কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
دنیا کی تخلیق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২ টি
হাদীস নং: ১৫১৩৫
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15135 اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے صرف تین چیزیں پیدا فرمائیں ہیں اور بقیہ چیزوں کو فرمایا ہے کن (ہوجاؤ) ۔ پس اللہ نے قلم کو، آدم (علیہ السلام) کو اور جنت الفردوس کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور جنت الفردوس کو فرمایا : میری عزت کی قسم اور میری بزرگی کی قسم تجھ میں کوئی بخیل داخل ہوگا اور نہ کوئی دیوث تیری خوشبو بھی سونگھ سکے گا۔ الدیلمی عن علی (رض)
15135- "إن الله تعالى لم يخلق بيده إلا ثلاثة أشياء وقال لسائر الأشياء: كن فكان خلق القلم وآدم والفردوس بيده وقال لها: وعزتي وجلالي لا يجاورني فيك بخيل ولا شم ريحك ديوث ". "الديلمي عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৩৬
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15136 اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمائی ہیں آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، تو رات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور فردوس کو اپنے ہاتھ سے اگایا۔ الدارقطنی فی الصفات
15136- "إن الله تعالى خلق ثلاثة أشياء بيده آدم بيده وكتب التوراة بيده وغرس الفردوس بيده". "قط في الصفات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৩৭
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15137 پرورد اگر عزوجل نے جنت الفردوس کو یہ بھی ارشاد فرمایا : میری عزت کی قسم شراب کا عادی اور کوئی دیوث تجھ میں داخل نہ ہوگا لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! دیوث کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : جو اپنے گھر میں برائی کو چھوڑے (اور اس کو یہ پروانہ ہو کہ گھر میں کون آرہا ہے اور کون جارہا ہے) ۔ الخرائطی فی مساوی الاخلاق عن عبداللہ بن الحارث بن نوفل
15137- "وقال وعزتي لا يسكنها مدمن خمر ولا ديوث، قالوا: يا رسول الله وما الديوث؟ قال: من يقر السوء في أهله". "الخرائطي في مساوئ الأخلاق عن عبد الله بن الحارث بن نوفل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৩৮
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15138 اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمائی ہیں آدمی کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا توراۃ کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کو اپنے ہاتھ سے اگایا۔ الدیلمی عن الحارث بن نوفل
15138- "خلق الله ثلاثة أشياء بيده: خلق آدم بيده وكتب التوراة بيده وغرس الفردوس بيده". "الديلمي عن الحارث بن نوفل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৩৯
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15139 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی صورت کو (اور ڈھانچے کو) بنادیا تو ابلیس اس کے گرد چکر کاٹنے لگا اور اس کو دیکھنے لگا۔ جب اس نے آدم (علیہ السلام) کو اندر سے خالی پایا تو کہنے لگا : میں تو اس پر کامیاب ہوگیا یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے پر قدرت نہ رکھ سکے گی۔
مستدرک الحاکم، ابوالشیخ فی العظمۃ، عن انس (رض)
مستدرک الحاکم، ابوالشیخ فی العظمۃ، عن انس (رض)
15139- "لما صور الله آدم تركة فجعل إبليس يطيف به ينظر إليه فلما رآه أجوف قال: ظفرت به خلق لا يتمالك". "ك وأبو الشيخ في العظمة عن أنس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪০
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15140 حضرت آدم (علیہ السلام) طویل قامت تھے گویا کھجور کا درخت ہیں جب ان سے خطا سرزد ہوگئی تو وہ جنت میں بھاگتے پھرنے لگے۔ ایک درخت نے ان کو پکڑ لیا وہ درخت کی طرف متوجہ ہوئے اور پروردگار سے دعا کرنے لگے : اے پروردگار معافی دیدے۔ پس اسی وجہ سے جب کوئی غلام بھاگتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو سب سے پہلے معافی کا سوال کرتا ہے۔
ابو الشیخ فی العظمۃ عن انس (رض)
ابو الشیخ فی العظمۃ عن انس (رض)
15140- "كان آدم طوالا كأنه نخلة سحوق فلما أصاب الخطيئة هرب في الجنة فأخذته شجرة فالتفت فقال: يا رب العفو، فلذلك إذا أخذ عبد آبق فأول ما يسأل العفو". "أبو الشيخ في العظمة عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪১
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15141 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کو سجدہ کا حکم دیا انھوں نے سجدہ کیا۔ پروردگار نے فرمایا : تیرے لیے جنت ہے اور تیری جو اولاد سجدہ کرے ان کے بھی جنت ہے۔ پھر پروردگار نے ابلیس کو حکم فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کر تو لیکن ابلیس نے انکار کردیا، پروردگار نے فرمایا : تیرے لیے جہنم ہے اور جو تیری اولادسجدہ سے انکار کرے اس کے لیے بھی جہنم ہے۔
التاریخ للحاکم عن انس (رض)
التاریخ للحاکم عن انس (رض)
15141- "لما خلق الله آدم قال له: اسجد فسجد، فقال: لك الجنة ومن سجد من ذريتك وقال لإبليس: اسجد فأبى، فقال لك النار ولمن أبى أن يسجد من ذريتك". "ك في تاريخه عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪২
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15142 اللہ عزوجل نے آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : میرے لیے اس میں کیا اجر ہے ؟ پروردگار نے ارشاد فرمایا : اگر تو نے امانت کو اٹھالیا تو تجھے اجر ملے گا اور اگر تو نے امانت کو ضائع کردیا تو تجھے عذاب ہوگا۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : میں نے امانت کو اٹھا لیا جو کچھ اس میں ہے اس کے ساتھ پھر آدم (علیہ السلام) جنت میں اتنا عرصہ ٹھ ہے جتنا عرصہ فجر سے عصر کے درمیان ہے حتیٰ کہ شیطان نے ان کو وہاں سے نکلوادیا۔ ابوالشیخ من طریق جویبر عن الضحاک عن ابن عباس (رض)
15142- "قال الله عز وجل لآدم: يا آدم إني عرضت الأمانة على السماوات والأرض فلم تطقها فهل أنت حاملها بما فيها؟ قال: ومالي فيها؟ قال إن حملتها أجزت وإن ضيعتها عذبت، فقال قد حملتها بما فيها فلم يلبث في الجنة إلا ما بين الصلاة الأولى إلى العصر حتى أخرجه الشيطان منها". "أبو الشيخ من طريق جويبر عن الضحاك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪৩
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15143 آدم وحواء (علیہما السلام) دونوں عریاں حالت میں زمین پر اترے تھے، ان کے جسموں پر صرف جنت کے پتے تھے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو تپش نے ستایا تو بیٹھ کر رونے لگے اور حوا (علیہ السلام) کو فرمایا : اے حواء ! مجھے گرمی نے ستادیا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) روئی لے کر حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے۔
اور حضرت حواء (علیہ السلام) کو حکم فرمایا روئی کا تو اور ان کو روئی کا تنا سکھایا۔ جبکہ آدم (علیہ السلام) کو دھاگے سے کپڑا بننے کا حکم دیا اور سکھایا : آدم (علیہ السلام) جنت میں اپنی بیوی سے جماع نہ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کی وجہ سے زمین پر اترے تب بھی وہ علیحدہ علیحدہ سوتے تھے ایک وادی بطحاء میں سوتا تھا اور دوسرا دوسرے کونے میں سوتا تھا۔ حتیٰ کہ آدم (علیہ السلام) کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے ان کو حکم دیا کہ اپنے گھر والوں سے ملیں اور مباشرت کا طریقہ سکھایا۔ چنانچہ آدم (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کے پاس آئے اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا : آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : صالحۃ (اچھا نیک) ۔ ابن عساکر عن انس (رض)
اور حضرت حواء (علیہ السلام) کو حکم فرمایا روئی کا تو اور ان کو روئی کا تنا سکھایا۔ جبکہ آدم (علیہ السلام) کو دھاگے سے کپڑا بننے کا حکم دیا اور سکھایا : آدم (علیہ السلام) جنت میں اپنی بیوی سے جماع نہ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کی وجہ سے زمین پر اترے تب بھی وہ علیحدہ علیحدہ سوتے تھے ایک وادی بطحاء میں سوتا تھا اور دوسرا دوسرے کونے میں سوتا تھا۔ حتیٰ کہ آدم (علیہ السلام) کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے ان کو حکم دیا کہ اپنے گھر والوں سے ملیں اور مباشرت کا طریقہ سکھایا۔ چنانچہ آدم (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کے پاس آئے اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا : آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : صالحۃ (اچھا نیک) ۔ ابن عساکر عن انس (رض)
15143- "هبط آدم وحواء عريانين جميعا عليهما ورق الجنة فأصابه الحر حتى قعد يبكي ويقول: يا حواء قد آذاني الحر فجاءه جبريل بقطن وأمرها أن تغزل وعلمها، وأمر آدم بالحياكة وعلمه وأمره بالنسيج وكان آدم لم يجامع امرأته في الجنة حتى هبط منها للخطيئة التي أصابها بأكلها الشجرة وكان كل واحد منهما على حدة ينام أحدهما في البطحاء والآخر من ناحية أخرى، حتى أتاه جبريل، فأمره أن يأتي أهله وعلمه كيف يأتيها، فلما أتاها جاءه جبريل، فقال له: كيف وجدت امرأتك؟ قال: صالحة". "ابن عساكر عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪৪
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15144 اگر آدم (علیہ السلام) کے آنسوؤں کا ان کے تمام اولاد کے آنسوؤں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو آدم (علیہ السلام) کے آنسو ان کی تمام اولاد کے آنسوؤں سے زیادہ نکلیں گے۔
الکبیر للطبرانی، الکامل لا بن عدی، شعب الایمان للبیہقی، ابن عساکر عن سلیمان بن یریدۃ عن ابیہ قال ابن عدی روی موقوفاً عن ابی بریدۃ وھواصح
کلام : روایت ضعیف ہے ، ذخیرۃ الحفاظ 4615، المتنا ھیۃ 44 ۔
الکبیر للطبرانی، الکامل لا بن عدی، شعب الایمان للبیہقی، ابن عساکر عن سلیمان بن یریدۃ عن ابیہ قال ابن عدی روی موقوفاً عن ابی بریدۃ وھواصح
کلام : روایت ضعیف ہے ، ذخیرۃ الحفاظ 4615، المتنا ھیۃ 44 ۔
15144- " لو وزن دموع آدم بجميع دموع ولده لرجع دموعه على دموع جميع ولده". "طب عد هب وابن عساكر عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال عد روى موقوفا عن أبي بريدة وهو أصح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪৫
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15145 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کے دائیں شانے پر ہاتھ مارا جس سے ان کی سفید اولاد نکالی جو دودھ کی طرح سفید تھی ۔ پھر بائیں شانے پر ہاتھ مارا جس سے ان کی سیاہ اولاد نکالی جو کوئلوں کی طرح سیاہ تھی ۔ پھر پروردگار نے دائیں طرف والوں کے لیے فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ۔ اور بائیں طرف والوں کے لیے فرمایا : یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ مسند احمد، ابن عساکر عن ابی الدرداء (رض)
15145- "خلق الله آدم عليه السلام حين خلقه فضرب كتفه اليمنى فأخرج ذرية بيضاء كأنهم اللبن ثم ضرب كتفه اليسرى فأخرج ذرية سوداء كأنهم الحمم فقال للذي في يمينه: هؤلاء في الجنة ولا أبالي، وقال للذي في كتفه اليسرى وهؤلاء في النار ولا أبالي". "حم وابن عساكر عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৪৬
دنیا کی تخلیق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت آدم صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ۔۔۔
الاکمال
الاکمال
15146 جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کے دائیں شانے پر ہاتھ مارا اور ان کی سفید اولاد نکالی جو دودھ کی مانند سفید تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بائیں شانے پر ہاتھ مارا اور سیاہ اولاد نکالی جو کوئلے کی مانند تھی۔ پھر ارشاد فرمایا : وہ جنت کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں اور یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ الکبیر للطبرانی عن ابی الدرداء (رض)
15146- "لما خلق الله آدم ضرب كتفه اليمنى فأخرج ذرية بيضاء كأنهم الذر ثم ضرب كتفه اليسرى فأخرج ذرية سوداء كأنهم الحمم، فقال: هؤلاء إلى الجنة ولا أبالي وهؤلاء إلى النار ولا أبالي". "طب عن أبي الدرداء".
তাহকীক: