সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮ টি

হাদীস নং: ২২৬৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت۔
ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط میں یہ لکھا تھا کہ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہڈی ظاہر ہونے والے زخم کا حکم۔
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہڈی ظاہر ہونے والے زخم کے بارے میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم قرار دی ہے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسًا خَمْسًا مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہڈی ظاہر ہونے والے زخم کا حکم۔
ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط میں لکھا تھا کہ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہیں اور ہڈی ظاہر ہونے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت۔
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دانتوں کے بارے میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم قرار دی ہے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت۔
ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط میں یہ لکھا تھا کہ دانتوں کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ لے اور دوسرا شخص اپنا ہاتھ کھینچ لے۔
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹ لیا دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو پہلے شخص کے دو دانت باہر نکل آئے وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم اپنے بھائی کے ہاتھ پر اس طرح کاٹ دیتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں اس کی کوئی دیت نہیں ملے گی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ قَالَ فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا کنویں میں گرجانے کا کوئی تاوان نہیں ہے کان میں گرنے کا کوئی تاوان نہیں ہے اور خزانے کے اندر پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہے کنویں میں گرجانے کا کوئی تاوان نہیں ہے کان میں گرنے کا کوئی تاوان نہیں ہے اور خزانے میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کان میں گرنے کا کوئی تاوان نہیں ہے اور جانور کے مارنے کا کوئی تاوان نہیں ہے اور کنویں میں گرنے کا کوئی تاوان نہیں ہے اور خزانے میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ روایت کرتے ہیں کہ دو خواتین ایک شخص کی زوجیت میں تھیں ان دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی کے ذریعے مارا اس عورت کو اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کردیا یہ مقدمہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس بارے میں ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی لازم کی اور اس کی ادائیگی عورت کے خاندان پر لازم کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ فَتَغَايَرَتَا فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً وَجَعَلَهَا عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے لوگوں کو قسم دے کر دریافت کیا کہ پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ کیا ہے تو حضرت حمل بن مالک کھڑے ہوئے اور انھیں بتایا کہ میں ان دونوں خواتین کے درمیان موجود تھا جن میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی کے ذریعے مارا تھا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں ادائیگی لازم قرار دی تھی اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسے اس مقتول عورت کے عوض میں قتل کر یا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل خطا کی ادائیگی کی دیت کس پر لازم ہوگی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کی لڑائی ہوگئی ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اسے قتل کردیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی قتل کردیا وہ لوگ دیت کے بارے میں مقدمہ لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ پیٹ میں موجود بچے کی دیت ایک غلام یا کنیز ہوگی اور عورت کی دیت کی ادائیگی قتل کرنے والی عورت کے خاندان پر ہوگی اور مقتول عورت کے ورثاء ہی اس کے وارث ہوں گے جس میں اس کی اولاد اور دیگر لوگ شامل ہوں گے حضرت حمل بن نابغہ فرماتے ہیں نے عرض کی یا رسول اللہ میں کیسے تاوان ادا کروں اس بچے کا جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ کچھ پیا نہ وہ بولا نہ ہی وہ رویا ایساخون تو رائیگاں جاتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ کاہنوں کی طرح گفتگو کررہا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا کلام نہایت مقفع مسجع تھا۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا فِي الدِّيَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرِثَتْهَا وَرَثَتُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ مَعَهَا فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کی دیت۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا شبہ العمد جیسے خطا کے طور پر قتل ہونے والے شخص کی دیت اور جس شخص کو لکڑی سے یا سوٹی کے ذریعے مارا گیا ہو اس کی دیت چالیس اونٹنیاں ہے جن کے پیٹ میں بچے موجود ہوں۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةُ قَتِيلِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ وَمَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی کے گھر میں جھانکے۔
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ مبارک میں جھانکنے کی کوشش کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں اس وقت ایک کنگھی تھی جس کے ذریعے آپ اپنے سر کا خلال کررہے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھ لیا تو ارشاد فرمایا اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم مجھے اس طریقے سے دیکھ رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھوں میں چبھو دیتا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اجازت لینے کا مقصد ہی یہی ہے تاکہ اندر دیکھنے سے رکا جاسکے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُخَلِّلُ بِهَا رَأْسَهُ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنَيْكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی کے گھر میں جھانکے۔
حضرت سہل بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حجرے میں موجود تھے آپ کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی جس کے ذریعے آپ کنگھی کررہے تھے ایک شخص نے آیا اس نے جھانکنے کی کوشش کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے پتا ہوتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں تمہاری آنکھوں میں یہ چبھو دیتا اجازت لینے کا مقصد ہی یہ ہے کہ گھر میں کسی پر نظر پڑنے سے رکا جائے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَةٍ وَمَعَهُ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ اطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَقُمْتُ حَتَّى أَطْعَنَ بِهِ عَيْنَيْكَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی قریشی شخص کو باندھ کر قتل نہیں کیا جاسکتا۔
عبداللہ مطیع کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آج کے دن کے بعد قیامت کے دن تک کسی قریشی شخص کو باندھ کر قتل نہیں کیا جاسکتا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں علماء نے اس کی وضاحت یہ کی ہے کسی قریشی شخص کو کافر ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاسکتا یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ آج کے بعد کوئی قریشی شخص کافر ہوجائے البتہ قصاص کے اندر قتل کیا جاسکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ مُطِيعٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد فَسَّرُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي لَا يَكُونُ هَذَا أَنْ يَكْفُرَ قُرَشِيٌّ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَّا فِي الْقَوَدِ فَيُقْتَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جاسکتا
ابورمثہ بیان کرتے ہیں میں مدینہ آیا میرے ساتھ میرا بیٹاموجود تھا ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا تھا آپ باہر تشریف لائے آپ نے دوسبز کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کے حلیے کی وجہ سے آپ کو پہچان لیا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دریافت کیا یہ تمہارے ساتھ کون ہے میں نے جواب دیا رب کعبہ کی قسم یہ میرا بیٹا ہے آپ نے فرمایا تمہارا بیٹا ہے ؟ میں نے عرض کی میں اس بات کی گواہی دیتاہوں آپ نے ارشاد فرمایا بیشک تمہارا بیٹا کسی جرم کی وجہ سے پکڑا نہیں جاسکتا اور تم اس کے کسی جرم کی وجہ سے پکڑے نہیں جاسکتے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَمَعِيَ ابْنٌ لِي وَلَمْ نَكُنْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ عَرَفْتُهُ بِالصِّفَةِ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ قُلْتُ ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ ابْنُكَ فَقُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ فَإِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جاسکتا
حضرت ابورمثہ بیان کرتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے میرے والد سے دریافت کیا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے انھوں نے عرض کی جی ہاں رب کعبہ کی قسم آپ نے فرمایا ٹھیک کہ رہے ہو ؟ انھوں نے عرض کی میں یہ گواہی دیتاہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیئے آپ اس بات پر مسکرائے تھے میری میرے والد کے ساتھ بہت مشابہت تھی اور میرے والد نے میرے بارے میں قسم اٹھائی تھی آپ نے ارشاد فرمایا تمہارا بیٹا تمہارے کسی جرم کا ملزم نہیں بنے گا اور تم اس کے کسی جرم کے ملزم نہیں بنوگے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی۔ " اور کوئی شخص کسی دوسرے کا وزن نہیں اٹھائے گا "۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا فَقَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبَتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ فَقَالَ إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
tahqiq

তাহকীক:

সুনানে দারেমী (উর্দু) | মুসলিম বাংলা