কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حوالہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮ টি

হাদীস নং: ১৪০৩২
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14032 عمارۃ الجرمی سے مروی ہے کہ مجھے حضرت علی (رض) نے میری ماں اور میرے چچا کے درمیان اختیار دیا، پھر میرے چھوٹے بھائی کے متعلق فرمایا : یہ بھی جب اس عمر کو پہنچے گا اس کو بھی اسی طرح اختیار ملے گا۔ السنن للبیہقی
14032- عن عمارة الجرمي قال خيرني علي بين أمي وعمي، ثم قال لأخ لي أصغر مني وهذا أيضا لو قد بلغ مبلغ هذا لخيرته. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৩
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14033 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ عمارۃ بنت حمزہ بن عبدالمطلب اور ان کی ماں سلمہ بنت عمیس مکہ میں تھیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے تشریف لے آئے تو حضرت علی (رض) نے حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات چیت کی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے اپنے چچا کی یتیم بیٹی کو مشرکین کے درمیان کیوں چھوڑ دیا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو وہاں سے ان کو نکال لانے سے منع نہ فرمایا۔ پھر حضرت زید بن حارثہ (رض) نے بھی آپ سے بات چیت کی۔ زید (رض) حضرت حمزہ (رض) کے وصی تھے (یعنی زید (رض)) کو اپنے بعد اپنے بعد اپنا پیچھے کا نگہبان مقرر کر گئے تھے چونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب مہاجرین اور انصاریوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا اس وقت حمزہ اور زید کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، وہ میرے بھائی کی بیٹی ہے جعفر نے یہ سنا تو وہ بولے : خالہ ماں ہوتی ہے اور اس لیے میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اس کی خالہ اسماء بنت عمیس میرے ہاں ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں تم کو اپنی چچا کی بیٹی کے بارے میں بتاتا ہوں، میں اس کو مشرکین کے درمیان سے نکال کر لایا ہوں اور اس سے قریب ترین نسب اور رشتہ داری تم سے زیادہ میری ہے اس وجہ سے میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ اے زید ! تو اللہ اس کے رسول کا مولا (دوست) ہے۔ اور اے علی ! تو میرا بھائی اور میرا ساتھی ہے اور اے جعفر ! تو میرا ہم شکل اور ہم اخلاق ہے اور اے جعفر ! تو اس کو رکھنے کا زیادہ مستحق ہے کیونکہ اس کی خالہ تیرے پاس ہے۔ اور کسی عورت سے اس کی خالہ کے ہوتے ہوئے یا پھوپھی کے ہوتے ہوئے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی جب کسی کے عقد میں پہلے سے خالہ یا پھوپھی ہو تو ان کی بھانجی یا بھتیجی سے اس آدمی کا نکاح جائز نہیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمارۃ کا فیصلہ جعفر کے حق میں دیدیا۔

حضرت جعفر (رض) خوشی سے اٹھے اور حضور کے قریب ایک پاؤ کھڑا کرکے دوسر پر چکر کاٹنے لگے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے جعفر ! یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے عرض کیا : نجاشی جب کسی سے خوش ہوتا تھا تو اٹھ کر اس کے گرد اس طرح چکر کاٹتا تھا۔

پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا گیا ک ہ آپ اس سے شادی فرمالیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلمۃ بن ابی سلمہ سے لڑکی کی شادی کردی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلمہ کو فرمایا کرتے تھے۔ سلمۃ کما گیا۔ ابن عساکرروایت کے تمام راوی سوائے واقدی کے ثقہ ہیں۔
14033- عن ابن عباس قال: إن عمارة بنت حمزة بن عبد المطلب وأمها سلمى بنت عميس كانت بمكة فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم كلم علي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: علام تركت بنت عمنا يتيمة بين ظهور المشركين، فلم ينهه النبي صلى الله عليه وسلم عن إخراجها، فخرج بها وتكلم زيد بن حارثة وكان وصي حمزة وكان النبي صلى الله عليه وسلم آخى بينهما حين آخى بين المهاجرين، فقال: أنا أحق بها ابنة أخي فلما سمع ذلك جعفر قال: الخالة والدة وأنا أحق بها لمكان خالتها عندي أسماء بنت عميس، فقال علي: ألا أخبركم في ابنة عمي، وأنا أخرجتها من بين أظهر المشركين، وليس لكم إليها نسب دوني وأنا أحق بها منكم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا أحكم بينكم، أما انت يا زيد فمولى الله ورسوله، وأما أنت يا علي فأخي وصاحبي، وأما أنت يا جعفر فشبه خلقي وخلقي وأنت يا جعفر أولى تحتك خالتها، ولا تنكح المرأة على خالتها، ولا على عمتها، فقضى بها لجعفر، فقام فحجل حول رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم ما هذا يا جعفر؟ فقال: يا رسول الله كان النجاشي إذا رضى أحدا قام فحجل حوله، فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم: تزوجها فقال: ابنة أخي من الرضاعة، فزوجها رسول الله صلى الله عليه وسلم سلمة بن أبي سلمة، فكان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: هل حرثت سلمة. "كر" ورجاله ثقات سوى الواقدي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৪
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14034 عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دیدی۔ پھر اس سے بچہ چھیننے کا ارادہ کیا ۔ وہ عورت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اور بولی : یارسول اللہ ! میرا پیٹ اس بچے کے لیے برتن بنارہا (اب) میرے پستان اس کے لیے مشکیزہ ہیں۔ جن سے یہ سیر ہوتا ہے اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ لیکن اس کا باپ چاہتا ہے کہ اس کو مجھ سے چھین لے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : تو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک کہ شادی نہ کرلے۔ الجامع لعبد الرزاق
14034- عن عبد الله بن عمرو أن امرأة طلقها زوجها، وأراد أن ينتزع ولدها منها فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم بابنها، فقالت: يا رسول الله كان بطني له وعاء، وثديي له سقاء، وحجري له حواء3 أراد أبوه أن ينزعه مني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت أحق به ما لم تزوجي. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৫
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14035 ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا شکم میرے بیٹے کے لیے برتن ہے، میرے پستان اس کے لیے مشکیزے ہیں اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ لیکن اس کا باپ گمان کرتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ اس کا حقدار ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو فرمایا : تو اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک شادی نہ کرے۔

عمرو بن شعیب (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے عاصم بن عمر کے متعلق بھی یہی فیصلہ فرمایا کہ اس کی ماں اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک وہ دوسرا نکاح نہ کرے۔ ابن جریر
14035- عن ابن عمرو قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أتته امرأة بابن لها، فقالت يا رسول الله ابني كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء، وأن أباه يزعم أنه أحق به مني، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: أنت أحق به ما لم تنكحي، قال عمرو بن شعيب: وقضى أبو بكر الصديق في عاصم ابن عمر أن أمه أحق به ما لم تنكح. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৬
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14036 ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک ماں اور باپ اپنے بیٹے کے بارے میں جھگڑتے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے ۔ عورت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، یہ شخص میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے، حالانکہ یہ مجھے ابوعنبہ کے کنوئیں سے پانی لاکر دیتا ہے اور میرے دوسرے کام کرتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دونوں قرعہ اندازی کرلو۔ مگر شوہر بولا : یارسول اللہ ! میری اولاد کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑ سکتا ہے ؟ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لڑکے ! دیکھ ! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے (جس کا چاہے ہاتھ تھام لے) لڑکے نے ماں کا ہاتھ تھام لیا اور ماں اس کو لے کر چلی گئی۔ الجامع لعبد الرزاق
14036- عن أبي هريرة قال: جاء أم وأب يختصمان إلى النبي صلى الله عليه وسلم في ابن لهما، فقالت للنبي صلى الله عليه وسلم: فداك أبي وأمي يريد أن يذهب بابني، وقد سقاني من بئر أبي عنبة ونفعني، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: استهما عليه، فقال زوجها: من يحاقني2 في ولدي يا رسول الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا غلام هذا أبوك وهذه أمك، فأخذ بيد أمه فانطلقت به. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৭
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14037 عبدالحمید الانصاری اپنے والد سے وہ اس کے دادا سے روایت کرتے ہیں ، اس کے دادا اسلم (مسلمان ہوچکے تھے) لیکن ان کی بیوی نے اسلام لانے سے انکار کردیا ان کا بیٹا ابھی چھوٹا تھا جو ابھی سن بلوغت کو نہ پہنچا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باپ کو ایک طرف بٹھایا اور ماں کو دوسری طرف پھر لڑکے کو اختیار دیا اور ساتھ میں دعا کی اے اللہ ! اس کو سیدھی راہ سمجھا۔ چنانچہ لڑکا اپنے والد کی طرف چلا گیا۔ الجامع لعبد الرزاق
14037- عن عبد الحميد الأنصاري عن أبيه عن جده أن جده أسلم وأبت امرأته أن تسلم فجاء ابن له صغير لم يبلغ فأجلس النبي صلى الله عليه وسلم الأب ها هنا، والأم ها هنا، ثم خيره، وقال: اللهم اهده فذهب إلى أبيه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৮
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرورش کا بیان۔۔۔من قسم الافعال
14038 عبدالحمید بن سلمۃ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اس کے والدین نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربار میں اپنا جھگڑا پیش کیا ایک مسلمان تھا دوسرا کافر۔ آپ نے لڑکے کو اختیار دیا اور کافر کی طرف لوٹا دیا ساتھ میں دعا کی : اے اللہ اس کو ہدایت دے۔ چنانچہ لڑکا خود ہی مسلمان کی طرف متوجہ ہوگیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی مسلمان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14038- عن عبد الحميد بن سلمة عن أبيه عن جده أن أبويه اختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم: أحدهما مسلم والآخر كافر فخيره فرده إلى الكافر فقال: اللهم اهده فتوجه إلى المسلم فقضى له به. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৩৯
حوالہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حوالہ کا بیان من قسم الافعال۔۔۔من جمع الجوامع
14039 قتادہ (رح) فرماتے ہیں حضرت علی (رض) نے حوالہ کے بارے میں ارشاد فرمایا : مقروض نے قرض دار کو جس مالدار کے حوالے کیا ہے اگر وہ ٹال مٹول سے کام لے تو وہ واپس اصل مقروض کے پاس نہ آئے گا الایہ کہ یہ مالدار بالکل مفلس ہوجائے یا مرجائے۔ مصنف عبدالرزاق
14039- عن قتادة أن عليا قال في الحوالة: إذا مطله لا يرجع على صاحبه إلا أن يفلس أو يموت. "عب"
tahqiq

তাহকীক: