কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

تعظیم کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪১ টি

হাদীস নং: ২৯৮৪৬
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29846 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے آگے نور وظلمت کے ستر ہزار پردے ہیں کسی ذی روح نے ان پر پردوں کا حال نہیں سنا جو سن لے اس کی جان نکل جائے ۔ (رواہ الطبرانی عن ابن عمر (رض) ، وسھل بن سعد معا)
29846- "إن دون الله عز وجل سبعين ألف حجاب من نور وظلمة وما تسمع نفس شيئا من حسن تلك الحجب إلا زهقت". "طب" عن ابن عمر وسهل بن سعد معا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪৭
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29847 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے آگے نور وظلمت کے ستر ہزار پردے حائل ہیں جو جان بھی ان پردوں کی خوبصورت کے متعلق سن لے اس کی جان نکل جائے ۔ (رواہ ابویعلی والعقیلی والطبرانی ابن عمرو سھل بن سعد معا وضعف واوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات فلم یصب)
29847- "دون الله عز وجل سبعون ألف حجاب من نور وظلمة، فما من نفس تسمع شيئا من حسن تلك الحجب إلا زهقت". "ع، عق، طب" عن ابن عمر وسهل بن سعد معا، وضعف؛ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فلم يصب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪৮
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29848 ۔۔۔ رب تعالیٰ کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے آسمانوں میں چرچراہٹ ہے جس طرح نیا پالان چرچراتا ہے جب کوئی شخص پالان کے ایک حصہ میں سوار ہو۔ (رواہ البزار عن عمر (رض))
29848- " إن كرسيه وسع السماوات والأرض، وإن له أطيطا كأطيط الرحل الجديد إذا ركب من شقه". "بز"عن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪৯
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29849 ۔۔۔ پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی معبود برحق ہے وہ عالم ہے قدیم ہے اس پر حدوث کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ ہوگا قائم بالذات ہے چوکتا نہیں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کو وجود بخشنے والا ہے حادث نہیں ہر چیز خواہ دکھائی دے نہ دکھائی دے اس کا خالق ہے ہر علم کا جاننے والا ہے وہ تعلم کے بغیر عالم ہے۔ (رواہ ابوالشیخ فی العظمۃ عن اسامۃ بن زید)
29849- " سبحان الذي لا إله غيره الإله العالم الدائم الذي لا ينفذ القائم الذي لا يغفل، بديع السماوات والأرض، المبدع غير المبتدع، خالق ما يرى وما لا يرى، عالم كل علم بغير تعلم". أبو الشيخ في العظمة - عن أسامة بن زيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫০
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29850 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس وقت موجود تھا جب اس کے ساتھ اور کوئی چیز موجود نہیں تھی اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا اللہ تعالیٰ نے ہر ہونے والی چیز کو لکھا پھر آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری والطبرانی عن عمران بن حصین الحاکم عن بریدۃ)
29850- "كان الله ولم يكن معه شيء غيره، وكان عرشه على الماء، وكتب في الذكر كل شيء هو كائن، وخلق السماوات والأرض". "حم، خ، طب" عن عمران بن حصين؛ "ك" عن بريدة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫১
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29851 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ بادلوں میں تھا (یعنی اس کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا) اس کے اوپر اور نیچے ہوا تھی (یعنی فضا تھی) پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر والطبرانی وابو الشیخ فی العظمۃ عن ابی رزین) ابو رزین (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارا رب آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے قبل کہاں تھا ؟ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
29851- " كان في عماء تحته هواء وفوقه هواء، ثم خلق عرشه على الماء". "حم" وابن جرير، "طب" وأبو الشيخ في العظمة - عن أبي رزين قال: قلت يا رسول الله أين كان ربنا قبل أن يخلق السماوات والأرض؟ قال - فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫২
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29852 ۔۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیا اللہ تعالیٰ سوتا ہے ؟ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا فرشتے نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تین دن تک سلا دیا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو شیشیاں دیں ہر ہاتھ میں ایک ایک شیشی تھمائی پھر حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر سونا شروع کردیا قریب تھا کہ بوتیں ہاتھ سے گرجائیں مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر جاگ گئے اور شیشیاں تھام لیں بالاخر موسیٰ (علیہ السلام) سو ہی گئے ہاتھ ڈھیلے پڑے اور شیشیاں گر کر ٹوٹ گئیں چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ مثال بیان کی کہ اگر اللہ تعالیٰ سو جاتا آسمان اور زمین اپنی جگہ پر کیونکر قائم رہ سکتے ۔ (رواہ ابو یعلی عن ابوہریرہ (رض) وضعفہ ورواہ عبدالرزاق فی تفسیرہ عن عکرمہ موقوفا علیہ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے المتناھیۃ 23 ۔
29852- "وقع في نفس موسى هل ينام الله؟ فأرسل الله إليه ملكا فأرقه ثلاثا ثم أعطاه قارورتين في كل يد قارورة، وأمره أن يحتفظ بهما فجعل ينام وتكاد يداه تلتقيان، ثم يستيقظ فيحبس إحداهما عن الأخرى حتى نام نومة فاصطفقت يداه فانكسرت القارورتان ضرب الله له مثلا أن الله لو كان ينام لم تستمسك السماوات والأرض". "ع" عن عكرمة عن أبي هريرة، وضعفه؛ ورواه عبد الرزاق في تفسيره - عن عكرمة موقوفا عليه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৩
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29853 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کی طرف ہر دن تین سو ساٹھ (360) مرتبہ دیکھتا ہے اول تا آخر اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ ہے اور ایسا اپنی مخلوق سے محبت کی وجہ سے کرتا ہے۔ (رواہ الدیلمی عن ابی ھدیہ عن انس (رض))
29853- "إن الله تعالى ينظر إلى عباده كل يوم ثلثمائة وستين مرة يبدئ ويعيد وذلك من حبه لخلقه". الديلمي - عن أبي هدبة عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৪
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29854 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی ایک کتاب ہے جسے لوح محفوظ کہا جاتا ہے اس کا ایک رخ یاقوت کا ہے اور دوسرا رخ سبز زمرد کا ہے اس کتاب کا قلم نور کا ہے مخلوق کے احوال اس میں درج ہیں رزق کا معاملہ اس میں درج ہے زندگی اور موت کے احوال اس میں درج ہیں اللہ تعالیٰ اس میں دن رات جو چاہتا ہے کرتا ۔ (رواہ الازدی فی الضعفاء وابو الشیخ فی العظمۃ عن انس اور دہ ابن الجوزی فی الموضوعات)
29854- " إن لله تعالى لوحا، أحد وجهيه ياقوتة والوجه الثاني زمردة خضراء قلمه النور، وفيه يخلق وفيه يرزق وفيه يحيي وفيه يميت وفيه يعيد وفيه يفعل ما يشاء في كل يوم وليلة". الأزدي في الضعفاء وأبو الشيخ في العظمة - عن أنس؛ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৫
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29855 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سفید موتی سے لوح محفوظ کو پیدا کیا ہے اس کے ڈبے کا ایک رخ سبز زبرجد کا ہے اس کی کتابت نور سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن اس کی طرف تین سو ساٹھ (360) مرتبہ دیکھتا ہے اللہ تعالیٰ ہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے وہی پیدا کرتا ہے وہی رزق دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (رواہ ابوالشیخ فی العظمۃ ، عن ابن عباس) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی 201 ۔
29855- "خلق الله تعالى لوحا من درة بيضاء دفتاه من زبرجد خضراء كتابه النور يلحظ إليه في كل يوم ثلثمائة وستين لحظة يحيي ويميت ويخلق ويرزق ويفعل ما يشاء". أبو الشيخ في العظمة - عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৬
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29856 ۔۔۔ جب اللہ تعالیٰ کسی اپنے کام کا ارادہ کرتا ہے جس میں قدرے نرمی ہو تو اس کے متعلق فرشتوں کو فارسی میں حکم دیتا ہے اور اگر اس کام میں سختی ہو تو فرشتوں کو فصیح عربی زبان میں حکم دیتا ہے۔ (رواہ الدیلمی عن ابی امامۃ وفیہ جعفر بن الزبیر متروک)
29856- "إذا أراد الله أمرا فيه لين أوحى به إلى الملائكة المقربين بالفارسية الدرية، وإذا أراد أمرا فيه شدة أوحى إليه بالعربية الجهيرة يعني المبينة". الديلمي - عن أبي أمامة؛ وفيه جعفر بن الزبير متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৭
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29857 ۔۔۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ڈرانا چاہتا ہے تو زمین میں کوئی ایسی چیز پیدا کردیتا جس سے زمین کپکپا اٹھتی ہے اور جب اپنی مخلوق کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو زمین پر ظلم کو مسلط کردیتا ہے۔ (وراہ الدیلمی عن ابن عباس (رض) ورواہ الطبرانی فی السنۃ عنہ موقوفا نحوہ)
29857- " إذا أراد الله تعالى أن يخوف خلقه أظهر للأرض منه شيئا فارتعدت وإذا أراد أن يهلك خلقه تبدى لها". الديلمي - عن ابن عباس؛ ورواه "طب" في السنة عنه موقوفا نحوه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৮
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29858 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تین چیزوں کو میں نے اپنے بندوں کی نظروں سے اوجھل رکھا ہے اگر میرے بندے ان چیزوں کو دیکھ لیں کبھی برائی نہ کریں اگر میں اپنے پردوں کو ہٹا دوں ۔ حتی کہ میرے بندے مجھے دیکھ لیں اور انھیں یقین ہوجائے اور یہ جان لیں کہ جب میں مخلوق کو موت دیتا ہوں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں اور یہ کہ میں نے آسمانوں کو مٹھی میں لیا پھر زمین کو مٹھی میں لیا پھر میں نے کہا : میں ہی بادشاہ ہوں کون ہے جو میرے سوا بادشاہ ہو پھر میں اپنے بندوں کو جنت میں دکھاؤں اور ان کے لیے جنت میں جو جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں وہ انھیں دیکھ کر یقین کرلیں پھر میں انھیں دوزخ دکھاؤں اور جو کچھ عذاب کی مختلف صورتیں اس میں تیار کر رکھی ہیں حتی کہ اسے دیکھ کر یقین کرلیں لیکن میں نے ان سب کو (اپنے آپ کو جنت کو اور دوزخ کو) جان بوجھ کر اپنے بندوں کی نظروں سے چھپا رکھا ہے تاکہ مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے بندے کیسا عمل کرتے ہیں حالانکہ یہ ساری چیزیں میں نے کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔ (رواہ الطبرانی وابو الشیخ فی العظمۃ عن ابی مالک الاشعری)
29858- "إن الله تعالى يقول: ثلاث خصال غيبتهن عن عبادي لو رآهن رجل ما عمل سوءا أبدا: لو كشفت غطائي فرآني حتى يستيقن، ويعلم كيف أفعل بخلقي إذا أمتهم، وقبضت السماوات بيدي ثم قبضت الأرض ثم الأرضين ثم قلت: أنا الملك من ذا الذي له الملك دوني، ثم أريهم الجنة وما أعددت لهم فيها من كل خير فيستيقنونها، وأريهم النار وما أعددت لهم فيها من كل شر فيستيقنونها ولكن عمدا غيبت ذلك عنهم لأعلم كيف يعملون وقد بينته لهم". "طب" وأبو الشيخ في العظمة - عن أبي مالك الأشعري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫৯
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29859 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے ہوا کا جو بگولا بھی نازل کرتا ہے وہ مقدار کے مطابق ہوتا ہے اور آسمان سے جو قطرہ بھی پانی کا نازل کرتا ہے وہ بھی مقدار کے مطابق ہوتا ہے البتہ طوفان نوح کے موقع پر پانی اور قوم عاد کے عذاب کے موقع پر ہوا بغیر مقدار کے چلی چنانچہ طوفان نوح کے دن پانی اللہ کے حکم سے خزانچی فرشتوں سے سرکشی کرکے نکل گیا اور قوم عاد کے عذاب کے دن ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم سے خزانچی فرشتوں سے سرکشی کر کے نکل پڑی ۔ چنانچہ ہوا پر فرشتوں کا کوئی اختیار نہیں تھا ۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد وابو نعیم فی الحلیۃ وابن عساکر عن ابن عباس)
29859- "ما أنزل الله عز وجل من السماء سفة من الريح إلا بمكيال ولا قطرة من الماء إلا بمكيال، إلا يوم نوح ويوم عاد، فإن الماء يوم نوح طغى على الخزان بأمر الله تعالى فلم يكن لهم عليه سبيل، وإن الريح يوم عاد عتت على الخزان بأمر الله فلم يكن لهم عليها سبيل". "قط" في الأفراد، "حل" وابن عساكر - عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬০
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29860 ۔۔۔ اے عائشہ ! (رض) جب اللہ تعالیٰ کسی چھوٹے کو بڑا بنانا چاہے تو بنا دیتا ہے اور جب کسی بڑے کو چھوٹا بنانا چاہے تو یہ بھی بنا دیتا ہے۔ (رواہ الدیلمی عن عائشۃ (رض))
29860- "يا عائشة إن الله تعالى إذا أراد أن يجعل الصغير كبيرا جعله، وإذا أراد أن يجعل الكبير صغيرا جعله". الديلمي - عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬১
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29861 ۔۔۔ سبحان اللہ ! جب دن آتا ہے رات کہا چلی جاتی ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل عن التنوخی رسول ھرقل) کہ ہرقل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا کہ تم مجھے جنت کی طرف بلاتے ہو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے مجھے بتاؤں دوزخ کہاں ہے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث فرمائی ۔۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 3227 ۔
29861- "سبحان الله أين الليل إذا جاء النهار". "حم" عن التنوخي رسول هرقل، إن هرقل كتب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تدعوني إلى جنة عرضها السماوات والأرض فأين النار قال - فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬২
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
29862 ۔۔۔ مجھ سے فریاد نہ کی جائے فریاد تو صرف اللہ تعالیٰ سے کی جائے ۔ (رواہ الطبرانی عن عبادۃ بن الصامت)
29862- "لا يستغاث بي إنما يستغاث بالله عز وجل". "طب" عن عبادة بن الصامت.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬৩
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب العظمۃ ۔۔۔ از قسم افعال : تعظیم کا بیان :۔۔۔ از قسم افعال :
29863 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) روایت کی ہے کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تاکہ مجھے جنت میں داخل کر دے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رب تعالیٰ کی تعظیم بیان کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا عرش سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رب تعالیٰ کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیرے رکھا ہے عرش چرچرارہا ہے جس طرح پالان سواری کے وقت چرچراتا ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن ابی عاصم وابن خزیمۃ والدارقطنی فی الصفات والطبرانی فی السنۃ وابن مردویہ و سعید بن المنصور)
29863- عن عمر أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله ادع الله أن يدخلني الجنة، فعظم الرب وقال: إن عرشه فوق سبع سماوات، وفي لفظ: إن كرسيه وسع السماوات والأرض وإن له أطيطا كأطيط الرحل الجديد إذا ركب في ثقله . "ع" وابن أبي عاصم وابن خزيمة، "قط" في الصفات، "طب" في السنة وابن مردويه، "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬৪
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب العظمۃ ۔۔۔ از قسم افعال : تعظیم کا بیان :۔۔۔ از قسم افعال :
29864 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) نے آیت کریمہ ” ان الذین ینادونک من وراء الحجرات “۔ (بےشک جو لوگ حجروں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے ہیں) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری تعریف زینت ہے اور میری خدمت عین ہے ، آپ نے فرمایا : یہ تو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ (رواہ ابن الشرقی وقال تفردیہ الحسین بن واقد وابن عساکر)
29864- عن البراء بن عازب في قوله: {ِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ} قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد إن حمدي زين، وإن ذمي شين، فقال: ذاك الله. ابن الشرقي وقال: تفرد به الحسين بن واقد، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬৫
تعظیم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب العظمۃ ۔۔۔ از قسم افعال : تعظیم کا بیان :۔۔۔ از قسم افعال :
29865 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عطاء بن بنی ساعدہ اپنے والد علاء بن سعد سے روایت نقل کرتے ہیں علاء ان حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے دن بیعت کی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : جو کچھ میں سنتا ہوں کیا وہ کچھ تم بھی سنتے ہو ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کیا سن رہے ہیں ؟ فرمایا : آسمان چرچرا رہا ہے۔ اور چرچرانا اس کا حق ہے آسمان پر پاؤں کے برابر بھی جگہ نہیں جس میں کوئی فرشتہ نہ ہو الا یہ کہ ہر جگہ کوئی نہ کوئی فرشتہ حالت قیام میں ہوتا ہے یا رکوع میں ہوتا ہے یا سجدہ میں ہوتا ہے پھر آپ نے یہ آی تلاوت کی ” وانا لنحن الصافون وانا لنحن المسبحون “۔ ہم صف بستہ ہیں اور ہم تسبیحات میں مصرف ہیں۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
29865- عن عبد الرحمن بن علاء بن بني ساعدة عن أبيه عن علاء بن سعد وكان ممن بايع يوم الفتح أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوما لجلسائه: هل تسمعون ما أسمع؟ قالوا: وما تسمع يا رسول الله؟ قال: أطت السماء وحق لها أن تئط ليس منها موضع قدم إلا وعليه ملك قائم أو راكع أو ساجد ثم قرأ {وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ} ابن منده، "كر"
tahqiq

তাহকীক: