আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

نماز قصر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৭ টি

হাদীস নং: ১১৮০
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا کہ مجھے نبی کریم ﷺ سے دس رکعت سنتیں یاد ہیں۔ دو رکعت سنت ظہر سے پہلے، دو رکعت سنت ظہر کے بعد، دو رکعت سنت مغرب کے بعد اپنے گھر میں، دو رکعت سنت عشاء کے بعد اپنے گھر میں اور دو رکعت سنت صبح کی نماز سے پہلے اور یہ وہ وقت ہوتا تھا جب آپ ﷺ کے پاس کوئی نہیں جاتا تھا۔ مجھ کو ام المؤمنین حفصہ (رض) نے بتلایا کہ مؤذن جب اذان دیتا اور فجر ہوجاتی تو آپ ﷺ دو رکعتیں پڑھتے۔
حدیث نمبر: 1180 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ سَاعَةً لَا يُدْخَلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا. حدیث نمبر: 1181 حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮১
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا۔
مجھ کو ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ مؤذن جب اذان دیتا اور فجر ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے۔
حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮২
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے ابراہیم بن محمد بن منتشر نے، ان سے ان کے باپ محمد بن منتشر نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعت سنت اور صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت سنت نماز پڑھنی نہیں چھوڑتے تھے۔ یحییٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی عدی اور عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔
حدیث نمبر: 1182 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ،‏‏‏‏ تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرٌو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৩
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنا۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین معلم نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) نے بیان کیا ان سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے (سنت کی دو رکعتیں) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ ﷺ کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔
حدیث نمبر: 1183 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحُسَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنا۔
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے سنا کہ میں عقبہ بن عامر جہنی صحابی (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کو ابوتمیم عبداللہ بن مالک پر تعجب نہیں آیا کہ وہ مغرب کی نماز فرض سے پہلے دو رکعت نفل پڑھتے ہیں۔ اس پر عقبہ نے فرمایا کہ ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسے پڑھتے تھے۔ میں نے کہا پھر اب اس کے چھوڑنے کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دنیا کے کاروبار مانع ہیں۔
حدیث نمبر: 1184 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَرْثَدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيَّ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا أُعْجِبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ !، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُقْبَةُ:‏‏‏‏ إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ الشُّغْلُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نفل نمازیں جماعت سے پڑھنا۔
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے باپ ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری (رض) نے خبر دی کہ انہیں نبی کریم ﷺ یاد ہیں اور آپ ﷺ کی وہ کلی بھی یاد ہے جو آپ ﷺ نے ان کے گھر کے کنویں سے پانی لے کر ان کے منہ میں کی تھی۔ محمود نے کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری (رض) سے سنا جو بدر کی لڑائی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے، وہ کہتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا میرے (گھر) اور قوم کی مسجد کے بیچ میں ایک نالہ تھا، اور جب بارش ہوتی تو اسے پار کر کے مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہوجاتا تھا۔ چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے میں نے کہا کہ میری آنکھیں خراب ہوگئی ہیں اور ایک نالہ ہے جو میرے اور میری قوم کے درمیان پڑتا ہے، وہ بارش کے دنوں میں بہنے لگ جاتا ہے اور میرے لیے اس کا پار کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ آپ ﷺ تشریف لا کر میرے گھر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے اپنے لیے نماز پڑھنے کی جگہ مقرر کرلوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری یہ خواہش جلد ہی پوری کروں گا۔ پھر دوسرے ہی دن آپ ﷺ ابوبکر (رض) کو ساتھ لے کر صبح تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آپ ﷺ تشریف لا کر بیٹھے بھی نہیں بلکہ پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کس جگہ میرے لیے نماز پڑھنا پسند کرو گے۔ میں جس جگہ کو نماز پڑھنے کے لیے پسند کرچکا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہی اور ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھ لی۔ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ سلام پھیرا۔ میں نے حلیم کھانے کے لیے آپ ﷺ کو روک لیا جو تیار ہو رہا تھا۔ محلہ والوں نے جو سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما ہیں تو لوگ جلدی جلدی جمع ہونے شروع ہوگئے اور گھر میں ایک خاصا مجمع ہوگیا۔ ان میں سے ایک شخص بولا۔ مالک کو کیا ہوگیا ہے ! یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر دوسرا بولا وہ تو منافق ہے۔ اسے اللہ اور رسول سے محبت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر فرمایا۔ ایسا مت کہو، دیکھتے نہیں کہ وہ لا إله إلا الله‏ پڑھتا ہے اور اس سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ تب وہ کہنے لگا کہ (اصل حال) تو اللہ اور رسول کو معلوم ہے۔ لیکن واللہ ! ہم تو ان کی بات چیت اور میل جول ظاہر میں منافقوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر اس آدمی پر دوزخ حرام کردی ہے جس نے لا إله إلا الله‏ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کہہ لیا۔ محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ میں بیان کی جس میں نبی کریم ﷺ کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری (رض) بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔ ابوایوب (رض) نے اس حدیث سے انکار کیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی بات کبھی بھی کہی ہو۔ آپ کی یہ گفتگو مجھ کو بہت ناگوار گزری اور میں نے اللہ تعالیٰ کی منت مانی کہ اگر میں اس جہاد سے سلامتی کے ساتھ لوٹا تو واپسی پر اس حدیث کے بارے میں عتبان بن مالک (رض) سے ضرور پوچھوں گا۔ اگر میں نے انہیں ان کی قوم کی مسجد میں زندہ پایا۔ آخر میں جہاد سے واپس ہوا۔ پہلے تو میں نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا پھر جب مدینہ واپسی ہوئی تو میں قبیلہ بنو سالم میں آیا۔ عتبان (رض) جو بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے، اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہوئے ملے۔ سلام پھیرنے کے بعد میں نے حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا اور بتلایا کہ میں فلاں ہوں۔ پھر میں نے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھ سے اس مرتبہ بھی اس طرح یہ حدیث بیان کی جس طرح پہلے بیان کی تھی۔
حدیث نمبر: 1185 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ. حدیث نمبر: 1186 فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بِبَنِي سَالِمٍ وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَأَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ يُصْنَعُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا أَرَاهُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَقُلْ ذَاكَ أَلَا تَرَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لَا نَرَى وُدَّهُ وَلَا حَدِيثَهُ إِلَّا إِلَى الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَحْمُودُ:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ فَأَنْكَرَهَا عَلَيَّ أَبُو أَيُّوبَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৬
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نفل نمازیں جماعت سے پڑھنا۔
محمود نے کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا جو بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، وہ کہتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا میرے (گھر) اور قوم کی مسجد کے بیچ میں ایک نالہ تھا، اور جب بارش ہوتی تو اسے پار کر کے مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے کہا کہ میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں اور ایک نالہ ہے جو میرے اور میری قوم کے درمیان پڑتا ہے، وہ بارش کے دنوں میں بہنے لگ جاتا ہے اور میرے لیے اس کا پار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر میرے گھر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے اپنے لیے نماز پڑھنے کی جگہ مقرر کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری یہ خواہش جلد ہی پوری کروں گا۔ پھر دوسرے ہی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر صبح تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر بیٹھے بھی نہیں بلکہ پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کس جگہ میرے لیے نماز پڑھنا پسند کرو گے۔ میں جس جگہ کو نماز پڑھنے کے لیے پسند کر چکا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہی اور ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ سلام پھیرا۔ میں نے حلیم کھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا جو تیار ہو رہا تھا۔ محلہ والوں نے جو سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما ہیں تو لوگ جلدی جلدی جمع ہونے شروع ہو گئے اور گھر میں ایک خاصا مجمع ہو گیا۔ ان میں سے ایک شخص بولا۔ مالک کو کیا ہو گیا ہے! یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر دوسرا بولا وہ تو منافق ہے۔ اسے اللہ اور رسول سے محبت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا۔ ایسا مت کہو، دیکھتے نہیں کہ وہ لا إله إلا الله‏ پڑھتا ہے اور اس سے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ تب وہ کہنے لگا کہ (اصل حال) تو اللہ اور رسول کو معلوم ہے۔ لیکن واللہ! ہم تو ان کی بات چیت اور میل جول ظاہر میں منافقوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر اس آدمی پر دوزخ حرام کر دی ہے جس نے لا إله إلا الله‏ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کہہ لیا۔ محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ میں بیان کی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے انکار کیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات کبھی بھی کہی ہو۔ آپ کی یہ گفتگو مجھ کو بہت ناگوار گزری اور میں نے اللہ تعالیٰ کی منت مانی کہ اگر میں اس جہاد سے سلامتی کے ساتھ لوٹا تو واپسی پر اس حدیث کے بارے میں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے ضرور پوچھوں گا۔ اگر میں نے انہیں ان کی قوم کی مسجد میں زندہ پایا۔ آخر میں جہاد سے واپس ہوا۔ پہلے تو میں نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا پھر جب مدینہ واپسی ہوئی تو میں قبیلہ بنو سالم میں آیا۔ عتبان رضی اللہ عنہ جو بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے، اپنی قوم کو نماز پڑھاتے ہوئے ملے۔ سلام پھیرنے کے بعد میں نے حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا اور بتلایا کہ میں فلاں ہوں۔ پھر میں نے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے مجھ سے اس مرتبہ بھی اس طرح یہ حدیث بیان کی جس طرح پہلے بیان کی تھی۔
فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بِبَنِي سَالِمٍ وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَأَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ يُصْنَعُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا أَرَاهُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَقُلْ ذَاكَ أَلَا تَرَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لَا نَرَى وُدَّهُ وَلَا حَدِيثَهُ إِلَّا إِلَى الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَحْمُودُ:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ فَأَنْكَرَهَا عَلَيَّ أَبُو أَيُّوبَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৭
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: گھر میں نفل نماز پڑھنا۔
ہم سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی اور عبیداللہ بن عمر نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور انہیں بالکل قبریں نہ بنا لو (کہ جہاں نماز ہی نہ پڑھی جاتی ہو) وہیب کے ساتھ اس حدیث کو عبدالوہاب ثقفی نے بھی ایوب سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1187 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏ وَعُبَيْدِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ ،‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৮
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مکہ اور مدینہ کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالملک نے قزعہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسعید (رض) سے چار باتیں سنیں اور انہوں نے بتلایا کہ میں نے انہیں نبی کریم ﷺ سے سنا تھا، آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بارہ جہاد کئے تھے۔ (دوسری سند) ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ (یعنی سفر نہ کیا جائے) ایک مسجد الحرام، دوسری رسول اللہ ﷺ کی مسجد (مسجد نبوی) اور تیسری مسجد الاقصیٰ یعنی بیت المقدس۔
حدیث نمبر: 1188 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَزَعَةَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعًا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً. حدیث نمبر: 1189 ح حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৯
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مکہ اور مدینہ کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
(دوسری سند) ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ (یعنی سفر نہ کیا جائے) ایک مسجد الحرام، دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (مسجد نبوی) اور تیسری مسجد الاقصیٰ یعنی بیت المقدس۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯০
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مکہ اور مدینہ کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغر سے خبر دی، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجد الحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 1190 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وقَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ ، ‏‏‏‏‏‏ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯১
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسجد قباء کی فضیلت۔
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ایوب سختیانی نے خبر دی اور انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر (رض) چاشت کی نماز صرف دو دن پڑھتے تھے۔ جب مکہ آتے کیونکہ آپ مکہ میں چاشت ہی کے وقت آتے تھے اس وقت پہلے آپ طواف کرتے اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھتے۔ دوسرے جس دن آپ مسجد قباء میں تشریف لاتے آپ کا یہاں ہر ہفتہ کو آنے کا معمول تھا۔ جب آپ مسجد کے اندر آتے تو نماز پڑھے بغیر باہر نکلنا برا جانتے۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ یہاں سوار اور پیدل دونوں طرح آیا کرتے تھے۔ نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے کہ میں اسی طرح کرتا ہوں جیسے میں نے اپنے ساتھیوں (صحابہ رضی اللہ عنہم) کو کرتے دیکھا ہے۔ لیکن تمہیں رات یا دن کے کسی حصے میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتا۔ صرف اتنی بات ہے کہ قصد کر کے تم سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 1191 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاكَانَ لَا يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلَّا فِي يَوْمَيْنِ يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا. حدیث نمبر: 1192 قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَيِّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، ‏‏‏‏‏‏غَيْرَ أَنْ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسجد قباء کی فضیلت۔
نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ میں اسی طرح کرتا ہوں جیسے میں نے اپنے ساتھیوں (صحابہ رضی اللہ عنہم) کو کرتے دیکھا ہے۔ لیکن تمہیں رات یا دن کے کسی حصے میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتا۔ صرف اتنی بات ہے کہ قصد کر کے تم سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نہ پڑھو۔
قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَصْنَعُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَمْنَعُ أَحَدًا أَنْ يُصَلِّيَ فِي أَيِّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، ‏‏‏‏‏‏غَيْرَ أَنْ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جو شخص مسجد قباء میں ہر ہفتہ حاضر ہوا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ہر ہفتہ کو مسجد قباء آتے پیدل بھی (بعض دفعہ) اور سواری پر بھی اور عبداللہ بن عمر (رض) بھی ایسا ہی کرتے۔
حدیث نمبر: 1193 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৪
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسجد قباء آنا کبھی سواری پر اور کبھی پیدل۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، اور ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر (رض) سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ قباء آتے کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔ ابن نمیر نے اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے عبیداللہ بن عمیر نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ پھر آپ ﷺ اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1194 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا، ‏‏‏‏‏‏زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৫
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف اور منبر مبارک کے درمیانی حصہ کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے، انہیں عباد بن تمیم نے اور انہیں (ان کے چچا) عبداللہ بن زید مازنی (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے اس منبر کے درمیان کا حصہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے۔
حدیث نمبر: 1195 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৬
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف اور منبر مبارک کے درمیانی حصہ کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہوگا۔
حدیث نمبر: 1196 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৭
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بیت المقدس کی مسجد کا بیان۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، انہوں نے زیاد کے غلام قزعہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابو سعید خدری (رض) کو رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے چار حدیثیں بیان کرتے ہوئے سنا جو مجھے بہت پسند آئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت اپنے شوہر یا کسی ذی رحم محرم کے بغیر دو دن کا بھی سفر نہ کرے اور دوسری یہ کہ عیدالفطر اور عید الاضحی دونوں دن روزے نہ رکھے جائیں۔ تیسری بات یہ کہ صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج چھپنے تک کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔ چوتھی یہ کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) ۔
حدیث نمبر: 1197 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ بِأَرْبَعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي،‏‏‏‏ وَآنَقْنَنِي،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ إِلَّا مَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৮
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں ہاتھ سے نماز کا کوئی کام کرنا۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں مخرمہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ابن عباس کے غلام کریب نے عبداللہ بن عباس (رض) سے خبر دی کہ آپ ایک رات ام المؤمنین میمونہ (رض) کے یہاں سوئے۔ ام المؤمنین میمونہ (رض) آپ کی خالہ تھیں۔ آپ نے بیان کیا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی بیوی اس کے طول میں لیٹے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سو گئے حتیٰ کہ آدھی رات ہوئی یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد۔ تو آپ ﷺ بیدار ہو کر بیٹھ گئے اور چہرے سے نیند کے خمار کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دور کرنے لگے۔ پھر سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں اس کے بعد پانی کی ایک مشک کے پاس گئے جو لٹک رہی تھی، اس سے آپ ﷺ نے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کی۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا کہ میں بھی اٹھا اور جس طرح نبی کریم ﷺ نے کیا تھا میں نے بھی کیا اور پھر جا کر آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے داہنے کان کو پکڑ کر اسے اپنے ہاتھ سے مروڑنے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی۔ اس کے بعد (ایک رکعت) وتر پڑھا اور لیٹ گئے۔ جب مؤذن آیا تو آپ ﷺ دوبارہ اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھ کر باہر نماز (فجر) کے لیے تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 1198 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَمَسَحَ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتٍ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَوْتَرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৯
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں بات کرنا منع ہے۔
ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ (پہلے) نبی کریم ﷺ نماز پڑھتے ہوتے اور ہم سلام کرتے تو آپ ﷺ اس کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس ہوئے تو ہم نے (پہلے کی طرح نماز ہی میں) سلام کیا۔ لیکن اس وقت آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا بلکہ نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ نماز میں آدمی کو فرصت کہاں۔
حدیث نمبر: 1199 حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا.
tahqiq

তাহকীক: