আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৮১২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٦) حضرت حسن سمرہ یا عقبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کریں تو پہلے کا زیادہ حق ہے اور جب دو شخص خریدو فروخت کریں تو پہلا زیادہ حق دار ہے۔
(۱۳۸۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَہْلٍ الْمُجَوِّزُ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ أَوْ عُقْبَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَالأَوَّلُ أَحَقُّ وَإِذَا بَاعَ الْمُجِیزَانِ فَالأَوَّلُ أَحَقُّ ۔ ہَذَا الاِخْتِلاَفُ وَقَعَ مِنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ فِی إِسْنَادِ ہَذَا الْحَدِیثِ۔ وَقَدْ تَابَعَہُ أَبَانُ الْعَطَّارُ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ مَنْ رَوَاہُ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٧) حضرت سمرہ بن جندب (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ عورت جس کا نکاح دو ولی کردیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہوگا اور جن دو اشخاص نے سامان کی بیع کی تو بیع پہلے کی معتبر ہوگی۔
(۱۳۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ زَوَّجَہَا وَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ وَأَیُّمَا رَجُلَیْنِ ابْتَاعَا بَیْعًا فَہُوَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَرِوَایَۃُ الْبَاقِینَ بِمَعْنَاہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ الْحَسَنِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ زَوَّجَہَا وَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ وَأَیُّمَا رَجُلَیْنِ ابْتَاعَا بَیْعًا فَہُوَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَرِوَایَۃُ الْبَاقِینَ بِمَعْنَاہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ الْحَسَنِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٨) حضرت سمرہ (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دو ولی نکاح کریں تو پہلا زیادہ حق دار ہے (یعنی پہلے کا نکاح معتبر ہے) ۔
(۱۳۸۰۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْوَزِیرِ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الْمُجِیزَانِ فَالأَوَّلُ أَحَقُّ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٩) قتادہ خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت کا نکاح جزیرہ میں عبیداللہ بن حر سے ولیوں نے کردیا اور اس کے گھر والوں نے بعد میں کوفہ میں نکاح کردیا۔ وہ فیصلہ لے کر حضرت علی کے پاس آئے تو حضرت علی (رض) نے دوسرے خاوند اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی اور پہلے خاوند کی طرف واپس کردیا اور دوسرے کے ذمہ حق مہر ڈال دیا۔ فائدہ اٹھانے کی وجہ سے اور پہلے خاوند کو حکم دیا کہ عدت مکمل ہونے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔
(۱۳۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً زَوَّجَہَا أَوْلِیَاؤُہَا بِالْجَزِیرَۃِ مِنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْحُرِّ وَزَوَّجَہَا أَہْلُہَا بَعْدَ ذَلِکَ بِالْکُوفَۃِ فَرَفَعُوا ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَفَرَّقَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ زَوْجِہَا الآخِرِ وَرَدَّہَا إِلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ وَجَعَلَ لَہَا صَدَاقَہَا بِمَا أَصَابَ مِنْ فَرْجِہَا وَأَمَرَ زَوْجَہَا الأَوَّلَ أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔
[حسن لغیرہ]
[حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم بچی جو ولی کی پرورش میں ہو، پھر وہ اس کے نکاح میں رغبت کرنے لگے
(١٣٨١٠) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) سے اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٣] ” اگر تم ڈرو کہ تم یتیم عورتوں میں انصاف نہ کرسکو گے۔ تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں ان عورتوں میں سے دو دو اور تین تین اور چار چار۔ پس اگر ڈرو کہ تم نہ عدل کرسکو گے تو پھر ایک ہی ہے یا جس کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ۔ “ کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک یتیم بچی اپنے ولی کی پرورش میں ہو، پھر اس سے نکاح اس کی خوبصورتی یا مال کی وجہ سے کیا گیا لیکن تھوڑے حق مہر کے عوض تو انھیں نکاح سے روک دیا گیا، یعنی یتیم بچیوں سے مگر یہ کہ وہ مکمل حق مہر ادا کریں اور ان کو دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں جو کتاب میں تمہارے اوپر پڑھا جاتا ہے۔ جن کو تم ان کا مقرر کردہ (حق مہر) بھی نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ نے اس آیت میں واضح بیان کردیا کہ جب یتیم بچی حسب و نسب والی اور خوبصورت، مالدار ہو تو اس کے نکاح میں رغبت کرتے ہیں لیکن حق مہر اپنے عورتوں جیسا مکمل ادا نہیں کرتے اور جب یتیم بچی سے مال کی کمی کی وجہ نکاح کی رغبت نہیں ہوتی، پھر دوسری عورتیں تلاش کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب بےرغبتی کی وجہ سے اس بچی کو چھوڑتے ہیں تو پھر جس بچی کی طرف رغبت ہے تو اس کا مکمل حق مہر ادا کیا جائے یہ انصاف کی بات ہے۔
(۱۳۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَانَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : ہِیَ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ فِی حَجْرِ وَلِیِّہَا فَیَرْغَبُ فِی جَمَالِہَا أَوْ مَالِہَا وَیُرِیدُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا بِأَدْنَی مِنْ سُنَّۃِ نِسَائِہَا فَنُہُوا عَنْ نِکَاحِہِنَّ إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہُنَّ فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِکَاحِ مِنْ سِوَاہُنَّ مِنَ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ اسْتَفْتَی النَّاسُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بَیَّنَ اللَّہُ تَعَالَی لَہُمْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّ الْیَتِیمَۃَ إِذَا کَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِی نِکَاحِہَا وَلَمْ یَلْحَقُوا بِسُنَّۃِ نِسَائِہَا فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَإِذَا کَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْہَا فِی قِلَّۃِ الْمَالِ تَرَکُوہَا وَالْتَمَسُوا غَیْرَہَا مِنَ النِّسَائِ ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَکَمَا تَرَکُوہَا حِینَ یَرْغَبُونَ عَنْہَا فَلَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَنْکِحُوہَا إِذَا رَغِبُوا فِیہَا إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہَا وَیُعْطُوہَا حَقَّہَا الأَوْفَی مِنَ الصَّدَاقِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۰۱۸]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَانَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : ہِیَ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ فِی حَجْرِ وَلِیِّہَا فَیَرْغَبُ فِی جَمَالِہَا أَوْ مَالِہَا وَیُرِیدُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا بِأَدْنَی مِنْ سُنَّۃِ نِسَائِہَا فَنُہُوا عَنْ نِکَاحِہِنَّ إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہُنَّ فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِکَاحِ مِنْ سِوَاہُنَّ مِنَ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ اسْتَفْتَی النَّاسُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بَیَّنَ اللَّہُ تَعَالَی لَہُمْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّ الْیَتِیمَۃَ إِذَا کَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِی نِکَاحِہَا وَلَمْ یَلْحَقُوا بِسُنَّۃِ نِسَائِہَا فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَإِذَا کَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْہَا فِی قِلَّۃِ الْمَالِ تَرَکُوہَا وَالْتَمَسُوا غَیْرَہَا مِنَ النِّسَائِ ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَکَمَا تَرَکُوہَا حِینَ یَرْغَبُونَ عَنْہَا فَلَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَنْکِحُوہَا إِذَا رَغِبُوا فِیہَا إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہَا وَیُعْطُوہَا حَقَّہَا الأَوْفَی مِنَ الصَّدَاقِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۰۱۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم بچی جو ولی کی پرورش میں ہو، پھر وہ اس کے نکاح میں رغبت کرنے لگے
(١٣٨١١) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) سے اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ } [النساء ٣] ” اگر تم ڈرو کہ تم یتیم عورتوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں۔ “ کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگیں : اے بھتیجے ! یہ یتیم بچیاں اپنے ولیوں کی پرورش میں ہوتی تھیں، ان کا مال مشترک ہوتا تھا۔ وہ اس کے مال و جمال کو تو پسند کرتے ہوئے اس سے نکاح کرنا چاہتے، لیکن دوسری عورتوں کی طرح ان کو حق مہر نہ دیتے اور بےانصافی کرتے تو انھیں منع کردیا گیا کہ ان یتیم بچیوں سے نکاح کریں، لیکن اگر وہ انصاف کریں اور بہتر حق مہر ادا کریں تو نکاح کرسکتے ہیں۔ وگرنہ ان کے علاوہ جو عورتیں ان کو پسند ہو ان سے شادی کرلیں۔ عروہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ پوچھنا شروع کردیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کردی { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے ! اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں اور یتیم بچیوں کے بارے میں جو کتاب میں تمہارے اوپر تلاوت کیا جاتا ہے جن کو تم ان کا مقرر کردہ (حق مہر) بھی نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ راوی ذکر کرتے ہیں کہ جو پہلی آیت میں ذکر کیا گیا جو اس سے پہلے ہے، یعنی { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ } [النساء ٣] حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا : { وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] جب تم ایسی یتیم بچی جس کا مال و جمال کم ہو، اس سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتے تو پھر ایسی یتیم بچی جس کے مال و جمال کی وجہ سے نکاح میں رغبت رکھتے ہو اگر انصاف کرو تو درست ہے وگرنہ ان سے نکاح کرنا ممنوع ہے۔
(۱۳۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ } قَالَتْ : یَا ابْنَ أُخْتِی ہَذِہِ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ فِی حَجْرِ وَلِیِّہَا تُشَارِکُہُ فِی مَالِہِ فَیُعْجِبُہُ مَالُہَا وَجَمَالُہَا فَیُرِیدُ وَلِیُّہَا أَنْ یَتَزَوَّجَہَا بِغَیْرِ أَنْ یُقْسِطَ فِی صَدَاقِہَا فَیُعْطِیَہَا مِثْلَ مَا یُعْطِیہَا غَیْرُہُ فَنُہُوا أَنْ یَنْکِحُوہُنَّ إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہُنَّ وَیَبْلُغُوا بِہِنَّ أَعْلَی سُنَّتِہِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ یَنْکِحُوا مَا طَابَ لَہُمْ مِنَ النِّسَائِ سِوَاہُنَّ قَالَ عُرْوَۃُ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ ہَذِہِ الآیَۃِ فِیہِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ { یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ } قَالَ وَالَّذِی ذَکَرَ أَنَّہُ یُتْلَی عَلَیْہِمْ فِی الْکِتَابِ الآیَۃُ الأُولَی الَّتِی قَالَ فِیہَا { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ } قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی الآیَۃِ الأُخْرَی (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ) رَغْبَۃَ أَحَدِکُمْ عَنْ یَتِیمَتِہِ الَّتِی تَکُونُ فِی حَجْرِہِ حِینَ تَکُونُ قَلِیلَۃَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُہُوا أَنْ یَنْکِحُوا مَا رَغِبُوا فِی مَالِہَا وَجَمَالِہَا مِنْ یَتَامَی النِّسَائِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِہِمْ عَنْہُنَّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم بچی جو ولی کی پرورش میں ہو، پھر وہ اس کے نکاح میں رغبت کرنے لگے
(١٣٨١٢) ربیعہ اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی } [النساء ٣] ” اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے۔ “ فرماتے ہیں کہ تم ان کو چھوڑ دو ، اگر تمہیں بےانصافی کا خوف ہے، میں نے تمہارے لیے چار بیویاں حلال ٹھہرائی ہیں۔
(۱۳۸۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِیُّ وَہُوَ أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ یُونُسُ وَقَالَ رَبِیعَۃُ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی } قَالَ یَقُولُ : اتْرُکُوہُنَّ إِنْ خِفْتُمْ فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَکُمْ أَرْبَعًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم بچی جو ولی کی پرورش میں ہو، پھر وہ اس کے نکاح میں رغبت کرنے لگے
(١٣٨١٣) حضرت عائشہ (رض) اللہ کے اس قول : { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ } [النساء ١٢٧] ” وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے : اللہ تم کو ان کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں “ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ ایک یتیم بچی کسی آدمی کی پرورش میں تھی۔ وہ بچی اس کے مال میں شریک تھی، لیکن وہ مرد اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا نکاح کسی دوسری عورت سے چاہتا تھا لیکن مال کی وجہ سے اس کو روکے ہوئے تھا تو اللہ نے اس سے منع فرما دیا۔
(۱۳۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ ہُوَ الْحَافِظُ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَہْمِ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الْحَوَارِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قَوْلِہِ { یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَتْ : ہِیَ الْیَتِیمَۃُ فِی حَجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِکَتْہُ فِی مَالِہِ فَیَرْغَبُ عَنْہَا أَنْ یَتَزَوَّجَہَا وَیَرْغَبُ أَنْ یُزَوِّجَہَا غَیْرَہُ فَیَدْخُلَ عَلَیْہِ فِی مَالِہِ فَیَحْبِسَہَا فَنَہَاہُمُ اللَّہُ عَنْ ذَلِکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ وَاخْتُلِفَ فِی لَفْظِہِ عَلَی ہِشَامٍ وَحَدِیثُ الزُّہْرِیِّ أَکْمَلُ وَأَحْفَظُ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی خود عورت سے نکاح نہ کرے (جو اس کی پرورش میں ہے) جیسے وہ کوئی چیز خود نہیں خریدتا جب وہ اس کے سامان کا ولی ہے
(١٣٨١٤) حکم حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نکاح چار کی موجودگی میں ہوگا : 1 ولی 2 دو گواہ 3 نکاح کرنے والا۔
(۱۳۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ الْحَکَمُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِأَرْبَعَۃٍ وَلِیٍّ وَشَاہِدَیْنِ وَخَاطِبٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی خود عورت سے نکاح نہ کرے (جو اس کی پرورش میں ہے) جیسے وہ کوئی چیز خود نہیں خریدتا جب وہ اس کے سامان کا ولی ہے
(١٣٨١٥) قتادہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح چار کی موجودگی میں ہے : 1 نکاح کرنے والا 2 ولی 3 دو گواہ۔
(۱۳۸۱۵) وَلَہُ شَاہِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : رَوْحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ التَّمِیمِیُّ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِأَرْبَعٍ : خَاطِبٍ وَوَلِیٍّ وَشَاہِدَیْنِ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ إِلاَّ أَنَّ قَتَادَۃَ لَمْ یُدْرِکِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا وَالْمَشْہُورُ عَنْہُ مَوْقُوفٌ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی خود عورت سے نکاح نہ کرے (جو اس کی پرورش میں ہے) جیسے وہ کوئی چیز خود نہیں خریدتا جب وہ اس کے سامان کا ولی ہے
(١٣٨١٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نکاح چار کی موجودگی میں ہوتا ہے۔ 1 ولی 2 نکاح کرنے والا 3 دو عادل گواہ۔
(۱۳۸۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ الصَّابُونِیُّ الْفَقِیہُ بِنَیْسَابُورَ سَنَۃَ ثَلاَثِمِائَۃٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ الْجَرَّاحِ الْخَوَارَزْمِیُّ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ وَخَاطِبٍ وَشَاہِدَیْ عَدْلٍ ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَمِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَرْفُوعًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کے چھوٹے بچے کی شادی کرنے کا بیان
(١٣٨١٧) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے چھوٹے بچے کی شادی اپنی بھتیجی سے کردی اور ان کا بیٹا اس وقت چھوٹا تھا۔ یہ محمول کیا جائے گا کہ ان کے بھائی نے نکاح کو ثابت کردیا اور ان کے چچا نے ان کے بیٹے کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بھی قبول کرلیا۔
(ب) حضرت حسن ضعیف سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے بیٹے کی شادی کرے اور وہ اس کو ناپسند کرے تو کوئی نکاح نہیں ہے اور جب بچپن میں اس کا نکاح ہوجائے تو جائز ہے۔
(ج) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حق مہر اس کے ذمہ ہے جس بچے کا تم نکاح کر رہے ہو۔
(د) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے چھوٹے بچے کی شادی کر دے تو اس کا نکاح جائز ہے اور کوئی طلاق نہیں۔
(ذ زہری فرماتے ہیں کہ مجنون، پاگل کی طلاق جائز نہیں ہے۔
(ب) حضرت حسن ضعیف سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے بیٹے کی شادی کرے اور وہ اس کو ناپسند کرے تو کوئی نکاح نہیں ہے اور جب بچپن میں اس کا نکاح ہوجائے تو جائز ہے۔
(ج) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حق مہر اس کے ذمہ ہے جس بچے کا تم نکاح کر رہے ہو۔
(د) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے چھوٹے بچے کی شادی کر دے تو اس کا نکاح جائز ہے اور کوئی طلاق نہیں۔
(ذ زہری فرماتے ہیں کہ مجنون، پاگل کی طلاق جائز نہیں ہے۔
(۱۳۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ زَوَّجَ ابْنًا لَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ وَابْنُہُ صَغِیرٌ یَوْمَئِذٍ وَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّ أَخَاہُ أَوْجَبَ الْعَقْدَ وَأَنَّ عَمَّہُ قَبِلَہُ لاِبْنِہِ الصَّغِیرِ۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَالْحَسَنِ وَالشَّعْبِیِّ وَالنَّخَعِیِّ وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً : إِذَا أَنْکَحَ الرَّجُلُ ابْنَہُ وَہُوَ کَارِہٌ فَلاَ نِکَاحَ لَہُ وَإِذَا زَوَّجَہُ وَہُوَ صَغِیرٌ جَازَ نِکَاحُہُ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : الصَّدَاقُ عَلَی الاِبْنِ الَّذِی أَنْکَحْتُمُوہُ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الرَّجُلُ ابْنَہُ الصَّغِیرَ فَنِکَاحُہُ جَائِزٌ وَلاَ طَلاَقَ لَہُ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لاَ یَجُوزُ عَلَیْہُ طَلاَقٌ یَعْنِی عَلَی الْمَجْنُونِ۔ [صحیح]
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَالْحَسَنِ وَالشَّعْبِیِّ وَالنَّخَعِیِّ وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً : إِذَا أَنْکَحَ الرَّجُلُ ابْنَہُ وَہُوَ کَارِہٌ فَلاَ نِکَاحَ لَہُ وَإِذَا زَوَّجَہُ وَہُوَ صَغِیرٌ جَازَ نِکَاحُہُ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : الصَّدَاقُ عَلَی الاِبْنِ الَّذِی أَنْکَحْتُمُوہُ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الرَّجُلُ ابْنَہُ الصَّغِیرَ فَنِکَاحُہُ جَائِزٌ وَلاَ طَلاَقَ لَہُ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لاَ یَجُوزُ عَلَیْہُ طَلاَقٌ یَعْنِی عَلَی الْمَجْنُونِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کلام کے ذریعہ نکاح منعقد ہوتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
(١٣٨١٨) حضرت سہل بن سعد ساعدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کردیا ہے، وہ بہت دیر کھڑی رہی تو ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کو ضرورت نہیں تو میرا نکاح کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : مہر دینے کے لیے کچھ ہے۔ اس نے کہا : میری یہ چادر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے فرمایا : اگر یہ چادر اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس کوئی چادر نہ ہوگی، کوئی اور چیز تلاش کرو۔ اس نے کہا : میں کچھ بھی نہیں پاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو۔ اس کو تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے۔ اس نے کہا : فلاں فلاں سورت، ان کا نام لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کے عوض میں نے تیرا اس سے نکاح کردیا (یعنی قرآن اس کو یاد کروا دینا)
(ب) حضرت سہل بن سعد دو روایتوں میں سے ایک سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے جو تجھے قرآن یاد ہے اس کے عوض۔
(ج) ایک دوسری روایت میں ہے کہ میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے۔ اس کے عوض جو تیرے پاس قرآن ہے۔
(ب) حضرت سہل بن سعد دو روایتوں میں سے ایک سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے جو تجھے قرآن یاد ہے اس کے عوض۔
(ج) ایک دوسری روایت میں ہے کہ میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے۔ اس کے عوض جو تیرے پاس قرآن ہے۔
(۱۳۸۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی قَدْ وَہَبْتُ نَفْسِی لَکَ فَقَامَتْ قِیَامًا طَوِیلاً فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ زَوِّجْنِیہَا إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تُصْدِقُہَا إِیَّاہُ ۔ فَقَالَ : مَا عِنْدِی إِلاَّ إِزَارِی ہَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّکَ إِنْ أَعْطَیْتَہَا إِزَارَکَ جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَکَ فَالْتَمِسْ شَیْئًا ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ شَیْئًا قَالَ : فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیدٍ ۔ فَالْتَمِسْ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْء ٌ ۔ قَالَ : نَعَمْ سُورَۃُ کَذَا وَسُورَۃُ کَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَغَیْرُہُمْ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : قَدْ زَوَّجْتُکَہَا ۔ وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ : قَدْ أَنْکَحْتُکَہَا عَلَی مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ وَقَالَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ : قَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
[صحیح۔ مسلم ۱۴۲۵]
[صحیح۔ مسلم ۱۴۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کلام کے ذریعہ نکاح منعقد ہوتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
(١٣٨١٩) حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ اس نے یہ قصہ ذکر کیا، لیکن چادر کا نام نہیں لیا اور کہتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا۔ کہنے لگا : میرا نکاح اس سے کر دو ۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا جو تیرے پاس قرآن ہے اس کے بدلے۔
(۱۳۸۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی حَازِمِ بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ ہَذِہِ الْقَصَّۃَ لَمْ یَذْکُرِ الإِزَارَ وَقَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَنْکِحْنِیہَا وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَقَالَ : قَدْ أَنْکَحْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کلام کے ذریعہ نکاح منعقد ہوتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
(١٣٨٢٠) حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں : میں لوگوں کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا۔ ایک عورت کھڑی ہوئی۔ انھوں نے حدیث کو ذکر کیا اور کہتے ہیں : لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا : میری شادی اس سے کردیں۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا جو تجھے قرآن یاد ہے اس کے عوض۔
(۱۳۸۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ سَمِعَ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُولُ : کُنْتُ فِی الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ زَوِّجْنِیہَا وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ : اذْہَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُکَہَا عَلَی مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کلام کے ذریعہ نکاح منعقد ہوتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
(١٣٨٢١) حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو ضرورت نہ ہو تو میرے ساتھ نکاح کردیں، اس کے آخر میں ہے کہ میں نے تجھے اس کا مالک بنادیا ہے اس قرآن کے عوض جو تیرے پاس موجود ہے (یعنی تجھے یاد ہے اسے بھی یاد کروا دینا) ۔
(ب) حضرت سہل بن سعد (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھے اس کا مالک بنادیا ہے اس کے بدلے جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔ پھر کہا : یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے۔
(ب) حضرت سہل بن سعد (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھے اس کا مالک بنادیا ہے اس کے بدلے جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔ پھر کہا : یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے۔
(۱۳۸۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَیْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَۃٌ فَزَوِّجْنِیہَا وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ : فَاذْہَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ دُونَ سِیَاقِہِ تَمَامَ الْمَتْنِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ یَعْقُوبَ وَعَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : اذْہَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ ثُمَّ قَالَ ہَذَا حَدِیثُ ابْنِ أَبِی حَازِمٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ دُونَ سِیَاقِہِ تَمَامَ الْمَتْنِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ یَعْقُوبَ وَعَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : اذْہَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ ثُمَّ قَالَ ہَذَا حَدِیثُ ابْنِ أَبِی حَازِمٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کلام کے ذریعہ نکاح منعقد ہوتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
(١٣٨٢٢) ابو حازم حضرت سہل بن سعد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے جاؤ میں نے تجھے اس کا مالک بنادیا (یعنی نکاح کردیا) اس کے عوض جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔
(ب) قعنبی ابو حازم سے نقل فرماتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ جاؤ میں نے تجھے اس کا مالک بنادیا ہے (یعنی نکاح کردیا ہے) ۔
(ب) قعنبی ابو حازم سے نقل فرماتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ جاؤ میں نے تجھے اس کا مالک بنادیا ہے (یعنی نکاح کردیا ہے) ۔
(۱۳۸۲۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ : اذْہَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی حَازِمٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : اذْہَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَہَا ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَنْ عَارِمٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کلام کے ذریعہ نکاح منعقد ہوتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : { فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا } [الاحزاب ٣٧] ” جب زید نے اپنی ضروری پوری کرلی تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ “ اللہ کا فرمان : { وَامْرَاَ
(١٣٨٢٣) ابو حازم حضرت سہل بن سعد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ ایک عورت نے اپنا نفس اللہ اور رسول کے لیے ہبہ کردیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے آج کے دن عورت کی ضرورت نہیں ہے، تو کمزور مسلمانوں میں سے ایک نے کہا : اس کا نکاح میرے ساتھ کردیں، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے پوچھا : تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا : میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کو کپڑا ہی دے دو ۔ وہ شخص کہنے لگا : میں نہیں پاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو لوہے کی انگوٹھی ہی دے دو ۔ اس شخص نے کہا : میں نہیں پاتا، یعنی میرے پاس موجود نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا قرآن یاد ہے ؟ اس نے کہا : فلاں فلاں سورت یاد ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو میں نے قرآن کے عوض تیرا نکاح اس سے کردیا ہے۔
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے۔
(ذ جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے۔
(ذ جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔
(۱۳۸۲۳) وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ حَمَّادٍ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنَّ امْرَأَۃً وَہَبْتَ نَفْسَہَا لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ فَقَالَ : مَا لِی فِی النِّسَائِ حَاجَۃٌ الْیَوْمَ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ ضُعَفَائِ الْمُسْلِمِینَ : زَوِّجْنِیہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ : فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ ۔ فَقَالَ : مَا عِنْدِی شَیْء ٌ۔ قَالَ : أَعْطِہَا ثَوْبًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ : أَعْطِہَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیدٍ ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ : فَمَا عِنْدَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : فَقَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا عِنْدَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ ہَذَا حَدِیثُ خَلَفٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الرَّبِیعِ : فَقَدْ زَوَّجْنَاکَہَا ۔ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی غَسَّانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلٍ قَالَ فِی الْحَدِیثِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمْلَکْنَاکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ (ت) وَرَوَاہُ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی غَسَّانَ : مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ قَالَ : زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
فَرِوَایَۃُ الْجَمْہُورِ عَلَی لَفْظِ التَّزْوِیجِ إِلاَّ رِوَایَۃَ الشَّاذِّ مِنْہَا وَالْجَمَاعَۃُ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِی ذَلِکَ بِمَا رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْحَجِّ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّہَ فِی النِّسَائِ فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوہُنَّ بِأَمَانَۃِ اللَّہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللَّہِ ۔ قَالَ : أَصْحَابُنَا وَہِیَ کَلِمَۃُ النِّکَاحِ وَالتَّزْوِیجِ اللَّذَیْنِ وَرَدَ بِہِمَا الْقُرْآنُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنَّ امْرَأَۃً وَہَبْتَ نَفْسَہَا لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ فَقَالَ : مَا لِی فِی النِّسَائِ حَاجَۃٌ الْیَوْمَ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ ضُعَفَائِ الْمُسْلِمِینَ : زَوِّجْنِیہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ : فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ ۔ فَقَالَ : مَا عِنْدِی شَیْء ٌ۔ قَالَ : أَعْطِہَا ثَوْبًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ : أَعْطِہَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیدٍ ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ : فَمَا عِنْدَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : فَقَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا عِنْدَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ ہَذَا حَدِیثُ خَلَفٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الرَّبِیعِ : فَقَدْ زَوَّجْنَاکَہَا ۔ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی غَسَّانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلٍ قَالَ فِی الْحَدِیثِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمْلَکْنَاکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ (ت) وَرَوَاہُ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی غَسَّانَ : مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ قَالَ : زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
فَرِوَایَۃُ الْجَمْہُورِ عَلَی لَفْظِ التَّزْوِیجِ إِلاَّ رِوَایَۃَ الشَّاذِّ مِنْہَا وَالْجَمَاعَۃُ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِی ذَلِکَ بِمَا رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْحَجِّ فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّہَ فِی النِّسَائِ فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوہُنَّ بِأَمَانَۃِ اللَّہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللَّہِ ۔ قَالَ : أَصْحَابُنَا وَہِیَ کَلِمَۃُ النِّکَاحِ وَالتَّزْوِیجِ اللَّذَیْنِ وَرَدَ بِہِمَا الْقُرْآنُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا نکاح نہیں جس کی اولاد نہ ہوتی ہو
(١٣٨٢٤) حضرت میمونہ بنت کردم فرماتی ہیں میں اپنے والد کے ساتھ تھی کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ میں اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کتاب کے مکتب کی طرح کچھ تھا۔ میں نے دیہاتیوں اور لوگوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے قدموں کی چاپ، قدموں کی چاپ۔ میرے والد نے قریب ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نشانات قدم پر چلنا شروع کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٹھہر گئے۔ میمونہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کی سبابہ انگلی جو پاؤں کی تمام انگلیوں سے زیادہ لمبی تھی۔ اس کو نہ بھولی۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں جیش عشران میں تھا۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لشکر کو پہچانتے تھے تو طارق بن مرقع نے کہا : کون مجھے اچھے بدلے کے عوض نیزہ دے گا۔ میں نے کہا : اس کا بدلہ کیا ہوگا ؟ اس نے کہا : جو میری پہلی بیٹی ہوگی اس کا نکاح دے دوں گا۔ کردم کہتے ہیں : میں نے اس کو اپنا نیزہ دے دیا، اس کے ہاں بیٹی پیدا ہو کر بالغ ہوگئی۔ میں نے آکر کہہ دیا کہ میری گھر والی کو میرے لیے تیار کرو تو طارق کہنے لگے : اس کے علاوہ حق مہر دو تو تیار کردیتا ہوں وگرنہ اللہ کی قسم ! ایسا نہ کروں گا۔ میں نے بھی قسم اٹھا کر کہا ایسا نہ کروں گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عورتوں میں سے کس کے مماثل ہے۔ میں نے کہا : اس نے بڑھاپے کی ابتدا کو دیکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ آپ کے لیے اس میں بھلائی نہیں ہے، کہتے ہیں : اس نے مجھے ڈرایا اور میری طرف دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ آپ گناہ گار ہوں گے اور نہ وہ۔
(۱۳۸۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ مِقْسَمٍ وَہُوَ ابْنُ ضَبَّۃَ قَالَ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ وَہُوَ عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ وَأَنَا مَعَ أَبِی وَبِیَدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- دِرَّۃٌ کَدِرَّۃِ الْکُتَّابِ فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ یَقُولُونَ الطَّبْطَبِیَّۃَ الطَّبْطَبِیَّۃَ فَدَنَا مِنْہُ أَبِی فَأَخَذَ بِقَدَمِہِ وَأَقَرَّ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ فَمَا نَسِیتُ طُولَ إِصْبَعَ قَدَمِہِ السَّبَّابَۃِ عَلَی سَائِرِ أَصَابِعِہِ قَالَ فَقَالَ لَہُ : إِنِّی شَہِدْتُ جَیْشَ عُثْرَانَ قَالَتْ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَلِکَ الْجَیْشَ ۔ فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمَرَقَّعِ مَنْ یُعْطِینِی رُمْحًا بِثَوَابِہِ قَالَ فَقُلْتُ وَمَا ثَوَابُہُ؟ قَالَ : أُزَوِّجُہُ أَوَّلَ ابْنَۃٍ تَکُونُ لِی ۔ قَالَ : فَأَعْطَیْتُہُ رُمْحِی ثُمَّ تَرَکْتُہُ حَتَّی وُلِدَ لَہُ ابْنَۃٌ وَبَلَغَتْ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ لَہُ : جَہِّزْ إِلَیَّ أَہْلِیَ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ لاَ أُجَہِّزُہَا حَتَّی تُحْدِثَ صَدَاقَ غَیْرِ ذَلِکَ فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَفْعَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَبِقَرْنِ أَیِّ النِّسَائِ ہِیَ ۔ قُلْتُ : قَدْ رَأَتِ الْقَتِیرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : دَعْہَا لاَ خَیْرَ لَکَ فِیہَا ۔ قَالَ : فَرَاعَنِی ذَلِکَ وَنَظَرَ إِلَیَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَأْثَمُ وَلاَ یَأْثَمُ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا نکاح نہیں جس کی اولاد نہ ہوتی ہو
(١٣٨٢٥) ابراہیم بن میسرہ اپنی خالہ سے جو ایک سچی عورت سے نقل کرتی ہیں کہتی ہیں : ہم دور جاہلیت میں سخت گرمی میں ایک غزوہ میں تھے تو ایک شخص نے کہا : جو مجھے اپنے جوتے دے میں اس کو اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح دوں گا تو میرے والد نے اپنے جوتے اتار کر دے دیے۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہو کر بلوغت کی عمر کو پہنچی۔ اس طرح انھوں نے ذکر کیا لیکن قتیر یعنی بڑھاپے کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۱۳۸۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَنَّ خَالَتَہُ أَخْبَرَتْہُ عَنِ امْرَأَۃٍ قَالَ ہِیَ مُصَدَّقَۃٌ امْرَأَۃُ صِدْقٍ قَالَتْ : بَیْنَا أَنَا فِی غَزَاۃٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ إِذْ رَمِضُوا فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ یُعْطِینِی نَعْلَیْہِ وَأُنْکِحُہُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِی فَخَلَعَ أَبِی نَعْلَیْہِ فَأَلْقَاہُمَا إِلَیْہِ فَوُلِدَتْ لَہُ جَارِیَۃٌ فَبَلَغَتْ ذَکَرَ نَحْوَہُ لَمْ یَذْکُرْ قِصَّۃَ الْقَتِیرِ۔وَالْقَتِیرُ : الشَّیْبُ۔ [ضعیف]
তাহকীক: