আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
دعاؤں کا بیان
হাদীস নং: ৩৩৭৯
دعاؤں کا بیان
مجلس ذکر کی فضیلت کے بارے میں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) مسجد گئے (وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے) پوچھا : تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ (رض) نے کہا : کیا ! قسم اللہ کی ! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ (رض) نے کہا : میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ١ ؎، رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم (ادب و احتیاط کے سبب) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ ( پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں) رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا : کس لیے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا واقعی ؟ ! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١١ (٢٧٠١) ، سنن النسائی/القضاة ٣٧ (٥٤٢٨) (تحفة الأشراف : ١١٤١٦) ، و مسند احمد (٤/٩٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : بات یہ نہیں ہے کہ میں آپ لوگوں کی ثقاہت کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اس لیے قسم کھلائی ہے ، بلکہ خود آپ ﷺ نے اسی طرح صحابہ سے قسم لے کر یہ حدیث بیان فرمائی تھی ، اسی اتباع میں ، میں نے بھی آپ لوگوں کو قسم کھلائی ہے ، حدیثوں کی روایت کا یہ بھی ایک انداز ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جس کیفیت کے ساتھ حدیث بیان کی ہوتی ہے ، صحابہ سے لے کر اخیر سند تک کے ساری راوی اسی طرح روایت کرتے ہیں ، اس سے حدیث کی صحت پر اور زیادہ یقین بڑھ جاتا ہے ( اور خود آپ ﷺ نے بھی کسی شک و شبہ کی بنا پر ان سے قسم نہیں لی تھی ، بلکہ بیان کی جانے والی بات کی اہمیت جتانے کے لیے ایک اسلوب اختیار کیا تھا ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3379
حدیث نمبر: 3379 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ لِمَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، فَقَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ لِتُهْمَةٍ لَكُمْ، إِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ.