আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
نماز قصر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৭ টি
হাদীস নং: ১১০০
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نفل نماز گدھے پر بیٹھے ہوئے ادا کرنا۔
ہم سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس (رض) شام سے جب (حجاج کی خلیفہ سے شکایت کر کے) واپس ہوئے تو ہم ان سے عین التمر میں ملے۔ میں نے دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔ اس روایت کو ابراہیم ابن طہمان نے بھی حجاج سے، انہوں نے انس بن سیرین سے، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1100 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: اسْتَقْبَلْنَا أَنَسًا بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ مِنْ الشَّأْمِ، فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ، رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں جس نے فرض نماز سے پہلے اور پیچھے سنتوں کو نہیں پڑھا۔
ہم سے یحییٰ بن سلیمان کوفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن یزید نے بیان کیا کہ حفص بن عاصم بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہا ہوں۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدیث نمبر: 1101 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০২
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں جس نے فرض نماز سے پہلے اور پیچھے سنتوں کو نہیں پڑھا۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن حفص بن عاصم نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو یہ فرماتے سنا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا ہوں، آپ ﷺ سفر میں دو رکعت (فرض) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1102 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৩
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: فرض نمازوں کے بعد اور اول کی سنتوں کے علاوہ اور دوسرے نفل سفر میں پڑھنا۔
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی (رض) کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے آپ ﷺ کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ ﷺ رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔ اور لیث بن سعد (رح) نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ (رات میں) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے، وہ جدھر آپ ﷺ کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔
حدیث نمبر: 1103 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِوٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ ، ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ. حدیث نمبر: 1104 وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৪
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: فرض نمازوں کے بعد اور اول کی سنتوں کے علاوہ اور دوسرے نفل سفر میں پڑھنا۔
اور لیث بن سعد رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے، وہ جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ"رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৫
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: فرض نمازوں کے بعد اور اول کی سنتوں کے علاوہ اور دوسرے نفل سفر میں پڑھنا۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے۔ عبداللہ بن عمر (رض) بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1105 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَبِّحُ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৬
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھنا۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر سے کہ نبی کریم ﷺ کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے، اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ اور ابن طہمان ہی نے بیان کیا کہ ان سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے حفص بن عبیداللہ بن انس (رض) نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے۔ یحییٰ ، حفص سے اور حفص انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں۔
حدیث نمبر: 1106 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ. حدیث نمبر: 1107 وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. حدیث نمبر: 1108 وَعَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ، وَتَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَحَرْبٌ ، عَنْيَحْيَى ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৭
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھنا۔
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے، اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৮
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھنا۔
اور ابن طہمان ہی نے بیان کیا کہ ان سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے حفص بن عبیداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے۔ یحییٰ، حفص سے اور حفص انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں۔
وَعَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ، وَتَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَحَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَنَسٍ، جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৯
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب مغرب اور عشاء ملا کر پڑھے تو کیا ان کے لیے اذان و تکبیر کہی جائے گی؟
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر (رض) سے خبر دی۔ آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب جلدی سفر طے کرنا ہوتا تو مغرب کی نماز مؤخر کردیتے۔ پھر اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) بھی اگر سفر سرعت کے ساتھ طے کرنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے۔ مغرب کی تکبیر پہلے کہی جاتی اور آپ تین رکعت مغرب کی نماز پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ پھر معمولی سے توقف کے بعد عشاء کی تکبیر کہی جاتی اور آپ اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ دونوں نمازوں کے درمیان ایک رکعت بھی سنت وغیرہ نہ پڑھتے اور اسی طرح عشاء کے بعد بھی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ درمیان شب میں آپ اٹھتے (اور تہجد ادا کرتے) ۔
حدیث نمبر: 1109 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ وَيُقِيمُ الْمَغْرِبَ فَيُصَلِّيهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ فَيُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَلَا يُسَبِّحُ بَيْنَهُمَا بِرَكْعَةٍ وَلَا بَعْدَ الْعِشَاءِ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১০
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب مغرب اور عشاء ملا کر پڑھے تو کیا ان کے لیے اذان و تکبیر کہی جائے گی؟
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حفص بن عبیداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس (رض) نے ان سے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو سفر میں ایک ساتھ ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1110 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّأَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১১
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسافر جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرے تو ظہر کی نماز میں عصر کا وقت آنے تک دیر کرے۔
ہم سے حسان واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نماز عصر تک نہ پڑھتے پھر ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
حدیث نمبر: 1111 حَدَّثَنَا حَسَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَإِذَا زَاغَتْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১২
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سفر اگر سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہو تو پہلے ظہر پڑھ لے پھر سوار ہو۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر عصر کا وقت آنے تک نہ پڑھتے۔ پھر کہیں (راستے میں) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔
حدیث نمبر: 1112 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৩
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک (رح) نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ عروہ نے، ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ بیمار تھے اس لیے آپ ﷺ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی، بعض لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔
حدیث نمبر: 1113 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৪
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے گرپڑے اور اس کی وجہ سے آپ ﷺ کے دائیں پہلو پر زخم آگئے۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آگیا۔ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو۔
حدیث نمبر: 1114 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَخُدِشَ أَوْ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا، وَقَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৫
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین (رض) نے کہ آپ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا (دوسری سند) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین (رض) نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 1115 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَكَانَ مَبْسُورًا قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، فَقَالَ: إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৬
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بیٹھ کر اشاروں سے نماز پڑھنا۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن بریدہ نے کہ عمران بن حصین نے جنہیں بواسیر کا مرض تھا۔ اور کبھی ابومعمر نے یوں کہا کہ عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں نائم مضطجع کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا۔
حدیث نمبر: 1116 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ وَكَانَ رَجُلًا مَبْسُورًا، وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَرَّةً، عَنْ عِمْرَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: نَائِمًا عِنْدِي مُضْطَجِعًا هَا هُنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৭
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب بیٹھ کر بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھے۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے امام عبداللہ بن مبارک نے، ان سے ابراہیم بن طہمان نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حسین مکتب نے (جو بچوں کو لکھنا سکھاتا تھا) بیان کیا، ان سے ابن بریدہ نے اور ان سے عمران بن حصین (رض) نے کہا کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم ﷺ سے نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 1117 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৮
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی شخص نے نماز بیٹھ کر شروع کی لیکن دوران نماز میں وہ تندرست ہو گیا یا مرض میں کچھ کمی محسوس کی تو باقی نماز کھڑے ہو کر پوری کرے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) نے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ جب آپ ضعیف ہوگئے تو قرآت قرآن نماز میں بیٹھ کر کرتے تھے، پھر جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہوجاتے اور پھر تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔
حدیث نمبر: 1118 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى أَسَنَّ فَكَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ آيَةً أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً ثُمَّ رَكَعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৯
نماز قصر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کسی شخص نے نماز بیٹھ کر شروع کی لیکن دوران نماز میں وہ تندرست ہو گیا یا مرض میں کچھ کمی محسوس کی تو باقی نماز کھڑے ہو کر پوری کرے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ ﷺ انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ ﷺ بھی لیٹ جاتے۔
حدیث نمبر: 1119 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ سَجَدَ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ نَظَرَ فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَى تَحَدَّثَ مَعِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ.
তাহকীক: