কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৬ টি

হাদীস নং: ৪২০৮১
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٦٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے فرمایا : بٹوارے پر زراعت اور کھیتی باڑی کرنے کے میں کوئی حرج نہیں۔ ابن ابی شیبۃ
42068- عن علي قال: لا بأس بالمزارعة بالنصف."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮২
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٦٩۔۔۔ (ازمسندرافع بن خدیج) سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ ان سے مزارعت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا : کہ حضرت ابن عمر (رض) اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ اس کے متعلق ایک حدیث بیان کی گئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن حارثہ کے ہاں آئے تو ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھ کر فرمایا : ظہیر کی کھیتی کتنی عمدہ ہے تو انھوں نے کہا : یہ ظہیر کی نہیں آپ نے فرمایا : کیا یہ زمین ظۃ یر کی نہ تھی ؟ لوگوں نے عرض کی : کیوں نہیں انہی کی تھی لیکن انھوں نے بنوارے پہ دی ہے آپ نے فرمایا : اس شخص کا خرچ اسے واپس کرو اور اپنی زمین لے لورافع فرماتے ہیں : ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور اس شخص کو اس کا خرچ واپس کردیا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42069- من مسند رافع بن خديج عن سعيد بن المسيب أنه سئل عن المزارعة فقال: كان ابن عمر لا يرى بها بأسا حتى حدث فيها بحديث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى بني حارثة فرأى زرعا في أرض ظهير فقال: "ما أحسن زرع ظهير"! فقال: إنه ليس لظهير، فقال: "أليست الأرض أرض ظهير"؟ قالوا: بلى، ولكنه زارع، قال: "فردوا عليه نفقته وخذوا زرعكم"؛ قال رافع: فأخذنا زرعنا ورددنا عليه نفقته."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৩
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٠۔۔۔ اسی طرح حنظلۃ بن قیس سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے سفید زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : حلال ہے اس میں کوئی حرج نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف کچھ حصہ ممتاز ومستثنیٰ کرنے سے روکا ہے کہ آدمی جوتنے کے لیے زمین دے اور کچھ جدا کرلے۔ رواہ عبدالرزاق
42070- أيضا عن حنظلة بن قيس قال: سألت رافع ابن خديج عن كراء الأرض البيضاء فقال: حلال لا بأس به، إنما نهى عن الإرماث، أن يعطي الرجل الأرض ويستثني بعضها ونحو ذلك."عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৪
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧١۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : اسی طرح اکثر انصار زمینوں والے تھے تو ہم لوگ کرایہ پر زمین دیتے تھے بعض دفعہ وہ پیداوار دیتی اور بعض دفعہ نہ دیتی تو ہمیں اس سے روکا گیا رہا چاندی کے عوض تو اس سے ہمیں نہیں روکا گیا۔ رواہ عبدالرزاق
42071- عن رافع بن خديج قال: كنا أكثر الأنصار حقلا فكنا نكري الأرض فربما أخرجت مرة ولم تخرج مرة، فنهينا عن ذلك، وأما بالورق فلم ننه عنه."عب" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৫
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٢۔۔۔ اسی طرح سالم بن عبداللہ سے روایت ہے فرمایا : کہ رافع بن خدیج نے کئی باریہ بات کی کہ اللہ کی قسم ! کہ ہم زمین کو اونٹوں کی طرح کرایہ دپریں گے یعنی انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی کہ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اس سے منع فرماتے، لیکن ان کی بات قبول نہ کی جاتی۔ رواہ عبدالرزاق
42072- أيضا عن سالم بن عبد الله قال: أكثر رافع ابن خديج على نفسه: والله لنكرينها كراء الإبل - يعني أنه أكثر أنه روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه ينهي عنه، فلا يقبل منه."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৬
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٣۔۔۔ رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ میرے والد صاحب نے وفات کے وقت ایک لونڈی، ایک پانی لانے والا اونٹ ایک سینگی لگانے والا غلام اور زمین چھوڑی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لونڈی کی کمائی سے روکا گیا ہے اور سینگی لگانے والے کے بارے میں فرمایا : جو اجرت وہ لے اس سے اونٹ کا چارالے آؤ اور زمین کے ب ارے فرمایا : اسے کاشت کرویاچھوڑدو۔ طبرانی فی الکبیر
42073- عن رافع بن خديج قال: ترك أبي حين مات: جارية وناضحا وعبدا حجاما وأرضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجارية نهى عن كسبها، وقال في الحجام: "ما أصاب فاعلف الناضح"، وقال في الأرض: "ازرعها أو دعها"."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৭
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٤۔۔۔ رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک دن میرے ماموں میرے پاس آکر کہنے لگے : آج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے فائدہ مندھتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے اور تمہارے لیے زیادہ نفع بخش ہے آپ ایک کھیتی کے پاس گزرے فرمایا : یہ فصل کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں کی فرمایا : زمین کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں کی ، فرمایا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : اسے اتنے اتنے پر دی ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین بخشے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس پر مقراجرت لے۔ اور تہائی چوتھائی اور زمین کے کرایہ سے منع فرمایا : ایوب نے فرمایا : کسی نے طاؤس سے کہا : یہاں حضرت رافع بن خدیج کا ایک بیٹا ہے جو یہ حدیث بیان کرتا ہے تو وہ اس کے پاس گئے پھرو اپس آئے اور فرمایا : کہ مجھے یہ حدیث اس شخص نے سنائی جو تم سے زیادہ علم والا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھیتی پر سے گزرے تو وہ آپ کو اچھی لگی فرمایا : یہ کس کی فصل ہے لوگوں نے کہا : فلاں کی فرمایا زمین کس کی ہے لوگوں کے کہا : فلاں کی فرمایا : کیسے ؟ لوگوں نے کہا : اتنے اتنے پر اسے دی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین بخشے یہ اس کے لیے بہتر ہے فرماتے ہاں وہ اس کے لیے بہتر ہے اور آپ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق
42074- عن رافع بن خديج قال: دخل علي خالي يوما فقال: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم اليوم عن أمر كان لكم نافعا، وطواعية الله ورسوله أنفع لنا وأنفع لكم، مر على زرع فقال: "لمن هذا"؟ فقالوا: لفلان، قال: "فلمن الأرض"؟ قالوا: لفلان، قال: "فما شأن هذا"؟ قالوا: أعطاها إياه على كذا وكذا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لأن يمنح أحدكم أخاه خير له من أن يأخذ عليها خراجا معلوما"، ونهى عن الثلث والربع وكراء الأرض، قال أيوب: فقيل لطاوس: إن ههنا ابنا لرافع بن خديج يحدث بهذا الحديث، فدخل عليه ثم خرج فقال: قد حدثني من هو أعلم من هذا، إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بزرع فأعجبه فقال: لمن هذا؟ قالوا: لفلان، قال: فلمن الأرض؟ قالوا: لفلان، قال: وكيف؟ قالوا: أعطاها إياه على كذا وكذا؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لأن يمنح أحدكم أخاه خير له. يقول: نعم هو خير له، ولم ينه عنه."عب" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৮
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٥۔۔۔ رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یارسول اللہ ! انصار میں سے میری زمین سب زیادہ ہے آپ نے فرمایا : کاشتکاری کرو میں نے عرض کی یہ اس سے بھی زیادہ ہے آپ نے فرمایا : تو پیٹ چھوڑدو۔ طبرانی فی الکبیر ابن عساکر
42075- عن رافع بن خديج قال: قلت: يا رسول الله! إني أكثر الأنصار أرضا، فقال: ازرع، قلت: هي أكثر من ذلك، قال: فبور "."طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮৯
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٦۔۔۔ نافع سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) اپنی زمین کرایہ پر دیتے تھے تو انھیں رافع بن خدیج (رض) کی حدیث کی خبر ہوئی آپ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا آپ نے فرمایا : تمہیں پتہ ہے کہ زمین والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ سے اپنی زمین دیتے تھے اور زمیند ار یہ شرط لگاتا تھا کہ میرے لیے بڑی نہریں اور وہ حصہ ہے جسے نالی سیراب کرے اور کھیتی کی مقررچیز کی بھی شرط لگاتا تھا فرمایا : کہ ابن عمر (رض) سمجھتے تھے نہی ان کے شرط لگانے کی وجہ سے تھی۔ رواہ عبدالرزاق۔
42076- عن نافع قال: كان عمر يكري أرضه فأخبر بحديث رافع بن خديج، فأتاه فسأله عنه، فأخبره، فقال: قد علمت أن أهل الأرض كانوا يعطون أرضهم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويشترط صاحب الأرض أن لي الماذيانات " وما سقى الربيع، ويشترط من الحرث شيئا معلوما؛ قال: فكان ابن عمر يظن أن النهى لما كانوا يشترطون."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯০
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٧۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک باغ کے باس سے گزرے آپ کو وہ اچھا لگا فرمایا : یہ کس کا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرا ہے فرمایا : کہاں سے لیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے اجرت پر لیا ہے فرمایا : کسی چیز کے عوض اجرت پر نہ لینا۔ رواہ عبدالرزاق
42077- عن رافع بن خديج قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بحائط فأعجبه فقال: لمن هذا؟ قلت: هو لي، قال: من أين لك هذا؟ قلت استأجرته، قال: لا تستأجره بشيء."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯১
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٨۔۔۔ اسی طرح مجاہد اسید بن ظہیر جو رافع بن خدیج (رض) کے چچازاد بھائی ہی سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہم میں سے جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ اسے تہائی چوتھائی اور آدھے پردے دیتاتین نالیاں زمین کا زرخیر حصہ اور جنہیں بڑی نالی سیراب کرتی ان کی شرط لگالیتا اور زندگی بھی اس وقت تنگ تھی اور ان میں لوہے کے آلات اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ چاہتا ان سے کام ہوتا اور ان سے نفع حاصل ہوتا تو رافع بن خدیج (رض) نے اس کا انکار کیا اور فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں اس کام سے منع فرمایا : جو تمہارے لیے نفع بخش تھا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمان برداری تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں کھیت سے منع فرمایا ہے اور فرمایا : جسے اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اپنے بھائی کودے دے یاچھوڑدے اور تمہیں مزابنہ سے بھی روکتے تھے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک شخص کی کھجوروں کا بہت زیادہ مال ہو پھر اس کے پاس کوئی شخص آتا ہے اور کہتا ہے میں انھیں اتنے اتنے پیسوں اور کچھ کھجوروں کے عوض لے لیا۔ رواہ عبدالرزاق
42078- أيضا عن مجاهد عن أسيد بن ظهير ابن أخي رافع بن خديج قال: كان أحدنا إذا استغنى عن أرضه أعطاها بالثلث والربع والنصف، ويشترط ثلاثة جداول والقصارة وما سقى الربيع، وكان العيش إذ ذاك شديدا، وكان يعمل فيها بالحديد وبما شاء الله ويصيب منها منفعة، فأبي رافع بن خديج فقال: إن النبي صلى الله عليه وسلم نهاكم عن أمر كان نافعا وطاعة رسول الله صلى الله عليه وسلم أنفع لكم، إن رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم نهاكم عن الحقل ويقول: من استغنى عن أرضه فليمنحها أخاه أو ليدع، وينهاكم عن المزابنة - والمزابنة أن يكون الرجل له المال العظيم من النخل فيأتيه الرجل فيقول: قد أخذته بكذا وكذا وشيئا من تمر."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯২
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٧٩۔۔۔ رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت رفاعہ کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں وفات ہوئی تو انھوں نے وارثت میں ایک سینگی لگانے والا غلام ایک پانی لانے والا اونٹ اور امین چھوڑی آپ نے فرمایا : سینگی لگانے والے کی کمائی نہ کھاؤ بلکہ اونٹ کو کھلاؤ ان لوگوں نے کہا : کہ لونڈی جو کمائی کرتی ہے ؟ اس نے فرمایا : لونڈی کی کمائی بھی نہ کھاؤ، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ اپنی شرم گاہ سے کمائی تلاش کرنے لگے اور ایک روایت میں ے شاید اسے کچھ نہ ملے اور وہ اپنی جان کے بدلہ کمائی تلاش کرنے لگے۔ رواہ الطبرانی
42079- عن رافع بن خديج قال: مات رفاعة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وترك عبدا حجاما وجملا ناضحا وأرضا، فقال: أما الحجام فلا تأكلوا من كسبه واطعموا الناضح، قالوا: الأمة تكسب؟ قال: لا تأكل من كسب الأمة، فإني أخاف أن تبغي بفرجها - وفي لفظ: لعلها لا تجد شيئا فتبغي بنفسها."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৩
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٠۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : میرے والد فوت ہوئے تو میں لونڈی سینگی لگانے والا غلام اور پانی لانے والا ایک اونٹ چھوڑا، تو یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے فرمایا : ان کے لیے زمین ہے اسے جو تو یا کسی کو کاشتکاری کے لیے بخش دو اور انھیں لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا اور فرمایا : سینگی لگانے والے کی کمائی سے اونٹ کو چاراکھلاؤ۔ طبرانی فی الکبیر
42080- عن رافع بن خديج قال: مات أبي وترك أرضا وترك جارية وغلاما حجاما وناضحا، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم في الأرض: ازرعوها أو امنحوها، ونهاهم عن كسب الأمة، وقال: اعلفوا كسب الحجام الناضح."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৪
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤١٠٨١۔۔۔ (اسی طرح) عروۃ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کی مغفرت فرمائے یہ حدیث اس طرح نہیں ہوایوں تھا کہ ایک شخص نے ایک آدمی کو کرائے پر زمین دی پھر ان کی لڑائی ہوگئی ایک معاملہ جس سے وہ دونوں بچ رہے تھے اس کی وجہ سے ایک دوسرے کو برابھلاکہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم لوگوں کا یہی حال رہے تو کرایہ پر زمین نہ دیاکرو تو رافع نے آخری حصہ سنا اور ابتدائی نہیں سنا۔ رواہ عبدالرزاق
42081- أيضا عن عروة أن زيد بن ثابت قال: يغفر الله لرافع بن خديج! والله ما كان هذا الحديث هكذا، إنما كان رجل أكرى رجلا أرضا فاقتتلا واستبا بأمر تدارءا " فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن كان هذا شأنكم فلا تكروا الأرض؛ فسمع رافع آخر الحديث ولم يسمع أوله."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৫
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٢۔۔۔ اسی طرح روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی حارثہ کے پاس آئے تو ظہیر کی زمین میں آپ نے ایک فصل دیکھی تو فرمایا : طہیر کتنی اچھی فصل ہے لوگوں نے کہا : ظہیر کی نہیں ہے آپ نے فرمایا : کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں انھوں نے عرض کی : کیوں نہیں لیکن یہ فلاں کی فصل ہے آپ نے فرمایا : اس شخص کو اس کا خرچ واپس کرو اور اپنی فصل لے لو۔ تو ہم نے اسے اس کا خرچ واپس کیا اور اپنی فصل لے لی۔ طبرانی فی الکبیر عن رافع بن خدیج
42082- أيضا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى بني حارثة فرأى زرعا في أرض ظهير فقال: ما أحسن زرع ظهير! فقالوا: ليس لظهير، قال: اليست أرض ظهير؟ قالوا: بلى، ولكنه زرع فلان، قال: فردوا عليه نفقته وخذوا زرعكم؛ فرددنا عليه نفقته وأخذنا زرعنا."طب - عن رافع بن خديج".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৬
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٣۔۔۔ مسندظہیربن رافع ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کھیت کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ الباوردی وابن مندۃ وقال غریب و ابونعیم
42083- مسند ظهير بن رافع نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نكري محاقلنا. "الباوردي وابن منده - وقال: غريب، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৭
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٤۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : تم اپنی سفید زمین جو اچھائی کرو یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے بدلہ زمین کرایہ پر دو۔ رواہ عبدالرزاق
42084- عن ابن عباس قال: إن خير ما أنتم صانعون في الأرض البيضاء أن تكروا الأرض بالذهب والفضة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৮
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٥۔۔۔ ابن المسیب سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو خیبر دیاوہ اس میں کام کرتے تھے اور ان کے اس کی کھجوروں کا حصہ ہوتا تھا اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) اپنی خلافت پر برقرا رہے یہاں تک کہ انھیں وہاں سے جلاوطن کردیا ۔ رواہ عبدالرزاق
42085- عن ابن المسيب قال: دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر إلى يهود يعملونها ولهم شطر ثمرها، فمضى على ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وسنتين من خلافة عمر حتى أجلاهم منها."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯৯
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٦۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خیبر کرایہ پر دیتے پھر ابن رواحہ کو تقسیم کے وقت بھیجتے تو وہ انھیں اندازے سے دیتے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42086- عن الشعبي أن النبي صلى الله عليه وسلم أكرى خيبر بالشطر، ثم بعث بن رواحة عند القسمة يخرصهم "."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১০০
مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مزارعت۔۔۔ ازقسم افعال
٤٢٠٨٧۔۔۔ عبداللہ بن ابی بکربن محمد بن عمروبن حزم سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے صرف ایک سال خیبروالوں کو ان کا حصہ تقسیم کیا پھر وہ غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جباربن صخر بن خنساء کو بھیجتے وہ انھیں تقسیم کرکے دیتے۔ رواہ الطبرانی
42087- عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال: إنما خرص عبد الله بن رواحة على أهل خيبر عاما واحدا فأصيب يوم مؤتة، ثم إن جبار بن صخر بن خنساء كان يبعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ابن رواحة فيخرص عليهم."طب".
tahqiq

তাহকীক: