আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
وضو کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৩ টি
হাদীস নং: ১৯৫
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: لگن، پیالے، لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا، کہا ہم کو حمید نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے انس سے نقل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نماز کا وقت آگیا، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ (جن کے مکان دور تھے) رہ گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا۔ جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے۔ (مگر) سب نے اس برتن کے پانی سے وضو کرلیا، ہم نے انس (رض) سے پوچھا کہ تم کتنے نفر تھے ؟ کہا اسی (80) سے کچھ زیادہ ہی تھے۔
حدیث نمبر: 195 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، قُلْنَا: كَمْ كُنْتُمْ، قَالَ: ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: لگن، پیالے، لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابوبردہ سے، وہ ابوموسیٰ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا۔ پھر اس میں آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی۔
حدیث نمبر: 196 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: لگن، پیالے، لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن زید سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ہمارے گھر) تشریف لائے، ہم نے آپ ﷺ کے لیے تانبے کے برتن میں پانی نکالا۔ (اس سے) آپ ﷺ نے وضو کیا۔ تین بار چہرہ دھویا، دو دو بار ہاتھ دھوئے اور سر کا مسح کیا۔ (اس طرح کہ) پہلے آگے کی طرف (ہاتھ) لائے۔ پھر پیچھے کی جانب لے گئے اور پیر دھوئے۔
حدیث نمبر: 197 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ، فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِ وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: لگن، پیالے، لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی تحقیق عائشہ (رض) نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور آپ ﷺ کی بیماری زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺ نے اپنی (دوسری) بیویوں سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کی تیمارداری میرے ہی گھر کی جائے۔ انہوں نے آپ کو اجازت دے دی، (ایک روز) رسول اللہ ﷺ دو آدمیوں کے درمیان (سہارا لے کر) گھر سے نکلے۔ آپ کے پاؤں (کمزوری کی وجہ سے) زمین پر گھسٹتے جاتے تھے، عباس (رض) اور ایک آدمی کے درمیان (آپ باہر) نکلے تھے۔ عبیداللہ (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس (رض) کو سنائی، تو وہ بولے، تم جانتے ہو دوسرا آدمی کون تھا، میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ کہنے لگے وہ علی (رض) تھے۔ پھر عائشہ (رض) بیان فرماتی تھیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے اوپر ایسی سات مشکوں کا پانی ڈالو، جن کے سربند نہ کھولے گئے ہوں۔ تاکہ میں (سکون کے بعد) لوگوں کو کچھ وصیت کروں۔ (چنانچہ) آپ کو حفصہ رسول اللہ ﷺ کی (دوسری) بیوی کے لگن میں (جو تانبے کا تھا) بیٹھا دیا گیا اور ہم نے آپ پر ان مشکوں سے پانی بہانا شروع کیا۔ جب آپ ہم کو اشارہ فرمانے لگے کہ بس اب تم نے اپنا کام پورا کردیا تو اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 198 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْدَمَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ: هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي، أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ، وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ: زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْكَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: طشت سے (پانی لے کر) وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے، کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا بہت زیادہ وضو کیا کرتے تھے (یا یہ کہ وضو میں بہت پانی بہاتے تھے) ایک دن انہوں نے عبداللہ بن زید (رض) سے کہا کہ مجھے بتلائیے رسول اللہ ﷺ کس طرح وضو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا۔ اس کو (پہلے) اپنے ہاتھوں پر جھکایا۔ پھر دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈال کر (پانی لیا اور) ایک چلو سے کلی کی اور تین مرتبہ ناک صاف کی۔ پھر اپنے ہاتھوں سے ایک چلو (پانی) لیا اور تین بار اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا۔ تو (پہلے اپنے ہاتھ) پیچھے لے گئے، پھر آگے کی طرف لائے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 199 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ عَمِّي يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبِرْنِيِ كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاغْتَرَفَ بِهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَدْبَرَ بِيَديْهِ وَأَقْبَلَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: طشت سے (پانی لے کر) وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، وہ ثابت سے، وہ انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس (رض) کہتے ہیں کہ اس (ایک پیالہ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستر (70) سے اسی (80) تک تھے۔
حدیث نمبر: 200 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مد سے وضو کرنے کے بیان میں۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا مجھ سے ابن جبیر نے، انہوں نے انس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب دھوتے یا (یہ کہا کہ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک (پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد (پانی) سے۔
حدیث نمبر: 201 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
ہم سے اصبغ ابن الفرج نے بیان کیا، وہ ابن وہب سے کرتے ہیں، کہا مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے نقل کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے، وہ سعد بن ابی وقاص سے، وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے والد ماجد عمر (رض) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا (سچ ہے اور یاد رکھو) جب تم سے سعد رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ تو اس کے متعلق ان کے سوا (کسی) دوسرے آدمی سے مت پوچھو اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوالنضر نے بتلایا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی کہ سعد بن ابی وقاص نے ان سے (رسول اللہ ﷺ کی یہ) حدیث بیان کی۔ پھر عمر (رض) نے (اپنے بیٹے) عبداللہ سے ایسا کہا۔
حدیث نمبر: 202 حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ سَعْدًا حَدَّثَهُ، فَقَالَ: عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
ہم سے عمرو بن خالد الحرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے نقل کیا، وہ سعد بن ابراہیم سے، وہ نافع بن جبیر سے وہ عروہ ابن المغیرہ سے وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ (ایک دفعہ) آپ ﷺ رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو مغیرہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ ﷺ کے پیچھے گئے، جب آپ ﷺ قضاء حاجت سے فارغ ہوگئے تو مغیرہ نے (آپ ﷺ کو وضو کراتے ہوئے) آپ ﷺ (کے اعضاء مبارکہ) پر پانی ڈالا۔ آپ ﷺ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
حدیث نمبر: 203 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৪
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 204 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، وَأَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی، وہ ابوسلمہ سے، وہ جعفر بن عمرو سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ اس کو روایت کیا معمر نے یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے عمرو سے متابعت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا (آپ واقعی ایسا ہی کیا کرتے تھے) ۔
حدیث نمبر: 205 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ، وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: وضو کر کے موزے پہننے کے بیان میں۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عامر سے وہ عروہ بن مغیرہ سے، وہ اپنے باپ (مغیرہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا (کہ وضو کرتے وقت) آپ ﷺ کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو ۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ (یعنی میں وضو سے تھا) پس آپ ﷺ نے ان پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 206 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بکری کا گوشت اور ستو کھا کر نیا وضو نہ کرنا ثابت ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے زید بن اسلم سے خبر دی، وہ عطاء بن یسار سے، وہ عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا۔ پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 207 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بکری کا گوشت اور ستو کھا کر نیا وضو نہ کرنا ثابت ہے۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہمیں لیث نے عقیل سے خبر دی، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ نے اپنے باپ عمرو سے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ بکری کے شانہ سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ ﷺ نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 208 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان (رض) نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صہبا کی طرف، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے۔ آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور ہم نے (بھی) کھایا۔ پھر مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپ ﷺ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 209 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّسُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے۔
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ (رض) زوجہ رسول اللہ ﷺ نے بتلایا کہ آپ ﷺ نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 210 وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ کیا دودھ پی کر کلی کرنی چاہیے؟
ہم سے یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، وہ عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس حدیث میں عقیل کی یونس اور صالح بن کیسان نے زہری سے متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 211 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا، تَابَعَهُ يُونُسُ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا مجھ کو مالک نے ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے خبر دی، انہوں نے عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آجائے، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند (کا اثر) اس سے ختم ہوجائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ (اللہ تعالیٰ سے) مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔
حدیث نمبر: 212 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے ابوقلابہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس (رض) سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز میں اونگھنے لگو تو سو جانا چاہیے۔ پھر اس وقت نماز پڑھے جب جان لے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 213 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪
وضو کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے۔
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو بن عامر کے واسطے سے بیان کیا، کہا میں نے انس (رض) سے سنا۔ (دوسری سند سے) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا، وہ انس (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لیے نیا وضو فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا تم لوگ کس طرح کرتے تھے، کہنے لگے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا وضو اس وقت تک کافی ہوتا، جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آجاتی۔ (یعنی پیشاب، پاخانہ، یا نیند وغیرہ) ۔
حدیث نمبر: 214 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ: يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ.
তাহকীক: