সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

رضاعت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২ টি

হাদীস নং: ৪২৯৫
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4295 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے اور ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ وہ سیدہ عائشہ (رض) کے رضاعی بھائی تھے ‘ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے انھیں اجازت دینے سے انکار کردیا ‘ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے آپ کو اپنے طرزعمل کے بارے میں بتایاتو آپ نے ہدایت کی کہ میں انھیں (گھر کے اندر آنے کی) اجازت دے دیا کروں۔
4295 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِى الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِى صَنَعْتُ فَأَمَرَنِى أَنْ آذَنَ لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৬
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4296 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : پہلے یہ آیت نازل ہوئی تھی جس میں سنگسار کا حکم تھا اور وہ آیت نازل ہوئی تھی جس میں یہ حکم تھا کہ بڑے بچے کو دس مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ میرے پاس صحیفے میں یہ بات موجود تھی جو میرے بستر کے نیچے تھا ‘ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا اور آپ کے وصال کی وجہ سے ہم مصروف رہے ‘ تو اسی دوران بکری اندر آئی اور اس نے اسے کھالیا۔
4296 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ.وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَاعَةُ الْكَبِيرِ عَشْرًا فَلَقَدْ كَانَتْ فِى صَحِيفَةٍ تَحْتَ سَرِيرِى فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شُغِلْنَا بِمَوْتِهِ فَدَخَلَ الدَّاجِنُ فَأَكَلَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৭
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4297 ۔ عمروبن دیناربیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے رضاعت کے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا : میرے علم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رضاعی بہن کو حرام قراردیا ہے۔ ان سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) تو یہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ یادومرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا دیا ہوافیصلہ تمہارے فیصلے اور عبداللہ بن زبیر کے فیصلے سے بہت رہے۔
4297 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِى ابْنَ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَىْءٍ مِنْ أَمْرِ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقِيلَ لَهُ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ لاَ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلاَ الرَّضْعَتَانِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَضَاءُ اللَّهِ تَعَالَى خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৮
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4298 ۔ عمروبن شرید بیان کر یت ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کی ایک بیوی ہو اور ایک کنیزہو ‘ ان دونوں میں سے ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور دوسری بچی کو جنم دیتی ہے ‘ تو کیا بچے کے لیے یہ بات جائز ہوگی کہ وہ اس کنیز کی لڑکی سے نکاح کرلے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : جی نہیں ! کیونکہ نطفہ ایک ہے۔
4298 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَمَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ امْرَأَةٌ وَسُرِّيَّةٌ فَوَلَدَتْ إِحْدَاهُمَا غُلاَمًا وَأَرْضَعَتِ الأُخْرَى جَارِيَةً هَلْ يَصْلُحُ لِلْغُلاَمِ أَنْ يَنْكِحَ الْجَارِيَةَ فَقَالَ لاَ اللِّقَاحُ وَاحِدٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৯
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4299 ۔ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ (رض) بیان کرتی ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر (رض) نے مجھے دودھ پلایا تھا ‘ اس لیے (سیدہ اسماء کے شوہر) حضرت زبیر (رض) میرے ہاں ایسے وقت میں بھی آجایا کرتے تھے جب میں کنگھی کررہی ہوتی تھی ‘ وہ میرے بال پکڑ کر مجھ سے کہا کرتے تھے : ادھر میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ بات کرو۔ سیدہ اسماء (رض) سمجھتی تھیں کہ وہ میرے والد ہیں اور سیدہ اسماء کے بچے میرے بھائی ہیں۔

اس کے بعد واقعہ جرہ سے کچھ پہلے عبداللہ بن زبیر (رض) نے (جو میرے رضاعی بھائی تھے) اپنے بیٹے حمزہ کے لیے میری بیٹی کا رشتہ مانگا۔ حمزہ اور مصعب یہ دونوں فلاں عورت کے بیٹے تھے۔ سیدہ زینب (رض) بیان کرتی ہیں : انھوں ن ے عبداللہ زبیر (رض) کو پیغام بھیجا کہ کیا ایسا کرنا درست ہوگا ‘ تو عبداللہ بن زبیرنے مجھے جواب میں پیغام بھیجا کہ کیا تم اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کرنا چاہتی ہو ؟ میں تمہارا بھائی ہوں اور سیدہ اسماء (رض) کے بچے تمہارے بھائی ہیں ‘ لیکن حضرت زبیر کی وہ اولاد جو سیدہ اسماء (رض) کے علاوہ دوسرے بچوں سے ہے وہ تمہارے بہن بھائی نہیں ہیں۔ سیدہ زینب (رض) بیان کرتی ہیں : جب انھوں نے یہ پیغام بھیجا تو اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے صحابہ کرام بھی موجود تھے اور امہات المومنین بھی موجود تھیں ‘ انھوں نے یہ بات بیان کی کہ رضاعت مرد کی طرف سے کسی چیز کی حرمت کو ثابت نہیں کرتی۔
4299 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِى عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِى سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِى بَكْرٍ أَرْضَعَتْنِى وَكَانَ الزُّبَيْرُ يَدْخُلُ عَلَىَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ فَيَأْخُذُ بِقَرْنٍ مِنْ قُرُونِ رَأْسِى وَيَقُولُ أَقْبِلِى عَلَىَّ حَدِّثِينِى.يَرَى أَنَّهُ أَبِى وَإِنَّمَا وَلَدُهُ إِخْوَتِى فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ الْحَرَّةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ابْنَتِى عَلَى حَمْزَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَحَمْزَةُ وَمُصْعَبٌ مِنَ الْكِلاَبِيَّةِ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَىَّ إِنَّمَا تُرِيدِينَ مَنْعَ ابْنَتِكَ أَنَا أَخُوكِ وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَاءُ فَهُمْ إِخْوَتُكِ. فَأَمَّا وَلَدُ الزُّبَيْرِ لِغَيْرِ أَسْمَاءَ فَلَيْسُوا لَكِ بِإِخْوَةٍ. قَالَتْ فَأَرْسَلْتُ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالُوا إِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ لاَ تُحَرِّمُ شَيْئًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০০
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4300 ۔ سیدہ ام فضل (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک یادوگھونٹ پی لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
4300 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَالإِمْلاَجَتَانِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০১
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4301 ۔ سیدہ ام فضل (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں موجود تھے ‘ ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کی : یارسول اللہ ! میری ایک بیوی ہے میں نے اس کے بعد ایک اور عورت کے ساتھ شادی کی تو میری پہلی بیوی نے یہ بات بیان کی ‘ اس نے میری بیوی کو دودھ پلایا ہوا ہے ‘ جو ایک یاشاید دو مرتبہ پلایاتھایا ایک یادوگھونٹ پلایا تھا (یہاں پر شک راوی کو ہے) تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک یادوگھونٹ بھرنے سے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ایک یادومرتبہ پینے سے) حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
4301 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِىِّ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَيْتِى فَأَتَاهُ أَعْرَابِىٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَتْ عِنْدِى امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً فَزَعَمَتِ امْرَأَتِى الأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِى الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ أَوْ قَالَ إِمْلاَجَةً أَوْ إِمْلاَجَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَلاَ الإِمْلاَجَتَانِ ». أَوْ قَالَ « الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4302 ۔ سیدہ ام فضل (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ایک یادوگھونٹ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

قتادہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایک مرتبہ یادومرتبہ چوسنے سے (حرمت ثابت نہیں ہوتی) ۔
4302 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ وَأَيُّوبَ عَنْ أَبِى الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَلاَ الإِمْلاَجَتَانِ ». قَالَ قَتَادَةُ « وَلاَ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৩
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4303 ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمایا ہے : ایک یادومرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
4303 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الشِّيعِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৪
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4304 ۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : قرآن میں پہلے دس متعین مرتبہ چوسنے کا حکم نازل ہوا تھا۔ سیدہ عائشہ (رض) کی مرادیہ تھی کہ وہ رضاعت جس کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے ‘ اس میں دس مرتبہ چوسنالازم ہے ‘ اس کے بعد پانچ متعین مرتبہ کا حکم نازل ہوا۔
4304 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ نَزَلَ فِى الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ وَهِىَ تُرِيدُ مَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ ثُمَّ نَزَلَ بَعْدُ أَوْ خَمْسٌ مَعْلُومَاتٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৫
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4305 ۔ حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ شخص باقی سب لوگوں کے مقابلے میں اس کی زندگی اور موت میں زیادہ قریب شمار ہوگا۔
4305 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِىِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৬
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4306 ۔ حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے ‘ تو وہ دوسرا شخص پہلے کے ولاء کا مالک ہوگا۔
4306 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَذْعُورٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِىُّ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّامِىِّ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ فَلَهُ وَلاَؤُهُ ». الصَّدَفِىُّ ضَعِيفٌ وَالَّذِى قَبْلَهُ مُرْسَلٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৭
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4307 ۔ حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ دیگر سب لوگوں کے مقابلے میں اس کی زندگی اور موت میں اس سے زیادہ قریب ہوگا۔
4307 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِىِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ قَالَ « هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ »
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৮
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4308 ۔ حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ نے ایک شخص سے سوال کیا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے) ۔
4308 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَابِسٍ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكِلاَبِىُّ كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ - رَجُلٌ مِنْ خَوْلاَنَ - قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَسَأَلَهُ رَجُلٌ نَحْوَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৯
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4309 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری ہوئی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : گری ہوئی چیز کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے ‘ جو شخص اس کو اٹھالیتا ہے وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرے گا ‘ اگر اس کا مالک آجاتا ہے ‘ تو وہ اسے لوٹادے گا ‘ اگر اس کا مالک نہیں آتا تو وہ اسے صدقہ کردے گا۔ اور اگر پھر اس کا مالک آجاتا ہے ‘ تو وہ اسے اس کی چیزیا اس کی ماننددوسری چیز کے بارے میں اختیاردے گا۔
4309 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُمَىٍّ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ « لاَ تَحِلُّ اللُّقَطَةُ مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً فَإِنْ جَاءَهُ صَاحِبُهَا فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ صَاحِبُهَا فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا وَإِنْ جَاءَ فَلْيُخَيِّرْهُ بَيْنَ الأَجْرِ وَبَيْنَ الَّذِى لَهُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১০
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4310 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ چار چیزوں سے فارغ ہوچکا ہے : تخلیق ‘ عادت واطوار ‘ رزق اور عمر ‘ تو کوئی شخص کسی دوسرے سے ان میں سے کسی بھی چیز کا اکتساب نہیں کرسکتا۔ صدقہ دیناجائز ہے ‘ خواہ اسے قبضے میں لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو۔
4310 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فُرِغَ مِنْ أَرْبَعٍ الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ وَالرِّزْقِ وَالأَجَلِ فَلَيْسَ أَحَدٌ أَكْسَبَ مِنْ أَحَدٍ وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ أَوْ لَمْ تُقْبَضْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১১
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4311 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : عضباء نامی اونٹنی بنوعقیل کے ایک شخص کی ملکیت تھی۔ اس شخص کو قیدی بنایا گیا۔ اس شخص کے ساتھ اس کی اونٹنی عضباء کو بھی قیدی بنادیا گیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لائے ‘ آپ اس وقت ایک گدھے پر سوار تھے جس پر کپڑاڈالا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی : اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ لوگوں نے کیس بنیاد پر مجھے پکڑا ہے اور کس وجہ سے عضباء کو پکڑا ہے ‘ جبکہ میں مسلمان ہوں ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اگر تم یہ بات کہہ رہے ہو ‘ تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو (یعنی آزاد ہو) اور تمہیں مکمل فلاح نصیب ہوگی۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے تو وہ شخص (پیچھے سے) بولا : حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھوکاہوں ‘ مجھے کچھ کھانے کے لیے دیں۔ میں پیاساہوں آپ مجھے کچھ پینے کے لیے دیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔

پھر اس شخص کو دو آدمیوں کے فدیے کے بدلے میں چھوڑ دیا گیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عضباء نامی اونٹنی کو اپنے سواری کے لیے رکھ دیا کیونکہ وہ تیزسفر کیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے مدینہ منورہ کے ایک حصے پر رات کے وقت ڈاکہ ڈالا اور ایک مسلمان عورت کو قیدی کرلیا۔ مشرکین نے اپنی کھلی جگہ پر اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لیے بٹھادیا ‘ جب رات ہوئی اور وہ لوگ سوگئے تو وہ عورت جس اونٹ کے پاس گئی اس نے آواز نکالی وہ اس اونٹنی عضباء کے پاس آئی تو اس نے آواز نہیں نکالی۔ وہ بڑی فرمان بردار اونٹنی تھی ‘ وہ عورت اس اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آگئی۔ اس نے نذرمانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے نجات نصیب کردی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کردے گی ‘ جب وہ مدینہ منورہ پہنچی اور لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو پہچان لیاتو بولے : یہ توعضباء ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی ہے۔

راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس عورت کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا اور اس کی نذر کے بارے میں آپ کو بتایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم نے بہت برابدلہ دیا ہے۔ معصیت کے کام میں کوئی نذر نہیں ہوتی اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ‘ اس کے بارے میں کوئی نذر نہیں ہوتی۔
4311 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَدَمِىُّ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِى عُقَيْلٍ أُسِرَ فَأُخِذَتِ الْعَضْبَاءُ مَعَهُ فَأَتَى عَلَيْهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلاَمَ تَأْخُذُونِى وَتَأْخُذُونَ الْعَضْبَاءَ وَأَنَا مُسْلِمٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاَحِ ». قَالَ وَمَضَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّى جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِى وَإِنِّى ظَمْآنُ فَاسْقِنِى فَقَالَ « هَذِهِ حَاجَتُكَ ». قَالَ فَفُودِىَ بِرَجُلَيْنِ وَحَبَسَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ قَالَ فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ بَأَفْنِيَتِهِمْ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ نُوِّمُوا وَعَمَدَتْ إِلَى الإِبِلِ فَمَا كَانَتْ تَأْتِى عَلَى نَاقَةٍ مِنْهَا إِلاَّ رَغَتْ حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ فَرَكِبَتْهَا حَتَّى أَتَتِ الْمَدِينَةَ وَنَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ تَعَالَى نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا أَتَتِ الْمَدِينَةَ عَرَفَ النَّاسُ النَّاقَةَ وَقَالُوا الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ وَأُتِىَ بِهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ « بِئْسَمَا جَزَتْهَا - أَوْ جَزَيْتِهَا - لاَ نَذْرَ فِى مَعْصِيَةٍ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১২
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4312 ۔ عطاء بیان کرتے ہیں : توڑی رضاعت بھی وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو حرمت زیادہ رضاعت سے ثابت ہوتی ہے ‘ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو اس بات کا پتہ چلا کہ عبداللہ بن زبیر ‘ سیدہ عائشہ (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے رضاعت کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے : سات مرتبہ سے کم دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کا فرمان سیدہ عائشہ (رض) کے قول سے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :” اور تمہاری رضاعی بہنیں “۔

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک مرتبہ یادومرتبہ کی رضاعت۔
4312 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ تُحَرِّمُ مِنْهَا مَا قَلَّ وَمَا كَثُرَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَمَّا بَلَغَهُ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ يَأْثِرُ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها فِى الرَّضَاعِ أَنَّهُ لاَ يُحَرِّمُ مِنْهَا دُونَ سَبْعِ رَضَعَاتٍ قَالَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ ) وَلَمْ يَقُلْ رَضْعَةً وَلاَ رَضْعَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১৩
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4313 ۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پانچ مرتبہ سے کم رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
4313 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لاَ يُحَرِّمُ دُونَ خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১৪
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : رضاعت کا بیان
4314 ۔ عمروبن دیناربیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہوجاتی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : میں یہ سمجھتاہوں کہ رضاعی بہن حرام ہوتی ہے۔ تو ایک شخص بولا : امیرالمومنین نے تو یہ بات بیان کی ہے (اس شخص کی مراد حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) تھے) کہ ایک مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمہارے فیصلے اور امیرالمومنین کے فیصلے سے بہت رہے۔
4314 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَتُحَرِّمُ رَضْعَةٌ أَوْ رَضْعَتَانِ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلاَّ حَرَامًا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - يُرِيدُ ابْنَ الزُّبَيْرِ - زَعَمَ أَنَّهُ لاَ تُحَرِّمُ رَضْعَةٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَضَاءُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ .
tahqiq

তাহকীক: