মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ৩২৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٣) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ جب وہ فجر کی نماز سے فارغ ہوں تو اتنی روشنی ہو کہ تیرپھینکنے کی مسافت جتنی جگہ سے چیز نظر آجائے۔
(۳۲۷۳) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانُوا یُحِبُّونَ أَنْ یَنْصَرِفُوا مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، وَأَحَدُہُمْ یَرَی مَوْضِعَ نَبْلِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٤) حضرت بشر بن عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ کے ساتھ سفر کیا وہ فجر کی نماز کور وشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : سَافَرْت مَعَ عَلْقَمَۃَ ، فَکَانَ یُنَوِّرُ بِالصُّبْحِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کا کسی بات پر اتنا اتفاق نہیں تھا جتنا اتفاق فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھنے کے بارے میں تھا۔
(۳۲۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا أَجْمَعَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی شَیْئٍ مَا أَجْمَعُوا عَلَی التَّنْوِیرِ بِالْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٦) حضرت نفاعہ بن مسلم کہتے ہیں کہ سوید بن غفلہ فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۷۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ نَفَاعَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : کَانَ سُوَیْد بْنُ غَفَلَۃَ یُسْفِرُ بِالْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٧) حضرت وقاء فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ وِقَائٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُنَوِّرُ بِالْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٨) ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے شاگرد فجر کی نماز کو روشنی میں پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۷۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ ؛ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ کَانُوا یُسْفِرُونَ بِصَلاَۃِ الْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٧٩) حضرت خرشہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے لوگوں کو فجر کی نماز اندھیرے میں بھی پڑھائی اور روشنی میں بھی اور ان دونوں کے درمیانی وقت میں بھی پڑھائی۔
(۳۲۷۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ خَرَشَۃَ ، قَالَ : صَلَّی عُمر بِالنَّاسِ الْفَجْر فَغَلَّسَ وَنَوَّرَ ، وَصَلَّی بِہِمْ فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٨٠) حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے صبح کی نماز اندھیرے میں بھی پڑھائی اور روشنی میں بھی۔ یہاں تک کہ میں نے کہا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا سورج طلوع نہیں ہوا ! انھوں نے ان دونوں وقتوں کے درمیان بھی فجر کی نماز ادا کی ہے۔ ان کے مؤذن ابن النباح تھے، ان کے علاوہ ان کا کوئی مؤذن نہ تھا۔
(۳۲۸۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : صَلَّی الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ الصُّبْحَ فَغَلَّسَ وَنَوَّرَ ، حَتَّی قُلْتُ : قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَطْلُعْ ، وَصَلَّی فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ ، وَکَانَ مُؤَذِّنُہُ ابْنَ النَّبَّاحِ ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ مُؤَذِّنٌ غَیْرُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٨١) حضرت ربیع فرمایا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کے لیے روشنی ہونے دو ، روشنی ہونے دو ۔
(۳۲۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَدُوسٍ ، رَجُلٍ مِنَ الْحَیِّ ؛ أَنَّ الرَّبِیعَ ، قَالَ : نَوِّرْ ، نَوِّرْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کی نماز کو روشنی میں ادا کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے
(٣٢٨٢) حضرت تمیم بن حذلم جو کہ ایک صحابی ہیں فرمایا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کے لیے روشنی ہونے دو ، روشنی ہونے دو ۔
(۳۲۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الرُّکَیْنِ الضَّبِّیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِیمَ بْنَ حَذْلَمَ ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ : نَوِّرْ ، نَوِّرْ بِالصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٣) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے ظہر کی نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ جلدی کرتے ہوئے کسی کو نہ دیکھا، نہ حضرت ابوبکر کو نہ حضرت عمر کو۔
(۳۲۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ أَشَدَّ تَعْجِیلاً لِلظُّہْرِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ أَبًو بَکْرٍ ، وَلاَ عُمَرَ۔

(ترمذی ۱۵۵۔ احمد ۶/۱۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٤) حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ حضرت عمر سورج کے زوال کے بعد ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۸۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٥) حضرت مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ہمیں سورج کے زوال کے بعد ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ اس نماز کا وقت ہے۔
(۳۲۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : ہَذَا ، وَالَّذِی لاَ إلَہَ غَیْرُہُ ، وَقْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٦) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جب سورج زائل ہوگیا تو حضرت ابو موسیٰ آئے اور فرمایا کہ تمہارا امام کہاں ہے ؟ یہ اس نماز کا وقت ہے۔ اتنے میں جلدی سے حضرت عبداللہ آئے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔
(۳۲۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : لَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ جَائَ أَبُو مُوسَی ، فَقَالَ : أَیْنَ صَاحِبُکُمْ ؟ ہَذَا وَقْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ ، فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ جَائَ عَبْدُ اللہِ مُسْرِعًا ، فَصَلَّی الظُّہْرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٧) حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابو برزہ کے پاس حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے کہا کہ ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کیسے ادا کیا کرتے تھے ؟ فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
(۳۲۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو الْمِنْہَالِ ، قَالَ : انْتَہَیْت مَعَ أَبِی إلَی أَبِی بَرْزۃَ ، فَقَالَ : حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی الْمَکْتُوبَۃَ ؟ فَقَالَ : کَانَ یُصَلِّی الْہَجِیرَ الَّتِی تَدْعُونَہَا الأُولَی حِینَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٨) حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر میں تم سے زیادہ تعجیل کرنے والے تھے، اور تم عصر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ تاخیر کرنے والے ہو۔
(۳۲۸۸) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِیلاً لِلظُّہْرِ مِنْکُمْ ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَأْخِیرًا لِلْعَصْرِ مِنْہُ۔

(ترمذی ۱۶۳۔ احمد ۶/۳۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٨٩) حضرت حبیب بن شہاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے ظہر کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب نصف نہار کے وقت سورج زائل ہوجائے اور سایہ تسمے کے برابر ہوجائے تو ظہر کا وقت ہوگیا۔
(۳۲۸۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنْ وَقْتِ الظُّہْرِ ؟ فَقَالَ : إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ نِصْفِ النَّہَارِ ، وَکَانَ الظِّلُّ قِیسَ الشِّرَاکِ فَقَدْ قَامَتِ الظُّہْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٠) حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ سورج کے زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔ حجاج نے انھیں پیغام بھجوا کر کہا کہ ہم سے پہلے نماز نہ پڑھا کریں۔ حضرت سوید نے جواب میں فرمایا کہ میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ساتھ یونہی نماز پڑھی ہے۔ مجھے اس عمل کو چھوڑنے سے موت زیادہ پسند ہے۔
(۳۲۹۰) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ ؛ أَنَّ سُوَیْد بْنَ غَفَلَۃَ کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ فَأَرْسَلَ إلَیْہِ الْحَجَّاجُ لاَ تَسْبِقْنَا بِصَلاَتِنَا ، فَقَالَ سُوَیْد : قَدْ صَلَّیْتہَا مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ہَکَذَا ، وَالْمَوْتُ أَقْرَبُ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَدَعَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩١) حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ گرمیوں میں حضرت عمرظہر کی نماز پڑھ کر قباء کی طرف جاتے تو وہاں لوگ ابھی نماز ظہر پڑھ رہے ہوتے تھے۔
(۳۲۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : کَانَ عُمر یَنْصَرِفُ مِنَ الْہَجْر فِی الْحَرِّ ، ثُمَّ یَنْطَلِقُ الْمُنْطَلِقُ إلَی قُبَائَ فَیَجِدُہُمْ یُصَلُّونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ سورج زائل ہوتے ہی ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٢٩٢) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال سورج کے زوال کے بعد اذان دیا کرتے تھے۔
(۳۲۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ : کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔ (مسلم ۱۸۸۔ ابوداؤد ۴۰۶)
tahqiq

তাহকীক: