আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
ایلاء کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫ টি
হাদীস নং: ১৫২৩৩
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٥٢٢٧) مسروق حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھاتا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے۔ وہی عدت کے اندر رجوع کا حق رکھتا ہے، کوئی دوسرا نکاح نہیں کرسکتا اور عدت تین حیض ہے۔
(۱۵۲۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْعَوَّامِ الرَّیَاحِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ بَذِیمَۃَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِذَا آلَی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ فَمَضَتِ الأَرْبَعَۃُ الأَشْہُرِ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ وَیَخْطُبُہَا فِی عِدَّتِہَا وَلاَ یَخْطُبُہَا أَحَدٌ غَیْرُہُ وَالْعِدَّۃُ ثَلاَثَۃُ قُرُوئٍ ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩৪
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٥٢٢٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جو حضرت عثمان (رض) سے منقول ہے وہ مرسل ہے اور علی بن بذیمہ کی حدیث مسند و مرفوع نہیں ہے، اگر یہ ثابت ہو تو معلول ہے۔ کیا دس صحابہ سے زیادہ کی بات کو قبول کیا جائے گا یا ایک، دو کی بات کو لیا جائے گا۔
(۱۵۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَّا مَا رَوَیْتُ فِیہِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَمُرْسَلٌ وَحَدِیثُ عَلِیِّ بْنِ بَذِیمَۃَ لاَ یُسْنِدُہُ غَیْرُہُ عَلِمْتُہُ یَعْنِی لاَ یُوصِلُہُ غَیْرُہُ قَالَ : وَلَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا فَکُنْتُ إِنَّمَا بِقَوْلِہِ اعْتَلَلْتُ أَکَانَ بِضْعَۃَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْلَی أَنْ یُؤْخَذَ بِقَوْلِہِمْ أَوْ وَاحِدٌ أَوْ اثْنَیْنِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩৫
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٥٢٢٩) عطاء حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے۔ یزید فرماتے ہیں : یہ ایلا کے بارے میں ہے۔
(۱۵۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَہِیَ تَطْلِیقَۃٌ بَائِنَۃٌ قَالَ یَزِیدُ یَعْنِی فِی الإِیلاَئِ ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح]
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩৬
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٥٢٣٠) مقسم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا، فرماتے ہیں کہ طلاق کا قصد چار ماہ گزر جانے کے بعد ہے جبکہ فئی کا معنی جماع ہے۔
(۱۵۲۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی الْحَکَمُ قَالَ سَمِعْتُ مِقْسَمًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : عَزْمُ الطَّلاَقِ انْقِضَائُ الأَرْبَعَۃِ الأَشْہُرِ۔ وَالْفَیْئُ الْجِمَاعُ۔
ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ بِخِلاَفِہِ۔ [حسن]
ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ بِخِلاَفِہِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩৭
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٣١٣١) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایلا کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مرد قسم کھالیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہ کریں گے، وہ عورتیں چار ماہ انتظار کریں گی۔ اگر خاوند بیوی سے صحبت کرے تو درست وگرنہ اپنی قسم کا کفارہ دیں جو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا ہے۔ جو یہ نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں مجامعت سے پہلے تو بادشاہ اس کو اختیار دے گا کہ اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرے یا طلاق کا ارادہ ہے تو طلاق دے، جیسے اللہ کا فرمان ہے۔
(۱۵۲۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی آیَۃِ الإِیلاَئِ قَالَ : الرَّجُلُ یَحْلِفُ لاِمْرَأَتِہِ بِاللَّہِ لاَ یَنْکِحُہَا تَتَرَبَّصُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَإِنْ ہُوَ نَکَحَہَا کَفَّرَ عَنْ یَمِینِہِ بِإِطْعَامِ عَشْرَۃِ مَسَاکِینَ أَوْ کِسْوَتِہِمْ أَوْ تَحْرِیرِ رَقَبَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَإِنْ مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ قَبْلَ أَنْ یَنْکِحَہَا خَیَّرَہُ السُّلْطَانُ إِمَّا أَنْ یَفِیئَ فَیُرَاجِعَ وَإِمَّا أَنْ یَعْزِمَ فَیُطَلِّقَ کَمَا قَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی۔ [ضعیف] (۱۳۱۳۱) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباسt سے ایلا کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مرد قسم کھا لیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہ کریں گے، وہ عورتیں چار ماہ انتظار کریں گی۔ اگر خاوند بیوی سے صحبت کرے تو درست وگرنہ اپنی قسم کا کفارہ دیں جو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا ہے۔ جو یہ نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں مجامعت سے پہلے تو بادشاہ اس کو اختیار دے گا کہ اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرے یا طلاق کا ارادہ ہے تو طلاق دے، جیسے اللہ کا فرمان ہے۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩৮
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٥٢٣٢) اسباط سدی سے ایلا کی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب مرد اپنی بیوی سے ایلا کرتا ہے تو چار ماہ گزر جانے کے بعد اس کو کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تو نے بیوی کو روکنا ہے یا طلاق دینی ہے ؟ اگر روک لے تو یہ اس کی بیوی ہے، اگر یہ طلاق دے تو طلاق بائنہ ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود اور عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : جب چار ماہ گزر جائیں تو اس عورت کو طلاق بائنہ ہے اور یہ عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔
امام شافعی (رح) ابن عباس (رض) کے قول سے دلیل لیتے ہیں۔ ہم نے کہا : ابن عباس (رض) تو ایلا میں مخالفت کرتے ہیں، فرماتے ہیں : وہ کیا ؟
امام شافعی (رح) ابن عباس (رض) کے قول سے دلیل لیتے ہیں۔ ہم نے کہا : ابن عباس (رض) تو ایلا میں مخالفت کرتے ہیں، فرماتے ہیں : وہ کیا ؟
(۱۵۲۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنِ السُّدِّیِّ فِی آیَۃِ الإِیلاَئِ قَالَ کَانَ عَلِیٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولاَنِ : إِذَا آلَی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ فَمَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَإِنَّہُ یُوقَفُ فَیُقَالُ لَہُ : أَمْسَکْتَ أَوْ طَلَّقْتَ فَإِنْ أَمْسَکَ فَہِیَ امْرَأَتُہُ وَإِنْ طَلَّقَ فَہِیَ طَالِقٌ بَائِنَۃٌ۔ وَکَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولاَنِ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَۃُ الأَشْہُرِ فَہِیَ طَالِقٌ بَائِنَۃٌ وَہِیَ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی احْتِجَاجِہِمْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قُلْنَا : أَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنْتَ تُخَالِفُہُ فِی الإِیلاَئِ قَالَ : وَمِنْ أَیْنَ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی احْتِجَاجِہِمْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قُلْنَا : أَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنْتَ تُخَالِفُہُ فِی الإِیلاَئِ قَالَ : وَمِنْ أَیْنَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩৯
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے چار ماہ کے بعد طلاق دینے کا قصد کرلیا
(١٥٢٣٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ الْمُؤْلِی وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے قریب نہ آنے کی قسم کھاتا ہے۔
(۱۵۲۳۳) فَذَکَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : الْمُؤْلِی الَّذِی یَحْلِفُ لاَ یَقْرَبُ امْرَأَتَہُ أَبَدًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪০
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجوع جماع کے ذریعے ہوتا ہے مگر عذر سے
(١٥٢٣٤) مقسم حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع کا مقصد جماع کرنا ہے۔
(۱۵۲۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ ہُوَ ابْنُ ہَارُونَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ یَزِیدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : الْفَیْئُ الْجِمَاعُ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪১
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رجوع جماع کے ذریعے ہوتا ہے مگر عذر سے
(١٥٢٣٥) عامر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع کا مقصد ہے کہ وہ جماع کرے۔
شیخ (رح) نے فرمایا : حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رجوع کا مقصد جماع کرنا ہے، اگر کوئی عذر ہے بیماری یا قید تو پھر زبان سے رجوع ہی کافی ہے۔
شیخ (رح) نے فرمایا : حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رجوع کا مقصد جماع کرنا ہے، اگر کوئی عذر ہے بیماری یا قید تو پھر زبان سے رجوع ہی کافی ہے۔
(۱۵۲۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : الْفَیْئُ الْجِمَاعُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَکَذَلِکَ قَالَہُ مَسْرُوقٌ وَسَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَالشَّعْبِیُّ وَغَیْرُہُمْ مِنَ الْمُفَسِّرِینَ وَقَالَ الْحَسَنُ : الْفَیْئُ الْجِمَاعُ فَإِنْ کَانَ لَہُ عُذْرٌ مِنْ مَرِضٍ أَوْ سِجْنٍ أَجْزَأَہُ أَنْ یَفِیئَ بِلِسَانِہِ۔ [صحیح لغیرہ]
قَالَ الشَّیْخُ : وَکَذَلِکَ قَالَہُ مَسْرُوقٌ وَسَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَالشَّعْبِیُّ وَغَیْرُہُمْ مِنَ الْمُفَسِّرِینَ وَقَالَ الْحَسَنُ : الْفَیْئُ الْجِمَاعُ فَإِنْ کَانَ لَہُ عُذْرٌ مِنْ مَرِضٍ أَوْ سِجْنٍ أَجْزَأَہُ أَنْ یَفِیئَ بِلِسَانِہِ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪২
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاوند بیوی کے چار ماہ سے کم مدت میں جماع نہ کرنے کی قسم کھا لیتا ہے
(١٥٢٣٦) حمید حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں سے ایلا کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پاؤں ٹوٹ گیا تو آپ نے ٢٩ راتیں بالا خانے میں قیام کیا، پھر نیچے آئے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے تو ایک مہینہ کی قسم کھائی تھی۔ آپ نے فرمایا : مہینہ کبھی ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔
(۱۵۲۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : آلَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نِسَائِہِ وَکَانَتِ انْفَکَّتْ رِجْلُہُ فَأَقَامَ فِی مَشْرُبَۃٍ لَہُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ آلَیْتَ شَہْرًا قَالَ فَقَالَ : إِنَّ الشَّہْرَ یَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۹۱۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۹۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪৩
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاوند بیوی کے چار ماہ سے کم مدت میں جماع نہ کرنے کی قسم کھا لیتا ہے
(١٥٢٣٧) عطاء حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں ایلا ایک یا دو سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتا تھا، لیکن اللہ رب العزت نے اس کا وقت چار ماہ مقرر فرما دیا، اگر کوئی ایلا کرنا چاہتا ہے۔ یونس کی روایت میں ہے جو کوئی چار ماہ سے کم ایلا کرنا چاہتا ہے تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
عطاء کہتے ہیں : اگر خاوند نے ایلا کیا اور بیوی ابھی اپنے والدین کے گھر تھی رخصتی بھی نہ ہوئی تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
عطاء کہتے ہیں : اگر خاوند نے ایلا کیا اور بیوی ابھی اپنے والدین کے گھر تھی رخصتی بھی نہ ہوئی تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
(۱۵۲۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرُوَیْہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ أَبُو قُدَامَۃَ حَدَّثَنِی عَامِرٌ الأَحْوَلُ حَدَّثَنِی عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ إِیلاَئُ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ السَّنَۃَ وَالسَّنَتَیْنِ وَأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَوَقَّتَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَإِنْ کَانَ إِیلاَؤُہُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ : فَمَنْ کَانَ إِیلاَؤُہُ أَقُلَّ مِنْ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ ۔
قَالَ وَقَالَ عَطَاء ٌ وَإِنْ آلَی مِنْہَا وَہِیَ فِی بَیْتِ أَہْلِہَا قَبْلَ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ ۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرُوَیْہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ أَبُو قُدَامَۃَ حَدَّثَنِی عَامِرٌ الأَحْوَلُ حَدَّثَنِی عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ إِیلاَئُ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ السَّنَۃَ وَالسَّنَتَیْنِ وَأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَوَقَّتَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَإِنْ کَانَ إِیلاَؤُہُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ : فَمَنْ کَانَ إِیلاَؤُہُ أَقُلَّ مِنْ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ ۔
قَالَ وَقَالَ عَطَاء ٌ وَإِنْ آلَی مِنْہَا وَہِیَ فِی بَیْتِ أَہْلِہَا قَبْلَ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪৪
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاوند بیوی کے چار ماہ سے کم مدت میں جماع نہ کرنے کی قسم کھا لیتا ہے
(١٥٢٣٨) ابن طاؤس اپنے والد سے ایلا کے بارے نقل فرماتے ہیں کہ خاوند جماع نہ کرنے کی قسم اٹھائے ہمیشہ کے لیے، چھ ماہ یا زیادہ یا چار ماہ سے زیادہ یا اس طرح۔
(۱۵۲۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ فِی الإِیلاَئِ : أَنْ یَحْلِفَ أَنْ لاَ یَمَسَّہَا أَبَدًا أَوْ سِتَّۃَ أَشْہُرٍ أَوْ أَکْثَرَ أَوْ مَا زَادَ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪৫
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر وہ قسم جو جماع سے روکے چار ماہ سے زائد کی ہو، اگر قسم توڑ دے تو یہ ایلا ہے
(١٥٢٣٩) مقسم حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر وہ قسم جو جماع سے روکے وہ ایلا ہے۔
(۱۵۲۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الرَّزْجَاہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُلُّ یَمِینٍ مَنَعَتْ جِمَاعًا فَہِیَ إِیلاَء ٌ وَرُوِّینَاہُ أَیْضًا عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالنَّخَعِیِّ رَحِمَہُمَا اللَّہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪৬
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غصہ میں ایلا کرنا
(١٥٢٤٠) ابو عطیہ فرماتے ہیں کہ اس کا بھائی فوت ہوگیا اور اس کا دودھ پیتا بچہ بھی موجود تھا، ابو عطیہ نے اس کی بیوی سے کہا : اس کو دودھ پلاؤ۔ اس نے کہا : مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے حاملہ کردیں تو ابو عطیہ نے قسم اٹھالی کہ جب تک تو اسے دودھ پلائے گی وہ تیرے قریب نہ آئے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس نے دودھ چھڑوا دیا، کہتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) کے سامنے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے : آپ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور ایلا تو غصہ کی حالت میں ہوتا ہے۔
(ب) ابو عطیہ فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے بھائی کی بیوی سے نکاح کیا، اور یہ اس کے بھتیجے کو دودھ پلائی تھی۔
(ب) ابو عطیہ فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے بھائی کی بیوی سے نکاح کیا، اور یہ اس کے بھتیجے کو دودھ پلائی تھی۔
(۱۵۲۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ہُوَ الثَّقَفِیُّ عَنْ دَاوُدَ ہُوَ ابْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عِجْلٍ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ أَنَّہُ تُوُفِّیَ أَخُوہُ وَتَرَکَ بُنَیًّا لَہُ رَضِیعًا قَالَ أَبُو عَطِیَّۃَ لاِمْرَأَتِہِ : أَرْضِعِیہِ فَقَالَتْ : إِنِّی أَخْشَی أَنْ تَغْتَالَہُ فَحَلَفَ لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی تَفْطِمَہُ فَفَعَلَ حَتَّی فَطَمَتْہُ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّکَ إِنَّمَا أَرَدْتَ الْخَیْرَ وَإِنَّمَا الإِیلاَئُ فِی الْغَضَبِ۔
وَحَکَاہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ الأَسَدِیِّ : أَنَّہُ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ أَخِیہِ وَہِیَ تُرْضِعُ بِابْنِ أَخِیہِ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
وَحَکَاہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ الأَسَدِیِّ : أَنَّہُ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ أَخِیہِ وَہِیَ تُرْضِعُ بِابْنِ أَخِیہِ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪৭
ایلاء کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غصہ میں ایلا کرنا
(١٥٢٤١) سماک حضرت عطیہ بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ میری والدہ ایک بچے کو دودھ پلائی تھی اور ہمارا بچہ فوت ہوگیا۔ میرے والد نے قسم کھائی کہ جب تک بچے کا دودھ نہ چھڑوا لے گی، وہ اس کے قریب نہ جائے گا۔ جب چار ماہ گزر گئے تو اس سے کہا گیا : وہ تجھ سے جدا ہوگئی تو اس نے حضرت علی (رض) کو بتایا۔ انھوں نے فرمایا : اگر تو نے قسم اس کے نقصان پر اٹھائی تھی تو یہ تیری بیوی ہے وگرنہ وہ تجھ سے جدا ہوگئی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر اس کی علت جماع یا نقصان کی حالت میں اس نے قسم اٹھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
دوسرے کہتے ہیں : ہر وہ قسم جو جماع سے روکے وہ ایلا ہے کیونکہ اللہ کی نازل کردہ آیت میں غصے یا رضا کا دخل نہیں ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر اس کی علت جماع یا نقصان کی حالت میں اس نے قسم اٹھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
دوسرے کہتے ہیں : ہر وہ قسم جو جماع سے روکے وہ ایلا ہے کیونکہ اللہ کی نازل کردہ آیت میں غصے یا رضا کا دخل نہیں ہے۔
(۱۵۲۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : کَانَتْ أُمِّی تُرْضِعُ صَبِیًّا وَقَدْ تُوُفِّیَ صَبِیٌّ لَنَا فَحَلَفَ أَبِی أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَفْطِمَ الصَّبِیَّ فَلَمَّا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ قِیلَ لَہُ : إِنَّہُ قَدْ بَانَتْ مِنْکَ فَأَتَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنْ کُنْتَ حَلَفْتَ عَلَی تَضِرَّۃٍ فَہِیَ امْرَأَتُکَ وَإِلاَّ فَقَدْ بَانَتْ مِنْکَ۔ کَذَا قَالَ شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ۔
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ : وَمَنْ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ فَیَنْبَغِی أَنْ یَقُولَ وَکَذَلِکَ إِنْ کَانَتْ بِہَا عِلَّۃٌ یَضُرُّہَا الْجِمَاعُ بِہَا أَوْ بَدَأَ الیَمِینَ وَلَیْسَ ہَیْئَتَہَا الضِّرَارُ فَلَیْسَتْ بِإِیلاَئٍ وَلِہَذَا الْقَوْلِ وَجْہٌ حَسَنٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ
وَقَالَ غَیْرُہُ ہُوَ مُؤْلِی وَکُلُّ یَمِینٍ مَنَعَتِ الْجِمَاعَ فَہِیَ إِیلاَء ٌ وَعَلَی ہَذَا الْقَوْلِ نَصَّ فِی الْجَدِیدِ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَنْزَلَ الإِیلاَئَ مُطْلَقًا لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ غَضَبًا وَلاَ رِضًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ : وَمَنْ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ فَیَنْبَغِی أَنْ یَقُولَ وَکَذَلِکَ إِنْ کَانَتْ بِہَا عِلَّۃٌ یَضُرُّہَا الْجِمَاعُ بِہَا أَوْ بَدَأَ الیَمِینَ وَلَیْسَ ہَیْئَتَہَا الضِّرَارُ فَلَیْسَتْ بِإِیلاَئٍ وَلِہَذَا الْقَوْلِ وَجْہٌ حَسَنٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ
وَقَالَ غَیْرُہُ ہُوَ مُؤْلِی وَکُلُّ یَمِینٍ مَنَعَتِ الْجِمَاعَ فَہِیَ إِیلاَء ٌ وَعَلَی ہَذَا الْقَوْلِ نَصَّ فِی الْجَدِیدِ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَنْزَلَ الإِیلاَئَ مُطْلَقًا لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ غَضَبًا وَلاَ رِضًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক: