সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
نذر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫ টি
হাদীস নং: ৪২৬০
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4260 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب کوئی بوڑھاشخص روزے رکھنے کے قابل نہ رہے ‘ تو وہ ایک دن کے عوض میں ایک ” مد “ کھانا کھلائے گا۔
4260 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِى الْجَهْمِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا عَجَزَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ عَنِ الصِّيَامِ أَطْعَمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدًّا مُدًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬১
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4261 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب کوئی عورت اپنے شوہر سے طلاق لینے کا دعوی کردے اور وہ اس بارے میں عادل گواہ کو پیش کردے تو اس کے شوہر سے حلف لیا جائے گا ‘ اگر وہ حلف اٹھالیتا ہے ‘ تو اس گواہ کی گواہی باطل قراردی جائے گی اور اگر وہ حلف اٹھانے سے انکار کردیتا ہے ‘ تو اس کا انکار کرنا دوسرے گواہ کا قائم مقام شمار ہوگا اور اس کی دی ہوئی طلاق تسلیم کی جائے گی۔
4261 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِى سَلَمَةَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - يَعْنِى ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ وَجَازَ طَلاَقُهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬২
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4262 ۔ عامرشعبی بیان کرتے ہیں :” دقوقاء “ کے رہنے والے دوعیسائی لوگ ایک مسلمان کے وصیت کے گواہ بن گئے ‘ اس مسلمان کا وصال ان لوگوں کے پاس ہوا تھا ‘ جن لوگوں کے بارے میں وصیت کی گئی تھی ‘ انھیں اس بارے میں شک ہوا ‘ وہ ان دونوں کو لے کر حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس آئے ‘ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے عصر کی نماز کے بعد ان دونوں سے قسم لی کہ اللہ کی قسم ! ہم نے اس کے عوض میں کوئی قیمت حاصل نہیں کرنی اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی گواہی کو چھپایا نہیں ہے ‘ اگر ہم ایسا کریں گے توہم گناہگارہوں گے۔ تو حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے کہا : یہ وہ فیصلہ ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد آج سے پہلے ایسافیصلہ نہیں ہوا۔
4262 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التُّرْقُفِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَامِعٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِىِّ قَالَ شَهِدَ رَجُلاَنِ مِنْ أَهْلِ دَقُوقَاءَ نَصْرَانِيَّانِ عَلَى وَصِيَّةِ مُسْلِمٍ مَاتَ عِنْدَهُمْ فَارْتَابَ أَهْلُ الْوَصِيَّةِ فَأَتَوْا بِهِمَا أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِىَّ فَاسْتَحْلَفَهُمَا بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ وَاللَّهِ مَا اشْتَرَيْتُمَا بِهِ ثَمَنًا وَلاَ كَتَمْتُمَا شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الآثِمِينَ. قَالَ عَامِرٌ قَالَ أَبُو مُوسَى وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقَضِيَّةٌ مَا قُضِىَ بِهَا مُنْذُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَبْلَ الْيَوْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৩
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4263 ۔ عدی بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ وہ مقدمہ ایک زمین کے بارے میں تھا ‘ ان میں سے ایک نے کہا : یہ میری زمین ہے اور دوسرے نے کہا : یہ میری ہے ‘ میں نے اسے گھیرا ہوا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔
تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں یہ فرمایا کہ جس شخص کے پاس زمین موجود ہے ‘ وہ قسم اٹھائے گا ‘ جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اس شخص نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو اسے ترک کردے گا اسے جنت ملے گی۔
تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں یہ فرمایا کہ جس شخص کے پاس زمین موجود ہے ‘ وہ قسم اٹھائے گا ‘ جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اس شخص نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو اسے ترک کردے گا اسے جنت ملے گی۔
4263 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عَدِىِّ بْنِ عَدِىٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى رَجُلاَنِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا هِىَ لِى وَقَالَ الآخَرُ هِىَ لِى حُزْتُهَا فَقَبَضْتُهَا. فَقَالَ فِيهَا « الْيَمِينُ لِلَّذِى بِيَدِهِ الأَرْضُ ». فَلَمَّا تَقَدَّمَ لِيَحْلِفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَا إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِىَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ». قَالَ فَمَنْ تَرَكَهَا قَالَ « فَلَهُ الْجَنَّةُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৪
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4264 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4264 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهَيْرِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِىِّ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عَدِىَّ بْنَ عَدِىٍّ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৫
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4265 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار افراد کے علاوہ سب کو امان دے دی تھی ‘ وہ لوگ عبدالعزیٰ بن خطل ‘ مقیس بن صبابہ ‘ عبداللہ بن سعد اور ام سارہ تھے ‘ جہاں تک عبدالعزیٰ کا تعلق ہے ‘ تو اسے قتل کردیا گیا ‘ وہ خانہ کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا تھا۔
4265 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ آمَنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ الْكِنَانِىَّ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِى سَرْحٍ وَأُمَّ سَارَةَ فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى فَقُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৬
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4266 ۔ مصعب بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار افراد اور دو خواتین کے علاوہ سب لوگوں کو امان دے دی تھی ‘ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ان (چھ افراد کو) قتل کردینا ہے ‘ اگرچہ تم انھیں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہواپاؤ : عکرمہ بن ابوجہل ‘ عبداللہ بن خطل ‘ مقیس بن صبابہ ‘ عبداللہ بن سعد۔ اس کے بعدراوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
4266 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغَلَّسِ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ زَعَمَ السُّدِّىُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ آمَنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ « اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ». عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِى جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَطَلٍ وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِى سَرْحٍ وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৭
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4267 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4267 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৮
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4268 ۔ عمربن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا : چار لوگ ایسے ہیں جنہیں میں ” حل “ اور ” حرم “ میں کسی بھی جگہ پر امان نہیں دوں گا۔ حویرث بن نقید ‘ مقیس بن ضبابہ ‘ عبداللہ بن خطل اور عبداللہ بن سعد۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
4268 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ « أَرْبَعَةٌ لاَ أُؤَمِّنُهُمْ فِى حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ وَمِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ وَهِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِى سَرْحٍ ». وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৯
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4269 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : تمیم داری اور عدی بن بداء تجارت کے لیے مکہ آیا جایا کرتے تھے ‘ اسی دوران بنوسہم قبیلے سے تعلق رکھنے والاایک شخص جارہا تھا ‘ اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہوگیا جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا تھا ‘ اس نے مرتے وقت ان دونوں کو وصیت کی کہ وہ اس کا مال اس کے گھروالوں تک پہنچادیں ‘ ان لوگوں نے اس میں سے چاندی کا یاک پیالہ روک لیا ‘ جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جب یہ مقدمہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں قسم اٹھانے کے لیے کہا اور فرمایا : تم اللہ کے نام کی قسم اٹھاکریہ بات کہو کہ تم نے اس میں سے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی علم بھی نہیں ہے۔
اس کے بعد مکہ میں وہ پیالہ مل گیا تو جس شخص کے پاس سے ملا ‘ اس نے بتایا کہ میں نے یہ عدی بن بداء اور تمیم سے خریدا ہے ‘ تو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے وارثوں میں سے دو آدمی آگئے ‘ انھوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ پیالہ سہم قبیلے کے اس شخص کا ہے اور ہم دونوں کی گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے ‘ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے ‘ ورنہ ایسی صورت میں ہمیں ظالم شمار کیا جائے ‘ چنانچہ ان وارثوں نے وہ پیالہ حاصل کرلیا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
اس کے بعد مکہ میں وہ پیالہ مل گیا تو جس شخص کے پاس سے ملا ‘ اس نے بتایا کہ میں نے یہ عدی بن بداء اور تمیم سے خریدا ہے ‘ تو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے وارثوں میں سے دو آدمی آگئے ‘ انھوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ پیالہ سہم قبیلے کے اس شخص کا ہے اور ہم دونوں کی گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے ‘ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے ‘ ورنہ ایسی صورت میں ہمیں ظالم شمار کیا جائے ‘ چنانچہ ان وارثوں نے وہ پیالہ حاصل کرلیا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
4269 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِى صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِىُّ وَعَدِىُّ بْنُ بَدَّاءٍ وَكَانَا يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ بِالتِّجَارَةِ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سَهْمٍ فَتُوُفِّىَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا كَتَمْتُمَا وَلاَ اطَّلَعْتُمَا ». ثُمَّ عُرِفَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِىِّ بْنِ بَدَّاءٍ وَتَمِيمٍ فَقَدِمَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِىِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ إِنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِىِّ وَ (لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ) فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭০
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4270 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری اور عدی مکہ آیاجایا کرتے تھے ‘ ایک مرتبہ ان کے ساتھ بنوسہم قبیلے کا ایک نوجوان جارہا تھا ‘ اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہواجہاں کوئی مسلمان موجود نہیں تھا ‘ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور ان دونوں نے اس کا ترکہ اس کے گھروالوں تک پہنچادیا ‘ البتہ ان دونوں نے چاندی سے بنا ہوا ایک برتن رکھ لیاجس پر سونے کا کام ہوا تھا۔ (جب یہ مقدمہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش ہوا) تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے اللہ کے نام پر حلف لیا کہ ہم نے کسی چیزکوچھپایا نہیں ہے اور ہم ایسی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں ‘ پھر بعد میں وہ برتن مکہ میں مل گیا تو ان لوگوں نے بتایا : ہم نے تو یہ عدی اور تمیم سے خریدا ہے ‘ تو اس سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کے ورثاء میں سے دو شخص آئے اور انھوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ برتن اس شخص کا ہے جو سہم قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ اور ان دونوں کی گواہی ان دوسرے دونوں کے مقابلے میں زیادہ حق دا رہے (یعنی سچی ہے) اور اگر ہم کوئی زیادتی کریں تو ہمارا شمار ظالموں میں ہو ‘ پھر ان لوگوں نے اس برتن کو حاصل کرلیا ‘ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی :(لشھادتنااحق من شھادتھما وما اعت دینا)
4270 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ الْوَشَّاءُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عَدِىٌّ وَتَمِيمٌ الدَّارِىُّ يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ فَخَرَجَ مَعَهُمَا فَتًى مِنْ بَنِى سَهْمٍ فَتُوُفِّىَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا بِتَرِكَتِهِ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَاسْتَحْلَفَهُمَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِيَمِينِهِ مَا كَتَمْتُمَا وَلاَ اطَّلَعْتُمَا ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِىٍّ وَتَمِيمٍ فَجَاءَ رَجُلاَنِ مِنْ وَرَثَةِ السَّهْمِىِّ فَحَلَفَا إِنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِىِّ وَ (لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا) وَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭১
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4271 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کر یت ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا ‘ ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے فرمایا : تم لوگوں نے ان دونوں پر حدجاری کیوں نہیں کی ؟ یہودیوں نے کہا : ایساہم اس وقت کرتے کہ جب یہ ہماری ملکیت میں ہوتے ‘ لیکن جب ہماری ملکیت ختم ہوگئی تواب یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تم اپنے سب سے بڑے دوعالموں کو میرے پاس لے کر آؤ ‘ تو وہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ” صوریا “ کے دو بیٹوں کو لے کر آئے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے دریافت کیا : باقی سب لوگوں کے مقابلے میں تم زیادہ بڑے عالم ہو ‘ انھوں نے جواب دیا : لوگ یہی کہتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ پر توراۃ نازل کی تھی ‘ تم نے ان دونوں (مجرموں) کی سزا توراۃ میں کیا پائی ہے ؟ تو ان دونوں نے کہا : جو شخص کسی عورت کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اس کو سزادی جاتی ہے ‘ جو شخص کسی عورت کے پیٹ پر نظر آتا ہے اس کو سزادی جاتی ہے۔ لیکن جب چار آدمی یہ گواہی دے دیں گے کہ انھوں نے اس شخص کو اس عورت کے اندر اپنی شرمگاہ کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ جس طرح سرمہ دانی کے اندرسلائی کو داخل کیا جاتا ہے (تو ان کو سنگسار کیا جائے گا) ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گواہوں کو لے کر آؤ ! پھر چار آدمیوں نے گواہی دی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو سنگسار کروادیا۔
4271 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِيَهُودِىٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا فَقَالَ لِلْيَهُودِ « مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُقِيمُوا عَلَيْهِمَا الْحَدَّ ». فَقَالُوا كُنَّا نَفْعَلُ إِذْ كَانَ الْمُلْكُ فِينَا فَلَمَّا ذَهَبَ مُلْكُنَا فَلاَ نَجْتَرِئُ عَلَى الْفِعْلِ. فَقَالَ لَهُمُ « ائْتُونِى بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ ». فَأَتَوْهُ بِابْنَىْ صُورِيَا فَقَالَ لَهُمَا « أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا ». قَالاَ يَقُولُونَ . قَالَ « فَأَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى كَيْفَ تَجِدُونَ حَدَّهُمَا فِى التَّوْرَاةِ ». فَقَالاَ الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ زَنْيَةٌ وَفِيهِ عُقُوبَةٌ وَالرَّجُلُ عَلَى بَطْنِ الْمَرْأَةِ زَنْيَةٌ وَفِيهِ عُقُوبَةٌ فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُدْخِلُهُ فِيهِ كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِى الْمُكْحُلَةِ رُجِمَ قَالَ « ائْتُونِى بِالشُّهُودِ ». فَشَهِدَ أَرْبَعَةٌ فَرَجَمَهُمَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-. تَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ وَلَيْسَ بِالْقَوِىِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭২
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4272 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشد فرمائیں ہے : اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطاء کے طور پر بھول کر اور زبردستی ہونے والے گناہوں سے درگزر کیا ہے۔
4272 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَمُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قُرَيْنٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّرَّادُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْمِصْرِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لأُمَّتِى عَنِ الْخَطَإِ وَالنِّسْيَانِ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৩
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4273 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اللہ تعالیٰ کرلیں یاخودجان بوجھ کر اس پر عمل کریں ( تو انھیں سزاملے گی) ۔
4273 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسَلَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِى مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا وَمَا أُكْرِهُوا عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِهِ أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৪
نذر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : نذر کے مسائل
4274 ۔ حضرت واثلہ بن اسقع اور حضرت ابوامامہ (رض) بیان کر یت ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جس شخص کے ساتھ زبردستی ہو اس پر یمین لازم نہیں ہوتی (یعنی اس پر قسم کا کفارہ لازم نہیں ہوتا) ۔
4274 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْهَيَّاجِ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْعَلاَءِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ وَعَنْ أَبِى أُمَامَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ عَلَى مَقْهُورٍ يَمِينٌ ».
তাহকীক: