আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
دعاؤں کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৮১
دعاؤں کا بیان
نبی اکرم ﷺ کی دعا اور فرض نماز کے بعد تعوذ کے متعلق
قیس بن سعد بن عبادہ (رض) سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعد بن عبادہ) نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کردیا، وہ کہتے ہیں : میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا : کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں ، میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا : وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٠ (٣٥٥) (تحفة الأشراف : ١١٠٩٧) ، و مسند احمد (٣/٤٢٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1746) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3581
حدیث نمبر: 3581 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ يُحَدِّثُ، عَنْمَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ، قَالَ: فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.