আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

علم کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭৬ টি

হাদীস নং: ১১৯
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں
ہم سے ابومصعب احمد بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن دینار نے ابن ابی ذئب کے واسطے سے بیان کیا، وہ سعید المقبری سے، وہ ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں آپ ﷺ سے بہت باتیں سنتا ہوں، مگر بھول جاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے اپنی چادر پھیلائی، آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی چلو بنائی اور (میری چادر میں ڈال دی) فرمایا کہ (چادر کو) لپیٹ لو۔ میں نے چادر کو (اپنے بدن پر) لپیٹ لیا، پھر (اس کے بعد) میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی فدیک نے اسی طرح بیان کیا کہ (یوں) فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو اس (چادر) میں ڈال دی۔
حدیث نمبر: 119 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ، ‏‏‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ابْسُطْ رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ضُمَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ غَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی (عبدالحمید) نے ابن ابی ذئب سے نقل کیا۔ وہ سعید المقبری سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ (رض) سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (علم کے) دو برتن یاد کرلیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری (رح) نے فرمایا کہ بلعوم سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔
حدیث نمبر: 120 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَخِي ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔
ہم سے حجاج نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے علی بن مدرک نے ابوزرعہ سے خبر دی، وہ جریر (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ لوگوں کو بالکل خاموش کر دو (تاکہ وہ خوب سن لیں) پھر فرمایا، لوگو ! میرے بعد پھر کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
حدیث نمبر: 121 حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:‏‏‏‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون سب سے بڑا عالم ہے۔
ہم سے عبداللہ بن محمد المسندی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، انہیں سعید بن جبیر (رض) نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا کہ نوف بکالی کا یہ خیال ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) (جو خضر (علیہ السلام) کے پاس گئے تھے وہ) موسیٰ بنی اسرائیل والے نہیں تھے بلکہ دوسرے موسیٰ تھے، (یہ سن کر) ابن عباس (رض) بولے کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ ہم سے ابی ابن کعب (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ (ایک روز) موسیٰ (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب علم کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ہوں۔ اس وجہ سے اللہ کا غصہ ان پر ہوا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا۔ تب اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ دریاؤں کے سنگم پر ہے۔ (جہاں فارس اور روم کے سمندر ملتے ہیں) وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے پروردگار ! میری ان سے ملاقات کیسے ہو ؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لو، پھر جہاں تم اس مچھلی کو گم کر دو گے تو وہ بندہ تمہیں (وہیں) ملے گا۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) چلے اور ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لے لیا اور انہوں نے زنبیل میں مچھلی رکھ لی، جب (ایک) پتھر کے پاس پہنچے، دونوں اپنے سر اس پر رکھ کر سو گئے اور مچھلی زنبیل سے نکل کر دریا میں اپنی راہ بناتی چلی گئی اور یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کے لیے بےحد تعجب کی تھی، پھر دونوں باقی رات اور دن میں (جتنا وقت باقی تھا) چلتے رہے، جب صبح ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) نے خادم سے کہا، ہمارا ناشتہ لاؤ، اس سفر میں ہم نے (کافی) تکلیف اٹھائی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) بالکل نہیں تھکے تھے، مگر جب اس جگہ سے آگے نکل گئے، جہاں تک انہیں جانے کا حکم ملا تھا، تب ان کے خادم نے کہا، کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم صخرہ کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا ذکر بھول گیا، (بقول بعض صخرہ کے نیچے آب حیات تھا، وہ اس مچھلی پر پڑا، اور وہ زندہ ہو کر بقدرت الٰہی دریا میں چل دی) (یہ سن کر) موسیٰ (علیہ السلام) بولے کہ یہ ہی وہ جگہ ہے جس کی ہمیں تلاش تھی، تو وہ پچھلے پاؤں واپس ہوگئے، جب پتھر تک پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے (موجود ہے) موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سلام کیا، خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہاری سر زمین میں سلام کہاں ؟ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں، خضر بولے کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ! پھر کہا کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں، تاکہ آپ مجھے ہدایت کی وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے خاص آپ ہی کو سکھلائی ہیں۔ خضر (علیہ السلام) بولے کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ اسے موسیٰ ! مجھے اللہ نے ایسا علم دیا ہے جسے تم نہیں جانتے اور تم کو جو علم دیا ہے اسے میں نہیں جانتا۔ (اس پر) موسیٰ نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ پھر دونوں دریا کے کنارے کنارے پیدل چلے، ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی کہ ایک کشتی ان کے سامنے سے گزری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو۔ خضر (علیہ السلام) کو انہوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کرلیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی، پھر سمندر میں اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں (اسے دیکھ کر) خضر (علیہ السلام) بولے کہ اے موسیٰ ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہوگا جتنا اس چڑیا نے سمندر (کے پانی) سے پھر خضر (علیہ السلام) نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال ڈالا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں کرایہ لیے بغیر (مفت میں) سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی (کی لکڑی) اکھاڑ ڈالی تاکہ یہ ڈوب جائیں، خضر (علیہ السلام) بولے کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟ (اس پر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ بھول پر میری گرفت نہ کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول کر یہ پہلا اعتراض کیا تھا۔ پھر دونوں چلے (کشتی سے اتر کر) ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر (علیہ السلام) نے اوپر سے اس کا سر پکڑ کر ہاتھ سے اسے الگ کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو بغیر کسی جانی حق کے مار ڈالا (غضب ہوگیا) خضر (علیہ السلام) بولے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اس کلام میں پہلے سے زیادہ تاکید ہے (کیونکہ پہلے کلام میں لفظ لک نہیں کہا تھا، اس میں لک زائد کیا، جس سے تاکید ظاہر ہے) پھر دونوں چلتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے، ان سے کھانا لینا چاہا۔ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے وہیں دیکھا کہ ایک دیوار اسی گاؤں میں گرنے کے قریب تھی۔ خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے سیدھا کردیا۔ موسیٰ بول اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو (گاؤں والوں سے) اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔ خضر نے کہا کہ (بس اب) ہم اور تم میں جدائی کا وقت آگیا ہے۔ جناب محبوب کبریا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ موسیٰ پر رحم کرے، ہماری تمنا تھی کہ موسیٰ کچھ دیر اور صبر کرتے تو مزید واقعات ان دونوں کے بیان کئے جاتے (اور ہمارے سامنے روشنی میں آتے، مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی عجلت نے اس علم لدنی کے سلسلہ کو جلد ہی منقطع کرا دیا) محمد بن یوسف کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن خشرم نے یہ حدیث بیان کی، ان سے سفیان بن عیینہ نے پوری کی پوری بیان کی۔
حدیث نمبر: 122 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ مُوسَى النَّبِيُّ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَيْفَ بِهِ ؟ فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ فَانْطَلَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَانْطَلَقَ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ وَحَمَلَا حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى كَانَا عِنْدَ الصَّخْرَةِ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا وَنَامَا، ‏‏‏‏‏‏فَانْسَلَّ الْحُوتُ مِنَ الْمِكْتَلِ، ‏‏‏‏‏‏فَاتَّخَذَ سَبِلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ:‏‏‏‏ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى مَسًّا مِنَ النَّصَبِ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُوسَى:‏‏‏‏ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، ‏‏‏‏‏‏فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ إِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى بِثَوْبٍ أَوْ قَالَ تَسَجَّى بِثَوْبِهِ فَسَلَّمَ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْخَضِرُ:‏‏‏‏ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا لمُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُوسَى:‏‏‏‏ بَنِي إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا يَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لَا تَعْلَمُهُ أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ عَلَّمَكَهُ لَا أَعْلَمُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ لَيْسَ لَهُمَا سَفِينَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَعُرِفَ الْخَضِرُ فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ فِي الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْخَضِرُ:‏‏‏‏ يَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَنَقْرَةِ هَذَا الْعُصْفُورِ فِي الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُوسَى:‏‏‏‏ قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَا فَإِذَا غُلَامٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ مِنْ أَعْلَاهُ فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُوسَى:‏‏‏‏ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَوْكَدُ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْخَضِرُ:‏‏‏‏ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ مُوسَى:‏‏‏‏ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو (جائز ہے)۔
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابو وائل سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوموسیٰ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے ؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔
حدیث نمبر: 123 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: رمی جمار (یعنی حج میں پتھر پھینکنے) کے وقت بھی مسئلہ پوچھنا جائز ہے۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے زہری کے واسطے سے روایت کیا، انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمی جمار کے وقت دیکھا آپ ﷺ سے پوچھا جا رہا تھا تو ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں نے رمی سے قبل قربانی کرلی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اب) رمی کرلو کچھ حرج نہیں ہوا۔ دوسرے نے کہا، یا رسول اللہ ! میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اب) قربانی کرلو کچھ حرج نہیں۔ (اس وقت) جس چیز کے بارے میں جو آگے پیچھے ہوگئی تھی، آپ سے پوچھا گیا، آپ ﷺ نے یہ ہی جواب دیا (اب) کرلو کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 124 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ارْمِ وَلَا حَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ آخَرُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:‏‏‏‏ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، ان سے اعمش سلیمان بن مہران نے ابراہیم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے علقمہ سے نقل کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے، تو کچھ یہودیوں کا (ادھر سے) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو (مگر) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا، اے ابوالقاسم ! روح کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے (دل میں) کہا کہ آپ پر وحی آرہی ہے۔ اس لیے میں کھڑا ہوگیا۔ جب آپ ﷺ سے (وہ کیفیت) دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے (قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی) تلاوت فرمائی (اے نبی ! ) تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔ (اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے) اعمش کہتے ہیں کہ ہماری قرآت میں وما اوتوا ہے۔ ( ‏‏‏‏وما اوتيتم ‏‏‏‏) نہیں۔
حدیث نمبر: 125 حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ سُلَيْمَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ:‏‏‏‏ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا تَسْأَلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَجِيءُ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَنَسْأَلَنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏مَا الرُّوحُ ؟ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْأَعْمَشُ:‏‏‏‏ هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت (یعنی ناجائز) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے اسرائیل کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے ابواسحاق سے اسود کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر (رض) نے بیان کیا کہ عائشہ (رض) تم سے بہت باتیں چھپا کر کہتی تھیں، تو کیا تم سے کعبہ کے بارے میں بھی کچھ بیان کیا، میں نے کہا (ہاں) مجھ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک مرتبہ) ارشاد فرمایا تھا کہ اے عائشہ ! اگر تیری قوم (دور جاہلیت کے ساتھ) قریب نہ ہوتی (بلکہ پرانی ہوگئی ہوتی) ابن زبیر (رض) نے کہا یعنی زمانہ کفر کے ساتھ (قریب نہ ہوتی) تو میں کعبہ کو توڑ دیتا اور اس کے لیے دو دروازے بنا دیتا۔ ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکلتے، (بعد میں) ابن زبیر نے یہ کام کیا۔
حدیث نمبر: 126 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْرَائِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ :‏‏‏‏ كَانَتْ عَائِشَةُتُسِرُّ إِلَيْكَ كَثِيرًا، ‏‏‏‏‏‏فَمَا حَدَّثَتْكَ فِي الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ قَالَتْ لِي:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏لَوْلَا قَوْمُكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ:‏‏‏‏ بِكُفْرٍ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏بَابٌ يَدْخُلُ النَّاسُ وَبَابٌ يَخْرُجُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی (یہ عین مناسب ہے)۔
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے معروف کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابوالطفیل سے نقل کیا، انہوں نے علی سے مضمون حدیث حدثوا الناس بما يعرفون الخ بیان کیا، (ترجمہ گذر چکا ہے۔ )
حدیث نمبر: 127 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ بِذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی (یہ عین مناسب ہے)۔
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، اس نے کہا کہ میرے باپ نے قتادہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) معاذ بن جبل رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا، اے معاذ ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے (دوبارہ) فرمایا، اے معاذ ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے (سہ بارہ) فرمایا، اے معاذ ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول، تین بار ایسا ہوا۔ (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ کی) آگ پر حرام کردیتا ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر نہ کر دوں تاکہ وہ خوش ہوجائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اگر تم یہ خبر سناؤ گے) تو لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل چھوڑ دیں گے) معاذ (رض) نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 128 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا مُعَاذُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذًا يَتَّكِلُوا، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی (یہ عین مناسب ہے)۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے انس (رض) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز معاذ (رض) سے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے اس کیفیت کے ساتھ ملاقات کرے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، وہ (یقیناً ) جنت میں داخل ہوگا، معاذ بولے، یا رسول اللہ ! کیا میں اس بات کی لوگوں کو بشارت نہ سنا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، مجھے خوف ہے کہ لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔
حدیث نمبر: 129 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذُكِرَ لِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِمُعَاذِ:‏‏‏‏ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے!۔
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے ہشام نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ (اپنی والدہ) ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ ام سلیم (نامی ایک عورت) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا (اس لیے میں پوچھتی ہوں کہ) کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (ہاں) جب عورت پانی دیکھ لے۔ (یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو) تو (یہ سن کر) ام سلمہ (رض) نے (شرم کی وجہ سے) اپنا چہرہ چھپالیا اور کہا، یا رسول اللہ ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں ! تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر کیوں اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے (یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے) ۔
حدیث نمبر: 130 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَعْنِي وَجْهَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے!۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک مرتبہ) فرمایا کہ درختوں میں سے ایک درخت (ایسا) ہے۔ جس کے پتے (کبھی) نہیں جھڑتے اور اس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ مجھے بتلاؤ وہ کیا (درخت) ہے ؟ تو لوگ جنگلی درختوں (کی سوچ) میں پڑگئے اور میرے دل میں آیا (کہ میں بتلا دوں) کہ وہ کھجور (کا پیڑ) ہے، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر مجھے شرم آگئی (اور میں چپ ہی رہا) تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہی (خود) اس کے بارے میں بتلائیے، آپ ﷺ نے فرمایا، وہ کھجور ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے جی میں جو بات تھی وہ میں نے اپنے والد (عمر رضی اللہ عنہ) کو بتلائی، وہ کہنے لگے کہ اگر تو (اس وقت) کہہ دیتا تو میرے لیے ایسے ایسے قیمتی سرمایہ سے زیادہ محبوب ہوتا۔
حدیث نمبر: 131 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَادِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَاسْتَحْيَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبِرْنَا بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هِيَ النَّخْلَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بیان میں کہ مسائل شرعیہ معلوم کرنے میں جو شخص (کسی معقول وجہ سے) شرمائے وہ کسی دوسرے آدمی کے ذریعے سے مسئلہ معلوم کر لے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن داؤد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے منذر ثوری سے نقل کیا، انہوں نے محمد ابن الحنفیہ سے نقل کیا، وہ علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے (اپنے شاگرد) مقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس (مرض) میں غسل نہیں ہے (ہاں) وضو فرض ہے۔
حدیث نمبر: 132 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُنْذِرٍ الْثَّوْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَلِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِيهِ الْوُضُوءُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، ان سے نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر بن الخطاب نے، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا کہ (ایک مرتبہ) ایک آدمی نے مسجد میں کھڑے ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کس جگہ سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اور اہل شام جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا، کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔ اور ابن عمر (رض) کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ (آخری جملہ) رسول اللہ ﷺ سے یاد نہیں۔
حدیث نمبر: 133 حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّأْمِ مِنْ الْجُحْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمْ أَفْقَهْ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا، (تاکہ اسے تفصیلی معلومات ہو جائیں)۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ تو (پہلے وضو کرتے ہوئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو۔ اور اپنے سروں کا مسح کرو۔ اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوؤ ۔ امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وضو میں (اعضاء کا دھونا) ایک ایک مرتبہ فرض ہے اور آپ ﷺ نے (اعضاء) دو دو بار (دھو کر بھی) وضو کیا ہے اور تین تین بار بھی۔ ہاں تین مرتبہ سے زیادہ نہیں کیا اور علماء نے وضو میں اسراف (پانی حد سے زائد استعمال کرنے) کو مکروہ کہا ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے فعل سے آگے بڑھ جائیں۔
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ ‏‏‏‏إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَرْضَ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَتَوَضَّأَ أَيْضًا مَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ثَلاَثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الإِسْرَافَ فِيهِ وَأَنْ يُجَاوِزُوا فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক: