আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

دعاؤں کا بیان

হাদীস নং: ৩৫৫৭
دعاؤں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا : ایک سے ایک سے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تشہد میں انگلیوں سے اشارہ کرتے وقت صرف ایک انگلی سے اشارہ کرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السھو ٣٧ (١٢٧٧٣) (تحفة الأشراف : ١٢٨٦٥) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کردی ہے کہ یہ تشہد ( اولیٰ اور ثانیہ ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے ، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو باربار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائے گی ، نہ کہ صرف «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» پر جیسا کہ ہند و پاک میں رائج ہوگیا ہے ، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے ، یا حرکت دیتے رہتے تھے ، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، صفة الصلاة، المشکاة (913) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3557
حدیث نمبر: 3557 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحِّدْ أَحِّدْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ إِذَا أَشَارَ الرَّجُلُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الشَّهَادَةِ لَا يُشِيرُ إِلَّا بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান