আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৪৫ টি
হাদীস নং: ৭৩০২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو ہمارا رب آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کو قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْأَغَرُّ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا اور ہمام سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ کہ بد ترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے حالانکہ وہ برحق ہے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ وَهِيَ حَقٌّ وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چناچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ قَالَ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ رَبَّكُمْ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ قَالَ وَإِذَا أَبْغَضَ فَمِثْلُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں انصار کے سب سے بہترین گھر کا پتہ نہ بتاؤں۔ ؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا عبد الاشہل کے لوگ ( جو حضرت سعد بن معاذ (رض) کا گروہ تھا) لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا بنی نجار لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا بنی حارث بن خزرج۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کے بعد کون ہیں ؟ فرمایا بنی ساعدہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا اس کے بعد انصار کے ہر گھر میں ہی خیر و برکت ہے۔ یہی روایت حضرت انس (رض) سے بھی مروی ہے البتہ اس میں بنی نجار پھر بنی عبدالاشہل کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ قَالَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ وَقَتَادَةُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کر کے ناز وتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ مُعْجَبٌ بِجُمَّتِهِ قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ أَوْ قَالَ يَهْوِي فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) حج پر جا رہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق (رض) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا ؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جا لیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین ! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیر طلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَتْ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْ الرِّيحِ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ الرِّيحِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں اپنے مال میں سے دو جوڑے والی چیزیں خرچ کرے اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں جو اہل نماز میں سے ہوگا اسے باب الصلاۃ سے پکارا جائے گا جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے باب الصدقہ سے پکارا جائے گا جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے باب الجہاد سے پکارا جائے گا جو اہل صیام سے ہوگا اسے باب الریان سے پکارا جائے گا۔ حضرت صدیق اکبر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ویسے ضرورت تو کوئی نہیں لیکن کیا کسی آدمی کو سارے دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے اس لئے خوب صدقہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَيِّبٍ تَقَبَّلَهَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَخَذَهَا بِيَمِينِهِ وَرَبَّاهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَةِ فَتَرْبُو فِي يَدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ فِي كَفِّ اللَّهِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ فَتَصَدَّقُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام میں مباحثہ ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو جہنم میں داخل کرا دیا ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا اے موسیٰ ! اللہ نے تمہیں اپنی رسالت اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تم پر تورات نازل فرمائی کیا تم نے مجھے بھی زمین پر اترا ہوا دیکھا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں اس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَدْخَلْتَ ذُرِّيَّتَكَ النَّارَ فَقَالَ آدَمُ يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ فَهَلْ وَجَدْتَ أَنِّي أَهْبِطُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحَجَّهُ آدَمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم ﷺ سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال انجام دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلشُّونِيزِ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ يُرِيدُ الْمَوْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں (دوسری روایت کے مطابق اعمال پیش کئے جاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ قَالَ مَعْمَرٌ وَقَالَ غَيْرُ سُهَيْلٍ وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ يَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ٍپہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ پھر پہلوان کون ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ قَالُوا فَمَنْ الشَّدِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩২০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد فرمایا حج مبرور۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩২১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آخر زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوا کرے گا اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہوگا جو بات کا سچا ہوگا اور خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ
তাহকীক: