আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
اذان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৩ টি
হাদীস নং: ৭৪৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ تکبیر تحریمہ کے بعد کیا پڑھا جائے؟
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے قتادہ (رض) کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر اور عمر (رض) نماز الحمد لله رب العالمين سے شروع کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 743 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ تکبیر تحریمہ کے بعد کیا پڑھا جائے؟
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ (رض) نے یوں کہا یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے۔ اے اللہ ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو ڈال۔
حدیث نمبر: 744 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: هُنَيَّةً، فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ، قَالَ: أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (سورج گہن کے وقت نماز)۔
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں نافع بن عمر نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے اسماء بنت ابی بکر سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گہن کی نماز پڑھی۔ آپ ﷺ جب کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع میں گئے تو دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر (دوبارہ) رکوع میں گئے اور دیر تک رکوع کی حالت میں رہے اور پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر (دوبارہ) رکوع کیا اور آپ ﷺ دیر تک رکوع کی حالت میں رہے۔ پھر سر اٹھایا۔ پھر آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جنت مجھ سے اتنی نزدیک ہوگئی تھی کہ اگر میں چاہتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تم کو توڑ کر لا دیتا اور مجھ سے دوزخ بھی اتنی قریب ہوگئی تھی کہ میں بول پڑا کہ میرے مالک میں تو اس میں سے نہیں ہوں ؟ میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ اس عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب ملا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھے رکھا تھا تاآنکہ بھوک کی وجہ سے وہ مرگئی، نہ تو اس نے اسے کھانا دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ خود کہیں سے کھا لیتی۔ نافع نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے یوں کہا کہ نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے وغیرہ کھا لیتی۔
حدیث نمبر: 745 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ، فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ، فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، قُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا لَا أَطْعَمَتْهَا وَلَا أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ، قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ، أَنَّهُ قَالَ: مِنْ خَشِيشِ أَوْ خَشَاشِ الْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں امام کی طرف دیکھنا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے عمارہ بن عمیر سے بیان کیا، انہوں نے (عبداللہ بن مخبرہ) ابومعمر سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت (رض) صحابی سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی رکعتوں میں (فاتحہ کے سوا) اور کچھ قرآت کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ لوگ یہ بات کس طرح سمجھ جاتے تھے۔ فرمایا کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔
حدیث نمبر: 746 حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: قُلْنَالِخَبَّابٍ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں امام کی طرف دیکھنا۔
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق عمرو بن عبداللہ سبیعی نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید (رض) سے سنا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم سے براء بن عازب (رض) نے بیان کیا اور وہ جھوٹے نہیں تھے کہ جب وہ (صحابہ) نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو نبی کریم ﷺ کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک دیکھتے کہ آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے ہیں (اس وقت وہ بھی سجدے میں جاتے) ۔
حدیث نمبر: 747 حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَخْطُبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُواإِذَا صَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْنَهُ قَدْ سَجَدَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں امام کی طرف دیکھنا۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے زید بن اسلم سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ ﷺ نے گہن کی نماز پڑھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) آپ ﷺ اپنی جگہ سے کچھ لینے کو آگے بڑھے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ کچھ پیچھے ہٹے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر میں لے لیتا تو اس وقت تک تم اسے کھاتے رہتے جب تک دنیا موجود ہے۔
حدیث نمبر: 748 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، قَالَ: إِنِّي أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں امام کی طرف دیکھنا۔
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا انس بن مالک (رض) سے۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے قبلہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ابھی جب میں نماز پڑھا رہا تھا تو جنت اور دوزخ کو اس دیوار پر دیکھا۔ اس کی تصویریں اس دیوار میں قبلہ کی طرف نمودار ہوئیں تو میں نے آج کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھی۔ آپ ﷺ نے قول مذکور تین بار فرمایا۔
حدیث نمبر: 749 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَقَا الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الْآنَ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبْلَةِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانا کیسا ہے؟
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مہران ابن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک (رض) نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس سے نہایت سختی سے روکا۔ یہاں تک آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 750 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اشعث بن سلیم نے بیان کیا اپنے والد کے واسطے سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے عائشہ (رض) سے آپ نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ڈاکہ ہے جو شیطان بندے کی نماز پر ڈالتا ہے۔
حدیث نمبر: 751 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ: هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کردیا۔ اسے لے جا کر ابوجہم کو واپس کر دو اور ان سے (بجائے اس کے) سادی چادر مانگ لاؤ۔
حدیث نمبر: 752 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر نمازی پر کوئی حادثہ ہو یا نمازی کوئی بری چیز دیکھے یا قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھے (تو التفات میں کوئی قباحت نہیں)۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے ابن عمر (رض) سے آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی دیوار پر رینٹ دیکھی۔ آپ ﷺ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے (نماز ہی میں) رینٹ کو کھرچ ڈالا۔ پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے منہ کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص سامنے کی طرف نماز میں نہ تھوکے۔ اس حدیث کی روایت موسیٰ بن عقبہ اور عبدالعزیز ابن ابی رواد نے نافع سے کی۔
حدیث نمبر: 753 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ، رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر نمازی پر کوئی حادثہ ہو یا نمازی کوئی بری چیز دیکھے یا قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھے (تو التفات میں کوئی قباحت نہیں)۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ (نبی کریم ﷺ کے مرض وفات میں) مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، اچانک رسول اللہ ﷺ نے عائشہ (رض) کے حجرہ سے پردہ ہٹایا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو دیکھا۔ سب لوگ صفیں باندھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ (خوشی سے) خوب کھل کر مسکرائے اور ابوبکر (رض) نے (آپ ﷺ کو دیکھ کر) پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ صف میں مل جائیں۔ آپ نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ صحابہ (آپ ﷺ کو دیکھ کر خوشی سے اس قدر بےقرار ہوئے کہ گویا) نماز ہی چھوڑ دیں گے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرلو اور پردہ ڈال لیا۔ اسی دن چاشت کو آپ ﷺ نے وفات پائی۔
حدیث نمبر: 754 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، قَالَ: بَيْنَمَا الْمُسْلِمُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ لَهُ الصَّفَّ فَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ فَأَرْخَى السِّتْرَ وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ (رض) سے بیان کیا، کہا کہ اہل کوفہ نے سعد بن ابی وقاص (رض) کی عمر فاروق (رض) سے شکایت کی۔ اس لیے عمر (رض) نے ان کو مغزول کر کے عمار (رض) کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے۔ چناچہ عمر (رض) نے ان کو بلا بھیجا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق ! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم ! میں تو انہیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں (قرآت) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ اے ابواسحاق ! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔ پھر آپ نے سعد (رض) کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو (سنیے کہ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ سعد (رض) نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اللہ کی قسم میں (تمہاری اس بات پر) تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد (رض) کی بددعا لگ گئی۔ عبدالملک نے بیان کیا کہ میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آگئی تھی۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا۔
حدیث نمبر: 755 حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَزَلَهُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا أُصَلِّي صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأُخِفُّ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ، فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إِلَى الْكُوفَةِ فَسَأَلَ عَنْهُ أَهْلَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْهُ وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا، حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ قَالَ: أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لَا يَسِيرُ بِالسَّرِيَّةِ وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ، قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَدْعُوَنَّ بِثَلَاثٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهُ وَأَطِلْ فَقْرَهُ وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعْدٍ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، وَإِنَّهُ لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا محمود بن ربیع سے، انہوں نے عبادہ بن صامت (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جس شخص نے سورة فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 756 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے باپ ابوسعید مقبری سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اس کے بعد ایک اور شخص آیا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر نبی کریم ﷺ کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا۔ لیکن آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے اس طرح تین مرتبہ کیا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس کے علاوہ اور کوئی اچھا طریقہ نہیں جانتا، اس لیے آپ مجھے نماز سکھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے تکبیر تحریمہ کہہ۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تجھ کو یاد ہو اس کی تلاوت کر۔ اس کے بعد رکوع کر، اچھی طرح سے رکوع ہو لے تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑا ہوجا۔ اس کے بعد سجدہ کر پورے اطمینان کے ساتھ۔ پھر سر اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کر۔
حدیث نمبر: 757 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ وَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي، فَقَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز ظہر میں قرآت کا بیان۔
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن سمرہ سے کہ سعد بن ابی وقاص (رض) نے عمر (رض) سے کہا میں ان (کوفہ والوں) کو نبی کریم ﷺ کی طرح نماز پڑھاتا تھا۔ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں، کسی قسم کا نقص ان میں نہیں چھوڑتا تھا۔ پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی۔ تو عمر (رض) نے فرمایا کہ مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔
حدیث نمبر: 758 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ : كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا، أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৫৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز ظہر میں قرآت کا بیان۔
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ہر رکعت میں ایک ایک سورت پڑھتے تھے، ان میں بھی قرآت کرتے تھے لیکن آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے تھے کبھی کبھی ہم کو بھی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے۔ عصر میں آپ ﷺ سورة فاتحہ اور سورتیں پڑھتے تھے، اس کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتے۔ اسی طرح صبح کی نماز کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری ہلکی۔
حدیث نمبر: 759 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَيُسْمِعُ الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز ظہر میں قرآت کا بیان۔
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن مہران اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ بن عمیر نے بیان کیا ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کیا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے بتلایا کہ ہاں، ہم نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس طرح معلوم ہوتا تھا ؟ فرمایا کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔
حدیث نمبر: 760 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: سَأَلْنَاخَبَّابًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ، قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز عصر میں قرآت کا بیان۔
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے اعمش سے، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے، انہوں نے ابومعمر سے کہ میں نے خباب بن الارت سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرآت کیا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ! میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی قرآت کرنے کو آپ لوگ کس طرح معلوم کرلیتے تھے ؟ فرمایا کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔
حدیث نمبر: 761 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: قُلْتُلِخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ قِرَاءَتَهُ، قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز عصر میں قرآت کا بیان۔
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے ہشام دستوائی سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورة فاتحہ اور ایک ایک سورة پڑھتے تھے۔ اور آپ ﷺ کبھی کبھی کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے۔
حدیث نمبر: 762 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا.
তাহকীক: