আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
دعاؤں کا بیان
হাদীস নং: ৩৫২১
دعاؤں کا بیان
باب
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو :«اللهم إنا نسألک من خير ما سألک منه نبيك محمد صلی اللہ عليه وسلم ونعوذ بک من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلی اللہ عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» اے اللہ ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر (برائی) سے جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے (خیر و شر کا) پہچانا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٨٩٣) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3356) // ضعيف الجامع الصغير (2165) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3521
حدیث نمبر: 3521 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ كَثِيرِ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.