আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭২ টি

হাদীস নং: ৪৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے کے بائیں طرف ان گھنے درختوں کے پاس قیام فرمایا جو ہرشی پہاڑ کے نزدیک نشیب میں ہیں۔ یہ ڈھلوان جگہ ہرشی کے ایک کنارے سے ملی ہوئی ہے۔ یہاں سے عام راستہ تک پہنچنے کے لیے تیر کی مار کا فاصلہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بڑے درخت کی طرف نماز پڑھتے تھے جو ان تمام درختوں میں راستے سے سب سے زیادہ نزدیک ہے اور سب سے لمبا درخت بھی یہی ہے۔
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عِنْدَ سَرَحَاتٍ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَى ذَلِكَ الْمَسِيلُ لَاصِقٌ بِكُرَاعِ هَرْشَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي إِلَى سَرْحَةٍ هِيَ أَقْرَبُ السَّرَحَاتِ إِلَى الطَّرِيقِ وَهِيَ أَطْوَلُهُنَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اترا کرتے تھے جو وادی مرالظہران کے نشیب میں ہے۔ مدینہ کے مقابل جب کہ مقام صفراوات سے اترا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈھلوان کے بالکل نشیب میں قیام کرتے تھے۔ یہ راستے کے بائیں جانب پڑتا ہے جب کوئی شخص مکہ جا رہا ہو (جس کو اب بطن مرو کہتے ہیں) راستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل کے درمیان صرف ایک پتھر ہی کے مار کا فاصلہ ہوتا۔
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ فِي الْمَسِيلِ الَّذِي فِي أَدْنَى مَرِّ الظَّهْرَانِ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ يَهْبِطُ مِنَ الصَّفْرَاوَاتِ يَنْزِلُ فِي بَطْنِ ذَلِكَ الْمَسِيلِ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ لَيْسَ بَيْنَ مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ إِلَّا رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی طویٰ میں قیام فرماتے اور رات یہیں گزارا کرتے تھے اور صبح ہوتی تو نماز فجر یہیں پڑھتے۔ مکہ جاتے ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی۔ اس مسجد میں نہیں جواب وہاں بنی ہوئی ہے بلکہ اس سے نیچے ایک بڑا ٹیلا تھا۔
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى وَيَبِيتُ حَتَّى يُصْبِحَ يُصَلِّي الصُّبْحَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے دونوں کونوں کا رخ کیا جو اس کے اور جبل طویل کے درمیان کعبہ کی سمت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کو جو اب وہاں تعمیر ہوئی ہے اپنی بائیں طرف کر لیتے ٹیلے کے کنارے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اس سے نیچے سیاہ ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان ہے۔
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ تَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ اس زمانہ میں بالغ ہونے والا تھا۔ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ لیکن دیوار آپ ﷺ کے سامنے نہ تھی۔ میں صف کے بعض حصے سے گزر کر سواری سے اترا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہوگیا۔ پس کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 493 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، ‏‏‏‏‏‏وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن (مدینہ سے) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹے نیزہ (برچھا) کو گاڑنے کا حکم دیتے وہ جب آپ ﷺ کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ ﷺ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ یہی آپ ﷺ سفر میں بھی کیا کرتے تھے۔ (مسلمانوں کے) خلفاء نے اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت بنا لی ہے۔
حدیث نمبر: 494 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام کا سترہ مقتدیوں کو بھی کفایت کرتا ہے۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفہ سے، کہا میں نے اپنے باپ (وہب بن عبداللہ) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو بطحاء میں نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ کے سامنے عنزہ (ڈنڈا جس کے نیچے پھل لگا ہوا ہو) گاڑ دیا گیا تھا۔ (چونکہ آپ ﷺ مسافر تھے اس لیے) ظہر کی دو رکعت اور عصر کی دو رکعت ادا کیں۔ آپ ﷺ کے سامنے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 495 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، ‏‏‏‏‏‏الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نمازی اور سترہ میں کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے باپ ابوحازم سلمہ بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سجدہ کرنے کی جگہ اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزر سکنے کا فاصلہ رہتا تھا۔
حدیث نمبر: 496 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نمازی اور سترہ میں کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے، انہوں نے سلمہ بن اکوع (رض) سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ مسجد کی دیوار اور منبر کے درمیان بکری کے گزر سکنے کے فاصلے کے برابر جگہ تھی۔
حدیث نمبر: 497 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا كَادَتِ الشَّاةُ تَجُوزُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: برچھی کی طرف نماز پڑھنا۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ کے واسطے سے بیان کیا، کہا مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر (رض) کے واسطہ سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کے لیے برچھا گاڑ دیا جاتا آپ ﷺ اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 498 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عنزہ (لکڑی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو) کی طرف نماز پڑھنا۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے سنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا گیا، جس سے آپ ﷺ نے وضو کیا۔ پھر ہمیں آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر کی، آپ ﷺ کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور عورتیں اور گدھے پر سوار لوگ اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 499 حَدَّثَنَا آدَمُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عنزہ (لکڑی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو) کی طرف نماز پڑھنا۔
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شاذان بن عامر نے شعبہ بن حجاج کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ جب رفع حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک اور لڑکا آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے جاتے۔ ہمارے ساتھ عکازہ (ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو) یا چھڑی یا عنزہ ہوتا۔ اور ہمارے ساتھ ایک چھاگل بھی ہوتا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ حاجت سے فارغ ہوجاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چھاگل دے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 500 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ وَمَعَنَا عُكَّازَةٌ أَوْ عَصًا أَوْ عَنَزَةٌ وَمَعَنَا إِدَاوَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ نَاوَلْنَاهُ الْإِدَاوَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مکہ اور اس کے علاوہ دوسرے مقامات میں سترہ کا حکم۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم بن عیینہ سے، انہوں نے ابوحجیفہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے اور آپ ﷺ نے بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ ﷺ کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور جب آپ ﷺ نے وضو کیا تو لوگ آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو اپنے بدن پر لگا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 501 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَصَلَّى بِالْبَطْحَاءِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَصَبَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً وَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ستونوں کی آڑ میں نماز پڑھنا۔
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، کہا کہ میں سلمہ بن اکوع (رض) کے ساتھ (مسجد نبوی میں) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ (رض) ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابومسلم ! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 502 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ستونوں کی آڑ میں نماز پڑھنا۔
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن عامر سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے بڑے بڑے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ مغرب (کی اذان) کے وقت ستونوں کی طرف لپکتے۔ اور شعبہ نے عمرو بن عامر سے انہوں نے انس (رض) سے (اس حدیث میں) یہ زیادتی کی ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ حجرے سے باہر تشریف لاتے۔
حدیث نمبر: 503 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: دو ستونوں کے بیچ میں نمازی اگر اکیلا ہو تو نماز پڑھ سکتا ہے۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ دیر تک اندر رہے۔ پھر باہر آئے۔ اور میں سب لوگوں سے پہلے آپ ﷺ کے پیچھے ہی وہاں آیا۔ میں نے بلال (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آگے کے دو ستونوں کے بیچ میں آپ ﷺ نے نماز پڑھی تھی۔
حدیث نمبر: 504 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٌ فَأَطَالَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ وَكُنْتُ أَوَّلَ النَّاسِ دَخَلَ عَلَى أَثَرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ بِلَالًا:‏‏‏‏ أَيْنَ صَلَّى ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: دو ستونوں کے بیچ میں نمازی اگر اکیلا ہو تو نماز پڑھ سکتا ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ پھر عثمان (رض) نے کعبہ کا دروازہ بند کردیا۔ اور آپ ﷺ اس میں ٹھہرے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو میں نے بلال (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے اندر کیا کیا ؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ستون کو تو بائیں طرف چھوڑا اور ایک کو دائیں طرف اور تین کو پیچھے اور اس زمانہ میں خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی ادریس نے کہا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے امام مالک نے یہ حدیث یوں بیان کی کہ آپ ﷺ نے اپنے دائیں طرف دو ستون چھوڑے تھے۔
حدیث نمبر: 505 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ بِلَالًاحِينَ خَرَجَ:‏‏‏‏ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ :‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب کعبہ میں داخل ہوتے تو سیدھے منہ کے سامنے چلے جاتے۔ دروازہ پیٹھ کی طرف ہوتا اور آپ آگے بڑھتے جب ان کے اور سامنے کی دیوار کا فاصلہ قریب تین ہاتھ کے رہ جاتا تو نماز پڑھتے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے جس کے متعلق بلال (رض) نے آپ کو بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے یہیں نماز پڑھی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ بیت اللہ میں جس کونے میں ہم چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 506 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَشَى حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ صَلَّى يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِبِلَالٌ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَيْسَ عَلَى أَحَدِنَا بَأْسٌ إِنْ صَلَّى فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اونٹنی، اونٹ، درخت اور پالان کو سامنے کر کے نماز پڑھنا۔
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا عبیداللہ بن عمر سے، وہ نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ اپنی سواری کو سامنے عرض میں کرلیتے اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، عبیداللہ بن عمر نے نافع سے پوچھا کہ جب سواری اچھلنے کودنے لگتی تو اس وقت آپ کیا کیا کرتے تھے ؟ نافع نے کہا کہ آپ اس وقت کجاوے کو اپنے سامنے کرلیتے اور اس کے آخری حصے کی (جس پر سوار ٹیک لگاتا ہے ایک کھڑی سی لکڑی کی) طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور عبداللہ بن عمر (رض) بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 507 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: چارپائی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عائشہ (رض) سے آپ نے فرمایا تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنادیا۔ حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی رہتی تھی۔ اور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور چارپائی کے بیچ میں آجاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلے کے بیچ میں کرلیتے) پھر نماز پڑھتے۔ مجھے آپ ﷺ کے سامنے پڑا رہنا برا معلوم ہوتا، اس لیے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کے لحاف سے باہر نکل جاتی۔
حدیث نمبر: 508 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي.
tahqiq

তাহকীক: