আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
جنازوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৮ টি
হাদীস নং: ১২৫৭
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ کیا عورت کو مرد کے ازار کا کفن دیا جا سکتا ہے؟
ہم سے عبدالرحمٰن بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں محمد نے، ان سے ام عطیہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوگیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ تم اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ بھی غسل دے سکتی ہو۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ چناچہ جب ہم غسل دے چکیں تو آپ ﷺ کو خبر دی اور آپ ﷺ نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو ۔
حدیث نمبر: 1257 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَنَزَعَ مِنْ حِقْوِهِ إِزَارَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے۔
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس لیے آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ ام عطیہ (رض) نے بیان کیا کہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے کہلا بھجوایا۔ آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہمیں دیا اور فرمایا کہ اسے اندر جسم پر لپیٹ دو ۔ ایوب نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کی، ان سے ام عطیہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ اور ام عطیہ (رض) نے اس روایت میں یوں کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دے سکتی ہو۔ حفصہ (رض) نے بیان کیا کہ ام عطیہ (رض) نے فرمایا کہ ہم نے ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کردیئے تھے۔
حدیث نمبر: 1258 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ، وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، وَعَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، بِنَحْوِهِ. حدیث نمبر: 1259 وَقَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ حَفْصَةُ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے۔
اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دے سکتی ہو۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔
وَقَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ حَفْصَةُ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا۔
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ (رض) نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کردیا تھا۔ پہلے بال کھولے گئے پھر انہیں دھو کر ان کی تین چٹیاں کردی گئیں۔
حدیث نمبر: 1260 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَيُّوبُ : وَسَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ نَقَضْنَهُ، ثُمَّ غَسَلْنَهُ، ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چاہیے۔
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ایوب نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ (رض) کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیعت کی تھی، ایک عورت آئی، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی۔ لیکن وہ نہ ملا۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرلینا۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں (تو اطلاع دی) اور آپ ﷺ نے ازار عنایت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو ۔ اس سے زیادہ آپ ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ ﷺ کی کون سی بیٹی تھیں (یہ ایوب نے کہا) اور انہوں نے بتایا کہ إشعار کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ ابن سیرین (رح) بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔
حدیث نمبر: 1261 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ: جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، فَحَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ، وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيهِ، وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا تُؤْزَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ کیا عورت میت کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے جائیں؟
ہم سے قبیصہ نے حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ام ہذیل نے اور ان سے ام عطیہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی بیٹی کے سر کے بال گوندھ کر ان کی تین چٹیاں کردیں اور وکیع نے سفیان سے یوں روایت کیا، ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چٹیا اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی۔
حدیث نمبر: 1262 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، وَقَالَ وَكِيعٌ: قَالَ سُفْيَانُ: نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عورت کے بالوں کی تین لٹیں بنا کر اس کے پیچھے ڈال دی جائیں۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حفصہ نے بیان کیا، ان سے ام عطیہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوگیا تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو ۔ چناچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے (ان کے کفن کے لیے) اپنا ازار عنایت کیا۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1263 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ کفن کے لیے سفید کپڑے ہونے مناسب ہیں۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں (ان کی خالہ) ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کو یمن کے تین سفید سوتی دھلے ہوئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ۔
حدیث نمبر: 1264 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهِنَّ قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: دو کپڑوں میں کفن دینا۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے، ان سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک شخص میدان عرفہ میں (احرام باندھے ہوئے) کھڑا ہوا تھا کہ اپنی سواری سے گرپڑا اور سواری نے انہیں کچل دیا۔ یا ( وقصته کے بجائے یہ لفظ) أوقصته کہا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں انہیں کفن دو اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ انہیں خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ان کا سر چھپاؤ۔ کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔
حدیث نمبر: 1265 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ أَوْ قَالَ: فَأَوْقَصَتْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: میت کو خوشبو لگانا۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے ساتھ میدان عرفہ میں وقوف کئے ہوئے تھا کہ وہ اپنے اونٹ سے گرپڑا اور اونٹ نے انہیں کچل دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو ، خوشبو نہ لگاؤ اور نہ سر ڈھکو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 1266 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْصَعَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: محرم کو کیونکر کفن دیا جائے۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر جعفر نے، انہیں سعید بن جبیر نے، انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ ان کے سر کو ڈھکو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا۔ اس حالت میں کہ وہ لبیک پکارتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 1267 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ، وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: محرم کو کیونکر کفن دیا جائے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو اور ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑا ہوا تھا، اچانک وہ اپنی سواری سے گرپڑا۔ ایوب نے کہا اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔ اور عمرو نے یوں کہا کہ اونٹنی نے اس کو گرتے ہی مار ڈالا اور اس کا انتقال ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ سر ڈھکو کیونکہ قیامت میں یہ اٹھایا جائے گا۔ ایوب نے کہا کہ (یعنی) تلبیہ کہتے ہوئے (اٹھایا جائے گا) اور عمرو نے (اپنی روایت میں ملبی کے بجائے) ملبيا کا لفظ نقل کیا۔ (یعنی لبیک کہتا ہوا اٹھے گا) ۔
حدیث نمبر: 1268 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَوَقَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَأَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ فَقَالَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ أَيُّوبُ: يُلَبِّي، وَقَالَ عَمْرٌو: مُلَبِّيًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: قمیص میں کفن دینا اور اس کا حاشیہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا ہوا ہو اور بغیر قمیص کے کفن دینا۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے کہا کہ مجھ سے نافع نے عبداللہ بن عمر (رض) سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا (عبداللہ صحابی) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھئے اور مغفرت کی دعا کیجئے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی قمیص (غایت مروت کی وجہ سے) عنایت کی اور فرمایا کہ مجھے بتانا میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو عمر (رض) نے آپ ﷺ کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا چناچہ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھانا ۔
حدیث نمبر: 1269 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ، فَقَالَ: آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ: أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، قَالَ الله تعالى: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ سورة التوبة آية 80، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَنَزَلَتْ: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا سورة التوبة آية 84.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: قمیص میں کفن دینا اور اس کا حاشیہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا ہوا ہو اور بغیر قمیص کے کفن دینا۔
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کو دفن کیا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنی قمیص پہنائی۔
حدیث نمبر: 1270 حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا دُفِنَ، فَأَخْرَجَهُ فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بغیر قمیص کے کفن دینا۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کو تین سوتی دھلے ہوئے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا آپ ﷺ کے کفن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔
حدیث نمبر: 1271 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابِ سُحُولٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بغیر قمیص کے کفن دینا۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے ان سے ہشام نے ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے ان سے ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ تھا۔ امام ابوعبداللہ بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ ابونعیم نے لفظ ثلاثة نہیں کہا اور عبداللہ بن ولید نے سفیان سے لفظ ثلاثة نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1272 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عمامہ کے بغیر کفن دینے کا بیان۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے عائشہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کو سحول کے تین سفید کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا نہ ان میں قمیص تھی اور نہ عمامہ تھا۔
حدیث نمبر: 1273 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کفن کی تیاری میت کے سارے مال میں سے کرنا چاہیے۔
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے ان کے باپ سعد نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر (رض) (غزوہ احد میں) شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہوسکی۔ اسی طرح جب حمزہ (رض) شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ رونے لگے۔
حدیث نمبر: 1274 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا بِطَعَامِهِ، فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر میت کے پاس ایک ہی کپڑا نکلے۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں ان کے باپ ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا۔ وہ روزہ سے تھے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ ہائے ! مصعب بن عمیر (رض) شہید کئے گئے ‘ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر میسر آسکی کہ اگر اس سے ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا اور حمزہ (رض) بھی (اسی طرح) شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے۔ پھر ان کے بعد دنیا کی کشادگی ہمارے لیے خوب ہوئی یا یہ فرمایا کہ دنیا ہمیں بہت دی گئی اور ہمیں تو اس کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں ہم کو مل گیا ہو پھر آپ اس طرح رونے لگے کہ کھانا بھی چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 1275 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، وَأُرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ، قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৬
جنازوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب کفن کا کپڑا چھوٹا ہو کہ سر اور پاؤں دونوں نہ ڈھک سکیں تو سر چھپا دیں (اور پاؤں پر گھاس وغیرہ ڈال دیں)۔
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خباب بن ارت (رض) نے بیان کیا ‘ کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور (اس دنیا میں) انہوں نے اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر (رض) بھی انہیں لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ چن چن کر کھاتا ہے۔ (مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ آخر یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں۔
حدیث نمبر: 1276 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّنُهُ إِلَّا بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ.
তাহকীক: