ ؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ: فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ، أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ ؟ فَقَالَ: أَنَا، قَالَ: خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৭
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے؟
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کرسکو ؟ اس نے کہا کہ نہیں، آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو ؟ اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا۔ راوی نے بیان کیا پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں عرق زنبیل کو کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے جا اور اپنی طرف سے (محتاجوں کو) کھلا دے، اس شخص نے کہا میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
حدیث نمبر: 1937 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَخِرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزَّبِيلُ، قَالَ: أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ، قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، قَالَ: فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৮
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے۔
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، وہ ایوب سے، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احرام میں اور روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
حدیث نمبر: 1938 حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৯
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے۔
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
حدیث نمبر: 1939 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪০
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا تھا کہ کیا آپ لوگ روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے کو مکروہ سمجھا کرتے تھے ؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے (روزہ میں نہیں لگواتے تھے) شبابہ نے یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ (ایسا ہم) نبی کریم ﷺ کے عہد میں (کرتے تھے) ۔
حدیث نمبر: 1940 حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ، وَزَادَ شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪১
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے (روزہ کی حالت میں) نبی کریم ﷺ نے ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ ﷺ نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہوچکی ہے تو روزہ دار کو افطار کرلینا چاہیے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی (رض) نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھا۔
حدیث نمبر: 1941 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَاهُنَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، تَابَعَهُ جَرِيرٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪২
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا، ان سے عائشہ (رض) نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی (رض) نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 1942 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৩
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔
( دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی (رض) نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی میں سفر میں روزہ رکھوں ؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے افطار کر۔
حدیث نمبر: 1943 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৪
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور انہیں ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے۔
حدیث نمبر: 1944 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَالْكَدِيدُ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ، وَقُدَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৫
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے چند روزے رکھ کر سفر کرنے کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن عبیداللہ نے بیان کیا، اور ان سے ام الدرداء (رض) نے بیان کیا کہ ابودرداء (رض) نے کہا ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے۔ دن انتہائی گرم تھا۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے، نبی کریم ﷺ اور ابن رواحہ (رض) کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 1945 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ حَارٍّ، حَتَّى يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنِ رَوَاحَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৬
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
ہم سے آدم بن ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی (رض) سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر (غزوہ فتح) میں تھے آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سفر میں رو زہ رکھنا اچھا کام نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1946 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৭
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم (سفر میں) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے۔ (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بےروزہ ہوتے) لیکن روزے دار بےروزہ دار پر اور بےروزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1947 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৮
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطار کر ڈالنا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے (غزوہ فتح میں) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ ﷺ روزہ سے تھے، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے (منہ تک) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ ﷺ نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ ابن عباس (رض) کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 1948 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৯
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ہے۔
ہم سے عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے (آیت مذکور بالا) فديه طعام مسكين پڑھی اور فرمایا یہ منسوخ ہے۔
حدیث نمبر: 1949 حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَرَأَ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ، قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫০
روزے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ (رض) سے سنا وہ فرماتیں کہ رمضان کا روزہ مجھ سے چھوٹ جاتا۔ شعبان سے پہلے اس کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا۔
حدیث نمبر: 1950 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ، قَالَ يَحْيَى: الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيِّ، أَوْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: