আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
عمرہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৮ টি
হাদীস নং: ১৭৯৩
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے کہا کہ ہم نے ابن عمر (رض) سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو عمرہ کے لیے بیت اللہ کا طواف تو کرتا ہے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا، کیا وہ (صرف بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے ہمبستر ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نبی کریم ﷺ (مکہ) تشریف لائے اور آپ ﷺ نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا، پھر مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی کے قریب بھی نہ جانا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1793 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ ؟، فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. حدیث نمبر: 1794 قَالَ: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی کے قریب بھی نہ جانا چاہئے۔
قَالَ: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৫
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے غندر بن محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا، ان سے طارق بن شہاب نے بیان کیا، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بطحاء میں حاضر ہوا آپ وہاں (حج کے لیے جاتے ہوئے اترے ہوئے تھے) آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارا حج ہی کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا اور احرام کس چیز کا باندھا ہے ؟ میں نے کہا میں نے اسی کا احرام باندھا ہے، جس کا نبی کریم ﷺ نے احرام باندھا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اچھا کیا، اب بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کرلے پھر احرام کھول ڈال، چناچہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی، پھر میں بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالیں، اس کے بعد میں نے حج کا احرام باندھا۔ میں (نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد) اسی کے مطابق لوگوں کو مسئلہ بتایا کرتا تھا، جب عمر (رض) کی خلافت کا دور آیا تو آپ (رض) نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر عمل کرنا چاہے کہ اس میں ہمیں (حج اور عمرہ) پورا کرنے کا حکم ہوا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہیے کہ اس وقت آپ ﷺ نے احرام نہیں کھولا تھا جب تک ہدی کی قربانی نہیں ہوگئی تھی۔ لہٰذا ہدی ساتھ لانے والوں کے واسطے ایسا ہی کرنے کا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 1795 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ مُنِيخٌ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَ ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟، قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْسَنْتَ، طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنْ أَخَذْنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৬
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہیں ابوالاسود نے کہ اسماء بنت ابی بکر (رض) کے غلام عبداللہ نے ان سے بیان کیا، انہوں نے اسماء (رض) سے سنا تھا، وہ جب بھی حجون پہاڑ سے ہو کر گزرتیں تو یہ کہتیں رحمتیں نازل ہوں اللہ کی محمد ﷺ پر، ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ یہیں قیام کیا تھا، ان دنوں ہمارے (سامان) بہت ہلکے پھلکے تھے، سواریاں اور زاد راہ کی بھی کمی تھی، میں نے، میری بہن عائشہ (رض) نے، زبیر اور فلاں فلاں رضی اللہ عنہم نے عمرہ کیا اور جب بیت اللہ کا طواف کرچکے تو (صفا اور مروہ کی سعی کے بعد) ہم حلال ہوگئے، حج کا احرام ہم نے شام کو باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 1796 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ ، تَقُولُ: كُلَّمَا مَرَّتْ بِالحَجُونِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَا هُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافٌ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَلَمَّا مَسَحْنَا البيت أَحْلَلْنَا، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৭
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حج، عمرہ یا جہاد سے واپسی پر کیا دعا پڑھی جائے؟
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ یا حج و عمرہ سے واپس ہوتے تو جب بھی کسی بلند جگہ کا چڑھاؤ ہوتا تو تین مرتبہ الله اکبر کہتے اور یہ دعا پڑھتے لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملک، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کے لیے ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم واپس ہو رہے ہیں، توبہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اس کی حمد کرتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور سارے لشکر کو تنہا شکست دے دی۔ (فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے) ۔
حدیث نمبر: 1797 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৮
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مکہ آنے والے حاجیوں کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک سواری پر چڑھنا۔
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مکہ تشریف لائے تو بنو عبدالمطلب کے چند بچوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا، آپ ﷺ نے ایک بچے کو (اپنی سواری کے) آگے بٹھا لیا اور دوسرے کو پیچھے۔
حدیث نمبر: 1798 حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَتْهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (مسافر کا اپنے) گھر میں صبح کے وقت آنا۔
ہم سے احمد بن حجاج نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ تشریف لے جاتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے۔ اور جب واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز پڑھتے۔ آپ ﷺ صبح تک ساری رات وہیں رہتے۔
حدیث نمبر: 1799 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ الشَّجَرَةِ، وَإِذَا رَجَعَ صَلَّى بذي الحليفة بِبَطْنِ الْوَادِي، وَبَاتَ حَتَّى يُصْبِحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: شام میں گھر کو آنا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا، ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (سفر سے) رات کو گھر نہیں پہنچتے تھے یا صبح کے وقت پہنچ جاتے یا دوپہر بعد (زوال سے لے کر غروب آفتاب تک کسی بھی وقت تشریف لاتے) ۔
حدیث نمبر: 1800 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ، كَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০১
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آدمی جب اپنے شہر میں پہنچے تو گھر میں رات کو نہ جائے۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محارب بن دثار نے اور ان سے جابر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر سے) گھر رات کے وقت اترنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 1801 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ لَيْلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০২
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ کے قریب پہنچتے پر سواری کو تیز کرنے کا بیان۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس (رض) نے، انہوں نے (درجات کے بجائے) جدرات کہا، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ جُدُرَاتِ: تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৩
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے سنا، انہوں نے کہا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ انصار جب حج کے لیے آتے تو (احرام کے بعد) گھروں میں دروازوں سے نہیں جاتے بلکہ دیواروں سے کود کر (گھر کے اندر) داخل ہوا کرتے تھے پھر (اسلام لانے کے بعد) ایک انصاری شخص آیا اور دروازے سے گھر میں داخل ہوگیا اس پر لوگوں نے لعنت ملامت کی تو یہ وحی نازل ہوئی کہ یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے سے (دیواروں پر چڑھ کر) آؤ بلکہ نیک وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔
حدیث نمبر: 1803 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا كَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ وَلَكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذَلِكَ، فَنَزَلَتْ: وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا سورة البقرة آية 189.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৪
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر بھی گویا عذاب کا ایک حصہ ہے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کرچکے تو فوراً گھر واپس آجائے۔
حدیث نمبر: 1804 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسافر جب جلد چلنے کی کوشش کر رہا ہو اور اپنے اہل میں جلد پہنچنا چاہئے۔
باب : محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس تم اگر روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو وہ مکہ بھیجو اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ (یعنی احرام نہ کھولو) جب تک قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے (یعنی مکہ پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے) اور عطاء بن ابی رباح (رح) نے کہا کہ جو چیز بھی روکے اس کا یہی حکم ہے۔
1- بَابُ الْمُحْصَرِ وَجَزَاءِ الصَّيْدِ: وَقَوْلِهِ تَعَالَى: فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ سورة البقرة آية 196، وَقَالَ عَطَاءٌ: الْإِحْصَارُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يَحْبِسُهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَصُورًا لَا يَأْتِي النِّسَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر (رض) فساد کے زمانہ میں عمرہ کرنے کے لیے جب مکہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے کعبہ شریف پہنچنے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم لوگوں نے کیا تھا، چناچہ آپ نے بھی صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی حدیبیہ کے سال صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 1806 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৭
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ جن دنوں عبداللہ بن زبیر (رض) پر حجاج کی لشکر کشی ہو رہی تھی تو عبداللہ بن عمر (رض) سے لوگوں نے کہا (کیونکہ آپ مکہ جانا چاہتے تھے) کہ اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو کوئی نقصان نہیں کیونکہ ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک نہ دیا جائے۔ آپ بولے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے تھے اور کفار قریش ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہوگئے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی قربانی نحر کی اور سر منڈا لیا، عبداللہ نے کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے بھی انشاء اللہ عمرہ اپنے پر واجب قرار دے لیا ہے۔ میں ضرور جاؤں گا اور اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے کا راستہ مل گیا تو طواف کروں گا، لیکن اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا، میں اس وقت بھی آپ ﷺ کے ساتھ موجود تھا چناچہ آپ نے ذو الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑی دور چل کر فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہیں، اب میں بھی تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب قرار دے لیا ہے، آپ نے حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ فارغ ہو کر ہی دسویں ذی الحجہ کو احرام کھولا اور قربانی کی۔ آپ فرماتے تھے کہ جب تک حاجی مکہ پہنچ کر ایک طواف زیارت نہ کرلے پورا احرام نہ کھولنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1807 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِأَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৮
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ان سے نافع نے کہ عبداللہ (رض) کے کسی بیٹے نے ان سے کہا تھا کاش آپ اس سال رک جاتے (تو اچھا ہوتا اسی اوپر والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے) ۔
حدیث نمبر: 1808 حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৯
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) نے ان سے فرمایا رسول اللہ ﷺ جب حدیبیہ کے سال مکہ جانے سے روک دیئے گئے تو آپ نے حدیبیہ ہی میں اپنا سر منڈوایا اور ازواج مطہرات کے پاس گئے اور قربانی کو نحر کیا، پھر آئندہ سال ایک دوسرا عمرہ کیا۔
حدیث نمبر: 1809 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَجَامَعَ نِسَاءَهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১০
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: حج سے روکے جانے کا بیان۔
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، کہا کہ ابن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے کہ اگر کسی کو حج سے روک دیا جائے، ہو سکے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرلے اور صفا اور مروہ کی سعی، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہوجائے، یہاں تک کہ وہ دوسرے سال حج کرلے پھر قربانی کرے، اگر قربانی نہ ملے تو روزہ رکھے، عبداللہ سے روایت ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ابن عمر (رض) نے اسی پہلی روایت کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 1810 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا، فَيُهْدِي أَوْ يَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا۔
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ ﷺ نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1811 حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২
عمرہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوبدر شجاع بن ولید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر بن محمد عمری نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ اور سالم نے عبداللہ بن عمر (رض) سے گفتگو کی، (کہ وہ اس سال مکہ نہ جائیں) تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے اور کفار قریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔
حدیث نمبر: 1812 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ ، قَالَ: وَحَدَّثَ نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَسَالِمًا ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ.
তাহকীক: