কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
لعان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮ টি
হাদীস নং: ৪০৬০৬
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کے بعد تفریق
٤٠٥٩٣۔۔۔ قاسم بن محمد سے وہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگا : تابیرنخل کے زمانہ سے میری نئی نئی شادی ہوئی تو میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص پایا اور اس عورت کا خاوند پیلے رنگ پتلی پندڈلیوں اور سیدھے بالوں والا تھا۔اور جس کے ساتھ اس کی تہمت لگی تھی وہ موٹی پنڈلیوں والا سیاہ فام گھنگریالے بالوں والا اور بڑے سرین والا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! معاملہ واضح فرماپھران کے درمیان لعان ہوا اور اس عورت نے ایسا بچہ جنم دیاجیسی اس پر تہمت لگی تھی ابن شداد بن الھادی نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا : نہیں وہ عورت اسلام میں مشہور تھی۔ رواہ عبدالرزاق
40593- "أيضا" عن القاسم بن محمد عن ابن عباس أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما لي عهد بأهلي منذ عفار " النخل فوجدت رجلا مع امرأتي! وكان زوجها مصفرا حمشا سبط الشعر، والذي رميت به خدلج "، إلى السواد، جعدا قططا مستها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم بين"! ثم لاعن بينهما، فجاءت بولد شبه الذي رميت به. فقال ابن شداد بن الهاد لابن عباس: أهي المرأة التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لو كنت راجما بغير بينة لرجمتها"، فقال ابن عباس: لا، تلك امرأة قد أعلنت في الإسلام."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০৭
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کے بعد تفریق
٤٠٥٩٤۔۔۔ عبداللہ بن عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے فرمایا : کہ میں نے مدینہ کے رہنے والے بنی زریق کے ایک شخص کو لکھا کہ وہ میرے لیے لعان کرنے والی عورت کے بچہ کے بارے میں پوچھے کہ وہ کس کا وارث ہوگا تو اس نے مجھے لکھا کہ ان اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں ماں کے حق میں فیصلہ فرمایا اور اسے ماں باپ دونوں کی جگہ قراردیا۔ رواہ عبدالرزاق
40594- عن عبد الله بن عبيد الله بن عمير قال: كتبت إلى رجل من بني زريق من أهل المدينة يسأل لي عن ابن الملاعنة من يرثه، فكتب أنه سأل فاجتمعوا على أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى فيه للأم وجعلها بمنزلة أبيه وأمه."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০৮
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کے بعد تفریق
٤٠٥٩٥۔۔۔ معمر سے روایت ہے فرمایا : کہ ابراہیم نخعی اور عامر شعبی رحمھما اللہ کالعان کرنے والی عورت کے بچہ کی میراث میں اختلاف ہوگیا تو انھوں نے مدینہ ایک قاصد روانہ کیا جو اس کے بارے میں پوچھے تو دہ واپس آکران سے مدینہ والوں کی بات کرنے لگا کہ جس عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اپنے خاوند سے لعان کیا تھا آپ نے ان میں تفریق کردی پھر اس عورت نے شادی کرلی اور کئی بچے جنے پر جس بچہ کی بنا پر اس نے لعان کیا تھا فوت ہوگیا تو اس کی ماں اس کے چھٹے حصہ کی وارث ہوئی اور اس کے بھائی اس کی تہائی میراث کے وارث ہوئے اور جو باقی بچاوہ ان کی میراث کے بقدراس کی ماں اور اس کے بھائیوں کے درمیان میں تقسیم ہوا، یوں اس کی ماں کے لیے ایک تہائی اور اس کے بھائیوں کے لیے دوتہائی حصہ قرارپایا۔ رواہ عبدالرزاق
40595- عن معمر قال، اختلف النخعي والشعبي في ميراث ابن الملاعنة، فبعثوا إلى المدينة رسولا يسأل عن ذلك، فرجع فحدثهم عن أهل المدينة أن المرأة التي لاعنت زمن النبي صلى الله عليه وسلم زوجها فرق النبي صلى الله عليه وسلم بينهما، فتزوجت فولدت أولادا، ثم توفي ابنها الذي لاعنت عليه، فورثت أمه منه السدس، وورثت إخوته منها الثلث، وكان ما بقي بين إخوته وأمه على قدر مواريثهم، صار لأمه الثلث ولإخوته الثلثان."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০৯
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کے بعد تفریق
٤٠٥٩٦۔۔۔ (مسندزید بن ثابت (رض)) معمر، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے فرمایا : لعان کرنے والی کا بچہ اس کی ماں اس کے تہائی کی وارث ہوگی جو بچے گا وہ بیت المال میں جمع ہوگا، حضرت ابن عباس نے بھی یہی فرمایا۔ عبدالرزاق
40596- "من مسند زيد بن ثابت" عن معمر عن قتادة أن زيد بن ثابت قال: ولد الملاعنة ترث أمه منه الثلث وما بقي في بيت المال؛ وقاله ابن عباس."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১০
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کے بعد تفریق
٤٠٥٩٧۔۔۔ جابرحضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : خاوند جب بیوی کو ایک یادوطلاقیں دے پھر اس پر تہمت لگائے تو اسے کوڑے لگائے جائیں۔۔۔ ان کے درمیان لعان نہیں، اور حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : جب خاوندرجوع کرسکتا ہو تو ان میں لعان ہوگا۔ رواہ عبدالرزاق۔
40597- عن جابر عن ابن عباس قال: إذا طلقها واحدة أو اثنتين ثم قذفها جلد، ولا ملاعنة بينهما. وقال ابن عمر: يلاعن إذا كان يملك الرجعة."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১১
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کے بعد تفریق
٤٠٥٩٨۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی عجلان کے دوافراد (یعنی خاوند بیوی) کے درمیان تفریق کی اور فرمایا : اللہ کی قسم ! تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی رجوع کرنے والا ہے ؟ تو ان میں سے کسی نے کوئی اعتراف نہیں کیا، پھر انھوں نے آپس میں لعان کیا۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! میرا (اداکردہ) مہرتو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اگر تم سچے ہو تو اس سے فائدہ اٹھانے کے عوض اور اگر جھونے ہو تو وہ اس کی زیادہ حق دا رہے۔ رواہ عبدالرزاق
40598- عن ابن عمر قال: فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أخوى بني العجلان وقال: والله إن أحدكما لكاذب، فهل منكما تائب؟ فلم يعترف واحد منهما، فتلاعنا، ثم قرت امرأة بينهما قال: يا رسول الله! صداقي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: إن كنت صادقا فهو لها بما استحللت منها، وإن كنت كاذبا فذاك أوجب لها."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১২
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٥٩٩۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعان کرنے والوں سے فرمایا : تم دونوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تجھے اس عورت پر کوئی اختیار نہیں اس نے کہا : یارسول اللہ ! میرا مال آپ نے فرمایا : تیرا کوئی مال نہیں اگر تم سچے ہو تو اس کی شرم گاہ کے حلال سمجھنے کے عوض اور اگر جھوٹے ہو تو وہ اس عورت سے بھی زیادہ تم سے دور ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40599- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمتلاعنين: "حسابكما على الله، أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها". فقال: يا رسول الله مالي! قال: "لا مال لك، إن كنت صادقا فهو بما استحللت من فرجها، وإن كنت كاذبا فهو أبعد لك منها"."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৩
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٠۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور ان میں تفریق کی۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
40600- عن ابن عمر قال: لاعن النبي صلى الله عليه وسلم بين رجل من الأنصار وامرأته وفرق بينهما."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৪
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠١۔۔۔ (مسندابن عمر (رض) کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچہ کی نفی کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں تفریق کیا اور بچہ ماں کودے، یا۔ خطیب فی المتفق
40601-"مسند ابن عمر" إن رجلا لاعن امرأته في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم فانتفى من ولدها، ففرق النبي صلى الله عليه وسلم بينهما وألحق الولد بأمه."خط في المتفق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৫
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٢۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : ملاعنہ کے بیٹے کو ماں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا اور جس نے اس کی ماں پر یہ کمہ کرا ائے زانیہ کے بیٹے تہمت لکائی توا سے حد میں کوڑے مارے جائیں اس کی ماں اس کی عصبہ ہے وہ اس کا اور وہ اس کی وارث ہوگی۔ رواہ عبدالرزاق
40602- عن ابن عمر قال: ابن الملاعنة يدعى لأمه، ومن قذف أمه يقول "يا ابن الزانية" ضرب الحد، وأمه عصبته، يرثها وترثه."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৬
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٣۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا مندرجہ ذیل عورتوں میں اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں ہے۔ یہودی یا نصرانی عورت جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، آزاد عورت جو کسی غلام سے منسوب ہو یا لونڈی جو کسی آزاد کی بیوی ہو۔ رواہ عبدالرزاق
40603- عن ابن عمر قال: أربع لا لعان بينهن وبين أزواجهن: اليهودية، والنصرانية تحت المسلم، والحرة عند العبد، والأمة عند الحر."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৭
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٤۔۔۔ (مسندابن مسعود (رض)) کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا : ہوسکتا ہے یہ سیاہ فام گھنگریالے بالوں والا بچہ جنے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
40604- "مسند ابن مسعود" إن النبي صلى الله عليه وسلم: لاعن بين رجل وامرأته وقال: "عسى أن تجئ به أسود جعدا"."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৮
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٥۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : لعان کرنے والے کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ رواہ عبدالرزاق
40605- عن ابن مسعود قال: لا يجتمع المتلاعنان أبدا."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১৯
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٦۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : ملاعنہ کے بیٹے کی ساری میراث اس کی ماں کے لیے ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40606- عن ابن مسعود قال: ميراث ولد الملاعنة كله لأمه."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২০
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٧۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے فرمایا : میں نے عطاء سے کہا : آپ کی کیا رائے ہے کہ خاوند اگر بچہ کی پیدائش کے بعداس کا انکار کرے ؟ آپ نے فرمایا : وہ عورت سے لعان کرے اور بچہ عورت کا ہوگا میں نے کہا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں فرمایا : بچہ بستر (والے خاوند) کا اور زائی کے لیے پتھر ہے ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں یہ اس لیے کہ ابتداء اسلام میں لوگ ان بچوں کا دعوی کرتے تھے جو لوگوں کے بستروں پر پیدا ہوتے کہتے یہ بچے ہمارے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بچہ بستر کا اور زانی کے لیے پتھ رہے۔ رواہ عبدالرزاق جو بچے آقا کی لونڈیاں جنم دیتیں انھیں اولاد الامہ اور لونڈی کو ام المولد کہا جاتا۔
40607- عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أرأيت إن نفاه بعد ما تضعه؟ قال يلاعنها والولد لها، قلت: أو لم يقل النبي صلى الله عليه وسلم: "الولد للفراش وللعاهر الحجر"؟ قال: نعم، إنما ذلك لأن الناس في الإسلام ادعوا أولادا ولدوا على فراش رجال فقالوا: هم لنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "الولد للفراش وللعاهر الحجر"."عب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২১
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٨۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ ابن شہاب نے فرمایا : ملاعنہ میں یہ سنت جاری ہے کہ بچہ اس کا اور دوبچہ کی وارث ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40608- عن ابن جريج عن ابن شهاب قال: جرت السنة في الملاعنة أن يرثها ابنها، وترث أمه منه ما فرض الله لها."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২২
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦٠٩۔۔۔ کہ ابن شہاب نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عتاب بن اسید کو جو وصیت فرمائی یہ ہے کہ چار مردوں اور ان کی بیویوں کے درمیان میں لعان نہیں، یہودی یا نصرانی جو کسی مسلمان کی بیوی ہو لونڈی آزاد کے پاس یا غلام کے نکاح میں آزاد۔ رواہ عبدالرزاق
40609- عن ابن شهاب قال: من وصية النبي صلى الله عليه وسلم عتاب بن أسيد أن لا لعان بين أربع وبين أزواجهن: اليهودية، والنصرانية عند المسلم، والأمة عند الحر، والحرة عند العبد."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২৩
لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں میں سے ایک جھوٹا ہے
٤٠٦١٠۔۔۔ حضرت علی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا : لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ سنت جاری ہے کہ وہ کبھی جمع نہیں ہوں گے۔ دارقطنی، بیہقی
40610- عن علي قال: مضت السنة في المتلاعنين أن لا يجتمعا أبدا."قط، ق".
তাহকীক: