সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
مشروبات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭ টি
হাদীস নং: ২০১৬
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نقیع کا حکم۔
عبداللہ بن دیلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ان میں سے ایک صاحب نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا یا رسول اللہ ہم جس ماحول سے نکل کر آئے ہیں وہ آپ کے علم میں ہے اور جس جگہ پڑاؤ کیا ہے وہ بھی آپ کے علم میں ہے ہمارا حمایتی کون ہوگا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول۔ انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ انگور اور شراب کے مالک ہیں اللہ نے شراب کو تو حرام قرار دیا ہے اب ہم انگوروں کا کیا کریں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا تم ان کی نبیذ بنالو انھوں نے عرض کیا ہم اس کی نبیذ کیسے تیار کریں آپ نے ارشاد فرمایا اسے مشکیزہ میں ڈالو اور صبح کے وقت بناؤ تو شام کو پی لو۔ اور شام کے وقت بناؤ تو اسے صبح کے وقت پی لو اور جب اسے اتناعرصہ گزر جائے تو مشروب ہوگی لیکن وہ شراب نہ بنی ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ أَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ خَرَجْنَا مِنْ حَيْثُ عَلِمْتَ وَنَزَلْنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَصْحَابَ كَرْمٍ وَخَمْرٍ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَا نَصْنَعُ بِالْكَرْمِ قَالَ اصْنَعُوهُ زَبِيبًا قَالُوا فَمَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ قَالَ انْقَعُوهُ فِي الشِّنَانِ انْقَعُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَانْقَعُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ فَإِنَّهُ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ الْعَصْرَانِ كَانَ خَلًّا قَبْلَ أَنْ يَكُونَ خَمْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৭
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹکے میں اور نبیذ بنانے والے دیگر برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت۔
حضرت سعد بن جبیر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے مٹکے میں نبیذ تیار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حرام قرار دیا ہے پھر میری ملاقات حضرت ابن عباس (رض) سے ہوئی تو میں نے انھیں حضرت ابن عمر (رض) کے بیان کے بارے میں بتایا تو انھوں نے جواب دیا ابوعبدالرحمن نے درست کہا ہے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৮
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹکے میں اور نبیذ بنانے والے دیگر برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت۔
حضرت انس (رض) بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے دباء اور مزفت (شراب تیار کرنے کے دو برتن) میں نبیذ تیار نہ کرو۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৯
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹکے میں اور نبیذ بنانے والے دیگر برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت۔
ابوحکم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے مٹکے میں نبیذ تیار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹکے اور دباء میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے میں نے یہی سوال ابن زبیر سے کیا تو انھوں نے بھی حضرت ابن عباس (رض) کی مانند جواب دیا ابوحکم بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں جو شخص چاہتا ہو وہ اس چیز کو حرام قرار دے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے تو اسے نبیذ کو حرام قرار دینا چاہیے ابوحکم بیان کرتے ہیں میرے بھائی نے مجھے ابوسعید خدری (رض) کے حوالے سے یہ روایت سنائی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹکے دباء اور مزفت میں نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے اور خشک اور تر کھجور کی ایک ساتھ نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ سَمِعْتُهُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ مَنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ قَالَ و حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَعَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২০
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹکے میں اور نبیذ بنانے والے دیگر برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت۔
حضرت فضیل بن زید رقاشی بیان کرتے ہیں وہ حضرت عبداللہ بن مغفل کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ہمارے لیے کون سی شراب حرام ہے انھوں نے جواب دیا خمر، میں نے جواب دیا اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے انھوں نے فرمایا میں تمہیں وہی حدیث سناؤں گا جو میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہے (راوی کہتے ہیں شاید انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسم گرامی کو پہلے ذکر کیا تھا اور آپ کے رسول ہونے کا ذکر بعد میں کیا تھا یا شاید رسالت کا ذکر پہلے کیا تھا اور اسم گرامی کا ذکر بعد میں کیا تھا) ۔ پھر انھوں نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دباء، حنتم اور نقیر (میں شراب تیار کرنے) سے منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا يَحْرُمُ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ فَقَالَ الْخَمْرُ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ مَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالِاسْمِ أَوْ قَالَ بِالرِّسَالَةِ قَالَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২১
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ملی ہوئی چیزوں کی نبیذ تیار کرنے کی ممانعت
عبداللہ بن ابوقتادہ (رض) اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کچی اور تازہ کھجوروں کی ایک ساتھ نبیذ تیار نہ کرو کشمش اور کھجور کی ایک ساتھ نبیذ تیار نہ کرو بلکہ ان میں سے ہر ایک کی الگ سے نبیذ تیار کرو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ قَالَا أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلَا تَنْتَبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২২
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگور کو " کرم " کہنے کی ممانعت
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں انگور کو کرم نہ کہا کرو بلکہ عنب اور حبلہ کہہ دیا کرو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا الْكَرْمَ وَقُولُوا الْعِنَبَ أَوْ الْحَبَلَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৩
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شراب کو سرکہ بنانے کی ممانعت۔
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں چند یتیم بچے حضرت ابوطلحہ کے زیر پرورش تھے حضرت ابوطلحہ نے ان کے لیے شراب خریدی جب شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا تو وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کا تذکرہ آپ سے کرتے ہوئے عرض کی میں اسے سرکہ بنالوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا نہیں تو حضرت ابوطلحہ نے اس شراب کو بہا دیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَاشْتَرَى لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَجْعَلُهُ خَلًّا قَالَ لَا فَأَهْرَاقَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৪
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کا مسنون طریقہ کیا ہے۔
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ پیتے ہوئے دیکھا آپ کے بائیں طرف ابوبکر موجود تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا آپ نے بچا ہوا دودھ دیہاتی کو دیا اور ارشاد فرمایا پہلے دائیں طرف والے کا حق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ فَضْلَهُ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৫
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشکیزے کو منہ لگا کر پینے کی ممانعت۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৬
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشکیزے کو منہ لگا کر پینے کی ممانعت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا جائے۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৭
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشکیزے کو منہ لگا کر پینے کی ممانعت۔
حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৮
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین سانسوں میں پینا۔
حضرت ثمامہ بیان کرتے ہیں حضرت انس (رض) برتن میں دو یا شاید تین مرتبہ سانس لیتے تھے اور یہ بیان کرتے تھے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برتن میں دو یا شاید تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے۔ (راوی کو شک ہے)
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ ثُمَامَةَ قَالَ كَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২৯
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی سانس میں پی لینا۔
حضرت ابومثنی بیان کرتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا حضرت ابوسعید تشریف لائے اور انھوں نے بتایا کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں ایک ہی سانس میں پی لینے سے سیراب نہیں ہوتا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اپنے منہ سے برتن کو ہٹاؤ اور پھر سانس لو وہ شخص بولا اگر مجھے اس میں گندگی نظر آجائے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پانی کو بہا دو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَبِنْ الْإِنَاءَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ إِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ قَالَ أَهْرِقْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩০
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی سانس میں پی لینا۔
حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص پیشاب کرنے لگے تو اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ہی برتن میں سانس لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩১
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نہر میں منہ لگا کر پانی پینا۔
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری شخص کی عیادت کے لیے تشریف لائے اس کے گھر کے پاس پانی کا نالہ بہہ رہا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تو تمہارے پاس ایسا پانی موجود ہے جو رات سے مشکیزہ میں ہو تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اس صاف پانی والے نالہ میں سے پانی پی لیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُهُ وَجَدْوَلٌ يَجْرِي فَقَالَ إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي الشَّنِّ وَإِلَّا كَرَعْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩২
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہو کر پینا۔
سیدہ ام سلیم بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھوٹے مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا تھا۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ الْبَرَاءِ ابْنِ ابْنَةِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ فَمِ قِرْبَةٍ قَائِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৩
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہو کر پینا۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ہم کھڑے ہو کر کچھ پی لیا کرتے تھے اور چلتے ہوئے کچھ کھالیا کرتے تھے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৪
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کھڑے ہو کر پینے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے ان سے کھانے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا یہ زیادہ برا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْأَكْلِ فَقَالَ ذَاكَ أَخْبَثُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৫
مشروبات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے کھڑے ہو کر پینے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو کھڑے ہو کر پیتے دیکھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم قے کردو اس نے عرض کی وہ کس لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ بلی کے ہمراہ پانی پیو ؟ اس نے جواب دیا نہیں آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ اس نے پانی پیا ہے جو بلی سے زیادہ برا ہے یعنی شیطان۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ رَآهُ يَشْرَبُ قَائِمًا قِئْ قَالَ لِمَ قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ تَشْرَبَ مَعَ الْهِرِّ قَالَ لَا قَالَ فَقَدْ شَرِبَ مَعَكَ شَرٌّ مِنْهُ الشَّيْطَانُ
তাহকীক: