আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
غسل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৬ টি
হাদীস নং: ২৬৮
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب جماع کرلے پھر دوبارہ کرنا چاہے اور جس نے ایک ہی غسل میں اپنی تمام بیویوں کے پاس دورہ کیا
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے قتادہ کے واسطہ سے، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ نبی کریم ﷺ دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں۔ (نو منکوحہ اور دو لونڈیاں) راوی نے کہا، میں نے انس سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ اس کی طاقت رکھتے تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتادہ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو ازواج کا ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 268 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَوَكَانَ يُطِيقُهُ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ، وَقَالَ سَعِيدٌ : عَنْ قَتَادَةَ ، إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ: تِسْعُ نِسْوَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے ابوحصین کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے علی (رض) سے، آپ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی (فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا) تھیں۔ اس لیے میں نے ایک شخص (مقداد بن اسود اپنے شاگرد) سے کہا کہ وہ آپ ﷺ سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انہوں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو (یہی کافی ہے) ۔
حدیث نمبر: 269 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَسَأَلَ، فَقَالَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ جس نے خوشبو لگائی پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر اب بھی باقی رہا۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، وہ اپنے والد سے، کہا میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا اور ان سے ابن عمر (رض) کے اس قول کا ذکر کیا کہ میں اسے گوارا نہیں کرسکتا کہ میں احرام باندھوں اور خوشبو میرے جسم سے مہک رہی ہو۔ تو عائشہ (رض) نے فرمایا، میں نے خود نبی کریم ﷺ کو خوشبو لگائی۔ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور اس کے بعد احرام باندھا۔
حدیث نمبر: 270 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ، أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ، مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ جس نے خوشبو لگائی پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر اب بھی باقی رہا۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے حکم نے ابراہیم کے واسطہ سے، وہ اسود سے، وہ عائشہ (رض) سے، آپ نے فرمایا گویا کہ میں نبی کریم ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام باندھے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 271 حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا (جائز ہے)۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد کے حوالہ سے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔ پھر غسل کرتے۔ پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے اور جب یقین کرلیتے کہ جسم تر ہوگیا ہے۔ تو تین مرتبہ اس پر پانی بہاتے، پھر تمام بدن کا غسل کرتے۔ اور عائشہ (رض) نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 272 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعَرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ. حدیث نمبر: 273 وَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا (جائز ہے)۔
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے۔
وَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ جس نے جنابت میں وضو کیا پھر اپنے تمام بدن کو دھویا، لیکن وضو کے اعضاء کو دوبارہ نہیں دھویا۔
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے سالم کے واسطہ سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے بیان کیا، انہوں نے ام المؤمنین میمونہ (رض) سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ پھر شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے۔ میمونہ (رض) نے فرمایا کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ ﷺ نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے۔
حدیث نمبر: 274 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَت: وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا لِجَنَابَةٍ فَأَكْفَأَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا، فَجَعَلَ يَنْفُضُ بِيَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم نہ کرے۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی زہری کے واسطے سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ (رض) سے کہ نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہوگئیں، لوگ کھڑے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے۔ جب آپ ﷺ مصلے پر کھڑے ہوچکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ پس آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے۔ پھر آپ ﷺ نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ ﷺ نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 275 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قياما، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ، تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৬
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا (سنت نبوی ہے)۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ (محمد بن میمون) نے، کہا میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس سے، آپ نے کہا کہ میمونہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے پردہ کردیا۔ پہلے آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پانی لیا اور شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر مارا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور بازو دھوئے۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ مقام غسل سے ایک طرف ہوگئے۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے۔ اس کے بعد میں نے آپ ﷺ کو ایک کپڑا دینا چاہا۔ تو آپ ﷺ نے اسے نہیں لیا اور آپ ﷺ ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے۔
حدیث نمبر: 276 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنْ سَالِمِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৭
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس شخص کے متعلق جس نے اپنے سر کے داہنے حصے سے غسل کیا۔
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے حسن بن مسلم سے روایت کی، وہ صفیہ بنت شیبہ سے، وہ عائشہ (رض) سے، آپ نے فرمایا کہ ہم ازواج (مطہرات) میں سے کسی کو اگر جنابت لاحق ہوتی تو وہ ہاتھوں میں پانی لے کر سر پر تین مرتبہ ڈالتیں۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر سر کے داہنے حصے کا غسل کرتیں اور دوسرے ہاتھ سے بائیں حصے کا غسل کرتیں۔
حدیث نمبر: 277 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنَّا إِذَا أَصَابَتْ إِحْدَانَا جَنَابَةٌ أَخَذَتْ بِيَدَيْهَا ثَلَاثًا فَوْقَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ بِيَدِهَا عَلَى شِقِّهَا الْأَيْمَنِ وَبِيَدِهَا الْأُخْرَى عَلَى شِقِّهَا الْأَيْسَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس شخص کے بارے میں جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے۔
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے معمر سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) تنہا پردہ سے غسل فرماتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔ آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر ! میرا کپڑا دے۔ اے پتھر ! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔
حدیث نمبر: 278 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ، يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس شخص کے بارے میں جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے۔
اور اسی سند کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ (ایک بار) ایوب (علیہ السلام) ننگے غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ پر گرنے لگیں۔ ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ اتنے میں ان کے رب نے انہیں پکارا۔ کہ اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بےنیاز نہیں کردیا، جسے تم دیکھ رہے ہو۔ ایوب (علیہ السلام) نے جواب دیا ہاں تیری بزرگی کی قسم۔ لیکن تیری برکت سے میرے لیے بےنیازی کیونکر ممکن ہے۔ اور اس حدیث کو ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے، وہ صفوان سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ ابوہریرہ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے، اس طرح نقل کرتے ہیں جب کہ ایوب (علیہ السلام) ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے (آخر تک) ۔
حدیث نمبر: 279 وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى ؟ قَالَ: بَلَى وَعِزَّتِكَ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے روایت کی۔ انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے مولیٰ ابومرہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب کو یہ کہتے سنا کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور فاطمہ (رض) نے پردہ کر رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ میں نے عرض کی کہ میں ام ہانی ہوں۔
حدیث نمبر: 280 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، وہ سالم بن ابی الجعد سے، وہ کریب سے، وہ ابن عباس (رض) سے، وہ میمونہ (رض) سے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ ﷺ کا پردہ کیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر (دھویا) پھر نماز کی طرح وضو کیا۔ پاؤں کے علاوہ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا۔ اس حدیث میں ابوعوانہ اور محمد بن فضیل نے بھی پردے کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 281 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: سَتَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ فِي السَّتْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ جب عورت کو احتلام ہو تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے، آپ نے فرمایا کہ ام سلیم ابوطلحہ (رض) کی عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ہاں اگر (اپنی منی کا) پانی دیکھے (تو اسے بھی غسل کرنا ہوگا) ۔
حدیث نمبر: 282 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْأُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ جنبی کا پسینہ اور بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے ابورافع کے واسطہ سے، انہوں نے ابوہریرہ سے سنا کہ مدینہ کے کسی راستے پر نبی کریم ﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت ابوہریرہ (رض) جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ اس لیے میں نے آپ ﷺ کے ساتھ بغیر غسل کے بیٹھنا برا جانا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ سبحان اللہ ! مومن ہرگز نجس نہیں ہوسکتا۔
حدیث نمبر: 283 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ: كُنْتُ جُنُبًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ وَأَنَا عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৪
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس تفصیل میں کہ جنبی گھر سے باہر نکل سکتا اور بازار وغیرہ جا سکتا ہے۔
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، کہ انس بن مالک (رض) نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ ﷺ کے ازواج میں نو بیویاں تھیں۔
حدیث نمبر: 284 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍحَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس تفصیل میں کہ جنبی گھر سے باہر نکل سکتا اور بازار وغیرہ جا سکتا ہے۔
ہم سے عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابورافع سے، وہ ابوہریرہ (رض) سے، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ ﷺ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ ﷺ ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 285 حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غسل سے پہلے جنبی کا گھر میں ٹھہرنا جب کہ وضو کر لے (جائز ہے)۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام اور شیبان نے، وہ یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے کہا میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے ؟ کہا ہاں لیکن وضو کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 286 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَيَتَوَضَّأُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭
غسل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ بغیر غسل کئے جنبی کا سونا جائز ہے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے، وہ ابن عمر (رض) سے کہ عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ فرمایا ہاں، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 287 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ.
তাহকীক: