মা'আরিফুল হাদীস
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
হাদীস নং: ১৭০৯
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
فاطمی جہیز
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دی تھیں ، ایک پلودار چادر ، ایک مشکیزہ ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی ۔ (سنن نسائی)
تشریح
ہمارے ملک کے اکثر اہلِ علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں (چادر ، مشکیزہ ، تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر “جہیز” کے طور پر دی تھیں ۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو “جہیز” کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور “جہیز” کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم کے “جہیز” کا ذکر نہیں آیا ، حدیث کے لفظ “جهز” کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبسگ کرنے کے ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علیؓ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا تھا کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں ۔ روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے ۔ بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا ۔
تشریح
ہمارے ملک کے اکثر اہلِ علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں (چادر ، مشکیزہ ، تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر “جہیز” کے طور پر دی تھیں ۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو “جہیز” کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور “جہیز” کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم کے “جہیز” کا ذکر نہیں آیا ، حدیث کے لفظ “جهز” کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبسگ کرنے کے ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علیؓ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا تھا کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں ۔ روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے ۔ بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ. (رواه النسائى)